• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • کوئی نا مکمل بات بوجھ رہی دل پر، مگر اب مکمل کر دی۔۔۔۔خالد حسین مرزا

کوئی نا مکمل بات بوجھ رہی دل پر، مگر اب مکمل کر دی۔۔۔۔خالد حسین مرزا

رات کا سبق تو  یہ تھا کہ سیڑھی اوپر  چڑھتے ہوئے اگر کوئی اس طریقے سے آپ کے پیر تلے کیل رکھنے کی کوشش کرے کہ اس کےنام پر کوئی حرف نہ آئے اور وہ یوں خود کے لیئے پختہ دلیل تیار رکھے کہ  اس نے دنیا داری کے ایک اصول پر عمل کیا ہے تو ہم نے اپنے خود کے لیئے تمام جینے  کے جو اسباق مختص کیئے ہوئے ہیں وہ تو یہی سکھاتے ہیں کہ  اس کے لیئے بھی بھلائی چاہی جائے۔
ہاں! اگر پھر بھی کوئی آپ کا زندگی میں آگے بڑھنا نہ ہضم کر پائے تو اس کے احساس کو بعض دفعہ یوں نظر انداز کرنا ضروری ہوتا ہے جس طرح ہم اکثر ڈی جے کو شادیوں پر بکواس گانے لگانے پر نظر انداز  کر دیتے ہیں۔
نظر انداز کرنے سے بہت مشکل سے یاد آیا کہ کچھ سوچوں پر اور باتوں پر دھیان نہ ہی دیا جائے، تب ہی بہتر ہے جس طرح شیاطین کے وسوسے جو ہمیں سیڑھی اوپر چڑھنے  سے روکتے ہیں۔
بہت مشکل سے یاد کرنے کی وجہ یہ ہوئی کیونکہ اپنی بات مکمل کرنے کے لیئے مجھے چند الفاظ چاہئیں۔اپنی بات کو کھینچتا ہوا یہ بیا ن کرتا چلوں کہ کل میں آفتاب اقبال صاحب کے ’’آپ‘‘ چینل والے شو کی ویڈیو دیکھ رہا تھا۔ اس میں وہ اک کپ کی مثال کے ساتھ سمجھا رہے تھے کہ شیطان اپنی طاقت کا مظاہرہ انسان کے دماغ میں وسوسے ڈال کر کرتا ہے اور وہ ویسے تو وہ کچھ نہیں کر سکتا۔
(آفتاب اقبال صاحب کی بات کی تفصیل یہاں تک تھی آگے میں خود کی ایک رائے بنانے کی کوشش کرتا ہوں)
اگر ہم اپنی تباہی کا الزام شیطان پر ڈالیں تو اس کہ  پاس جواز ضرور ہے کہ اس نے تو کچھ نہیں کیا۔ اگر ہم اتنے  ہی اشرف المخلوقات  ہیں۔ اچھا بات یہ ہے کہ، شیطان کا مقصد خود کا بری ہونا یا مزید پھنسنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف انسان کو پھنسا کر خود سائیڈ پر  ہو جانا ہے۔ اس طرح وہ اپنی ذہانت پر ناز کرتا ہے۔
اسی طرح کیل رکھنے والا شخص بھی عین ممکن ہے کہ  اپنی ذہانت کی کوئی مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہو جسے وہ بعد میں اپنے رفقاء  کو ٹھٹھے مار کے بیان کرے۔
اس شخص کے لیے نیک نیتی سے بھلائی چاہنا جو آپ کو لگتا ہے کہ یہ شخص اپنے دماغی داؤ  پیج لگانے کی صلاحیت آپ کی راہ میں رکاوٹیں  حائل کرنے میں صرٖف کرتا  ہےاور خود کو ذہین سمجھتا ہے تو یقین جانیے یہ بہادری ہے۔
ایسا جذبہ رکھنے میں اگر کم ہمتی کا احساس ہونے لگے تو یاد رکھیئے کہ شیطان کی چال کو پہلے سے سمجھ کے رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اس کی چالبازی کے لیے تیار رکھنا بھی کم دماغ کا استعمال نہیں ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *