میرا پیٹ، میرا دشمن—- عارف خٹک

قسط نمبر ایک

نوٹ: خواتین نہ پڑھیں مگر بچے اور بچیاں شوق سے پڑھیں۔

بچپن میں آنکھ کھولی تو ماں کو اپنے قریب پایا۔ 100 کلو کی ماں ذہن میں جیسے رچ بس گئی۔ تھوڑے سے بڑے ہوئے،تو 110 کلو کا باپ دل کو بھا گیا۔ آس پاس چچا کزنز اور باقی سب رشتہ دار سب سو کلو سے اوپر۔ سو ذہن نے قبول اور دل نے مان لیا۔کہ اگر ماں صحتمند اور موٹی نا ہو تو ممتا کا احساس بھی ادھورا رہتا ہے۔
تھوڑے سے اور بڑے ہوئےاور ابا کی ” گرم مسالہ” VHS کیسٹ جو وہ ہم سے چُھپ کر دیکھا کرتےتھےاور ہم ان سے۔(اسی کو شرم اور حیا کہا جاتا ہے جو ہماری مشرقی اقدار کی خوبصورتی ہے) میں مسرت شاہین اور چکوری کے ادھ ننگے اودھم مچانےوالے ڈانس دیکھے۔ تو معلوم ہوا کہ محبوبہ بھی صحتمند ہوتی ہے۔ ان دونوں ہیروئنوں کو صرف مونچھوں والے بدرمنیر اور سلطان راہی کی ہمت تھی کہ گود میں اُٹھالیتے تھے۔اور حیرت انگیز بات کہ اُفففف بھی نہیں کرتے تھے۔کیونکہ اُف کرنے کیلئے ٹی وی اسکرین کے سامنے ہم جو موجود ہوتے تھے۔ ورنہ کلین شیوڈ امیتابھ بھی 45 کلو لڑکی کو اُٹھاتے ہوئے کلو دودھ پیتا رہا ہے۔قوت ایمانی اسے کہتے ہیں۔
تھوڑے سے مزید بڑے ہوئ، تو محبوبہ بھی صحتمند ڈھونڈنے لگے۔ اسی چکر میں ہم نے کتنے سلم و سمارٹ حسیناؤں کے دل توڑے،یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ مگر ہماری نظریں ہمیشہ 120 کلو سرخ و سپید مسرت شاہین کو ڈھونڈتی رہیں۔
2007 تک جب کوئی اوور سائز محبوبہ نہیں ملی۔تو ہم نے اپنی محبت کی تکمیل کیلئے شادی شدہ عورتوں کو آنٹی کہنا شروع کیا۔ آگے سے بیٹا کہہ کر ہماری محبت بھری آرزوئیں کا بےرحمی سے قتل عام کیا گیا۔ بالآخر ہم پر مُنکشف ہوا کہ موٹی محبوباؤں کیلئے موٹی مونچھوں والا سلطان راہی بننا لازم ہوتا ہے۔ سو آدھے پاؤ مُنہ پہ ہم نے دو پاؤ کی مونچھیں رکھ چھوڑی۔
لہٰذا اگلے مہینے اُس لڑکی کو دُلہن بنایا۔جس کو یونیورسٹی میں سائیکل پر ساتھ بٹھا کر سائیکل بھگاتا تھا اور آج ان کو رکشے والا دیکھ کر خود بھاگ جاتا ہے۔ اس کے چیخنے چلانے کے باوجود اس کو 110 کلو سے 130 کلو پر لیکر گیا۔ یہ میری بڑی کامیابیوں میں ایک اہم کامیابی تھی۔
وزن کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کب اپنا وزن بڑھا دیا،پتہ ہی نہیں چلا۔ بالآخر اپنے وزن سے جب حسینوں کے سامنے دُہرے دُہرے ہوکر ڈھے سے جانے لگے۔ تو دُنیا نے ہمیں انکل پکارنا شروع کیا۔ حالانکہ دہرا ہونا ہمارے بس میں نہیں تھا۔ گھٹنے درد کرنے لگ گئے تھے۔مگر ہم پر اثر نہیں پڑا۔ لیکن جب اماں کی ہم عمر خالاؤں نے بھی بھائی کہنا شروع کیا۔ تو ہلکا سا جھٹکا لگا۔ مگر اتنا زور کا پھر بھی نہیں تھا۔ گھر میں 130 کلو کی بیوی جب موٹا کہہ کر چھیڑنے لگتی۔تو ہم زوردار ہنسی ہنس کر ویٹ مشین پر کھڑے ہوجاتے اور بیوی کو بلاکر وزن کا کانٹا دکھانے لگتے۔جو 102 کے ہندسے پر ہل رہی ہوتی۔ جواباً غیرت دلا دلا کر جب بیوی کو ویٹ مشین پر کھڑا کردیتے۔تو مشین کی سوئی آپے سے باہر ہوکر اُوپر نیچے ناچنے تھرکنےلگتی۔اور ہم زوردار قہقہہ لگا کر کسی اور فیس بکی حسینہ کو متاثر کرنے کے مشن پر نکل جاتے۔ یار دوستوں نے ٹھرکی کا خطاب بھی دیا۔
ابا کے طعنے، اماں کی سرزنش، بیوی کی بڑبڑاہٹ یار دوستوں کے شرمندہ کرنے والے کمنٹس کہ اپنا وزن کم کریں۔،شوگر، بلڈ پریشر اور دوسری بیماریاں چمٹ جائیں گی۔ تو میرا جواب ہوتا تھا کہ یہ سب امیروں کی بیماریاں ہیں۔ان بیماریوں پر آجکل فخر کیا جاتا ہے۔ ڈھیٹ پن کے اس کھیل میں جیت ہمشہ میری ہی ہوتی۔
آج کل تو یار دوست پیٹ پر پیار سے ہاتھ پھیر پوچھنے لگے ہیں۔کہ بھائی جان،،،
کیا بھابھی نے اُمید سے ہونا چھوڑ دیا ہے؟جو آپ اتنی بھاری ذمہ داری اُٹھائے جارہے ہیں۔ آگے سے ہلکا سا جواب اُن کوملتا،کہ میں آجکل “فیمینسٹ” بنا ہوا ہوں۔ عورتوں کی تکالیف خود پر جھیل کر ان جیسا سوچنا چاہ رہا ہوں۔ تو کچھ دوست بنوں جانے کا مشورہ دے ڈالتے۔

پچھلے ہفتے غسل خانے میں نہاتے ہوئے قد آدم آئینے میں اپنے “سائز” پر نظر پڑی۔جو پیٹ کے نیچے کہیں چُھپنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ تو ہل کر رہ گیا کہ اسے کیا ہوگیا ہے؟لوگ تو وقت کےساتھ ساتھ بڑے ہوتے جاتے ہیں۔مگر اپنے والے کی تو حالت 2019 میں ایسے ہوگئی ہے،کہ ڈر لگا کہ کہیں 2020 تک یکسر غائب نہ ہو جائے۔اگلے دن جِم پہنچا،اور اب روزانہ دس کلومیٹر کی دوڑ اور سائیکلنگ کرکے میں کسی کو فنا ہونے سے بچانے کی کوشش کررہا ہوں۔
دعاؤں کی درخواست ہے۔

جاری ہے

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *