جمیعت، کچھ یادداشتیں قسط دوم۔۔۔ داؤد ظفر ندیم

جمیعت کے بارے میری پہلی قسط میرے ذاتی تجربے پر مبنی تھی۔ مگر تمام فکری اختلافات کے باوجود یہ بات ماننے والی ہے کہ جمیعت بعض معاملات میں دوسری طلبا تنظیموں سے کافی بہتر تھی۔ عام طلبا کو وہ تنگ نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی ہر ممکن مدد فراہم کرتے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی میں داخلے کے وقت ان کے معلوماتی ڈیسک آنے والے طلبا کی بہت زبردست راہنمائی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ موقع پر کوئی مسئلہ ہوجاتا تو وہ ہر ممکن مدد کرتے تھے۔ لڑکیوں کو پنجاب یونیورسٹی میں مکمل تحفظ حاصل تھا اور اس بات کو وہ یقینی بناتے تھے کہ لڑکیوں کو کسی طرح کا ہراساں کرنا ممکن نہ ہو۔ اس کے علاوہ ان کا سالانہ کتاب میلہ کمال کا ایونٹ تھا۔ اس میں ہر قسم کی کتاب موجود ہوتی تھی اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے یہ بہت زبردست ایونٹ ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ سالانہ مشاعرہ بھی ایک ایسی کاروائی تھی جو بہت لطف دیتی تھی اور ملک کے ممتاز شعرا سے براہ راست ملنے کا موقع دیتی تھی یہیں میں پہلی بار امجد اسلام امجد، منیر نیازی، جوگی جہلمی، شہزاد احمد جیسے شعرا سے ملا تھا۔ جمیعت ایک حد تک علمی اور تخلیقی کام کی اجازت دیتی تھی مگر یہ لازمی تھا کہ وہ جمیعت کے زیر اثر ہو۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک مذاکرہ پروگرام کروانے کی کوشش کی اور اپنے جاننے والے جمیعت کے دوستوں سے رابطہ کیا۔ جمیعت کے کارپرداز نے مجھے بڑی نرمی سے سمجھایا کہ وہ مجھے یہ اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ میری سیاسی سرگرمیاں مشکوک ہیں۔ میں نے شکوہ کیا کہ آپ تخلیقی اور تنقیدی پروگراموں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے تو اس نے مجھے بڑی نرمی سے کہا کہ بات یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ یا تو جمیعت کے مخالف ہوتے ہیں یا سیاست سے کنارہ کش، آپ جمیعت کے ساتھ مل کر ایسے پروگراموں کا انعقاد کریں تو جمیعت کے لوگوں کو میں خود قائل کرلوں گا مگر آپ اگر کچھ دوسرے سیاسی مقاصد کے ساتھ ایسا کریں گے تو ہم آپ کو کسی غیر سیاسی پروگرام کی بھی اجازت نہیں دیں گے، یہ ہماری پالیسی ہے۔ اور یہ پالیسی صرف جمیعت کی نہیں تھی ہر طلبا تنظیم کسی بھی دوسری سرگرمی کو اپنی بالادستی کے علاقے میں برداشت نہیں کرتی تھی۔

مجھے جمیعت میں اپنے مخالف کی ایک نیکی کو ضرور یاد کرنا چاہیئے کہ اس کی وجہ سے اس نے مریے مقابلے میں ڈیپارٹمنٹ کا الیکشن ہارنا قبول کیا تھا۔ الیکشن کمپین میں جمیعت کے ایک پرجوش کارکن نے اپنی تقریر میں یہ الزام لگایا کہ ہمارے مخالفین قادیانی یا لاہوری احمدی ہیں اس نے خاص طور پر میرا نام لیا کیونکہ مری بعض قادیانی لڑکوں سے دوستی تھی۔ اس پر میرے مخالف نے اپنی تقریر میں ان الزامات کی تردید کی۔ اس نے میرا نام لے کر بتلایا کہ میں اس کو ذاتی طور پر جانتا ہوں بلکہ پورا سال اسے فجر کی نماز کے لئے اٹھاتا رہا ہوں اور یہ ہمیشہ میرے ساتھ فجر کی نماز میں شریک رہا ہے اس لئے میں الیکشن جیتنے کے لئے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بعض معاملات میں گمراہی کی طرف مائل ہے مگر اس کے زیادہ کچھ کہنا غلط ہے۔ اس تقریر کے بعد رہی سہی کسر یونیورسٹی کے ناظم نے نکال دی جو الیکشن مہم میں ہمارے ڈیپارٹمنٹ آیا تھا۔ اس نے مجھے سے تقریر میں معذرت کی کہ اس کے ایک ساتھی نے غلط الزام لگایا ہے اور اس نے یہ بھی واضح کیا کہ جمیعت مذہب کی بنیاد پر کسی کی تعلیم کو روکنے کی کوشش نہیں کرتی۔ اور نہ اس کا یہ مقصد ہے کہ کسی بھی کیمونٹی سے عقیدے کی وجہ سے کوئی امتیاز سلوک کیا جائے صرف ان کو تبلیغی سرگرمی کی ممانعت ہے اس کے علاوہ ان کو کسی تعلیمی سرگرمی سے نہیں روکا جا سکتا۔

میں نے اس تقریر کے بعد سوال کیا کہ آپ کو لڑکیوں اور لڑکوں میں بات چیت میں کیا مسئلہ ہے۔ اس نے بڑی نرمی سے بتلایا کہ جمیعت لڑکیوں کی تعلیم اور لڑکیوں کو بات چیت کرنے سے نہیں روکتی، یہ کچھ لڑکوں کا کوئی ذاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ تاہم جمیعت یہ ضرور یقینی بناتی ہے کہ کسی لڑکی سے کسی قسم کی بدسلوکی نہ ہوسکے۔ اور کوئی لڑکا کسی لڑکی کا تعاقب نہ کرسکے۔ اس نے کہا کہ اس کی اپنی دو بہنیں اسی جامعہ سے پڑھی ہیں اور ان کے اپنےکلاس فیلو لڑکوں سے اچھی بات چیت رہی ہے۔ کچھ لوگوں کی اپنی ذاتی تشریح اور فعل کو آپ پوری تنظیم کے حوالے نہیں کرسکتے،

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جمیعت کے شہری اور پڑھے لکھے دوستوں سے فکری مکالمے کا لطف ہی بہت آتا تھا۔ وہ لوگ خاص طور پر کسی نہ کسی بہانے ملنے آجاتے اور فکری اختلافات پر انتہائی دوستانہ ماحول میں بات ہوتی۔

مگر ایسے لوگ بھی تھے جو یہ کہتے تھے کہ یہ جمیعت کا عہدہ انھیں اللہ کی طرف سے ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو مضافاتی علاقوں سے آتے تھے اور جو اپنے ہر کام کی کوئی مذہبی توجیح پیش کرتے تھے۔ یہ لڑکیوں کی تعلیم سے سرے سے مخالف تھے۔ جمیعت نے ان کی دینی تربیت تو کی ہوگی مگر انھیں ذہنی کشادگی کی تربیت نہیں دی۔

جمیعت، یونیورسٹی میں جو تعیناتیاں اور ملازمتیں یونیورسٹی کی سطح پر ہوتی تھیں ان میں بہت حساس تھی۔ میرے زمانے میں ہی جنوبی ایشایئی سٹڈی سینٹر میں ایک جاب تھی۔ میں نے ایم اے میں مقالہ لکھا تھا، جامعہ سے ہی ہندی زبان میں ڈپلومہ کیا تھا۔ گورمکھی رسم الخط جانتا تھا انگریزی سے اردو ترجمے کا ماہر تھا مگر اس کے باوجود مجھے یہ جاب میری شدید خواہش کے باوجود اس لئے نہیں مل سکی کہ میں جمیعت کی گڈ بکس میں نہیں تھا میری بجائے یہ ایک ایسے امیدوار کو دی گئی جس کو ریسرچ میں کسی قسم کی دلچسپی نہیں تھی ار وہ جمیعت سے اچھے مراسم رکھتا تھا۔

آج کے حالات میں تجزیہ کریں تو موجودہ شدت پسندی میں جمیعت بھی غنیمت نظر آتی ہے۔ بدقسمتی سے جمیعت میں شہری لوگوں کی بجائے مضافاتی قیادت غالب ہوگئی۔ اور وہ بھی اس شدت پسندی کو پھیلانے کا براہ راست یا بلواسطہ باعث بنی۔ وگرنہ جمیعت ایک فرقہ واریت سے ماورا تنظیم تھی جو کسی عام طالب علم کو تنگ نہیں کرتی تھی اور کسی قسم کے بھتے کی وصولی نہیں کرتی تھی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *