• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • کیا ہم کائنات کا ایک اور راز بے نقاب کرنے والے ہیں؟۔۔ علیم احمد

کیا ہم کائنات کا ایک اور راز بے نقاب کرنے والے ہیں؟۔۔ علیم احمد

بلیک ہولز کے بارے میں آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ ان کی کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہوسکتی۔

البرٹ آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز، چاہے وہ مادّہ ہو یا توانائی، خلاء میں روشنی کی رفتار سے زیادہ پر حرکت نہیں کرسکتی۔

اگر ہم ایک عام بلیک ہول کی بات کریں تو وہ ایک ایسا مردہ ستارہ ہوتا ہے جس کی کمیت، ہمارے سورج کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہوتی ہے۔

ایک ستارہ، یعنی کہ ایک اسٹار، دراصل ایک نیوکلیائی بھٹی ہوتا ہے۔ یہ ہائیڈروجن کو ہیلیم اور دوسرے بھاری عناصر میں تبدیل کرتا ہے اور زبردست توانائی خارج کرتا ہے۔

کائنات میں اتنے ستارے ہیں کہ ہم انہیں گن ہی نہیں سکتے۔

ہمارا سورج بھی ایک ستارہ ہے، اور اس میں بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے۔ سورج کا شمار اوسط درجے کے ستاروں میں ہوتا ہے جن کی عمر تقریباً دس ارب سال جتنی ہوتی ہے۔

ہمارا سورج، اپنی زندگی کے پانچ ارب سال گزار چکا ہے؛ اور ابھی اس کی عمر کے مزید پانچ ارب سال باقی ہیں۔

یہ بہت طویل عرصہ ہے… اس لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

البتہ، وہ ستارے جن کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے وہ اپنا نیوکلیائی ایندھن — یعنی ہائیڈروجن اور ہیلیم — بہت تیزی سے جلاتے ہیں اور صرف چند کروڑ سال میں اپنا سارا نیوکلیائی ایندھن پھونک کر ختم کردیتے ہیں۔

ایسے ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر زبردست دھماکے سے پھٹ پڑتے ہیں جسے ’’سپر نووا‘‘ کہا جاتا ہے۔

سپر نووا کے بعد بعض اوقات ایسے ستارے باقی بچتے ہیں جو صرف نیوٹرونز پر مشتمل ہوتے ہیں؛ اور اسی لئے انہیں

’’نیوٹرون ستارے‘‘ (نیوٹرون اسٹارز) بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن کچھ ستاروں کی کمیت، یعنی ان میں مادّے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اتنی زیادہ کہ یہ خود کو اپنی انتہائی شدید کششِ ثقل کے مقابلے پر سنبھال نہیں پاتے اور اپنے ہی وجود میں منہدم ہوتے چلے جاتے ہیں۔

انجامِ کار میں یہ ستارے ’’بلیک ہولز‘‘ بن جاتے ہیں۔

یعنی ان کی کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کائنات کی سب سے تیز رفتار چیز، یعنی کہ روشنی بھی ان سے فرار نہیں ہوسکتی۔ روشنی کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے؛ جو کائنات میں انتہائی رفتار کی آخری حد بھی ہے۔ اور اگر روشنی بھی وہاں سے فرار نہیں ہوسکتی تو پھر کوئی چیز بھی بلیک ہول سے فرار نہیں ہوسکتی۔

اور جب کسی بھی قسم کی روشنی وہاں سے فرار نہیں ہوسکتی، تو ہم انہیں دیکھ بھی نہیں سکتے۔

اسی لئے ہم انہیں ’’بلیک ہولز‘‘ یعنی ’’سیاہ سوراخ‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ویسے آپ چاہیں تو انہیں کائنات کے اندھے کنویں بھی کہہ سکتے ہیں۔

خوش قسمتی سے بلیک ہول کی شدید کششِ ثقل کے یہ اثرات اس کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے تک محدود ہوتے ہیں جسے ’’واقعاتی افق‘‘ (Event Horizon) کہا جاتا ہے۔ واقعاتی افق سے دور جاتے ہوئے، بلیک ہول کی کششِ ثقل بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے؛ اس لیے کسی بلیک ہول سے دور دراز مقامات پر موجود اجسام پر اس کشش کے اثرات بھی اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ انہیں بہ مشکل ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

یعنی ہم واقعاتی افق کو بلیک ہول کی ’’سرحد‘‘ سمجھ سکتے ہیں۔

لیکن بلیک ہول کی اسی ’’سرحد‘‘ پر بہت کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ وہ اجسام (مثلاً گرد اور گیس کے وسیع و عریض بادل وغیرہ) جو کسی بلیک ہول کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، وہ جیسے جیسے واقعاتی افق کے قریب پہنچتے ہیں، ان کی رفتار بڑھنا شروع ہوجاتی ہے اور وہ بلیک ہول کے گرد ’’مرغولہ نما‘‘ (Spiral) راستے پر چکر لگاتے ہوئے، واقعاتی افق سے قریب تر ہونے لگتے ہیں۔

ہر چکر میں ان کی رفتار مزید بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ عین واقعاتی افق پر پہنچ جاتے ہیں۔ زبردست رفتار کی وجہ سے ان اجسام کی اپنی توانائی بھی بہت زیادہ ہوجاتی ہے اور ان سے (روشنی سمیت) مختلف اقسام کی شعاعیں (ریڈی ایشن) خارج ہونے لگتی ہیں…

اور جیسے ہی وہ واقعاتی افق سے بلیک ہول کے اندر گرنے لگتے ہیں ٹھیک اسی وقت، زبردست ایکسریز خارج کرتے ہوئے، وہ بلیک ہول میں ہمیشہ کےلیے گم ہوجاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ فلکیات ان ایکسریز کو ’’بلیک ہول میں گرتے ہوئے مادّے کی آخری چیخ‘‘ بھی کہتے ہیں۔

اس کی ایک مثال ’’سائنگنس ایکس ون‘‘ نامی دوہرے ستارے یعنی ’’بائنری اسٹار‘‘ سے دی جاسکتی ہے۔

یہ ہم سے تقریباً چھ ہزار دو سو نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ دو ستاروں پر مشتمل اس نظام میں ایک ستارے کو ہم دیکھ سکتے ہیں جبکہ دوسرا ستارہ ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔

البتہ، دکھائی دینے والے اس ستارے کی سطح سے گیسیں اٹھتی ہیں اور اس کے قریب ہی موجود، نادیدہ ستارے کی طرف بڑھتے ہوئے ایکسریز خارج کرتی ہوئی غائب ہوجاتی ہیں۔

سائگنس ایکس ون کے تفصیلی مشاہدے کے بعد ماہرینِ فلکیات متفق ہیں کہ اس دوہرے ستارے میں جو نادیدہ ستارہ ہے وہ دراصل ایک بلیک ہول ہے، جو اس چھوٹے ستارے سے اٹھنے والی گیس کو ہڑپ کرتا جارہا ہے۔

لیکن بلیک ہولز کی ایک قسم اور بھی ہے جو مردہ ستاروں سے بننے والے بلیک ہولز یعنی ’’اسٹیلر بلیک ہولز‘‘ سے بالکل مختلف ہے… اور انہیں ’’سپر میسیو بلیک ہولز‘‘ یعنی ’’فوق ضخیم سیاہ سوراخ‘‘ کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، ان کی کمیت غیرمعمولی طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک سپر میسیو بلیک ہول کا ’’ماس‘‘ یعنی اس کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں کروڑوں اربوں گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔

ایسے بلیک ہولز عموماً بڑی کہکشاؤں کے بیچوں بیچ ان کے بالکل مرکز میں پائے جاتے ہیں۔

یہ کہکشاؤں کے مرکزوں میں زبردست سرگرمیوں کی وجہ بنتے ہیں جن کے نتیجے میں وہاں سے زبردست برقی مقناطیسی شعاعیں یعنی الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشنز مسلسل خارج ہوتی رہتی ہیں، جن میں کئی اقسام کی ریڈیو شعاعوں کے علاوہ طاقتور ایکسریز بھی شامل ہیں۔

ان بلیک ہولز سے وابستہ، اسی خاصیت کی بناء پر انہیں ’’سرگرم کہکشانی مرکزے‘‘ یعنی ’’ایکٹیو گیلیکٹک نیوکلیائی‘‘ یا مختصراً ’’اے جی این‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں بھی ایسا ہی ایک بلیک ہول موجود ہے جو ہم سے تقریباً چھبیس ہزار نوری سال دوری پر واقع ہے۔

اندازہ ہے کہ اس سپر میسیو بلیک ہول کی کمیت، ہمارے سورج کے مقابلے میں تقریباً 45 لاکھ گنا زیادہ ہے۔

زمین سے دیکھا جائے، تو یہ ’’برجِ قوس‘‘ یعنی ’’سیجی ٹیریئس‘‘ میں ہے۔ اسی لیے اس کا نام بھی ’’سیجی ٹیریئس اے اسٹار‘‘ رکھا گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ریڈیو شعاعوں کا ایک منبع یعنی ’’ریڈیو سورس‘‘ ہے۔

اب آتے ہیں اس خبر کی طرف، جو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں گرم ہے۔ خبر یہ ہے کہ بلیک ہولز پر تحقیق کی غرض سے جاری منصوبے ’’ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ‘‘ یا ’’ای ایچ ٹی‘‘ سے وابستہ ماہرینِ فلکیات کی بین الاقوامی ٹیم نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول یعنی ’’سیجی ٹیریئس اے اسٹار‘‘ کے ’’ایونٹ ہورائزن‘‘ یعنی ’’واقعاتی افق‘‘ کی تفصیلی منظر کشی مکمل کرلی ہے۔

ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ دراصل ’’یورپین سدرن آبزرویٹری‘‘ یا ’’ای ایس او‘‘ کا تحقیقی منصوبہ ہے جس میں دنیا بھر کے 12 مقامات پر نصب سینکڑوں ریڈیو دوربینیں، مربوط انداز سے شریک ہیں۔

ایک بار پھر یاد دلاتا چلوں کہ ہم کسی بلیک ہول کو بالکل بھی نہیں دیکھ سکتے لیکن اس کے واقعاتی اُفق یعنی ’’ایونٹ ہورائزن‘‘ کے آس پاس کا مشاہدہ ضرور کرسکتے ہیں۔

2005ء میں شروع ہونے والے تحقیقی منصوبے ’’ایونٹ ہورائزن ٹیلی اسکوپ‘‘ میں یہی کام کیا گیا ہے، جو اس کے نام کی وجہ بھی ہے۔

جاری کردہ تصاویر اور کمپیوٹر سمیولیشنز سے پتا چلتا ہے کہ ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول ’’سیجی ٹیریئس اے اسٹار‘‘ کے ایونٹ ہورائزن یعنی واقعاتی اُفق کے ارد گرد گیس اور گرد کے وسیع و عریض بادل اس طرح سے جمع ہیں جیسے کوئی بہت بڑا ڈو نَٹ ہو… ایک ایسا ڈو نَٹ جسے اس کے بیچوں بیچ موجود نادیدہ بلیک ہول مسلسل کھانے میں مصروف ہے؛ اور جس کے نتیجے میں وہاں سے زبردست ریڈیو شعاعیں خارج ہورہی ہیں۔

آج ماہرینِ فلکیات اور ماہرینِ کونیات کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ کہکشاؤں کی تشکیل سے لے کر ہماری کائنات کے ارتقاء تک میں ایسے ہی سپر میسیو بلیک ہولز نے اہم ترین کردار ادا کیا ہوگا۔

تازہ ترین مشاہدات کی بدولت آج ہمیں یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سپر میسیو بلیک ہول کا قطر اندازاً 44 ملین یعنی چار کروڑ چالیس لاکھ کلومیٹر ہے جبکہ اس کی کمیت، ہمارے سورج کے مقابلے میں تقریباً 45 لاکھ گنا زیادہ ہے۔

لیکن… لیکن ہم اب تک یہ نہیں جانتے کہ آخر یہ عظیم و ضخیم سیاہ سوراخ، یہ سپر میسیو بلیک ہولز کیسے وجود میں آئے ہوں گے۔

اس بارے میں ہمارے پاس کچھ معقول مفروضات ضرور موجود ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ شاید اس قسم کے بلیک ہولز کائنات کے ابتدائی دَور میں مادّے کی تقسیم میں عدم توازن کے باعث بنے ہوں گے۔

لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس بارے میں اب تک ہمارے پاس مفروضوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

البتہ، ہوسکتا ہے کہ اس دریافت کی بدولت آنے والے برسوں میں ہم یہ معما بھی حل کرلیں… آخرکار ہم یہ جاننے میں کامیاب ہوجائیں کہ سپر میسیو بلیک ہولز کب اور کیسے وجود میں آئے۔

ہمیں کامیابی ملتی ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر اتنا ضرور طے ہے کہ یہ دریافت، اکیسویں صدی کی اہم ترین سائنسی دریافتوں میں سے ایک ہے۔

ہگز بوسون، کائناتی افراط یا کوسمک انفلیشن کی باقیات اور ثقلی لہروں یعنی گریوی ٹیشنل ویوز کی دریافت کے ساتھ ساتھ سپر میسیو بلیک ہول کے واقعاتی افق کی تفصیلی عکس بندی کو بھی ہم بیسویں صدی کی ایک اور اہم ترین سائنسی دریافت قرار دے سکتے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *