فاطمہ کی آخری سہیلی ۔۔۔ فاطمہ حورین

 

انعم ایک بہت سادہ اور خوبصورت لڑکی تھی۔ میری بچپن کی دوست تھی بالکل ایسے جیسے میری سگی بہن ہو۔ ہم دونوں نے ایک ساتھ ایک ہی سکول میں میڑک تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ابو کا تبادلہ کراچی ہو گیا اور ہم کراچی شفٹ ہوگے، یوں وہ مجھ سے جدا ہو گئی۔ ہمارا بچپن گوجرانوالہ میں ایک ساتھ کھیلتے کودتے گزرا تھا۔

ایک دن قسمت نے ایسا کھیل کھیلا کہ ہم دونوں کے درمیان فاصلوں کی دیوار کھڑی ہو گئی۔ پھر بھی میرا اس سے رابطہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ روزانہ نا سہی، ہر دوسرے دن اس سے ٹیلیفون پر بات ہوتی رہتی تھی۔ اس نے Fsc میں پنجاب کالج گوجرانوالہ میں داخلہ لیا تھا اور سالانہ امتحان بھی بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ اس نے پورے کالج میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

اس دن وہ بہت ہی خوش تھی۔ اس نے مجھے کال کی “فاطمہ تم کب آؤ گی؟ ادھر تم سے ملنے کا بہت دل چاہتا ہے۔ تم سے بہت باتیں کرنی ہیں۔” وہ ایک سانس میں مسلسل بولی جا رہی تھی اور میں خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ بولی “فاطمہ تم سن رہی ہو ناں؟” میں نے جواب دیا “ہاں انعم میں جلد آؤں گی، انشاءاللہ۔” اس نے مجھے بتایا کہ گھر پر اس کی شادی کے بارے میں بات چل رہی ہے۔ شائد جلد ہی اس کی شادی کردی جائے۔ میں بہت حیران ہوئی۔ میں نے پوچھا “انعم یوں اچانک؟ ابھی تو تمہیں ڈاکٹر بننا ہے تم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر کیا شادی کر لوگی؟ تمہارے خوابوں کا کیا ہوگا؟” وہ خاموشی سے میری بات سنتی رہی پھر اچانک بولی “فاطمہ میں شادی کے بعد تعلیم جاری رکھوں گی۔ جس سے میری شادی ہو رہی ہے اس نے گھر والوں کو یقین دلایا ہے کہ انعم جتنا چاہے پڑھ سکتی ہے، کوئی پابندی نہیں۔” یہ بات سن کر میں پرسکون ہوئی اور فون بند کر دیا۔

چند دن بعد انعم کی شادی کا کارڈ موصول ہوا۔ امی ابو سے اجازت لے کر میں چھوٹے بھائی کے ہمراہ گوجرانوالہ انعم کی شادی میں شرکت کے لیے پہنچی۔ گوجرانوالہ میرا آبائی شہر ہے لہذایہاں بہت سے رشتہ دار بھی موجود ہیں پر میں سیدھی انعم کے گھر گئی۔ وہ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور مجھے گلے لگا لیا۔ آج بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے ترو تازہ ہے۔ شادی کا پروگرام شروع ہوا۔ سب ہی بہت خوش تھے۔ انعم پر روپ ایسے چڑھا جیسے کوہ قاف کی شہزادی ہو۔ آخر رخصتی کا وقت قریب آیا۔ اس کے گھر والوں نے بہت سی دعاؤں کے ساتھ پر نم آنکھوں سے اسے رخصت کیا۔ اس کے گھر والوں نے اپنے حساب سگ دنیا کی ہر آسائش اس کی جھولی میں ڈال دی تھی۔ انعم خود بھی بہت خوش تھی۔ شادی ختم ہوتے ہی میں نے اس کے والدین سے دعائیں وصول کرتے ہوئے جانے کی اجازت چاہی اور واپس اپنے شہر پہنچی۔ سب کچھ بخوبی مکمل ہو گیا۔

اب روزانہ تو نہیں البتہ ہفتوں بعد اس کی کال آتی۔ ابتداء میں وہ بہت خوش تھی۔ کہتی تھی کاشف بہت اچھا ہے، میرا بہت خیال رکھتا ہے (کاشف اس کے شوہر کا نام تھا)۔ میں جب بھی اس سے تعلیم جاری رکھنے کا پوچھتی وہ مجھے ٹال دیتی۔

کچھ ماہ بعد اس نے خوشخبری سنائی۔ “فاطمہ میں امید سے ہوں، دعا کرنا لڑکا ہو۔” مجھے بہت غصہ آیا۔ “یار یہ کیسی جاہلوں والی بات کر رہی ہو؟ اولاد اللہ کی دین ہے اور عورت ہوتے ہوئے تم کس طرح ایسی بات کر سکتی ہو؟ لڑکی ہو یا لڑکا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس نے میری بات کو نظر انداز کر کے فون بند کر دیا۔ کچھ دن بعد میں نے کال کی اور حال چال پوچھا۔ وہ مجھے پریشان محسوس ہوئی۔ میں نے کہا یار کوئی بات ہے تو بتاؤ۔ میرے بے حد اسرار پر وہ بولی “یار کاشف اور میری ساس دونوں کی خواہش ہے کہ پہلی اولاد لڑکا ہو۔ میں بہت پریشان ہوں۔ ان لوگوں نے تو لڑکے کا نام تک سوچ لیا ہے۔ کپڑے بھی لڑکے کے خریدنے شروع کر دیے ہیں۔ پلیز دعا کرو تم۔” میں نے اسے بہت سمجھایا انعم کچھ نہیں ہوگا تم فکر مت کرو خوش رہا کرو۔ انشاءاللہ میں جلد آؤں گی۔

کچھ دن بعد میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے پھوپھی کے گھر گوجرانوالہ آگئی۔ ایک دن اچانک انعم کی ڈیلیوری ملی۔ خبر سنتے ہی میں رکشے میں بیٹھ کر علامہ اقبال ہسپتال پہنچی۔ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ انعم کی بیٹی ہوئی ہے لیکن انعم خود اب اس دارِ فانی سے کوچ کر چکی ہے۔

یہ سنتے ہی میری روح کانپ گئی۔ میں نے اس کا چہرہ آخری بار دیکھا۔ اس کی آنکھیں نم آلود تھیں۔ ایسے جیسے سو رہی ہو۔ اس کی بیٹی کو گود میں لے کر میں نے اسے الوداع کہہ دیا۔

دنیا کا ماننا ہے کہ قدرت کی طرف سے انعم کی موت لکھ دی گئی تھی لیکن مجھے آج بھی کئی سوالات کے جوابات نہیں مل سکے۔ مجھے آج بھی لگتا ہے کہ اس کا قتل ہوا۔ اس کے شوہر اور ساس نے بیٹے کی پیدائش کے لیے اسے بہت اذیت پہنچائی اور وہ اسی صدمے کو ساتھ لیے دنیا سے رخصت ہو گئی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *