آپ بھی جادو پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔۔حافظ محمد زبیر

ایک دوست کا کہنا ہے کہ بہت افسوس ہے کہ آپ جیسے پڑھے لکھے اور سمجھدار بھی جادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں۔ تو میں نے یہی جواب دیا کہ یہ افسوس مجھ پر کرنے کی بجائے پہلے قرآن مجید پر کر لیا جائے تو بہتر ہے کہ قرآن مجید نے ہی ہمیں یہ یقین دلایا ہے کہ جادو ٹونے کا وجود ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلے میں جادوگروں نے اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کو دوڑتے ہوئے سانپوں میں بدل دیا تھا۔ اب یہ علیحدہ مسئلہ ہے کہ جادو کی حقیقت کیا ہے؟ ایک جگہ قرآن مجید میں ہے: “فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِن سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَىٰ” ترجمہ: ان جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کی وجہ سے حضرت موسی علیہ السلام کو یوں محسوس ہونے لگیں کہ دوڑتی ہیں۔ اب بعض مفسرین نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وہ حقیقت میں سانپ نہیں بنے تھے، بس صرف حضرت موسی علیہ السلام کو ایسا محسوس ہو رہا تھا لیکن بات یہ ہے کہ اگلی ہی آیت میں یہ بھی ہے: “فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ” ترجمہ: موسی علیہ السلام نے دل ہی دل میں خوف محسوس کیا۔ تو موسی علیہ السلام کا ڈر جانا تو ایک حقیقت ہی تھا ناں۔

تو جادو ٹونا کچھ نہ کچھ تو ہے، بھلے نظر بندی ہو، آنکھوں کا دھوکا ہو، وہم ہو، لیکن انسان پر اس کا اثر ہوتا ہے کہ وہ ڈر جاتا ہے۔ اب اس اثر کو آپ نفسیاتی اثر کہہ دیں تو اس نفسیاتی اثر کو بھی زائل کرنا ہے ناں۔ آپ کہہ دیں کہ یہ غیر منطقی اور الاجیکل خوف (phobia) ہے تو مان لیا کہ ایسا ہی ہے۔ اب کیا اس دلیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مجھے اس خوف اور ڈر کو دور نہیں کرنا؟ کرنا ہے، تو جب کرنا ہے تو کیسے کرنا ہے؟ اس میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ اگر رقیہ شرعیہ یا شرعی دم سے کسی کا علاج ہو جاتا ہے اور اس کی نفسیاتی بیماری ہی سہی، جاتی رہتی ہے تو آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ پھر ہم جو علاج تجویز کر رہے ہیں، کیا اس کی کوئی فیس ہے، یا آپ کو بل آنا ہے۔ تو بھئی کیوں ایسے ہی بے چین ہو رہے ہو! صرف قرآن پڑھنا ہی تو تجویز کر رہیں ہیں ناں۔ قرآن سننے کا تو ثواب ملے گا ناں۔ تو ثواب ہی سمجھ کر سن لو۔

اور چلو مان لیا کہ جادو وادو نہیں ہے، جسمانی یا نفسیاتی مسئلہ ہے تو کیا قرآن مجید جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے لیے شفاء نہیں ہے؟ تو یہی سمجھ کر قرآن مجید سن لو یا پڑھ لو۔ کم از کم قرآن مجید سننے اور پڑھنے کے ثواب کا تو یقین ہے ناں۔ ہر دوسرے شخص کو جادو نہ سہی لیکن جسمانی اور نفسیاتی عارضہ تو لاحق ہے ناں۔ تو اس کا ہی قرآن مجید سے علاج کر لو کہ ہزاروں کا ہوا ہے، یہ امر واقعہ ہے۔ اس کا کیسے انکار کرو گے! بس جادو بھلے صرف غیر منطقی ڈر ہی ہو لیکن دور تو ہونا چاہیے ناں۔ اور رقیہ شرعیہ کے اہتمام سے یہ جاتا رہتا ہے، یہ ایک فیکٹ ہے۔ اور پھر یہ کہ عصائے موسی نے ان سانپوں کو نگل لیا تھا تو یہ نگل لینا تو حقیقی تھا ناں کہ یہ معجزہ ہے۔ تو جادو بھلے اس کی حقیقت کچھ نہ ہو لیکن اس کے توڑ کی تو حقیقت ہے ناں، اگر تو وہ کلام الہی یا امر الہی سے ہے۔

قرآن مجید نے یہ بھی کہا ہے کہ عراق کے قدیم شہر بابل کے لوگ میاں بیوی میں جدائی ڈلوانے کے لیے نوری اور روحانی علم کا غلط استعمال کرتے تھے کہ جسے آج کل کی زبان میں تعویذ گنڈا کہتے ہیں۔ یہ علم دو فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نازل کیا گیا تھا اور دوسرے علوم کی طرح ایک علم تھا کہ جس کا صحیح اور غلط دونوں طرح سے استعمال ممکن تھا لیکن لوگوں نے اس کا غلط استعمال کیا جیسا کہ آج سائنس کے علم کا غلط استعمال کر کے ایسی ٹیکنالوجی بنا لی گئی جو انسانیت کے لیے تباہ کن ہے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کے بعد یہودیوں کو شیاطین اور جنات نے تعویذ گنڈے کے اس علم کے ساتھ جادو ٹونے کا علم سکھانا بھی شروع کر دیا بلکہ یہودیوں نے جنات کی معلومات کی بنیاد پر تو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے بھی یہ جھوٹ معروف کر دیا تھا کہ انہوں نے اتنی بڑی سلطنت جادو کے زور پر قائم کر رکھی تھی۔

تو اس پر اللہ عزوجل نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: “وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ” ترجمہ: اور یہودیوں نے اس کی پیروی کی جو شیاطین، حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں پڑھتے تھے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے کفر نہیں کیا لیکن شیاطین نے ضرور کفر کیا تھا جو لوگوں کو جادو کا علم بھی سکھاتے تھے اور وہ علم بھی جو بابل شہر میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر نازل ہوا تھا۔ تو نوری یا روحانی علم کچھ بھی نہیں ہے، نازل شدہ علم کا غلط استعمال ہے جیسا کہ قرآن مجید کی آیات کے چلے کاٹ کر جنات کو غلام بنا لینا یا قرآنی آیات کے تعویذ بنا کر کسی کو سحر محبت میں جکڑ لینا یا اسمائے حسنی کی متعین تعداد اور صورت میں وظائف کے ذریعے کسی کو نقصان پہنچانا وغیرہ وغیرہ۔

پھر قرآن مجید اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ اگرچہ جادو ٹونا اور تعویذ گنڈا کفر کے درجے کا گناہ ہے اور اس کی سزا جہنم ہے لیکن اس کا اثر ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: “فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ” ترجمہ: پس بابل شہر کے لوگ ان دونوں فرشتوں یعنی ہاروت اور ماروت سے وہ علم سیکھتے تھے کہ جس کے ذریعے وہ میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے تھے حالانکہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ تھے۔

تو جادو کا یہ اثر اللہ کے اذن سے ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل نے ہی اس میں یہ اثر رکھا ہے اور وہ خود کہہ رہا ہے تو اب تمہیں کیا اعتراض ہے! اللہ عزوجل نے جادو ٹونے کو اپنے بندوں کے لیے ایک آزمائش بنا دیا ہے جیسا کہ ہر علم اس اعتبار سے ایک آزمائش ہے کہ اس کا اچھا اور برا دونوں قسم کا استعمال ہو سکتا ہے اور جادو ٹونا اور تعویذ گنڈا بھی ایک علم ہے۔ البتہ جادو، شر کا علم ہے جبکہ نوری علم ویلیو نیوٹرل (value neutral) ہے یعنی خیر اور شر دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے درباری نے کتاب کے علم کو ملکہ بلقیس کا تخت پلک جھپکنے میں لانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ ارشادی باری تعالی ہے: “قَالَ الَّذِي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَنْ يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ” ترجمہ: کہا اس شخص نے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اس تخت کو آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔

مغرب میں بھی ہر دور میں مخفی علوم (occult sciences) کے ایک علم ہونے کا غلغلہ رہا ہے اور آج بھی یونیورسٹیز میں مغربی باطنیت (western esotericism) کے نام سے ہپناٹزم، ٹیلی پیتھی، دست شناسی (palmistry)، علم نجوم (astrology)، جادو (magic)، اور روح وغیرہ پر ریسرچ کے لیے انسٹی ٹیوٹ بھی موجود ہیں اور چیئرز بھی قائم ہیں۔ تو اس کو ایک علم کے طور پر لیں کہ اس علم کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے، کیسے آن واحد میں جھٹلا دیں گے۔ باقی یہ کوئی مذہبی علم نہیں ہے اور نہ ہی مذہب نے ایسے علوم کے سیکھنے سکھانے کا حکم دیا بلکہ ان سے منع کیا ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے شر کو پیدا کر کے اس کی طرف جانے سے منع کیا۔ بھائی! نجومی (fortune teller) سے قسمت کا حال پوچھنے سے ہمارے دین نے منع کر دیا ہے، یہ طے ہے لیکن یہ علم ہے کیا؟ اس کی کچھ حقیقت ہے یا نہیں، یہ اور بحث ہے۔

تو کاہن (fortune teller) کے پاس جانا کفر ہے لیکن کاہن کیا کبھی کبھار صحیح پشین گوئی بھی کر دیتا ہے تو اس کا تعلق تو امر واقعہ سے ہے، اس کا انکار کیسے کریں گے! مسند احمد کی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے پوچھا تھا کہ بتاؤ میرے دل میں کیا ہے؟ تُکا تو اس نے بھی لگا لیا تھا کہ “دُخ” ہے یعنی دھواں۔ اگرچہ مکمل بات کو نہیں پہنچ پایا تھا کہ آپ نے سورۃ دخان کا تصور کیا تھا۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا تھا کہ تو اپنے مقام سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ پھر ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی کہا تھا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں تو نبی اور کاہن (fortune teller) کی خبر میں یہی فرق ہوتا ہے کہ کاہن کی خبر جھوٹی بھی ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جادو کرنا کفر ہے لیکن کیا جادو سے نقصان ہو جاتا ہے تو اس کا تعلق تو امر واقعہ سے ہے، اس کا کیسے انکار کریں گے؟ باقی یہ بات درست ہے کہ اللہ نے خود کہا ہے کہ اللہ کے حکم سے جادو نقصان کر سکتا ہے، ویسے نہیں۔ لیکن یہ جملہ ہی بتلا رہا ہے کہ ناں کہ وہ نقصان کر سکتا ہے جیسا کہ حاسد کی نظر آپ کا نقصان کر جاتی ہے۔ تو یہاں یہ نظر ہی سبب (cause) ہے، اس نقصان (effect) کا۔ تو اپنا کاز ذرا بڑا کر لیں تو ایفیکٹ لاجیکل معلوم ہونے لگے گا۔

حافظ محمد زبیر
حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *