بلاول بھٹو جواب دیں…آصف محمود

میں آپ سے یہ کہوں کہ سندھ حکومت نے اپنے ہیلتھ بجٹ کا 70 فیصد سرکاری ہسپتالوں اور اداروں کے بجائے این جی اوز اور پبلک لمیٹڈ کمپنی میں بانٹ دیا تو کیا آپ میری بات کا یقین کریں گے؟ آپ کے لیے ایسا کرنا یقینا مشکل ہو گا۔ جب تک آپ کی دو نسلوں کی خوشیاں حکمرانوں کی تجوریوں میں قید نہیں ہو جائیں گی آپ کو اٹھارویں ترمیم کے فضائل سمجھ میں نہیں آئیں گے۔بلاول صاحب اسی طرح تشریف لایا کریں گے اور دو چار پھلجھڑیاں چھوڑ کر چلے جایا کریں گے اور رات بھر ان کے علم و فضل ، ان کی جمہوریت دوستی اور ان کی برجستگی پر ٹاک شوز میں گداگران سخن غزل سرا رہیں گے۔کوئی ان سے یہ نہیں پوچھے گا کہ عالی جاہ جب اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت اور تعلیم صوبے کی ذمہ داری بن چکی اور صوبوں کو اس کے لیے غیر معمولی بجٹ بھی دیا جا چکا توذرا اپنی حکومت کے نامہ اعمال پر بھی نظر ڈال لیں۔ سندھ میں وسائل کس بے رحمی سے برباد ہو رہے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ گذشتہ مالی سال میں سندھ کے صحت کے بجٹ کا 70 فیصد این جی اوز اور ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی میں بانٹ دیا گیا۔ وہ بھی براہ راست۔ اب سوال یہ ہے کہ سرکاری فنڈ براہ راست این جی اوز اور پبلک لمیٹڈ کمپنی میں کیسے بانٹا جا سکتا ہے؟ کیا بلاول اس سوال کا جواب دیں گے؟ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں سندھ گورنمنٹ نے چلڈرن ہسپتال ایک این جی او کے حوالے کیسے کر دیا ؟ کیا ہمیں جاننے کی اجازت ہے کراچی میں ملیر کے سندھ گورنمنٹ ہسپتال ابراہیم حیدری کے 14 مقامات ایک این جی او کے حوالے کیوں کر دیے گئے؟ کیا اس راز سے پردہ اٹھ سکتا ہے کہ سجاول اور ٹھٹہ ہسپتالوں کی ایمبولیینسز این جی اوز کو کیوں دی گئی ہیں؟ کوئی تو رہنمائی فرما دے کہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی میں وہ کیا کمال تھا کہ اسے 70 ایمبولینسز عطا کر دی گئیں؟ پبلک لمیٹڈ کمپنی کے بورڈ آف گورنر میں تو ایک سابق وزیر اعلیٰ کی صاحبزادی تھیں اس لیے بات کچھ کچھ سمجھ میں آ جاتی ہے لیکن یہ این جی اوز کون سی تھیں اور کس کس کی تھیں کہ ان پر عطا و نوازشات کے دریا بہا دیے گئے؟ صوبائی حکومت اگر ہسپتال خود نہیں چلا سکتی تو اٹھارویں ترمیم کے تحت اتنے وسائل کیوں لیتی ہے؟ اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کی بات پر اتنی خفاکیوں ہو جاتی ہے؟ایسے میں یہ بد گمانی کیوں نہ پھیلے کہ یہ ترمیم اصل میں بندر بانٹ کا منصوبہ تھا۔ نواز شریف نے تیسری دفعہ وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کر لی اور زرداری نے صوبائی وسائل محفوظ فرما لیے۔عوام کو مطمئن کرنے کے لیے دکھاوے کے طور پر اس واردات میں کچھ اقوال زریں بھی شامل کر لیے گئے تا کہ سند رہے اور بوقت الیکشن کام آئے۔ حالت یہ ہے سیکرٹری ہیلتھ نے سندھ ہائی کورٹ کو خود بتایا ہے کہ صحت کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے 1340 بچے مر چکے ہیں۔ دو ماہ پہلے سندھ اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی کہ لاڑکانہ میں ایمبولینس کی سہولت کا اس حد تک فقدان ہے کہ مریضوں کو رکشوں میں ہسپتال لایا جاتا ہے۔ تماشا دیکھیے ایک طرف مریضوں کو ایمبولینس نہیں مل رہی دوسری جانب لمیٹڈ کمپنیوں کو سرکاری ایمبولینسز عطا فرمائی جا رہی ہیں۔کوئی ہے جو ہمیں بتا سکے نیوٹریشن سپورٹ فنڈ کے باوجود تھر میں بچے کیوں مر رہے ہیں؟اٹھارویں ترمیم میں ملنے والے پیسے کہاں جا رہے ہیں؟سندھ کی 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم کیوں ہے؟ یاد رہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تعلیم بھی صوبائی معاملہ ہے۔ سندھ میں حالت یہ ہے کہ 60 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔ گویا سندھ کے بچوں کا 55 فیصد سکول کی تعلیم سے محروم ہے۔5483 سکول بند پڑے ہیں۔47 فیصد سکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ 66 فیصد سکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ 53 فیصد سکول پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ 49 فیصد سکولوں میںٹائلٹ کی سہولت میسر نہیں ہے۔محکمہ تعلیم نے خود سندھ ہائی کورٹ کو بتایا کہ 1185 پرائمری سکول غیر فعال ہیں۔ سپارک یعنی سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق بعض سکولوں میں اساتذہ موجود ہی نہیں اور کچھ سکولوں میں طلباء کم اور اساتذہ زیادہ ہیں۔ چائلڈ لیبر سروے کے لیے 54 ملین مختص کیے گئے لیکن سروے نہیں ہو سکا۔ سٹریٹ چائلڈ کی فلاح کے لیے 314 ملین رکھے گئے ۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں یہ پیسے کہاں گئے؟تعلیمی نظام تباہ ہو چکا ہے۔ نقل سر عام کی جا تی ہے اور وزیر اطلاعات سے سوال ہو تو ارشاد ہوتا ہے نقل کی روک تھام اس لیے نہیں ہو پا رہی کہ ہمارے پاس فنڈز کی کمی ہے۔اٹھارویں ترمیم کے باوجود فنڈز کی کمی؟ پیسہ پیسہ پیسہ، کیا’’ عوامی حکومت‘‘ پیسے کے علاوہ بھی کچھ سوچ سکتی ہے؟یہ جتنے اعدادو شمار میں نے لکھے ہیں ان میں سے کوئی بھی ’ انکشاف‘ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اخبارات میں رپورٹ ہو چکا ہے۔ لیکن عوامی حکومت کی بے نیازی دیکھیے وہ ان معاملات پر بات کرنے کو تیار نہیں ۔ کوئی تردید کرنے کا تکلف بھی نہیں فرماتا۔ چلیں فنڈز کی بات بھی کر لیتے ہیں۔ ا س وقت وفاق کا شیئر ساڑھے بیالیس فیصد اور صوبوں کا شیئر ساڑے ستاون فیصد ہے۔ آئین کے آرٹیکل 160 کی ذیلی دفعہ تین اے کے تحت یہ بھی لازم ہے کہ صوبوں کو ملنے والی رقم گذشتہ سال کے مقابلے میں کم نہ ہو۔ گویا ہر سال صوبوں کو زیادہ رقم مل رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ خرچ کہاں ہو رہی ہے۔عام آدمی کو تو معلوم ہی نہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد کون کون سی چیز صوبوں کے کرنے کی ہے ۔وہ ہر بات پر سوال وفاق سے پوچھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک ہر خرابی کا ذمہ دار وزیر اعظم ہے اور اسی سے سوال پوچھا جانا چاہیے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ بلاول صاحب بھی اسی عوامی زمین پر غزل کہہ کر چلے جاتے ہیں ۔کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا قبلہ وفاق پر آپ کی تنقید سر آنکھوں پر لیکن اٹھارویں ترمیم کے تحت جو کچھ آپ کی صوبائی حکومت کو ملتا ہے وہ کہاں جاتا ہے؟

  • merkit.pk
  • merkit.pk

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply