• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انڈو پاک کے امن مذاکرات کو کس کی نظر لگ جاتی ہے ؟۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

انڈو پاک کے امن مذاکرات کو کس کی نظر لگ جاتی ہے ؟۔۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

پاکستان اور انڈیا کے درمیان امن کے قیام کی بات چیت کا سلسلہ کبھی خوشی کبھی غم جیسا رہا ہے۔ جب بھی معاملات بہتر ہونے لگتے ہیں تو کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا ضرور ہو جاتا ہے کہ دونوں ممالک امن کے قیام پر بات چیت کرنے سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

سنہ 1998ء میں انڈیا اور پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد جب یہ کہا گیا کہ اب خطے میں سٹریٹیجک توازن پیدا ہوگیا ہے اور خطے میں روایتی جنگ کا خطرہ ختم ہوگیا ہے تو دونوں ملکوں نے پرامن تعلقات کی جانب توجہ دی۔ فروری 1999ء میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ امن اور دوستی کا بیڑا اٹھایا تھا اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو لاہور مدعو کیا۔ پاکستان کی فوجی قیادت نے واجپائی کے استقبال میں حصہ نہیں لیا اور اسکی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ جنرل مشرف اور مسلح افواج کے دوسرے سربراہان بھارتی وزیر اعظم کو سلیوٹ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ واجپائی کے اس دورے کے دوران دونوں ملکوں نے مشترکہ طور پر اعلامیہ لاہور جاری کیا جس میں دہشتگردی کی مذمت کی گئی اور کشمیر سمیت دوسرے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا اور اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد دونوں ملکوں پر یہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ تنازعات سے بچیں اور اعتماد سازی کے لیے اقدامات کریں۔

واجپائی کے اسی دورہ لاہور سے دلی اور لاہور کے درمیان پہلی بار بس سروس کا آغاز ہوا تھا اور پہلی بس سے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ دیو آنند، جاوید اختر، شترو گن سنہا سمیت کئی فلمی ستارے اور ادبی شخصیات بھی لاہور آئے تھے۔ یہ خوشی مگر چند ہی مہینوں تک قائم رہی اور پاکستانی فوج کی کارگل کی برفانی چوٹیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے نتیجہ میں خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں آگیا۔

جولائی 2001ء میں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے بھارت کا دورہ کیا اور جنرل مشرف اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے درمیان آگرہ میں طویل مذاکرات ہوئے۔ آگرہ سمٹ کے نام سے مشہور ہونے والے ان مذاکرات سے اگرچہ بڑی توقعات ظاہر کی گئیں لیکن نتیجہ اس عزم کی صورت نکلا کہ دونوں ملک اپنے  ماضی کو دفن کرکے مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ لیکن پھر امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوگیا اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد دسمبر 2001ء میں دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوگیا۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستانی شدت پسند تنظیموں لشکر طیبہ اور جیش محمد پر لگایا تاہم پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی۔ سرحد کے دونوں طرف فوجیں ایک دوسرے کے خلاف مورچہ بند ہوگئیں اور دونوں پڑوسی ملکوں میں تناؤ اور کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی۔ عالمی برادری ک کئی مہینوں  کی  کوششوں کے بعد   حالات معمول پر آسکے۔

سنہ 2003ء میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی پیشکش کرتے ہیں جس کے بعد دونوں ملکوں میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کا معاہدہ ہوتا ہے اور 2004ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع امن مذاکرات شروع ہوئے۔ جس کے تحت دونوں ملکوں نے اعتماد سازی کے کئی اقدامات کا اعلان کیا۔ ویزا پالیسی میں نرمی کی گئی۔ سری نگر، مظفر آباد بس سروس شروع کی گئی اور باہمی تجارتی  دائرے کو بڑھایا گیا۔ امن کے اس عمل کو دونوں ملکوں کے عوام کی بھرپور حمایت ملی۔ اکتوبر 2005ء میں جب ایک طاقتور زلزلے نے سرحدوں کی پرواہ کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تباہی مچائی تو متاثرین کی امداد کے تقاضے نے سرحد کی سختیوں کو نرم ہونے پر مجبور کیا اور منقسم کشمیری خاندانوں کی آمدورفت کے لئے ایل او سی پر پانچ مختلف راستوں کو کھولا گیا۔ ابھی ان مذاکرات میں پیش قدمی جاری ہی تھی کہ 18 فروری 2007ء کو پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں بھارتی شہر پانی پت کے قریب دھماکہ ہوا جس میں 70 کے قریب لوگ مارے گئے اور ان کی اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔ کشیدگی کے امکانات پیدا ہونے سے پہلے ہی دونوں ملکوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے امن کے عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ اس واقعہ کے لگ بھگ ڈیڑھ سال بعد بھارتی حکام نے انکشاف کیا کہ اس دھماکے کے لیے دھماکہ خیز مواد بھارتی فوج کے ایک کرنل نے فراہم کیا تھا۔

پاکستان میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے پس منظر میں جب ان کی جماعت پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا اور مواخذہ کے امکانات کے دوران ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف استعفیٰ دے کر ملک سے باہر چلے گئے تو اس کے کچھ ہی عرصے بعد ممبئی پر دہشتگرد حملے ہوئے جن میں170 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ بھارت نے اس کا الزام پاکستان کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ پر لگایا اور احتجاجاً پاکستان کے ساتھ جامع امن مذاکرات معطل کردئیے۔ پاکستان نے بعد میں تسلیم کیا کہ ممبئی حملوں کی تیاریاں اور منصوبہ بندی جزوی طور پر پاکستان میں ہوئی تھی اور اس سلسلے میں لشکر طیبہ کے بعض راہنماؤں حافظ سعید اور حافظ لکھوی کو گرفتار کر لیا گیا جن پر انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں مقدمہ بھی چلا جس میں یہ دونوں راہنما بری ہو گئے۔

اس دوران وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی اور انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان مصر میں ایک مختصر ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ سنہ 2011ء میں ہونے والے مذاکرات کے 2 ادوار میں زیادہ تر توجہ تجارت اور ویزا پر مرکوز رکھی گئی۔ اس کے بعد بھارت نے مئی 2013ء میں پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات پھر شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ سجاتھا سنگھ نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں نئی پاکستانی حکومت سے امن مذاکرات کا سلسلہ اسی جگہ سے شروع کرے گا جہاں گزشتہ حکومت کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تھے۔ لیکن یہ مذاکرات شروع کرنے کا عمل کامیابی کی طرف نہ بڑھ سکا۔

اس کے بعد امن کے قیام کے لئے بات چیت کا امکان اُس وقت پیدا ہوا جب نریندر سنگھ مودی دسمبر 2015ء میں بن بلائے دبئی سے انڈیا جاتے ہوئے اچانک اپنے طیارے کا رخ لاہور موڑ لائے اور پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف کو ان کی سالگرہ کی مبارک باد دینے اُن کے گھر جاتی عمرہ، رائے ونڈ لاہور پہنچ گئے۔ دونوں راہنماؤں نے امن و امان کے قیام کے لئے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا اعادہ کیا مگر اس کے کچھ ہی دنوں بعد پٹھان کورٹ انڈیا ائیر پورٹ کے راستہ پر ایک دہشت گرد حملہ ہو گیا۔ حسب دستور اس کا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنی موت مر گیا۔

جولائی 2018ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد عمران خان  حکومت نے انڈیا سے تعلقات کی بحالی کا عندیہ دیا اور اس سلسلہ میں کرتار پور میں بابا گورونانک سنگھ راہداری کھولنے سے دونوں ممالک میں مذاکرات کی بحالی کا ڈول ڈالا۔ اس اقدام سے سکھ برادری تو نہال ہو گئی اور ان کی دیرینہ خواہشات عملی شکل اختیارات کرنے کے قریب پہنچ گئیں لیکن بھارت کی مرکزی حکومت نے اس اقدام کا روشن پہلو دیکھنے کی بجائے اسے سکھوں کو رام کرنے کی پاکستانی کوششوں کے پس منظر میں دیکھا حالانکہ جتنے سکھ اس وقت بھارت کے شہری ہیں لگ بھگ اتنے ہی باقی دنیا میں بھی آباد ہیں۔ اگرچہ راہداری سے استفادہ کرنے والوں کے بارے میں ابھی تفصیلات طے کرنا باقی ہیں لیکن بھارت نے اس سلسلے کو تیزی سے آگے نہیں بڑھایا۔ ابھی اس ضمن میں مذاکرات کا آغاز ہوا ہی تھا کہ پلوامہ میں دہشتگردی کا واقعہ رونما ہو گیا اور بھارتی حکومت سب کچھ بھول بھلا کر جنگی جنون کو ہوا دینے میں مصروف ہو گئی، پاکستان پر حملے کی باتیں کی جانے لگیں اور میڈیا اپنی حکومت کی خواہشات کو آگے بڑھانے میں مصروف ہو گیا لیکن جب پاکستان نے انہی  کے انداز  میں جواب دینا شروع کیا اور خود بھارت کے اندر سے مودی کو مشورے دئیے گئے تو پھر انہیں اپنی حماقتوں کا احساس ہوا۔ دراصل اس جنگی جنون کو ہوا دینے کے پیچھے مودی سرکار کو مئی 2019ء میں ہونے والے انتخابات نظر آ رہے ہیں جن میں کامیابی کے لئے مودی سرکار اپنی کارکردگی کی بجائے ہندو توا کو بڑھانا چاہتی ہے۔ مودی سرکار کا خیال ہے کہ انڈیا پاکستان کشیدگی سے 80% ہندو اکثریتی آبادی کے ووٹوں کی زیادہ تر تعداد کو اپنے حق میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالہ سے کشمیری رہنما ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر کشمیریوں کے خون سے مودی الیکشن جیتنا چاہتے ہیں تو بے شک جیتیں لیکن اس سے کشمیر مضبوط نہیں ہو گا جب تک جموں کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے دل نہیں جیتیں گے، تب تک بات نہیں بنے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ کا سوچنے والوں کو عقل سے کام لینا چاہئے۔ جنگ صرف بربادی لائے گی اس سے کوئی نہیں نکل سکے گا۔ ہمارے ملک پر اور مصیبت آئے گی جنگ نے کبھی کوئی مسئلہ حل نہیں کیا۔ پاکستان اور بھارت چار جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن کشمیر کنٹرول لائن وہیں کی وہیں ہے۔ پانچویں جنگ بھی کر لیجئے لیکن اس بار جنگ چھوٹی نہیں رہے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *