• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پچاس سال قبل پہلی فوجی حکومت کے خاتمے اور دوسری فوجی حکومت کے قیام کی کہانی۔ ۔ غیور شاہ ترمذی

پچاس سال قبل پہلی فوجی حکومت کے خاتمے اور دوسری فوجی حکومت کے قیام کی کہانی۔ ۔ غیور شاہ ترمذی

آج سے ٹھیک 50 سال پہلے مارچ کی 24 تاریخ کو اپنے بنائے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خاں نے استعفیٰ دے کر اقتدار آرمی چیف جنرل یحیٰ خان کے حوالہ کر دیا۔ بنیادی جمہوریت نامی ڈھکوسلہ کے تحت تو اُسے اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کو منتقل کرنا چاہیے تھا مگر سیاست دانوں سے اپنی نفرت اور بغض کے زیر اثر اُس نے اپنے ہی بنائے آئین کی خلاف ورزی کر دی۔ ایوب خاں نے اپنے دور میں ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا جو تصور پیش کیا وہ نہایت منفرد اور پوری دنیا میں اکیلا تھا۔ یہ نظام نہ صرف جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے مخالف تھا بلکہ اس نظام کی بنیاد ہی بلڈی سویلین نظریہ پر رکھی گئی تھی۔ بلڈی سویلین والی سوچ آج بھی مقتدر حلقوں میں کہیں نہ کہیں موجود ہے اگرچہ عوامی جمہوریت کے تسلسل کے بعد اس میں کمی واقع ہونا قدرتی امر ہے۔

بنیادی جمہوریت کا تصور رائج کرنے کے پیچھے جنرل ایوب کی سوچ تھی کہ وہ غیر جمہوری طریقہ سے اقتدار میں آیا تھا لہذا وہ اپنے عوام دشمن اقدامات کو جمہوریت کی زبان میں ڈھال کر ان کے لئے جواز فراہم کر سکے۔ اس نئے نظام کو فروغ کرنے سے قبل اُسے یہ ثابت کرنا تھا کہ جس نظام کا اُس نے خاتمہ کیا وہ ملک کو تباہی کی جانب لے جا رہا تھا (ایسی ہی کچھ سوچ اب 18ویں ترمیم کے خاتمہ کے لئے پیدا کی جا رہی ہے)۔ اُسے لوگوں کو قائل کرنا تھا کہ جو کچھ اُس نے اکتوبر 1958ء میں کیا یا جو کچھ وہ قیام پاکستان سے پہلے کرتا چلا آ رہا تھا وہ بالکل درست اور ناگزیر تھا۔ اس پرانے نظام کو ناکارہ اور ناکام ثابت کرنے کے لئے جنرل ایوب خاں نے نت نئے ہتھکنڈے ایجاد کئے۔ ان میں سرفہرست یہ تھا کہ لوگوں کو سیاست اور سیاستدانوں کے اعمال سے بدگمان کیا جائے۔ (پہلے یہ کام ریڈیو اور اخبارات کے ذریعہ کیا جاتا تھا اور آج کل مخصوص میڈیا گروپوں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ انجام دیا جا رہا ہے)۔ ایوب خاں کئی سالوں تک سیاستدانوں کو برا بھلا کہتا رہا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ سیاستدان ہوتے ہی نااہل، بے ایمان، خود غرض اور نالائق ہیں۔ انہوں نے معیشت کو تباہ کر دیا اور ملک کو شدید اقتصادی بحران سے دوچار کر دیا۔ مثال کے طور پر 6 مارچ 1959ء کو ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ایوب خاں نے کہا کہ ’’بیرونی دشمن اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا کہ اندرونی دشمن ہوتا ہے۔ سیاست دان صرف اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر عدم اعتماد کی فضاء پیدا کر رہے تھے اور ملک انتشار سے ہمکنار تھا۔ یہ ملک کے بدترین دشمن تھے اور شکر ہے کہ ہمارے انقلاب نے ان سیاستدانوں کے ناپاک عزائم کا خاتمہ کر دیا۔

واضح رہے کہ یہ اُس طالع آزما جرنیل کے الفاظ ہیں جس کے بارے میں قائد اعظم قیام پاکستان کے بعد ہی جان گئے تھے کہ یہ فوجی افسر سیاست کے پرائے پھڈے میں بہت ٹانگ اڑاتا ہے۔ سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے۔ اس کومشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔‘‘ (بحوالہ ’’قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل‘‘ از قیوم نظامی)۔ قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔ اس واقعہ کا تذکرہ کسی اور نے نہیں ایوب خان کے معتمد خاص اور ناک کے بال،الطاف گوہر نے اپنی کتاب ’’گوہرگزشت‘‘ میں کیا ہے۔ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی مگر وہ مہاراجہ پٹیالہ کی کسی محبوبہ پر ایسے  فریفتہ ہوا  کہ اپنے فرائض سے غفلت برتی، جس پر انھیں سزا کے طور پر ڈھاکہ بھیجا گیا۔ اپنی اس تنزلی پرایوب خان بجھ کر رہ گئے اور انھوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر (تب) شیر علی خان پٹودی سے مدد کرنے کے لئے کہا۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے یار کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔ سیاست میں مداخلت صرف ایوب خان پر ہی بس نہیں تھی بلکہ قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، منتخب حکومتوں کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔ بانی پاکستان جون 1948 ء میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں کہا کہ انھیں دو اعلیٰ فوجی افسروں کے ساتھ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انھوں نے جو حلف اٹھایا ہے وہ اس کے مضمرات سے لاعلم ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسروں کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا۔ قائد اعظم کے بعد اس حلف کی اتنی دفعہ خلاف ورزی ہوئی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا ’’میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘

یہی ایوب خاں   مارشل لاء کی تمام تر ذمہ داری سیاستدانوں پر ڈالتا تھا حالانکہ اقتدار پر اس کے قبضہ کی خواہش کے بارے میں تو خود قائد اعظم محمد علی جناح رح بھی واقف ہو چکے تھے۔ ایوب خاں یہ تاثر دیتا تھا کہ بد دیانت، بے ایمان، بدعنوان، خود غرض، نااہل اور ملک دشمن صرف سیاستدان ہی ہوتے ہیں جبکہ ایوبی ٹولے  نے مارشل لاء صرف ملک کی حفاظت اور دشمن سے بچانے کے لئے ہی لگایا ہے۔ اپنے مارشل لاء کو ملک کی حفاظت سے جوڑ کر وہ خود پر ہوتی مسلسل تنقید کا منہ بند کرنا چاہتا تھا۔ اس تنقید سے زچ ہو کر ایوب خاں اس نتیجہ پر پہنچا کہ وہ جمہوریت کا کچھ ایسا انوکھا تصور پیش کرے کہ اُس کے لامحدود اختیارات اور طاقت بھی برقرار رہے اور کہنے کو وہ نظام جمہوری بھی ہو۔ بالآخر کافی عرق ریزی کے بعد اُس نے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا نظام متعارف کروایا۔ یہ نظام ضلعی اور بلدیاتی تھا جس کے ذریعہ ایوب خان نے لوگوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران منتخب کرنے کے حق سے بھی محروم کر دیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کی یہ اوقات نہیں کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران منتخب کریں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنی یونین کونسل کا رکن منتخب کریں جسے بی ڈی ممبر کہا جائے۔ بعد میں یہی بی ڈی ممبر صدر کے علاوہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران بھی منتخب کریں۔ بنیادی جمہوریت کا یہ نظام عوامی جمہوریت کی مکمل نفی تھا مگر ایوب خان یہ تاثر دے رہا تھا کہ یہ جمہوریت کی کوئی اصلی اور حقیقی شکل ہے۔

اپنے اس عوام دشمن نظام کی تعریفیں کرتے ہوئے جنرل ایوب خاں نے یکم مارچ 1962ء کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ماضی میں سیاسی جماعتوں کا تجربہ افسوس ناک رہا ہے۔ اگر انہیں ایک بار پھر ابھرنے کا موقع دیا گیا تو یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ حالات مختلف ہوں گے۔ یہ سیاسی جماعتیں قوم میں اتحاد کو ختم کرتی ہیں، لوگوں میں کسمپرسی کا عالم پیدا کرتی ہیں اور اخلاق سے عاری سیاستدان پھر عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ لہذا میرا یقین ہے کہ ہم اپنی سیاست کو پارٹی سسٹم کے بغیر چلا سکتے ہیں‘‘۔

سنہ 1962ء کے آئین میں ایوب خاں نے صدر کے لئے بے شمار اختیارات رکھ دئیے۔ مثال کے طور پر کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت رکھی گئی مگر صدر چاہے تو پھر بھی اسے دستخط نہ کرکے مسترد کر سکتا تھا۔ صدر کے انکار کے بعد اس ترمیم کو لاگو کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اکثریت دو تہائی سے بڑھ کر 75فیصد ہو تو پھر یہ ترمیم لاگو ہو سکتی تھی۔ ایوب خان خود کو عقلِ کل سمجھتا تھا اور برملا یہ کہتا تھا کہ جب تک وہ مطمئن نہیں ہو گا کہ کون سا قانون عوام کی بہتری اور مفاد کے لئے موزوں ہے، وہ اس پر دستخط نہیں کرے گا یعنی کہ وہ عوام کے نمائندگان اور ممبران پارلیمنٹ سب سے زیادہ ذہین ہیں ۔ اپنے اسی عقلِ کل تصور کا دفاع کرتے ہوئے 10 اکتوبر 1962ء کو ایوب خاں نے روزنامہ ’’دی مرر‘‘ کی ایڈیٹر بیگم حمید اللہ کو خط لکھا کہ ’’میں آپ کے حقیقی جمہوریت سے منسوب جذبات کی قدر کرتا ہوں تاہم میں آپ کے دلائل سے متفق نہیں ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سمجھتی ہیں کہ جو لوگ جمہوریت کے نام پر شوروغل مچا رہے ہیں وہ اصلی محب وطن ہیں اور میں اکیلا ان کے راستہ کی دیوار بنا ہوا ہوں۔ ایسے نتائج اخذ کرنے سے قبل آپ جمہوریت کے نام پر ان کے ماضی کے ریکارڈ ضرور مدنظر رکھیں اور اس کا موازنہ میرے اعمال سے کریں کیونکہ میں نے تو خود طاقت عوام کے ہاتھ میں دے دی ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی‘‘۔ ایوب خاں نے اس خط میں لکھا کہ کوئی تندرست و سیاسی پروگرام ابھرتا ہوا نظر نہیں آتا کیونکہ سیاستدانوں نے مل کر اصولوں پر کام کرنا نہیں سیکھا۔

ایوب خاں کے آئین میں جو باتیں شامل تھیں ان میں بنیادی و بلدیاتی جمہوریت، سیاسی پارٹیوں پر پابندی، صدر کے بے پناہ اختیارات، پارلیمنٹیرین کا براہ راست نہ منتخب ہو سکنے جیسے امور سر فہرست تھے۔ یہ آئین معاشرہ کو مکمل طور پر غیر سیاسی بنانے کا ایجنڈہ تھا۔ اس آئین کے اندر ایک آمرانہ نظام اور آمرانہ ذہنیت پنہاں تھے۔ ایوب خان نے ایک انتظامی ڈھانچہ کو سیاسی نظریہ کے طور پر پیش کر کے حقیقی جمہوریت کے سینے میں جو خنجر گھونپا آج بھی اس کا ایکشن ری پلے ان سیاسی نابالغوں کے بیانات میں سامنے آتا ہے جو عوامی ووٹوں کی بجائے اداروں کی کاسہ لیسی کر کے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے والوں کو کامیاب کروانے کا ذریعہ ہے۔

اس قدر طاقت اور اختیارات کے باوجود بھی ایوب خان اپنے اقتدار کو دوام نہ بخش سکا اور سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور مسلسل احتجاج کے نتیجہ میں اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کی بجائے آرمی چیف جنرل یحیٰ خاں کے حوالہ کر کے رخصت ہو گیا۔ بریگیڈئیر اے آر صدیقی نے اپریل 1985ء کے ڈیفنس جرنل میں لکھا: ایک سپاہی ہونے کی  وجہ سے ایوب خان سیاست کے شعور سے عاری تھا لیکن تھا نہایت متکبّر۔ اُس نے عوامی جمہوریت کی جگہ ملک میں ایک تجارتی اور نیم صنعتی نظام قائم کرنے کی کوشش کی اور اس میں بری طرح ناکام ہوا۔ سیاست سے مبرّا ایک خالص معاشیاتی نظام بربریت پیدا کرتا ہے جس میں عوام کے لئے کوئی نرم گوشہ نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جمہوریت پر مبنی سیاسی نظام، عوام کو ملک کے انتظام میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔ ایسے سیاسی نظام کی معاشیات اطمینان بخش ہوتی ہے، جہاں نمائندہ حکومت اور عوام کی شمولیت نہیں وہاں ہر چیز اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔

اقتدار کی منتقلی کے لئے جنرل ایوب خان کا یحییٰ خان کے نام جو خط اخبارات میں چھپا، اُس میں جنرل ایوب نے لکھا تھا کہ ’’میں بڑے دکھ کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملک میں آئینی اتھارٹی بے اثر ہو چکی ہے۔ میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ میں صدارت سے کنارہ کشی اختیار کر لوں اور ملکی معاملات کا مکمل کنٹرول ڈیفنس فورسز کے حوالے کر دوں کیونکہ مسلح افواج ہی اس کام کے لئے قانونی اور مؤثر شعبہ ہیں۔ چنانچہ میں اپنے تمام اختیارات یحییٰ  خان کے حوالہ کرتا ہوں جن پر ملک چلانے کی آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘‘۔

یہ ایک متکبر اور کم علم شخص کا رعونت بھرا خط تھا جسے اپنے بنائے ہوئے بنیادی جمہوریت کے نظام پر بھی یقین نہیں تھا۔ اپنے بنائے آئین کے تحت مستعفی ہوتے وقت اسے اپنا اختیار قومی اسمبلی کے سپیکر کے حوالہ کرنا تھا مگر ایسا نہ کرکے جنرل ایوب نے پاکستان کی بدبختی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ یہ جنرل ایوب خان کا ملک و قوم کے خلاف آخری وار تھا جس کو جنرل یحییٰ  نے قبول کر کے مشرقی پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپ دیا۔ ایوب خاں اگر اقتدار بنگالی سپیکر کے حوالہ کر جاتے تو بنگالیوں کے زخموں پر پھاہا رکھا جاتا اور شاید وہ ملک توڑنے کی بجائے کنفیڈریشن بنانے پر راضی رہتے۔ جہاں تک جنرل یحییٰ  خاں کا تعلق ہے تو وہ ایک بے وقوف جنرل تھا جس نے مشرقی پاکستان کے مسئلہ کا سیاسی حل نکالنے کی بجائے فوج کشی کر کے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کی لاشوں پر پاؤں رکھ کر مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا دیا۔

جنرل ایوب خاں سے جنرل یحییٰ  خان کو منتقلی:

جنرل یحییٰ  خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اس پر ایک فرد، ایک ووٹ کی بنیاد پر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات منعقد کرانے کا الزام عائد کیا جائے گا۔ جنرل ایوب خان والے سنہ 1962ء کے آئین کی بجائے وہ ایک نیا آئین مرتب کرنا چاہتا تھا جس میں اس کی مدت صدارت 15 سال رکھی جارہی تھی۔ صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر یحییٰ  خان نے ایوب خان کے آخری ایام میں اپنا ایک گروپ بنا لیا تھا جس پر وہ انحصار کرسکتا تھا۔ اپنے اقتدار کے چند ماہ کے اندر اندر اس نے ایک لیگل فریم ورک آرڈر جاری کیا جس کے تحت ون یونٹ توڑ کر پرانے صوبے یعنی سندھ، پنجاب، سرحد اور بلوچستان بحال کر دیئے گئے۔ بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو ختم کر دیا گیا اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر براہِ راست انتخابات کرانے کا اعلان ہوا۔ مشرقی پاکستان، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سرحد میں آبادی کی بنیاد پر اراکین اسمبلی کی تعداد مقرر کی گئی۔ اس آرڈر کے تحت قومی اسمبلی کو قانون سازی کے ساتھ ساتھ آئین ساز اسمبلی کا کردار بھی ادا کرنا تھا اور اس پر لازم تھا کہ اپنے انعقاد سے (120) دن کے اندر اندر آئین تیار کرے ورنہ صدر خود آئین بنا کر نافذ کرنے میں آزاد ہو گا۔ بعض دیگر آئینی آرڈرز کے ذریعے عدالتوں کے اختیارات اس حد تک کم کر دیئے گئے کہ اب اعلیٰ عدالتیں بھی فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں نہیں سن سکتی تھیں۔

بہرحال اسی لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی، نیپ (NAP) اور جمعیت علمائے اسلام اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے واضح برتری حاصل کی۔ مجموعی طور پر عوامی لیگ ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ یحییٰ کے لئے انتخابی نتائج اس قدر مایوس کن تھے کہ تین (3) دن تک اس کی زبان سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ جسٹس کارنیلئیس سے جو اسلامی آئین تیار کروایا گیا تھا اور جسے چھپوا بھی لیا گیا تھا اس میں یحییٰ خان کو بغیر کسی انتخاب کے 15 سال کے لئے ملک کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔ جب الیکشن کے نتائج سامنے آئے تو اِس مدت کو گھٹا کر 5 سال کر دیا گیا۔ انتخابی نتائج کے بعد اصولاً اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہیے تھا جو آئین سازی کرتا، اکثریتی پارٹی حکومت بناتی اور صوبائی حکومت اور اسمبلیاں اپنے کام کا آغاز کرتیں۔

پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی کامیابی، خود اُس کے لئے غیر متوقع تھی۔ 30، 35 سیٹو ں کی امید کرنے والی جماعت کو 81 سیٹیں مل گئی تھیں۔ چنانچہ پیپلز پارٹی نے مرکزی حکومت میں عوامی لیگ کے ساتھ اقتدار میں شرکت کرنے کا سوال اٹھا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کو تیسری پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر صدر مملکت (اسٹیبلشمنٹ)، عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کسی نتیجے پر پہنچ جائیں تو آئین مقررہ مدت سے پہلے ہی تیار ہو سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے دونوں پارٹیوں کے آپس میں افہام و تفہیم سے کام لینے پر زور دیا اور کہا کہ ’’پیپلز پارٹی کو نظر انداز کر کے آئین بنانے کی کوششیں تباہ کن ہوں گی۔ یحییٰ خان نے اس مطالبے کی تائید کی اور جنوری 1971 ء میں مجیب الرحمان پر بھٹو کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لئے زور دیا۔ مجیب الرحمٰن اُس وقت امریکہ اور انڈیا کے ہاتھوں کھیل رہا تھا، اِس لئے اُس نے افہام و تفہیم کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا مشرقی پاکستان میں انتخابات کے نتائج کو پسِ پشت ڈالنے اور ملک کے دونوں حصوں کے درمیان آویزش کا بیج بونے کے مترادف تھا۔

شیخ مجیب الرحمٰن کے 6 نکات مختصراً یہ تھے:

1: وفاقِ پاکستان کو قراردادِ لاہور کی اصل روح کے مطابق قائم کیا جائے

2: وفاق کے پاس صرف دفاع اور خارجہ امور ہوں، باقی تمام امور صوبوں کے پاس ہوں

3: ملک کے دونوں بازوؤں کے لیے الگ کرنسیاں اور الگ مرکزی بینک متعارف کروائے جائیں

4: ٹیکس کی وصولی کا مکمل اختیار صوبوں کے پاس ہو جس میں سے وہ وفاق کو اخراجات کے لیے حصہ دیں

5: دونوں بازوؤں کے لیے زرِ مبادلہ کے الگ الگ کھاتے قائم کیے جائیں اور صوبوں کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی روابط قائم کرنے کا اختیار ہو

6: مشرقی پاکستان کی اپنی فوج یا پیرا ملٹری فورس ہو

مولانا کوثر نیازی   اپنی کتاب ‘دیدہ ور کی داستانِ حیات، ذوالفقار علی بھٹو’ کے باب ‘مشرقی پاکستان کی علیحدگی’ میں اس پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

(عوامی لیگ کے رہنما) ”تاج الدین احمد نے 21 دسمبر کو ہی اپنے بیان میں یہ پرزور اعلان کیا کہ ہماری جماعت واحد اکثریتی جماعت ہے اور ہم مرکز میں حکومت بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ ایک طرح سے یہاں (مغربی پاکستان) کی شکست خوردہ جماعت (جماعتِ اسلامی) کو بھی اشارہ تھا کہ اگر وہ بھٹو سے عدم تعاون کی راہ پر چلیں تو انہیں اقتدار میں حصہ دیا جا سکتا ہے۔ معاملہ اگر صرف اقتدار تک محدود ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی، لیکن اصل مسئلہ حکومت سے پہلے دستور بنانے کا تھا اور تمام صوبوں کی رضا حاصل کیے بغیر صرف ایک صوبے کی منتخب جماعت، خواہ وہ اکثریتی صوبہ ہی کیوں نہ ہو، اپنا دستور نافذ کرنے کا حق نہیں رکھتی تھی۔ اور پھر عوامی لیگ کے 6 نکات ملک کی سالمیت پر بھی اثر انداز ہونے والے تھے لہٰذا ان کے بارے میں کسی مفاہمت پر پہنچنا لازمی تھا۔

”اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ 3 مارچ کے ڈھاکہ سیشن میں عوامی لیگ کا مرتب کردہ 6 نکات پر مبنی آئین سادہ اکثریت کے بل پر فوری طور پر منظور کر لیا جائے گا۔ اس کا طریق کار یہ مرتب کیا گیا تھا کہ مغربی پاکستان کے نمائندوں کا گھیراؤ کر لیا جائے اور انہیں اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک وہ عوامی لیگ کے یکطرفہ آئین پر انگوٹھا نہ لگا دیں۔ دوسری جماعتیں، قیوم لیگ کے علاوہ، اس سازش میں شریک ہوجائیں اور یوں مشرقی پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پانچوں صوبوں کی علیحدگی کو آئینی حیثیت دے دی جائے۔ آخر 28 فروری کو مینارِ پاکستان کے سائے میں 10 لاکھ شہریوں کے عظیم الشان اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے بھٹو نے 3 متبادل تجاویز پیش کر دیں:

1: عوامی لیگ کی طرف سے 6 نکات پر مفاہمت کی کوئی یقین دہانی۔

2: آئین سازی کے لیے 120 دنوں کی پابندی ختم کر دی جائے۔ یا

3: آئین ساز اسمبلی کا اجلاس چند دنوں کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

ان تینوں تجاویز میں سے کسی ایک کے تسلیم نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی طرف سے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا اعلان کر دیا”۔

مولانا کوثر نیازی لکھتے ہیں کہ بھٹو کے مطابق 6 نکات سے صرف مشرقی پاکستان کو خود مختاری نہیں ملنی تھی بلکہ اس کی بناء پر بننے والے آئین میں تمام صوبوں کو وہی حیثیت ملتی جو مشرقی پاکستان کی ہوتی، نتیجتاً ایک پاکستان نہیں بلکہ پانچ خود مختار ریاستیں سامنے آتیں، جو بھٹو کے لیے قابلِ قبول نہ تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے 6 نکات پر بحث کرتے ہوئے ہمیں اس نکتے کو ضرور مدِ نظر رکھنا چاہئے۔

اقتدار میں اپنے کردار کو باقی رکھنے کے لئے یہ بہت ضروری تھا کہ جنرل یحییٰ  کسی بھی طرح مجیب الرحمن کو قائل کرنے میں کامیاب ہوتا۔ اس مقصد کے لئے 10 مارچ کو یحییٰ خان نے سیاسی رہنماؤں کی گول میز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا جسے مجیب نے ایک ’’ظالمانہ مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے گن پوائنٹ پر دیا ہوا دعوت نامہ کہا۔ 10 مارچ ہی کو ذوالفقار علی بھٹو نے بھی مجیب الرحمن کے نام ایک ٹیلی گرام میں کہا کہ پاکستان کو ہر قیمت پر بچایا جانا چاہئے اور اس کے لئے وہ ڈھاکہ آنے کے لئے تیار ہیں۔ بھٹو اور پیپلز پارٹی اس بات پر متفق تھی کہ فی الوقت فوج کے آئینی کردار کو تسلیم کر لیا جائے اور بعد میں موزوں وقت پر آئینی ترمیم کے ذریعہ اس کی اصلاح کی جاسکتی ہے لیکن عوامی لیگ کے نقطہء نظر سے یہ ہرگز ممکن نہیں تھا۔ مجیب الرحمن کی ضد ذہن میں رکھتے ہوئے یہ واضح کر لیجیے کہ دسمبر 1970ء سے مارچ 1971ء کے واقعات خصوصاً قومی اسمبلی کے اجلاس کے التواء کا انداز اس امر کے غماز تھے کہ فوج سیاسی قوت سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اِس لئے بھٹو صاحب کی پوری کوششوں کے باوجود بھی معاملہ حل نہیں ہو سکا۔

مجیب سے مذاکرات کے لئے بھٹو صاحب کے پیچھے یحییٰ خان بھی 15مارچ کو ڈھاکہ پہنچا۔ یحییٰ، مجیب، بھٹو ملاقات ناکام رہی اور معاملہ فوجی ایکشن تک پہنچ گیا۔ 26 مارچ کو یحییٰ خان نے ڈھاکہ سے واپس آکر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عوامی لیگ کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ پاکستان بھر میں تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی اور اخبارات پر مکمل سنسر شپ نافذ کر دیا۔ مجیب الرحمن کے عدم تعاون کی تحریک کی مذمت کرتے ہوئے یحییٰ خان نے اسے ’’بغاوت کا اقدام‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مجیب الرحمان اور ان کی جماعت پاکستا ن کے دشمن ہیں اور ملک سے مکمل طور پر علیحدگی کے خواہاں ہیں‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’مجیب الرحمان کا یہ جرم معاف نہیں کیا جائے گا‘‘۔ اب فوج عوام پر ٹوٹ پڑی۔ ’’بغاوت کچلنے‘‘ کے نام پر بستیوں کی بستیاں جلا کر راکھ کر دی گئیں۔

بلا جواز فوجی اقدام نے کروڑوں کی آبادی کو خون میں نہلا دیا۔ یہ ایک فوج کا خود اپنے ہی ملک پر حملہ تھا۔ اپنی ہی آبادی کو ’’فتح کرنے‘‘ کا ایک مجرمانہ اقدام تھا اور ’’مجیب کی علیحدگی پسندی کے جرم‘‘ کے باوجود لاکھوں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ فوجی آمر سچ مچ دیوانہ ہو گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اس نے انتہائی سنگدلی سے کہا تھا: ’’ڈھاکہ میں جو کچھ ہوا، وہ فٹ بال کا کوئی میچ نہیں تھا۔ لڑنے والے ایک دوسرے پر پھول نچھاور نہیں کرتے‘‘۔

ایم اے کے چوھدری وسط مئی 1971ء میں مشرقی پاکستان کے آئی جی پولیس بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ڈھاکہ جانے سے پہلے وہ انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر سید نذیر احمد رضوی سے ملے تاکہ مشرقی پاکستان کے متعلق کوئی خاص ہدایت ہو تو لے لی جائے۔ مشرقی پاکستان کے ہنگاموں میں ان کا داماد قتل ہو گیا تھا۔ انہیں جو ہدایت رضوی صاحب نے دی، وہ بہت مختصر اور عجیب تھی۔ رضوی صاحب نے چوھدری سے کہا تھا: اپنے ساتھ بہت سے نوجوان پٹھان سپاہی لے جاؤ اور وہاں ان کو کھلا چھوڑ دو تاکہ آئندہ بنگالی نسل نیلی آنکھوں والی پیدا ہو‘‘ ایم اے کے چودھری لکھتے ہیں: ’’رضوی صاحب چونکہ اپنے داماد کی موت پر سوگوار تھے، اس لئے مَیں نے ان کی بات کو اس صدمے کا نتیجہ سمجھ کر سنی ان سنی کر دیا۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ یہ بات دل سے کہہ رہے تھے‘‘۔ ایم کے چوھدری کے بقول ’’یہ بات میرے ذاتی علم میں ہے کہ 14دسمبر 1971ء کی صبح کو ہتھیار ڈال دینے کی ہدایت ملنے کے بعد جب گورنر مشرقی پاکستان نے صدر پاکستان کو ٹیلیفون کیا تو ان کی بات نہ ہو سکی۔ سٹاف افسروں نے کہا کہ صدر بہت مصروف ہے گورنر کے اصرار پر انہوں نے پوچھا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ گورنر نے کہا کہ آدھا ملک جا رہا ہے۔ کیا میں بطور نمائندہ صدر اور گورنر ان سے بات بھی نہیں کر سکتا؟ سٹاف افسر نے جواب میں ٹیلیفون بند کر دیا‘‘۔ کہا جاتا ہے کہ یحییٰ شراب کے نشے میں چُور تھا اور بات کرنے کے قابل نہیں تھا۔ مشرقی پاکستان میں ’پاکستانی فوج‘ نے ہندوستانی کمانڈر کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے جبکہ اُس دن پاکستان ٹیلی ویژن سے بتایا جا رہا تھا کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ یحییٰ خان، جی ایچ کیو میں فوجی افسروں سے مخاطب تھا۔ صدر شکست کی وجوہات پر روشنی ڈال رہا تھا۔ وہ ایک خود ساختہ آئین کے تحت، اپنی صدارت میں، ایک سیاسی حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔

یحییٰ خان نے پھر قوم سے ایک ظالمانہ مذاق کیا۔ 17دسمبر کو اس نے اپنا وہ آئین جاری کر دیا جس میں پارلیمانی طرز کی حکومت کے ساتھ افواج پاکستان کو خصوصی تحفظات فراہم کئے گئے تھے۔ 18 دسمبر کو نورالامین نے صدر سے ملاقات کے بعد بتایا کہ یحییٰ پر سکون تھا اور نئے آئین کے تحت نئی حکومت تشکیل دینے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ وہ بس بھٹو صاحب کا منتظر تھا۔ یحییٰ خان نے جس اسمبلی کو، اس کا اجلاس منعقد ہونے سے پہلے ہی توڑ دیا تھا۔ اس کے ساتھ ملک بھی ٹوٹ گیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *