یہ سفر ایک سال کا۔۔۔ احمد رضوان

اگلے زمانوں میں قرن ہا قرن انسان صرف ہتھیار کی زبان سمجھتا تھا اور اسی کے زور پر اپنے فیصلے منوانے کا عادی تھا اور بڑے فخر سے خود کو شمشیر ابن شمشیر کہلواتا تھا۔مجھے تو ایسے سپوتوں کی بارآوری سے تولد ہونے تک میں سارا عمل دخل شمشیر کا لگتا ہے ۔اندازہ کیجئے ان شاہ سواروں کے بارے میں جو گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر ہی ساری عمر گزار دیتے تھے،کھانا پینا اورحوائج ضروریہ سے فارغ ہونا حتیٰ کہ سونا بھی ہو جایا کرتا تھا۔ جھگڑوں کی نوعیت کنویں سے پانی پلانے سے گھوڑا آگے بڑھانے تک کچھ بھی ہو سکتی تھی۔عورتوں کی زبان بطور ہتھیار کی بابت آگاہی اسے بہت بعد میں جاکر ہوئی تھی۔پھر شعورنے آنکھ کھولی، زمیں دیکھی فلک اور فضا دیکھی۔اپنا چلن بدلا اور بات کرنے کا ہنراور ڈھنگ سیکھا۔ پہلے پہل بات کرنے کو زبان و بیان کے ساتھ مباحثہ کا چلن ہوا جو اپنی خالص شکل میں مکالمہ پر منتج ہوا۔
ارادہ تو تھا کہ فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دوں مگر کیا کروں جب سے دشمن ملک کی جانب سے دریاؤں پر بند باندھ کرہمارا پانی روک لیا گیاہے تو احبابِ گرامی 73کے آئین کے تناظر میں ایک قطرہ آنسو ٹپکانا بھی ہمیں حشووزوائد اور اصراف کے زمرے میں محسوس ہوتا ہے۔اس لئے کوثر و تسنیم میں دُھلی زبان لکھنے اور رطب اللسان ہونے سے بہتر ہے،اپنی بات سادگی سے ہی بیان کر دی جائے اور زبان و بیان کے چٹخارے زنان کے لئے چھوڑ دیئے جائیں۔آمدم برسرمطلب وہ کیا کہہ گئے ہیں مرزا نوشہ “مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی” یا کبڑے کی کمر پر لات پڑ جائے تو اس کی کمر کا درد جاتا رہتا ہے اور میرا رشکِ قمر کمر اور کولہے مٹکا نا شروع کر دیتا ہےاور اگرآپ کوچہ چیلاں کے محلہ بَلی ماراں (براہِ کرم اسے بلیِ مت پڑھئے گا ورنہ سپہ سالارصاحب سابقہ کی شان میں کمتی ہوجائے گی)کی نہر والی حویلی کے ہوں تو ساتھ ساتھ طبلے کی تھاپ پر خوش گلوئی بھی شروع کر دیتے ہیں اور اپنے خاندان اور پاندان کی ساری گوریاں اور گلوریاں کھول کھول کر دکھا دیتے ہیں۔
ہوا یوں کہ پار سال جب ہم نے اپنی خود ساختہ ادبی جلاوطنی اور چُپی توڑنے کا ارادہ کیا ،یا یوں کہیے ریشم کا کیڑا اپنے کوکون کو کاٹ کر پتنگا بن کر اڑنے کے لئے پر تول رہا تھا تو چہار جانب سوشل میڈیا کی رنگارنگ دنیا دیکھ کر حیران وپریشان ہوگیا اور اڑنے بھی نہ پایا تھا کہ گرفتار ہوگیا۔چند قریبی دوست جو بلاگ لکھا کرتے تھے اور اور اپنی تحاریر ادھر ادھر چھپوا کر یوں خوش ہوا کرتے گویا ہفت اقلیم مل گئی ہو۔ان کے اصرارپر ہم نے بھی یہ بھاری پتھر چوم کر اس میدان میں چاند ماری کی کوشش شروع کردی ۔خیر روابط بڑھے اور چند اچھے لکھنے والے تاڑ کر ہم نے بھی ان کی تحریروں کو فالو کرنا شروع کردیا ۔جس صاحب کی تحریر تو دل میں اترتی تھی مگر تصویر پر دل نہیں ٹھکتا تھا وہ اپنے ممدوح قبلہ چیف ایڈیٹر صاحب تھے ۔ان کے مضامین پڑھ کر دل میں نئے پن کا احساس فزوں تر ہوتا تھا ،آہستہ آہستہ پرت کھلتے گئے شکر ہے یہ پرتیں میوہ آرائیاں کی طرح کی نہیں نکلیں کہ اندر سے پرتوں کے سوا کچھ برآمد نہ ہو۔اس دوستی کے پردہ زنگاری میں سے انعام ملا جو بظاہر اپنے کٹھور جملوں اور رانگڑ مارکہ حملوں کی وجہ سے فوراََ دل یزداں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے اور آپ اسے جھٹکنے کے چکروں میں اپنا دامن تار تار کروا لیتے ہیں اور الزام بھی اس پر دھر دیتے ہیں ۔اگر ذرا تحمل اور برداشت سے کام لیا جائے تو بہت سے معاملات اس نہج تک نہیں پہنچتے جسے پوائنٹ آف نو ریٹرن کہتے ہیں۔
ایک سال پہلے جب مکالمہ کا ڈول ڈالا گیا یا یوں کہئیے یہ ڈھول ہمارے گلے پڑ گیا اور اسے بجانا اور اس پردھمال ڈالنا فرض ٹھہرا تو اس سے مفر ممکن نہیں تھا۔ ہرسفر کا آغاز ایک چھوٹا سا قدم اُٹھانے سے ہوتا ہے۔ راستہ ، زادِراہ اور منزل تک پہنچنے کی منصوبہ بندی سب راہی پر منحصر ہوتا ہے۔میر کارواں اگر مضبوطی سے قدم جما کر چلتا جائے تو کارواں کبھی نہیں رکتا بے شک جنتی مرضی تندی باد مخالف ہو۔ایک سال پہلے جب مکالمہ کا آغاز کیا گیا تو مقصد واضح تھا کہ ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جائے جہاں باہمی رنجشیں ،کدورتیں ،نفرتیں،اختلافات خوش سلیقگی سے مباحثے کی بجائے مکالمہ سے دور کی جائیں ۔ دنیا میں لاکھوں لوگ سرمایہ دار اور سرمایہ کار ہیں، ہوسکتا ہے نیک جذبات بھی رکھتے ہوں مگر بعض اوقات سب وسائل کی دستیابی کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔

محدود وسائل مگر خلوص کی دولت سے مالامال اٹھایا جانے والا یہ قدم سب کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا کہ ملا و مسٹر، لبرل اور مذہبی بیانیہ دونوں کو بلا امتیاز اپنی بات کہنے کا موقع فراہم کیا گیا ،سب کی بات سنی گئی ،اپناموقف پیش کرنے اور دوسرے کی بات تحمل سے سن کر اس کا شائستگی سے جواب دینے کے کلچر کو پروان چڑھانے کی طرف قدم اٹھایا گیا۔ہم کہاں کے دانا تھےکس ہنر میں یکتا تھے؟ ایک ایک قدم اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے ،ساری نادانیوں ،کمیوںاور کوتاہیوں کو قبول کرتے ہوئے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لانے کا خواب دیکھا تھا ۔جانتے تھے یہ کوئی آسان راہ نہیں ،مشکلات آئیں گی اور یہی وہ مقام ہوگا جو آپ کے مقام کا تعین کرے گا کہ ڈٹے رہیں یا ہمت ہار کر بیٹھ جائیں۔الحمد للہ اپنی جیب سے بنا کسی امداد اور ایڈورٹائزنگ یا اشتہار بازی کے یہ قافلہ چل رہا ہے صرف اس امید پر کہ اگر ایک انسان بھی کچھ سیکھ گیا تو محنت رائیگاں نہیں گئی۔
مکالمہ ایک ایسا پارس پتھر ٹھہرا کہ جو بھی اسے چھو کر گزرا نگینے کی طرح ہر جگہ فٹ ہوگیا، کتنے دوست جو اب کسی نہ کسی حیثیت میں کہیں بھی کوئی کام کررہے ہیں وہ سب اس سیکھنے کے عمل میں ضرور مستفید ہوئے ،اب وہ بھلے مانیں یا نہ مانیں۔ان سب کے لئے نیک تمنائیں ۔جو بھی دوست مکالمہ کے ساتھ وابستہ ہیں ان کی اول العزمی اور پامردی کو سلام ۔ ایک سال مکمل ہوا ۔اللہ رب العزت سے دعا ہے یہ خلوص دل سے شروع کیا گیا سفر یونہی جاری و ساری رہے اور معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی لانے میں کامیاب ہوجائے۔آمین

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *