• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سٹیفن ہاکنگ کی پہلی برسی، یادگاری سکہ اور خلائی مخلوق کا وجود۔۔۔۔محمد عبدہ

سٹیفن ہاکنگ کی پہلی برسی، یادگاری سکہ اور خلائی مخلوق کا وجود۔۔۔۔محمد عبدہ

موجودہ دور کے سب سے بڑے اور تاریخ کے ممتاز سائنسداں اور ماہرِ کونیات اسٹیفن ہاکنگ کے اعزاز میں حکومتِ برطانیہ کی جانب سے ان کی پہلی برسی کے موقع پر 14 مارچ کو یادگاری سکہ جاری کیا گیا ہے۔
نیا چمک دار سکہ انتہائی خوبصورت ہے جسے برطانیہ کی ممتاز ڈیزائنر ایڈوینا ایلس نے ڈیزائن کیا ہے۔ سکے کی پشت پر اسٹیفن ہاکنگ کا نام درج ہے اور اس کے اوپر ہاکنگ کی مشہور مساوات درج ہے جو بلیک ہول میں اینٹروپی کو ظاہر کرتی ہے یعنی بلیک ہول کے اندر انتشار بڑھتا چلاجاتا ہے۔ سب سے نیچے بلیک ہول کو نہایت خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے جو بتدریک پھیل رہا ہے۔

چارلس ڈارون اور سر آئزک نیوٹن کے بعد اسٹیفن ہاکنگ یہ اعزاز پانے والے تیسرے بڑے سائنسداں ہیں۔ اس سال کے اختتام تک اسٹیفن ہاکنگ کی یاد میں 50 پاؤنڈ کا نوٹ بھی جاری کیا جائے گا۔
اسٹیفن ہاکنگ 22 سال کی عمر میں موٹر نیورون ڈیزیز کے شکار ہوکر کرسی سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے تھے۔ اس بیماری میں بغلی دماغ کی خشکی یا لوگیرگ (Amyotrophic lateral sclerosis, or Lou Gehrig’s Disease) خلیے متاثر ہوتے ہیں یہ خلیے جسم کے تمام حرکت دینے والے افعال کو قابو میں رکھتے ہیں نتیجتاً وہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہے ڈاکٹروں کے بقول سٹیفن زیادہ دیر جی نہیں پائیں گے۔
لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند رہے اور بلند حوصلگی کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھا، وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے۔


انھیں آئن سٹائن کے بعد گزشتہ صدی کا دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ان کا زیادہ تر کام ثقب اسود یعنی بلیک ہول، نظریاتی کونیات (کونیات) کے میدان میں ہے۔ ان کی ایک کتاب وقت کی مختصر تاریخ یعنی A brief History of Time ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ آسان الفاظ میں لکھی گئی ایک نہایت اعلیٰ پائے کی کتاب ہے جس سے ایک عام قاری اور اعلیٰ ترین محقق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
ہاکنگ نے ایک چیلنج دنیائے طبیعیات کو بھی دیا۔ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو وقت کے سفر کو ناممکن بنا دے۔ اس نے وقت کے سفر سے روکنے کے لیے قوانین طبیعیات کی طرف سے ایک “نظریہ تحفظ تقویم” (Chronology Protection Conjecture) پیش کیا ہے تاکہ “تاریخ کو مورخوں کی دخل اندازی سے بچایا جا سکے “۔
اپنی وفات سے چند سال پہلے سٹیفن ہاکنگ نے ایک نظریہ اور اپنی آخری نصیحت یا وصیت پیش کرکے دنیا کو چونکا دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا ہم اس کائنات میں اکیلے نہیں ہیں انسانوں کے علاوہ یقیناً کوئی نہ کوئی مخلوق کہیں ضرور آباد ہے اور انسانوں کو کسی بھی اجنبی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرنے چاہیے۔۔ لیکن اس کے ساتھ انھوں نے انسانوں کو خبردار کیا تھا کہ ایسی کسی بھی مخلوق سے رابطے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ایسی مخلوق بنی نوع انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی مخلوق انسانوں سے چالاک ہوسکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ زمین پر آکر ہمارے وسائل چھین کر لے جائیں۔
سٹیفن ہاکنگ کے مطابق اگر کوئی ایسی مخلوق زمین پر آتی ہے تو انسانوں کے ساتھ وہی ہوگا جو کولمبس کے امریکہ دریافت کرنے کے بعد وہاں کی مقامی آبادی کے ساتھ ہوا تھا، جو یقیناً اچھا نہیں تھا۔
پروفیسر سٹیفن ہاکنگ کا موقف تھا کہ اجنبی مخلوق کے ساتھ رابطوں کی کوشش کے بجائے انسانوں کو ان سے دور رہنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
گزشتہ برس 14 مارچ کو اسٹیفن ہاکنگ کا انتقال 76 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

وہ کہیں ہیں کہ دنیا اتنی سی نہیں ہے، ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ہم ہی نہیں ہیں وہاں اور بھی ہیں، ہماری ہر اک بات ہوتی وہیں ہیں
عالم یہ کہتا ہے وہاں اللہ ہے
فاضل یہ کہتا ہے وہاں ایشور ہے
قابل یہ کہتا ہے وہاں عیسی ہے
منزل یہ کہتی ہے انسان سے، تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا
بھجتے ہوئے چند باسی چراغوں، تمھارے کالے ارادوں کی دنیا
غالب کے مومن کے خوابوں کی دنیا، مزاجوں کے انقلابوں کی دنیا
فیض فراق ساحر و مخدوم، میر کی ذوق و داغوں کی دنیا
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا، یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا، یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی، نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی، یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی، یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی، یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا، مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا، یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

محمد عبدہ
مضمون نگار "محمد عبدہ" کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور حالیہ کوریا میں مقیم اور سیاحت کے شعبے سے تعلق ہے۔ پاکستان کے تاریخی و پہاڑی مقامات اور تاریخ پاکستان پر تحقیقی مضامین لکھتے ہیں۔ "سفرنامہ فلپائن" "کوریا کا کلچر و تاریخ" اور پاکستانی پہاڑوں کی تاریخ کوہ پیمائی" جیسے منفرد موضوعات پر تین کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *