گوردوارہ روہڑی صاحب، ایمن آباد۔۔۔۔حارث بٹ

محترم خواتین و حضرات، آپ کی فلائٹ RB 777 ( راجہ بس ) اعزائیل صاحب کی قیادت  میں اڑ نے کے لئے بالکل تیار ہے بلکہ  بے چین ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنی اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیں ۔ شکریہ۔
ایویں مجھے عید کے دوسرے دن بیٹھے بیٹھے عید کے دوسرےدن چُل ہوئی کہ بور تو میں ہو ہی رہا ہوں چلو بابا جی  کو سلام ہی کر آؤ۔ اپنے گھر کے قریب بس اسٹاپ پر پہنچا تو آگے خیر سے راجہ جی کھڑے تھے۔ اپنے ہاسٹل کے زمانوں کا مجھے راجہ جی  کا اچھا تجربہ ہے ۔ آپ بہت ہی خوش قسمت ہوں گے   اگر راجہ جی آپ کو آپ کی منزل پر پہنچا دیں ورنہ اکثر و بیشتر لوگ اس کی direct فلائٹ سے سیدھا اوپر ہی جاتے ہیں ۔ یہ راجہ والے کٹ ایسے کرواتے ہیں کہ اچھے بھلے شریف انسان کا ترا نکل جاتا ہے۔ مگر اس بس پر سفر کرنے کا ایک فائدہ تو ہے کہ بندہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے۔


ابھی بس چلی ہی تھی کہ driver صاحب نے تیز music کے ساتھ گانا لگا دیا “سانوں لاہور شہر نال پیار اے۔۔.(آگے مجھے نہیں یاد،ورنہ ضرور آپ کو سناتا)” اور ساتھ ہی میرے اندر کی نرگس پُڑک کے باہر آ گئی ۔ میں اپنے  اندر کی  اس نرگس سے بہت  تنگ ہوں۔ موقع محل دیکھے بنا باہر آ جاتی ہے ۔ اور پھر میری اچھی خاصی بےعزتی خراب کروا کے اندر واپس جاتی ہے۔ جس کو میں صرف اسی وقت تک بہت شدت سے محسوس کرتا ہوں بعد میں پھر بےعزتی پروف۔ لاہور سے مجھے واقعی بڑا پیار ہے مگر میں شاعر کی اس بات سے مکمل متفق ہوں کہ
یہ جو لاہور سے محبت ہے، یہ کسی “اور” محبت ہے
اور وہ “اور” تم نہیں شاید، مجھے جس “اور ” سے محبت ہے


مسلسل ایک گھنٹہ کلمہ شریف کا ورد کرنے کے بعد قدرت کو ہم پر رحم آیا اور بھائی کنڈیکٹر نے گوجرانوالہ عالم چوک کی نوید سنا دی۔ وہاں سے رکشے میں بیٹھ کر ایمن آباد موڑ پر پہنچا تو رکشے میں ہی کسی نے مجھ سے پوچھا کہ بھائی کدھر جانا ہے۔ جب میں نے اسے روہڑی صاحب کا بتایا تو فَٹ سے بولا “تسی سردار او” دل تو کیا کہ اسے رکھ کر ایک دو  لگاؤں مگر ضبط کرنا ہی پڑا۔ دور سے ہی گوردوارہ کو دیکھا تو میں اچھل پڑا کہ بھائی بس اُدھر اتار دینا مجھے.

مرکزی دروازہ چونکہ چوک سے ہٹ کر تھا تو کسی راہگیر سے دروازے کا پوچھا تو بولا” وہ جو سامنے دوسرا رُکھ ہے نا، وہیں  سے مڑ جاؤ” رُکھ کا لفظ سن کر ایک سکینڈ کے کروڑویں حصے سے بھی پہلے میرے ذہن میں تارڑ صاحب کا ناول “بہاؤ” آ گیا۔ گوردوارہ والی جگہ (روڑوں ،پتھروں پر )بیٹھ کر ہی بابا گرونانک لوگوں کو درس بھی دیتے اور عبادت بھی کرتے۔ ابتدا میں رنجیت سنگھ نے یہاں عمارت تعمیر کروائی اور اسے “گرردوارہ روہڑی صاحب” کا نام دیا۔ قصہ مختصر کہ بڑے ہی مزے سے  گوردوارہ کی سیر کی پھر واپس آگئے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *