اور سمرقند دوبارہ فتح ہوگیا۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

صبح سے دوپہر تک فرائض سر انجام دینے کے بعد جب وہ قیلولہ کرنے کے لیے لیٹنا ہی چاہتا تھا تو نوجوان فرزند عبد الملک نے آکر عرض کیا کہ اگر آپ سو گئے تو مظلوموں کی داد رسی کون کریگا؟ انہوں نے فرمایا بیٹا تمہارے چچا سلیمان کو کفنا دفنا کر کافی تھکا ہوا ہوں سو کر ظہر کے بعد یہ کام کروں گا۔ بیٹے نے کہا ابا جان۔ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ ظہر تک زندہ بھی رہیں  گے؟ یہ بات سن کر وہ فوراً اٹھے اور اعلان کرادیا کہ جس کسی کو کوئی شکایت ہو وہ آئے۔ عمر بن عبد العزیز کے خلیفہ بننے کی خبر پھیلتے ہی فضا مسرت کے نعروں سے گونجنے لگی۔ سرکاری ملازمین سونے اور جواہرات سے مرصع سواریاں لے کر حاضر ہوئے۔ سکیورٹی کے افسران مسلح ہو کر دستور کے مطابق پروٹوکول دینے آگے اور پیچھے کھڑے ہوگئے۔ لیکن امیر المومنین نے شاہی جاہ و جلال ٹھکرا کر حکم دیا کہ میرا خچر لے آؤ۔ چنانچہ بغیر کسی حفاظتی دستے اور شاہی جھنڈے کے خچر پر سوار ہو کر وہ شخص جارہا تھا جو پوری اسلامی سلطنت کا واحد حکمران تھا۔ جامع اموی پہنچتے ہی لوگ صفوں پر بیٹھ گئے اور وہ منبر پر کھڑے ہو کر حمد و ثناء کے بعد گویا ہوئے۔ لوگوں مجھے میری مرضی کے بغیر حکمران بنادیا گیا ہے۔ میں تمہاری گردنوں سے اپنی بیعت واپس لیتا ہوں۔ جسے چاہو اپنا خلیفہ بنالو۔ یہ سنتے ہی حاضرین سب کے سب بیک آواز ہو کر بولے ہم آپ کے علاوہ کسی کو نہیں چاہتے۔ پھر وہ قصر خلافت کی  طرف روانہ ہوگئے۔ جاتے ہی حکم دیا کہ قصر کے ریشمی پردے اتار دیئے جائیں ،قالین لپیٹ دئیے جائیں اور سامان آرائش اکھٹا کرکے نیلام کر دیا  جائے  اور رقم بیت المال میں جمع کردی جائے۔ اس عظیم حکمران کے حسن انتظام سے دنیا کی وسیع وعریض سلطنت میں امن و امان قائم ہوگیا۔ پوری سلطنت اسلامیہ میں دشمنیاں ختم ہوگئیں شیعہ اور خارجی بھائی بھائی بن گئے۔ مقابلہ کرنے والوں نے ہتھیار پھینک دیے، کالے اور گورے نے صلح کرلی ،شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینے لگے ۔۔۔

امیر المومنین عمر بن عبد العزیز کے خلیفہ بننے کی خبر پھیلتے ہوئے سمر قند پہنچ گئی۔ اس وقت سمرقند کو افواجِ اسلامیہ کے جرنیل” قتیبہ بن مسلم” کے ہاتھوں فتح ہوئے تقریباً 15 سال گزر گئے تھے۔ لیکن سمرقند ابھی بھی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اور اس تاریکی کے عالم میں ایک شخص اپنے گھر سے نکلا اور دائیں بائیں جھانکے بغیر سیدھا اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوا۔ وہ شہر سے نکل کر درختوں کے ایسے جھنڈ میں داخل ہوگیا جہاں وحشی درندوں اور خونخوار جانوروں کی دہشت ناک آوازیں سنائی دے رہی تھی۔

گزشتہ تمام تحاریر پڑھنے کے لیے نام پر کلک کیجئے۔۔۔۔ ملک گوہر اقبال خان رما خیل

وہ شخص بے پرواہ ہو کر چلتے چلتے اس پتھر تک پہنچ گیا جو مندر کے پہلو میں تھا تو ہیبت کی وجہ سے چند قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس پر خوف طاری ہونے کا سبب یہ تھا کہ اس شخص کے دل میں بچپن سے ہی مندر کے ہیبت ناک توہمات بٹھا دئیے گئے تھے۔ کہ اس مندر میں صرف وہی کاہن قدم رکھ سکتا ہے جو نفس کش ریاضتیں کرکے اور مشقتیں اٹھا اٹھا کر رشی بن چکا ہو۔ رات کی  اس تاریکی میں جب اس نے گھنی داڑھی اور لمبے بالوں والی ایک شکل دیکھی تو اس کا خوف اور بڑھ گیا قریب تھا کہ وہ بھاگ کھڑا ہوتا۔ لیکن اس کو آواز سنائی دی کہ میں اس مندر کا دربان ہوں اور تمہیں لینے آیا ہوں۔ دربان اسے اپنے ساتھ ایک طویل سرنگ میں لے گیا۔ جس کے دونوں اطراف تانبے کے منقش چراغ روشن تھے اور ان سے نیلے  رنگ کی روشنی نکل نکل کر دیواروں کے پتھروں پر رقص کر رہی تھی۔ بلآخر یہ دونوں چلتے چلتے ان رشیوں کے پاس پہنچ گئے جنہیں کبھی کبھار بادشاہ ہی دیکھ سکتا تھا۔ اور وہ شخص نظریں جھکائے ان کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ تو ان میں سے ایک بڑے رشی ( کاہن) نے اس شخص سے کہا کہ تمہیں تو پتہ ہے کہ مسلمان کس طرح ناگہانی آفت کی طرح آئے اور انہوں نے سمرقند کا تاج وتخت الٹ دیا اب ان کے  نکلنے کی امیدیں ختم ہوگئی ہیں۔ لیکن ہم نے سنا ہے کہ اس قوم کا حکمران بڑا عادل اور منصف مزاج ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس کی خدمت میں اپنا قاصد بھیجیں جو اسے ہماری شکایت سے آگاہ کرے۔ اور اس کام کے لیے ہم نے تمہیں، تمہاری جرات و شجاعت اور عربی زبان میں مہارت کی وجہ سے منتخب کیا ہے۔ جاؤ اور دیوتاؤں کی توفیق سے روانہ ہوجاؤ ۔ جب وہ شخص مندر سے نکلا فخر کی وجہ سے اس کا سر بلند تھا وہ اتنی خوشی محسوس کررہا تھا کہ اڑ کر دمشق چلا جائے۔ اس کی خوشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک بڑے کاہن سے ہم کلام ہوا تھا۔ اور وہ سمجھ رہا تھا کہ اب سمرقند کی آزادی اس کے بائیں ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ یہ آدمی زاد راہ لیکر چل پڑا۔ دن رات مسلسل سفر کرتا رہا سمرقند سے لیکر دمشق تک وہ جس ریاست سے بھی گزرتا ایک کو دوسرے سے بڑھ کر خوبصورت اور متمدن پاتا۔ یہ دیکھ کر اسے سمرقند کی عظمت ہیچ نظر آنے لگی۔ بلآخر وہ دمشق تو پہنچا لیکن بڑے ملکوں کے بادشاہوں کی ملاقات کے تصور سے اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اور وہ مرعوب ہو کر سوچنے لگا کہ یہ دمشق ہے۔ مسلمانوں کا دارالحکومت۔ یہیں سے ایسا فرمان جاری ہوتا ہے کہ جس کے سامنے سمرقند اور سپین تک ، امراء کی گردنیں جھک جاتی ہے۔ اور یہیں  پر وہ حکمران بستا ہے جس کے سامنے قیصرروم، کسریٰ ایران، سکندریونان، اور خاقان چین کی عظمتیں نقش برآب ہو گئیں اور جس کی بات کو چین کے کہساروں سے لیکر بحر ظلمات تک ٹالنے والا کوئی نہیں۔ الغرض خلیفہ کی عظمت سے مرعوب ہو کر ملاقات کا خیال دل سے نکال دیا اور ادھر ادھر گھومتا رہا۔ چلتے چلتے اس کے سامنے ایک عالی شان عمارت آگئی جس کے نقش و نگار اور بیل بوٹوں کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتی تھیں۔ اندرجاکر اس کی خوبصورتی اور نظم و نسق دیکھ کر اور زیادہ حیران ہوگیا۔ کہیں پر بحث و مباحثہ والے حلقے قائم تھے۔ تو کہیں  پر درس و تدریس ہورہی تھی۔ کہیں پر فتاوٰی لکھے جاتے تو کہیں پر لوگ خدائے یکتا کی عبادت میں مشغول رہتے۔ اتنے زیادہ لوگ جمع تھے لیکن پھر بھی ایک دوسرے کے حلقے پر اثر انداز نہیں ہورہےتھے۔ وہیں پر ایک نمازی کے ساتھ اس کی کافی گفتگو ہوئی۔ جس سے اسلام کے سیدھے سادے اصول اور اسکا جمال اسکے دل میں اترنا شروع ہوا۔ وہ تو اس سے پہلے ہی اسلام کی عظمت کا نظارہ کر چکا تھا اور اسکا دل اسلام کی حقانیت تسلیم کرچکاتھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ اس دین کا پابند ہوگیا جس نے عربوں کو پوری دنیا کا حکمران بنادیا تھا۔ اس نمازی کی  مدد سے جب وہ شخص خلیفہ سے ملنے گیا تو یہ دیکھ کر اور بھی حیران ہوا کہ مسلمانوں کا خلیفہ شاہی قصر چھوڑ کر ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے اپنا ہر کام خود کرتاہے مسجد اور بازار میں عام لوگوں کی طرح چلتا پھرتا ہے۔

اس سمرقندی نے امیر المومنین سے افواجِ اسلامیہ کے جرنیل قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی۔ امیر المومنین نے فرمایا واللہ۔ ہمارے نبی نے ہمیں ظلم سے روکا ہے اور انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے غلام کو حکم دیا کہ قلم اور کاغذ لاؤ ۔ وہ دو انگلی کاغذ اور قلم لے آیا خلیفہ نے چند سطریں لکھ کر مہر لگا دی۔ اور فرمایا یہ وہاں کے گورنر کے پاس لے جاؤ۔ واپس آکر اس نے اپنی روداد سفر کاہنوں کو سناکر انہیں بھی حیران کردیا۔ انہوں نے اسے گورنر کے پاس بھیجا گورنر نے رقعہ کھول کر پڑھا تو اس میں حکم تھا” کہ موجودہ جرنیل اور کاہنوں کا جھگڑا نمٹانے کے لیے خصوصی عدالت مقرر کی جائے اور جج جو بھی فیصلہ کریں اسے نافذ کردیا جائے” گورنر نے عدالت تشکیل دیکر” جمیع بن حاضر باجی” کو جج مقرر کردیا۔ مقررہ وقت پر سب لوگ مسجد میں جمع ہوگئے۔ تھوڑی دیر بعد ایک دبلا پتلا اور نحیف و نزار شخص چھوٹی سی ٹوپی سر پر رکھے ہوئے مسجد میں داخل ہوا۔ وہ اس خصوصی عدالت کا جج تھا۔ جج کے غلام نے بغیر کسی لقب اور کنیت کے جرنیل کو پکارا وہ آکر دائیں جانب بیٹھ گیا۔ پھر کاہنوں کے سربراہ کو بلایا جو بائیں جانب بیٹھ گیا۔ سماعت شروع ہوئی جج نے کاہن سے کہا کہ اپنا دعویٰ پیش کرو۔ اس نے کہا کہ جرنیل نے بغیر دعوت اسلام دئیے بغیر جزیہ طلب کیے اور بغیر اعلان جنگ کیے دھوکے سے ہمارے ملک پر قبضہ کیا ہے۔ جج نے جرنیل سے جواب طلب کیا تو اس نے کہا کہ اللہ آپ کو حق و انصاف پر گامزن رکھے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعے اس ملک کو کفر سے نجات دی اور مسلمانوں کو اس کا وارث بنایا۔ جج نے پوچھا کیا تم نے انہیں دعوت اسلام دی تھی اور انکار پر جزیہ طلب کیا تھا؟ اور اعلان جنگ کیا تھا؟ جرنیل نے کہا نہیں ۔جج نے کہا گویا تم نے اقرار کرلیا۔ تو میرا فیصلہ یہ ہے کہ مسلمان اس ملک سے نکل جائیں اور سرحد پر جاکر اسلامی دستور کے مطابق دعوت پیش کریں اس کے بعد عدالت برخاست ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد بگل کی آواز گونجنے لگی۔ چاروں طرف جھنڈے بلند ہونے لگے اور افواجِ اسلامیہ سمرقند سے نکلنے لگیں۔ کاہنوں کو حیرت ہوئی کہ فیصلہ نافذ ہوگیا اور لشکر جارہاہے۔ تو بولے وہ لشکر جو مدینہ سے چلا تو سمرقند تک کوئی طاقت اس کے سامنے ٹھہر نہ سکی تھی۔ آج اس دبلے پتلے پست آواز والے بوڑھے نے اسے نکال باہر کیا۔ بڑا کاہن پوچھنے لگا تمہارا کیا خیال ہے؟ سمرقندی بھائی نے کہا سنو میں اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لایا۔ یہ سن کر بڑا کاہن بھی ایمان لایا اور پورا سمرقند نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا۔ افواجِ اسلامیہ سمرقند میں داخل ہوگئیں۔ نہ کوئی غالب رہا نہ مغلوب سب کے سب بھائی بن گئے۔ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہ رہی۔ اور یوں سمرقند دوبارہ فتح ہوگیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *