فاضل راہو کے بدین کے لوگ پیاسے ہیں۔۔۔۔محمد خان داؤد

اداس رستے پر مسافر گاڑہ چلتی جا رہی ہے۔ شاہراہ اداس ہ، ویران ہے۔ دور دور تک کوئی نہیں، پر گاڑی مسافروں سے بھری ہوئی ہے۔گاڑی میں مصری کی شاعری اور فوزیہ سومرو کی اداس کر دینے والی آواز میں وہ گیت چل رہا ہے جو گیت کم پر نوحہ زیادہ ہے۔ رُکی ہوئی گاڑی میں مسافر جا رہے ہیں۔ مسافر جا رہے ہیں گاڑی رُکی ہوئی ہے۔ وہ مسافر کون ہیں؟ کہاں سے آ رہے ہیں؟ اور کہاں جا رہے ہیں۔ نہیں معلوم!

پر اس چلتی رکتی گاڑی میں مصری کا وہ گیت چل رہا ہے جو بدین کیا  سندھ کو   بھی اداس کرنے کو کا فی ہے۔

گاڑی میں اک خاموشی کا سکوت طاری ہے۔ مسافر کیا پر وہ کنڈیکٹر بھی نہیں بول رہا جسے راہ کے اسٹاپ ایسے یاد ہو تے ہیں جیسے کسی بچے کو دو کا پہاڑا، پر وہ کنڈیکٹر خاموش ہے۔

اس چلتی گاڑی سے اس کنڈیکٹر سے سب کچھ بھول گیا ہے۔ وہ بھی مسافروں کی طرح ایک خالی نشت لے کر بیٹھ گیا ہے۔

گاڑی چلتی جا رہی ہے۔ اداس گاڑی میں بیٹھے مسافروں کی آنکھوں میں وہ آنسو تیر رہے ہیں جو پانی کی بہت ہی قلیل شکل ہے۔ جو اداس آنکھوں میں بہت ہی نمکین ہیں۔گاڑی بنجر زمیں کے ویران رستے پر چلتی جا رہی ہے۔ اس گاڑی میں موجود مسافروں کے گھروں میں بس بچے ہی نہیں، خواتین ہی نہیں، بوڑھے والدین ہی نہیں پر وہ جانور بھی پیاسے ہیں جن کی زبانیں پیاس سے باہر لٹک رہی ہیں۔ وہ جانور کلر زدہ تپتی زمیں پر منہ کے بل گر پڑے ہیں۔ ان کے مالک آتے ہیں۔ کئی لوگوں کی مدد سے انہیں لکڑیوں کے سہارے اُٹھاتے ہیں۔ وہ جانور کچھ دیر کو کھڑے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی ان کے مالک انہیں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ دھڑام سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ بس جانور ہی کیا پر بدین میں موجود قدیم ببر کے درخت ایسے سوکھ گئے ہیں جیسے تھر کی صحرائی ریت!

بدین کی ہر چیز پیاسی ہے۔ لوگ پیاسے ہیں۔ لوگوں کے من پیاسے ہیں۔ آنکھیں پیاسی ہیں۔ آنکھوں میں تو اب کوئی اشک بھی نہیں۔ بدین کی زمیں پیاسی ہے۔ بدین کے لوگوں کی آنکھیں ہی کیا پر اب تو بدین میں موجود وہ کنوئیں بھی سوکھ گئے جن کنوؤں پر جب سندھ کی ناریاں پانی بھرنے جاتی تھیں تو انہیں دیکھ کر سجاولی اپنے قلم کو حرکت میں لا کر بے مثل گیت لکھا کرتا تھا۔

ٹلدیون اچن لاڈلیون مہران جون!
“جھومتی آ رہی ہیں لاڈلیاں مہران کی!”

وہ رستے پیاسے ہیں، قدیم درخت پیاسے ہیں، ویرانوں میں پڑے پتھر پیاسے ہی، پنکھ پیاسے ہیں، پنکھوں کے پر پیاسے ہیں۔ بدین کے لوگ ہی کیا پر بدین کے وہ آوارہ کتے بھی پیاسے ہیں جن کتوں کو کبھی آباد زمینوں کے گھڑوں سے پانی مل جایا کرتا تھا۔ اب اس گرمی میں تپتی زمیں پر وہ آوارہ کتے اپنی زبانیں نکال کر اس پانی کے متلاشی ہیں جو ایک بدین میں ہے اور دوسرے بدین میں نہیں ہے۔

بدین کے گھروں کے مٹکے پانی کی ٹھنڈک سے خالی ہیں۔ بدین کی زمینیں پانی کو ترس رہی ہیں۔ بدین کے واٹر کورس پر لگے ببر کے درخت سوکھ گئے ، کیوں کہ بدین کے وہ واٹر کورس ایسے سوکھ گئے ہیں جیسے بیوہ کی مانگ۔

بدین بھی دو ہیں۔ ایک بدین میں سب کچھ ہے اور دوسرے بدین میں کچھ بھی نہیں!
ایک بدین کے واٹر کورس سوکھے پڑے ہیں اور دوسرے بدین کی شوگر ملز کی چمنیاں دھواں اُگل رہی ہیں!
ایک بدین کے لوگوں کے چہرے زمینوں کی مانند سوکھے ہوئے ہیں اور ایک بدین کے چہرے شاداب!
ایک بدین کے بچے پیاس سے بلک رہے ہیں اور ان کے جانوروں کی زبانیں باہر لٹک رہی ہیں!
اور ایک بدین کے بچے منرل واٹر اور جانور وہ پانی پی رہے ہیں جو بدین کے باسیوں کا تھا جو وڈیروں نے روک رکھا ہے۔
ایک وہ بدین ہے جس کا ووٹر بہت تکلیف میں ہے!
اور ایک وہ بدین ہے جس کا منتخب نمائندہ بہت خوش!
ایک وہ بدین ہے جس کی تمام چیزیں سوکھ گئی ہیں؛ زمیں سے لے کر آنکھوں تک، دل سے لے کر زمیں تک!
اور ایک وہ بدین ہے جس کی کوئی چیز بھی نہیں سوکھی زمیں آباد ہیں۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیر رہے ہیں اور وہ بہت شاداب ہے۔
ایک وہ بدین ہے جو پانی کے لیے سراپا حتجاج ہے!
اور ایک وہ بدین ہے جو سرکاری مشینیری کو اس لیے استمعال کر رہا ہے کہ وہ احتجاج منتشر ہو!
ایک وہ بدین ہے جو بس ووٹ دیتا ہے اس کے پلے جھوٹے دلاسے آتے ہیں وہ بس ووٹ ہی نہیں دیتا پر اپنا سب کچھ ان کے پاس گروہی رکھ آتا ہے۔
اپنے انگھوٹے کے ساتھ اپنا منہ بھی کالا کر آتا ہے!
اور ایک وہ بدین ہے جو جھوٹے دلاسے دے کر ووٹ لیتا ہے پھر ان چہروں کو نہیں جانتا جو چہرے اپنے ہاتھ سے لکھی سندھی میں درخواستیں لے کر ان پاس جا تا ہے۔ پر وہ بدین تو انہیں جانتا ہی نہیں!

پیاسے بدین کی اداس شاہراہ پر خاموش مسافر سفر کر رہے ہیں، گاڑی چلتی جا رہی ہیں
اور گاڑی میں مصری کا یہ نوحہ جیسا گیت بج رہا ہے کہ

کو تہ اھڑو ھُجے حال منھجنو پُچھے
منھنجا گوڑھا اُگھے
کو تہ اھڑو ھُجے!

کوئی تو ایسا ہو جو میرا حال پوچھے، میرے آنسو پونچھے، کوئی تو ایسا ہو!!

بدین دو ہیں!
ایک بدین بہت ہی پیاسا ہے دوسرا بدین بہت ہی شاداب!
پیاسابدین بھیل کا ہے، کولھی کا ہے، ملاح کا ہے، اس خلق ہے جو بہت ہے۔
اور شاداب بدین
اسماعیل راہو کا ہے!
پپو شاہ کا ہے!
فہمیدہ مرزا کا ہے!
حسنین مرزا کا ہے!
ذوالفقار مزرا کا ہے!
تاج محمد ملاح کا ہے!

پر ایک بدین فاضل راہو کا بھی تو تھا
جو بہت پیاس ہے
فاضل کے بدین کو پانی دو!!!
فاضل کے بدین کے لوگ پیاسے ہیں اور پپو شاہ کے بدین کے کتے شاداب…
بہت شاداب!
بہت شاداب!
بہت شاداب!!!

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *