• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بی بی سی لندن اردو سروس کے سرکردہ وقار احمد انتقال کرگئے

بی بی سی لندن اردو سروس کے سرکردہ وقار احمد انتقال کرگئے

بی بی سی لندن کی اردو سروس کے سرکردہ براڈ کاسٹر وقار احمد لندن میں انتقال کرگئے ہیں۔ مرحوم کے دوست اور سابق براڈ کاسٹر بی بی سی اردو لندن رضا علی عابدی نے ان کے انتقال پر لکھا ہے۔ وقار احمد لندن آنے سے پہلے کراچی یونی ورسٹی میں معلم تھے۔ انہوں نے بی بی سی سے بہت عرصے تک پروگرام سیر بین پیش کیا۔ وہ اپنی علمیت اور مشفقانہ رویے کی وجہ سے بہت شہرت رکھتے تھے۔
رحیم یار خان سے مرحوم کے ایک مداح حکیم خلیق الرحمٰن نے ان کے انتقال پر لکھا ہے۔ وقار احمد ان صدا کاروں میں تھے جنہیں سن کر اردو سے محبت بڑھ جاتی تھی۔ قدرت نے انہیں انتہائی دلکش لہجہ عطاء کیا تھا وہ بولتے تو یوں لگتا کہ اردو خود مخاطب ہے۔ ان کی زندگی بی بی سی اردو سروس پہ اردو کی خوشبو لٹاتے ہوئے گزری ان کے لہجے کا مخصوص ٹھہراؤ انہیں ممتاز بناتا تھا۔ ان کی وفات بلاشبہ ناقابِلِ تلافی نقصان ہے۔
برطانیہ سے ثقلین امام نے ان کے انتقال پر لکھا ہے۔ معروف صحافی اور محقق وقار احمد تین دہائیوں تک بی بی سی سے وابسطہ رہے۔ وقار صاحب ایک عظیم صحافی، ایک قابل محقق اور ایک بہترین براڈ کاسٹر تھے۔ عملی زندگی کے آغاز میں وہ تاریخ کے طالبِ علم تھے۔ وقار احمد صاحب ہیومن رائیٹس آف پاکستان کے پروفیسر عزیز صدیقی (مرحوم) کے برادرِ نسبتی تھے۔ ایک زمانے تک اُن کی آواز نے بی بی سی اردو کو مُزیّن کیا۔ ان کے انتقال سے براڈکاسٹ جرنلزم کا ایک باب اپنے انجام کو پہنچ گیا اور دنیا غریب ہوگئی۔
پشاور سے پشتو کے شاعر و ادیب فیروز خان آفریدی نے ان کے انتقال پر لکھا ہے۔ وقار احمد کی انتہائی سنجیدہ آواز تھی۔ کیا خوبصورت خبریں پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ ان جیسا لہجہ شاید پھر کبھی سننے کو ملے۔ سیربین میں تبصرے اور خاص کر جنگ کے دنوں میں ان کی خبروں میں ایک رعب دار آواز کی بازگشت آتی رہتی تھی۔ جس سے خوف میں مزید اضافہ ہوجاتا تھا۔
جب کہ دوسری طرف بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر ان کے انتقال کی خبر تک نہیں موجود ہے۔ ایسے میں ہم بی بی سی اردو سے یہ شکوہ ہی کیوں کریں کہ انہوں نے اپنے لیجنڈری براڈ کاسٹر کو خراج کیوں پیش نہیں کیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *