مقبرہ انار کلی لاہور۔۔۔۔شاہد محمود

ایک سوداگرزادی کنیز بنتی ہے:-

کہا جاتا ہے کہ ایران کا ایک سوداگر اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان آ رہا تھا کہ راستے میں ڈاکووں نے اس پر حملہ کر دیا۔ ڈاکووں نے سوداگر کو قتل کر دیا اور اس کی خوبرو بیٹی شرف النساء کو راجہ مان سنگھ حاکم کابل کے پاس فروخت کر دیا۔ راجہ مان سنگھ نے اسے اکبر بادشاہ کے حضور تحفتاً پیش کیا۔ اکبر نے اس کے حسن سے متاثر ہو کر اسے انار کلی کا خطاب دے کر اسے دربار میں رقاصہ خاص کا درجہ دے دیا۔

شہزادہ سلیم اور انارکلی:-
شہزادہ سلیم کی اٹھتی جوانی کی نظر مظلوم کنیز انارکلی پر پڑی اور درباریوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں۔ بیچاری انارکلی جو ایک سوداگرزادی تھی آسمان سے گری اور کھجور میں اٹک گئی کہ شہزادے کے سامنے ایک ایسی لڑکی جس کے اہل خانہ کو اس کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا اور وہ کنیز بنا کر فروخت کر دی گئی تھی کی کیا اوقات ہو سکتی تھی؟؟؟ تاریخ میں یہ بات بھی گونجتی ہے کہ اکبر بادشاہ خود بھی انارکلی کو پسند کرتا تھا اسی لئے اسے یہ خطاب “انارکلی” اکبر بادشاہ نے دیا تھا۔ اکبر بادشاہ کو درباریوں نے شہزادہ سلیم کی انارکلی پر نظر التفات کا بتایا اور شومئی قسمت کہ ایک موقع پر محل میں اکبر بادشاہ کی نظر شہزادہ سلیم اور انار کلی کے درمیان مسکراہٹوں کے تبادلے پر پڑ گئی جس نے اکبر کے سلیم و انارکلی بابت شبہات کو یقین میں بدل دیا اور ظالم اکبر نے مظلوم و یتیم انار کلی کو دیوار میں زندہ چنوا دیا۔ اس موت کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک مورخ ٹیری نے لکھا کہ شہنشاہ اکبر نے شہزادہ سلیم کو تخت سے الگ کرنے کی دھمکی بھی اپنی منظور نظر کنیز انارکلی کی وجہ سے دی تھی۔ بعد میں جب شہزادہ سلیم بادشاہ بنا اور “جہانگیر ” کے نام سے حکومت شروع کی تو اس نے انارکلی کو جس دیوار میں چنوایا   تھا وہاں مقبرہ و باغ بنوایا۔

تاریخ یہاں ایک اور پہلو بھی بیان کرتی ہے کہ بظاہر تو انارکلی کو آگرہ قلعہ کی کسی دیوار میں زندہ چنوانے کے  حکمِِِ  اکبری کی تعمیل کر دی گئی تھی لیکن چونکہ اکبر بادشاہ نے انارکلی کی ماں سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ وہ اکبر بادشاہ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہے تو انارکلی کی ماں نے اکبر بادشاہ سے انارکلی کی زندگی مانگ لی اور انارکلی کو فتح پور سکری میں واقع ایک خفیہ بادشاہی سرنگ سے لاہور بھیج دیا گیا جہاں وہ اپنی بقایا زندگی گزار کر فوت ہوئی۔

اب تاریخ کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں۔ اس داستان کا مرکزی کردار شہزادہ سلیم اس معاملہ میں بالکل خاموش ہے اس نے اپنی خود نوشت تزک جہانگیری میں اپنے بے شمار دوسرے مشاغل اور دلچسپیوں کا بے باکی سے ذکر کیا لیکن انار کلی کے واقعہ کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا۔

کنہیا لال اس بابت اپنی شہرہ آفاق کتاب ’تاریخ لاہور‘ میں لکھتے ہیں کہ ”انارکلی ایک کنیز نہایت خوبصورت اکبر بادشاہ کے محل کی تھی جس کا اصلی نام نادرہ بیگم تھا۔ بادشاہ نے بہ سبب اس کے کہ حسن و جمال میں لاثانی تھی اور رنگ سرخ تھا، انارکلی کے خطاب سے اس کو مخاطب کیا ہوا تھا ۔ جن دنوں بادشاہ دکھن و خاندیس کی مہموں میں مصروف تھا، یہ لاہور میں بیمار ہو کر مر گئی۔ بعض کا قول ہے کہ مسموم ہوئی۔ بادشاہ کے حکم سے یہ عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا اور باغ تیار ہوا جس کے وسط میں یہ مقبرہ تھا۔ سکھی سلطنت کے وقت باغیچہ اجڑ گیا، چار دیواری کی اینٹیں خشت فروش اس کو گرا کر لے گئے، مقبرہ باقی رہ گیا۔ اس میں جو سنگ مرمر کا چبوترہ تھا اس کا پتھر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اتروا لیا۔ قبر کا تعویذ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا گیا“۔

اس لئے کئی مورخین کی رائے ہے کہ انار کلی کی داستان محض ایک افسانہ ہے۔

تاریخ ایک تیسری کہانی بھی بیان کرتی ہے کہ مقبرہ انارکلی دراصل جہانگیر کی ایک ملکہ صاحب جمال کا مقبرہ ہے اس جگہ کے اطراف میں انار کلی باغ تھا۔ اسی مناسبت سے اس مقبرے کو انار کلی کا مقبرہ قرار دیا جاتا ہے۔

انارکلی کی قبر پر اللہ کریم کے نام کندہ ہیں۔ قبر پر کچھ دیگر تحریر کے علاوہ یہ شعر بھی کندہ ہے۔

تا قیامت شکر گویم کردگار خویش را
آہ گر من باز بینم روئ یار خویش را

tā qiyāmat shukr gūyam kardigāre khīsh rā
āh! gar man bāz bīnam rūī yār-e khīsh rā

I would give thanks unto my God unto the day of resurrection
Ah! could I behold the face of my beloved once more

مقبرہ انارکلی کی بے توقیری و بربادی
مقبرہ انار کلی مغلیہ فن تعمیر کا شاہکار تھا اور خوبصورت باغ سے گھرا ہوا تھا۔ جن دکھوں نے پنجاب پر قبضہ کر کے حکومت بنا لی تو چار سکھ پلٹنیں مقبرہ انارکلی میں ہمراہ اپنے اصطبل قیام پذیر ہو گئیں اور پھر 1849ء میں پنجاب پر انگریزوں نے قبضہ کیا تو انہوں نے مقبرہ انارکلی کو سفید چونے سے ڈھک کر مقبرے پر صلیب نصب کر کے گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ بعد ازاں 1891ء میں انگریزوں نے اس مقبرے کو پنجاب ریکارڈ آفس بنا دیا اور اب یہاں سول سیکرٹریٹ پنجاب قائم ہے۔ باغ کی جگہ بہت سے دفاتر کی عمارات بھی بن چکی ہیں۔ میری یادداشت میں جب آخری مرتبہ دیکھا تھا تو خاص مقبرے کی عمارت جس میں انارکلی کی قبر موجود ہے آرکائیو ڈیپارٹمنٹ قائم تھا۔ سنگ مرمر کی قبر کے ساتھ بھی محکمے کا ایک سیکشن مع عملہ خوش گپیوں اور اپنے کام میں مصروف ہوتا تھا اور اس قبر کی وجہ سے ہی آج بھی “مقبرہ انار کلی” کا نام و نشان باقی ہے۔ سال 2006 کے بعد اگر کوئی پیشرفت بابت مقبرہ انارکلی ہوئی ہے تو وہ راقم کے علم میں نہیں۔

نوٹ:یہ تحریر شاہد محمود صاحب کی فیس بک وال سے شکریہ کے ساتھ کاپی کی گئی ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”مقبرہ انار کلی لاہور۔۔۔۔شاہد محمود

    1. حوصلہ افزائی کے لئے مشکور ہوں۔
      جزاک اللہ خیرا کثیرا

      سلامتیاں اور ڈھیروں پرخلوص دعائیں

  1. بہت اچھی اور معلوماتی تحریر انار کلی کے بارے میں پہلی بار اتنا کچھ جاننے کو ملا ۔۔ بہت خوب شاہد محمود صاحب ہم نے آج تک انار کلی اور شہزادہ سلیم کے عشق معشوقی کے قصے پڑھے تھے آپ کی یہ تحریر پڑھ کر معلومات میں گراں قدر اضافہ ہوا

    1. جزاک اللہ خیرا کثیرا
      سلامت رہیں، شاد و آباد رہیں آمین۔
      حوصلہ افزائی کے لئے مشکور و ممنون ہوں۔

    1. جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔
      حوصلہ افزائی کے لئے مشکور و ممنون ہوں۔
      انسان کچھ بھی نہ ہوتے ہوئے بھی سب کچھ کر بیٹھتا ہے، سو کچھ تو ہے۔ ایک پھونک ہے جو اس مٹی کے پتلے میں گردش کر رہی ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *