پانی۔۔۔۔۔محمد شہزاد قریشی

کیا آپ جانتے ہیں کہ جو پانی ہم پیتے ہیں وہ کیسا ہے اور کن مراحل کے بعد ہم تک پہنچتا ہے
تحقیق کے مطابق زمین کا 72 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے
پانی کی کل مقدار 326 بلین کیوبک میل ہے
زمین کے کل پانی کا 98 فیصد سمندروں پر مشتمل ہے جبکہ 2 فیصد حصے میں تمام گلیشئرز، دوسرے برفانی علاقوں کی برف، دریا ، نہریں، ڈیمز، چشمے، ندی ، نالے اور زمین کے نیچے کا پانی شامل ہے
پینے کے لیئے تازہ پانی کا 68.7فیصد حصہ برف کے اندر قید ہے
29 فیصد پانی یا تو زمین کے اندر ہے یا بادلوں کے ساتھ تیر رہا ہے
اس حساب سے ابھی تک ہمیں محض 1 فیصد پانی پینے کے لیئے میسر ہے
اگر دنیا کے سارے پانی کو ایک جگ میں ڈالا جائے تو ایک چمچ پینے والا پانی دستیاب ہوگا
دنیا کے 6 ممالک برازیل، روس ، کینیڈا، انڈونیشا، کولمیبا اور چین کے پاس 50 فیصد صاف اور تازہ پانی کے ذخائر ہیں
70 فیصد انسانی دماغ پانی پر مشتمل ہے
66فیصد انسانی جسم پانی پر مشتمل ہے
ایک صحت مند آدمی خوراک کے بغیر ایک ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن پانی کے بغیر بمشکل ایک ہفتہ ہی گزار سکتا ہے
جب پانی کو فریز کیا جاتا ہے تو یہ 9 فیصد تک پھیل جاتا ہے
ایک ٹن سٹیل کو بنانے میں 300 ٹن پانی چاہیے ہوتا ہے
ڈبل روٹی کے ایک سلائس کو بنانے کے عمل میں 11 گیلن پانی درکار ہوتا ہے
ایک سیب کے بننے کے عمل میں 18 گیلن پانی استعمال ہوتا ہے
ایک پاؤنڈ چاکلیٹ کی تیاری میں 3170 گیلن تک پانی درکار ہوتا ہے
ایک کلو گرام چاول کاشت کرنے کے لیئے 3000 لیٹر تک پانی درکار ہوتا ہے
ایک کپ چائے حاصل کے سارے عمل میں 8 گیلن پانی صرف ہوتا ہے
ایک درمیانے سوئمنگ پول کو بھرنے کے لیئے 2000 گیلن پانی درکار ہوتا ہے
جبکہ اسی سوئمنگ پول کا آدھا پانی صرف بخارات کی شکل ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے
دنیا کی 85 فیصد آبادی پانی کی کمی کا شکار ہے
ایک ایکڑ زرعی اراضی میں 4000 گیلن پانی روزانہ جذب ہوجاتا ہے
ایک ارب سے زائد لوگوں کے لیئے پانی کا صاف پانی میسرنہیں
یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں آلودہ پانی پینے سے ہر گھنٹے 200 بچےہلاک ہورہے ہیں۔جن میں 40 بچے صرف انڈیا سے ہیں
ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں روزانہ 20 لاکھ ٹن انسانی فضلہ پینے کے پانی میں شامل ہورہا ہے۔ بدقسمتی سے ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے
دنیا میں سالانہ 60-80 لاکھ لوگ پانی کی کمی یا پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ہلاک ہوجاتے ہیں
دنیا کے ہسپتالوں میں زیرعلاج مریضوں میں سے 50 فیصد لوگ پانی کی بیماریوں کی وجہ سے ہیں
براعظم افریقہ میں 31 کروڑ لوگ پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں
دنیا میں 10 میں سے 9 لوگوں تک صاف، فلٹرڈ اور معیاری پانی دستیاب نہیں
300قبل مسیح سے 2012 تک پانی کے مسئلے پر 265 تنازعات اور جنگیں ہوچکی ہیں
تجزیہ کارو ں کے مطابق دنیا میں اگر کوئی تیسری جنگ ہوئی  تو وہ پانی کے تنازع سے ہی شروع ہوگی
ایک عالمی سروے کے مطابق 2025 تک دنیا کی دوتہائی  آبادی پانی کی شدید کمی کا شکار ہوجائے گا ۔ ان ممالک میں پاکستان دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے
کیونکہ ہمارے پاس پانی کو سٹور کرنے کا کوئی  بڑا منصوبہ موجود نہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی  امکان ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *