ایک دعائیہ نظم۔۔۔۔۔ستیہ پال آنند

کیا ایک شاعر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بذات ِ خود اپنی کسی تخلیق کی عملی تنقید کا جوکھم اٹھائے۔ کیا یہ عمل اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے مترادف نہیں ہو گا؟ اپنی نظم پر ہی سوچنے بچارنے کا عمل کیا توصیف و ننقید کے ما بین اگر کوئی فصیل ہے بھی، تو اسے گرا نہیں دے گا؟ لیکن انگلستان میں ایذرا پاؤنڈ اور ٹی ایس ایلیٹ نے اور امریکا میں مایا انجیلو نے اپنی ہی نظموں کا لیکھا جوکھا کر کے کچھ نکتوں پر روشنی ڈالنے کی سعی کی ہے۔ ان میں سے ایک نکتہ ، جو قاری اساس تنقید کی زد میں آتا ہے، وہ یہ ہے، کہ ہم عدالت کے سامنے کسی متوقع استغاثے کے بارے میں پیشگی دفاع کے طور پر جب ایک حلفیہ بیان لے کر جا سکتے ہیں، تو اس میں کیا قباحت ہے کہ شاعر کسی بھی متوقع اعتراض کے بارے میں، جو آنے والی نسلیں، قاری اساس تنقید کے تحت ، اپنے زمان و مکان کے حوالے سے اس کی نظم پر عائد کرے، اس کی پیش بندی کر دی جائے؟ لیکن کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ شاعر کو اپنی تخلیق پر ہی بھروسہ نہیں کہ اسے صحیح طور پر سمجھا جا سکے گا۔ شاعر سے، بقول اقبال یہ استفسار کیا جا سکتا ہے۔

کیوں گرفتار ِ طلسم ِ ہیچ مقداری ہے تو؟
ھل من ناصرًا ینصر نا

ایک دعائیہ نظم
میں نہیں چاہتا ٹوٹنا پھوٹنا
میرا ڈھانچہ تو اس چکنی مٹّی کا ہے
جو مرا کوزہ گر گوندھ کر مجھ کو
اک ظاہری وضع ، اک شخصیت دے گیا
عزو بندی مری شیشہ وش ہے، اسے
ٹوٹنے سے بچائے گا اب کون، اے کوزہ گر؟
میرے چاروں طرف حملہ آور عدو ہیں ہتھوڑے اٹھائے ہوئے
مفسدوں ،حاسدوں کے گروہوں کا بس ایک ہی عزم ہے
مجھ کو توڑیں ، مجھے ریزہ ریزہ کریں
جان سے مار دیں
کوزہ گر ،تو نے جب
مجھ کو تشکیل دی تھی تو اتنا تو کرتا
مجھے اک مبارز بناتا
مرے ہاتھ میں ایک تلوار دیتا
کہ اپنی حفاظت مرا کام ہوتا
مگر میں نہتّا، اکیلا کھڑا دیکھتا ہوں
عدو چاروں جانب سے یلغار کرتے ہوئے آ رہے ہیں
میں نہیں چاہتا ٹوٹنا پھوٹنا، میرے مولا، مرے کوزہ گر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبصرہ، تنقید، شرح

[ایک] عنوان عربی میں ہے۔ میں کربلا کے سانحے پر، جو اب مذہب کی حدود سے نکل کر ایک آفاقی سمبل بن چکا ہے، اتھارٹی نہیں ہوں۔ شعیہ دوست شاید مجھ سے زیادہ جانتے ہوں لیکن میں نے اسے اوائل بیسویں صدی کے ایک مرثیہ سے لیا ہے۔ یہ وہ صدائے استغاثہ ہے جو امام حسینء نے کربلا میں اپنے آخری سجدے سے پہلے بلند کی کہ وہ بظاہر اکیلے اور نہتے رہ گئے تھے (ان الفاظ کا استعمال نظم میں کیا گیا ہے) اس کا مطلب سیدھا سادہ ہے، “کوئی ناصر باقی ہے؟” مجھ نا چیز کی سمجھ میں یہ صدا اس بات پر دال ہے کہ جو نہیں کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی ناصر باقی ہے، جو تلوار اٹھائے ہوئے میری معاونت کو آئے ۔۔۔ یہ صدا جواز و مواخذہ دونوں کا فرض ادا کرتی ہے، یعنی اگر ہے تو آئے ۔۔۔ لیکن شاید کوئی نہیں رہا ۔۔۔ اس کے بعد امام حسین ء سجدہ ٔ آخر میں گر جاتے ہیں۔
[دو] واحد متکلم کا جسم ، جس پر عدو حمہ آور ہیں ، کیا ہے؟ اور عدو کون ہیں جو اس پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔؟ یہ طبیعی جسم بھی ہو سکتا ہے، جس پر عوارض حملہ آور ہیں۔ سرطان وغیرہ موذی عوارض کے خلاف جسم ایک مبارز کی طرح بر سر پیکار ہوتا ہے۔ علم طب کی اصطلاح میں لفظ
Fight against cancer استعمال ہوتا ہے۔
اور یہ جنگ ہارنے والے کے بارے میں یہی کہتے ہیں
He lost his fight against cancer OR he won his fight against cancer
تین]ایک دوسری سطح پر جسم ایک ایسی کارپوریٹ باڈی ہے (انگریزی حروف نہیں لکھ رہا ہوں)، جو ایک خاندان بھی ہو سکتا ہے، ایک مذہبی سیکٹ بھی، ایک معیشت بھی، ایک ملک بھی ۔۔۔۔ عدو جو اس کو تباہ کرنے کے درپے ہیں، قدرتی آفات بھی ہو سکتی ہیں، (زلزلہ، سونامی، سیلاب وغیرہ)، وبا بھی ہو سکتی ہے ،موذی امراض یا وبائیں طاعون، ہیضہ، ڈینگی وغیرہ)، کسی بیرونی طاقت یا طاقتوں سے جنگ بھی ہو سکتی ہے، اور داخلی دہشت گر د مفسدین بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔ وہ حریص حاکم بھی ہو سکتے ہیں،  جوطاقت کے نشے میں ملک کو تباہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔۔۔۔۔
[چار] عدو کون ہیں، جو واحد متکلم کے جسم پر پر حملہ آور ہو رہے ہیں؟ ایک اور (ذرا زیادہ گہری سطح پر) یہ جسم طبیعی نہیں ہے، بلکہ وہ داخلی اسپرٹ ہے، جس نے انسان کو حیوان کی نسل سے آزاد کر کے اس قابل بنایا کہ فرشتے بھی اسے سجدہ کر سکیں۔ اس پر شیطان اور اس کی فاسد طاقتیں ایک بار پھر حملہ آور ہیں۔ بدی کی دو جہات ہیں۔ انسان کے اندر کی خود پید ا ہوئی بدی اور بیرونی شیطانی محرکات جو اسے نیکی کے راستے سے پھسلا کر بدی پر مجبور کر دیتے ہیں ۔۔ لفظ” مجبور” کی کئی شکلیں اس نظم میں موجود ہیں، جنہیں اپنے مولا، یعنی اپنے بنانے والے کوزہ گر کے سامنے پیش کرتے ہوءے متکلم یہ کہتا ہے کہ وہ اب مجبورِ محض ہے۔ گلہ اور شکایت بھی کرتا ہے کہ اس کا “جسم”( (معنی کی کسی بھی جہت میں) کمزور ہے، “شیشہ وش شیشہ کی طرح ٹوٹ سکتا ہے۔ کاش اسے طاقتور بنایا گیا ہوتا، کاش آب و گل و ریح کے اس مجسمے میں کچھ نوری عنصر بھی شامل کیا گیا ہوتا۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔
اب کچھ الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے۔ میں حتےٰ الوسع تصویری مفہوم کے الفاظ استعمال کرتا ہوں، تا کہ سامع یا قاری اپنے ذہن میں اس تصویر کو اجاگر کر سکے۔ “شیشہ وش” ہی دیکھ لیں۔ میں کہنا چاہتا تھا، کمزور، نازک، جلد ٹوٹنے والا۔ چینی کا برتن نازک، صیقل شدہ اور جلد ٹوٹنے والا ہوتا ہے، لیکن میں ایک پوری سطر تو ضائع نہیں کر سکتا تھا۔ انگریزی میں ہے لفظ “برِٹل” ہے۔ (بَ ر ِ ٹَ ل)میرے ذہن میں یہ لفظ آیا لیکن اس کا اردو ترجمہ کیا ہے اور اگر ہے تو وہ کیا کوئی تصویر اجاگر کر سکتا ہے؟ “شیشہ وش” (جو کہ میری ہی اختراع ہے) کہنے سے یہ معاملہ حل ہو گیا۔ اسی طرح ایک درجن کے قریب الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے ۔۔۔ جنہیں میں طوالت کے خوف سے زیر بحث نہیں لانا چاہتا۔
دوستو، میں اور زیادہ نہ لکھتا ہوا اس پر ہی قناعت کرتا ہوں۔ شاید اب نظم کو غور سے پڑھا جائے۔ اب ان امور کی روشنی میں نظم کو ایک بار پھر پڑھیں۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *