میں خدا کو نہیں مانتا ۔۔۔علی اختر/قسط1

(پاکستان میں مذہب بیزاروں اور بیرون ملک اسلام پسندوں کے درمیان گزرے کچھ وقت کی یادداشتیں )

یہ غالباً سن 2010 کی بات ہے ۔ مجھے کمپنی کی گاڑی آفس سے ٹھیک 7 بجے گھر پہنچا دیتی تھی۔ ہفتے میں دو دن شام میں میری ایم بی اے کی کلاسز ہوتیں اور باقی 5 دن کوئی بھی مصروفیت نہ تھی سو میں گھر پہنچ کر ایک کپ چائے پیتا، ٹراؤزر، ٹی شرٹ اور جوگرز پہن کر ناظم آباد انکوائری آفس پر واقع ماڈل پارک میں چہل قدمی اور رننگ کے لیئے چلا جاتا ۔

وہیں واک کے دوران واکنگ ٹریک پر اس سے میری پہلی ملاقات ہوئی ۔ اس نے پوچھا “آپ یہاں روز آتے ہیں” میں نے کہا نہیں ہفتے میں پانچ دن آتا ہوں اور پھر اگلے پینتالیس منٹ واک کرتے اور باتیں کرتے کیسے گزرے مجھے پتا ہی نہیں چلا ۔

اسکا نام صمد تھا ۔ قومیت کے لحاظ سے پشتون اور پشاور یونیورسٹی سے ایم اے انگلش تھا ۔ کراچی کی ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں انگلش کا ٹیچر تھا ۔ کراچی میں میٹروول میں رہتا تھا ۔ ڈاکٹر نے کسی وجہ سے اسکی بیوی کو واک کرنے کا بولا اور محلے میں کوئی  فیملی پارک نہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے لے کر ناظم آباد کے پارک میں آنا شروع ہو گیا ۔

دوسری ہی ملاقات میں بات ملک کے معاشی مسائل ، انکے حل اور پھر کمیونزم پر ہونے لگی ۔ میں بھی معاشیات پڑھ  چکا تھا اس انڈفرنس کروز، لا آف ڈائمنشننگ  مارجنل یو ٹیلیٹی ڈسکس کرتے کرتے میں بھی کمیونزم پر اپنی محدود معلومات کی روشنی میں رائے دیتا رہتا پر    زیادہ وہ بولتا کہ  اس موضوع پر اسکی معلومات وسیع تھیں ۔ وہ ملکی بلکہ عالمی مسائل کا حل کمیونزم کو مانتا ۔ اور مسائل کی جڑ سرمایہ داری نظام کو جبکہ میں ایک   کٹر اسلامسٹ تھا اور شریعت و خلافت کے احیاء کو مسائل کا حل گردانتا لیکن ہم دونوں ہی ٹھنڈے لہجے میں ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کرتے ہوئے مسائل ڈسکس کرتے۔

پھر پتا چلا کہ  وہ لیفٹسٹ آرگنائزیشن”طبقاتی جد وجہد ” کا سر گرم کارکن ہے ۔ ایف سی میں بھی خدمات دے چکا ہے اور پھر نوکری چھوڑ بھی چکا ہے کیونکہ اسکے مطابق فوج بھی صرف سرمایہ کاروں کے مفادات کے لیئے بنائی   گئی  ہے۔

پھر ایک دن وہ ہوا جسکا مجھے ذرا بھی ادراک یا تجربہ نہیں تھا ۔ اس دن جب میں انتہائی  شور و شور سے اسے سود کی حرمت کے فضائل بتا رہا تھا ۔ وہ کسی بات پر مسکرایا اور بولا ” میں خدا کو نہیں مانتا۔ میری پیدائش ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی لیکن میں مذہب کو افیون سمجھتا ہوں ۔ اسکی بدولت انسان تقسیم اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں ۔ مذہبی ٹھیکے دار خواہ کسی بھی مذہب کے ہوں ، ہر دور میں سرمایہ داروں کے اشارے پر لوگوں کو کنٹرول کرتے آئے ہیں ” ۔

یہ بات میرے لیئے  حیران کر دینے والی تھی ۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ  کوئی  مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا  اور پھر اسلام سے ، ذات خدا سے سے انکار کر دے ۔

اس نے مزید کہا کہ ” یہ بات میں آپ کے سامنے کھل کر صرف اس لیئے بیان کر رہا ہوں کہ  مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ  آپ ایک کھلے ذہن کے آدمی ہیں ۔ آپکے علاوہ کوئی  اور ہوتا تو میں اس بات کا اعتراف کبھی بھی نہ کرتا ۔”

بے شک میں اس سے ایک کھلے دماغ کے آدمی کے طور پر بات کرتا تھا ۔ لیکن پھر بھی میرے بارے میں اسکا اندازہ بالکل بھی درست نہ تھا۔

میں بھول چکا تھا کہ  ہم کن کن موضوعات پر بات کرتے تھے ۔ کمیونزم ، کیپٹلزم سب پیچھے رہ گیا تھا ۔ اب وہ میرے سامنے صرف ایک ایسا انسان تھا جو خدا و مذہب کا ناصرف انکاری تھا بلکہ جو لوگ مذہب کے ماننے والے تھے ان پر اعتراض بھی کر رہا تھا ۔ صرف ایک جملہ “میں خداکو نہیں مانتا” نے میرے دل میں ہزار اندیشوں کو جنم دیا ۔ کچھ عرصہ پہلے ہی ایک سفر نامہ پڑھا  تھا ” میں نے روس میں کیا کیا دیکھا” جو کہ  ایک افغان طالب علم کی آپ بیتی ہے جواسکالر شپ پر سویت یونین پڑھنے جاتا ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ  کمیونسٹ کیسے خدا کے وجود کا انکار کرتے ہماری تر بیت کے لیئے فلمیں دکھاتے تاکہ  ہمیں بھی ملحد بنایا جاسکے۔

میں اعتراف کر رہا ہوں کہ  اس موقع پر ایک خیال یہ بھی گزرا کہ  “بس ایک بار یہ کوئی  گستاخانہ کلمہ منہ سے نکالے تو میں اسکا گلا یہیں دبوچ لوں ” لیکن خلاف توقع وہ جب جب مذہبی مقدس ہستیوں کا ذکر کرتا تو پورے احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر کرتا ۔

اس دن ملاقات مختصر رہی ۔ میں عجیب سی بے چینی کا شکار رہا ۔ اپنے دوستوں سے بھی اس کا ذکر کیا ۔ کچھ نے مجھے اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا ۔ کسی نے اسے خفیہ ایجنسی کا آدمی قرار دیا تو کسی نے مشورہ دیا کہ  پولیس میں کمپلین کرتے ہیں ۔

بہرحال وہ میری زندگی کا پہلا دہریہ تھا ۔ جب اگلی بار وہ مجھ سے ملا تو میں نے کچھ ظاہر نہ ہونے دیا لیکن دماغ میں وہی بات تھی ۔ “تم اکیلے ایسے ہو یا تمہارے سارے ساتھی تمہاری ہی طرح ہیں ؟ میں کچھ دیر کی باتوں کے بعد پھر اپنے دلچسپی کے ٹاپک پر آگیا تھا ۔ “میرے جیسے کیا مطلب” وہ سوال کا مطلب نہیں سمجھا تھا ۔ “مطلب جو خدا کو نہیں مانتے” ۔

” مذہب کو ماننا یا  نہ ماننا اپنی اپنی چوائس ہے ۔ میں اس پر لوگوں سے زیادہ بات نہیں کرتا لیکن ہمارے ساتھ بہت سے کامریڈ مذہب پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہاں میں یہ مانتا ہوں کہ  ایک سچا کمیونسٹ مذہب کو نہیں مانتا ۔ اسکا ایمان صرف کمیونزم ہوتا ہے” اسکا جواب تفصیلی تھا ۔

پھر ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے جاتے جاتے اس نے مجھے دو دن بعد میٹروول میں واقع اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دی جہاں “طبقاتی جدو جہد” کے کارکنان کی (شاید ہفتہ وار یا ماہانہ ) میٹنگ تھی ۔

میں تذبذب کا شکار تھا کہ  اس میٹنگ میں جاؤں کہ  نہیں ۔ ایک دل کہتا کہ  ان دہریوں سے دور رہو ،تم مسلمان ہو ۔ دوسرا کہتا کہ  دیکھنے میں کیا حرج ہے ۔ بحرحال احتیاط پر تجسس نے فتح پائی اور میں مقررہ وقت پر اپنے دوست کے گھر کے سامنے موجود تھا ۔(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *