شکریہ مسلم ورمضان

اسلام دہشت گردی کے اس قدر خلاف ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہب میں اس کی مثال ملنا ناممکن ہے ۔اسلام دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کے باوجود دنیا بھر میں اسلام کے نام لیوا ،روزبروز بڑھ رہے ہیں ۔جہاں دہشت گرد تنظیمیں داعش ، کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، کالعدم جماعت الاحرار ودیگرتنظیمیں اسلام کانام بدنام کررہی ہیں ،وہیں مسلمان اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے غیر مسلموں کے دل جیت رہے ہیں ۔پاکستان میں جہاں نعرہ تکبیر لگانے والے پھٹے وہیں اسلام کے نام لیواؤں نے انسانیت کی خدمت کرنے پر اپنی ساری زندگی صرف کردی ۔آج بھی تھر ، بلوچستان اور دیگرعلاقوں میں بغیر کسی رنگ ومذہب کی تمیز کے خدمت انسانیت میں اسلام کے نام لیوا مصروف عمل ہیں ۔
غزہ، فلسطین ، شام ، عراق ، افغانستان ،صومالیہ اور برما جیسے علاقوں میں مسلم امہ خدمت انسانیت میں مصروف ہے ، اپنے بھائیوں سمیت دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی حتی الامکان دادرسی کی جارہی ہے۔صرف پاکستانی ہی خیرات وصدقات دینے میں معروف نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان خدمت انسانیت میں کوشاں نظر آتے ہیں یہ اوربات ہے کہ انٹرنیشنل میڈیا انہیں سامنے بہت کم لاتا ہے۔مسلم ممالک ہوں یاپھر غیر مسلم ممالک، جہاں بھی کوئی حادثہ ہوایاپھر کوئی واقعہ ہوا ،وہیں مسلم امہ کے جوان پہنچے اور مصیبت کے ماروں کی داد رسی کی کوشش کی ۔
لندن میں گرینفل ٹاورپر لگی آگ میں قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے مسلمانوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر آگ میں چھلانگیں لگائیں۔
لندن کے مغربی علاقے میں واقع بلند ترین رہائشی عمارت میں رات سوا ایک بجے کے قریب آگ لگی جسے کئی گھنٹوں بعدبجھایاجاسکا۔رمضان المبارک ہونے کی وجہ سے مسلمان اس وقت جاگ رہے تھے اور سحری کی تیاری کرنے کی وجہ سے انہیں بروقت پتہ چلا جس کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کوعمارت سے باہرنکالنے میں پہل کی ۔برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ لکھتا ہے کہ آگ کے بعد بجنے والے الارموں سے بہت ہی کم رہائشیوں کی آنکھ کھلی جبکہ سحری میں مصروف مسلمانوں نے سب سے پہلے لوگوں کو آگ لگنے کی خبر دی اور لوگوں کے دروازے بجابجا کر انہیں باہر نکلنے میں مددفراہم کی ۔33سالہ آندرے باروسواخبار کو بتاتا ہے کہ ’’لوگوں کو باہر نکالنے میں مسلم برادی نے انتہائی اہم کردار اداکیا ‘‘۔خبروں کے مطابق قریبی مساجد سے لوگ دوڑ کر مذکورہ جگہ پہنچے اور لوگوں کو ریسکیوکیا ۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان بروقت امدادی کارروائیاں نہ کرتے تو اور بہت سارے لوگ جان سے جاتے ۔یہی وجہ ہے کہ لندن میں مسلمانوں کو عزت وتوقیر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔مغربی میڈیا مسلمانوں کی تعریفیں کررہا ہے اور شکریہ رمضان جیسے الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں ۔سوشل میڈیاپر شکریہ رمضان ومسلم کے عنوان سے ٹرینڈ چل رہے ہیں اور لوگ مسلمانوں کے جذبہ کو سراہ رہے ہیں ۔ایک مقامی عورت برطانوی اخبارکوبتاتی ہے کہ’’ مسلمان لڑکے دوڑتے ہوئے آئے اورلوگوں کی جان بچائی ۔وہ بھاگتے ہوئے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے تھے ۔رمضان کے لئے خدا کا شکر ہے ‘‘۔اسی عمارت کی آٹھویں منزل پر اپنی آنٹی کے پاس رہائش پذیر20سالہ خالد سلیمان احمد کے مطابق جب اسے دھواں محسوس ہواتو اس نے کھڑکی کے ذریعے ساتویں منزل پر آگ دیکھی جس کے بعد اس نے آنٹی اور دیگر قریبی ہمسائیوں کو اٹھایا ۔خالدسلیمان بتاتاہے کہ منزل کی راہداری دھویں کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوب چکی تھی ۔لیکن اکثر لوگ اسے ایک عام حادثہ سمجھ رہے تھے حالات کی سنگینی کا پتہ عمارت سے باہر محفوظ جگہ پر جاکر ہوا ۔
مسلمانوں نے ہمیشہ سے ہی انسانیت کی بھلائی سوچی ہے۔تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں جنگوں میں مارے جانے والے افراد جنگ عظیم اول میں مارے جانے والے افراد سے کہیں کم تھے ۔اس کے باوجود اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے ۔ناکام اس لیے کہ مسلمانوں کی حادثاتی جگہوں پر امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر شمولیت اسلامی تعلیمات دنیا پر عیاں کرتی نظرآتی ہے۔ حالیہ واقعہ کے بعد مسلمانوں نے لند ن میں اپنی مساجد ومذہبی اداروں کے دروازے متاثرین کی امداد کے لیے کھول دئیے ہیں ۔لندن میں مقیم مسلمان متاثرین کے لیے کپڑے، کھانا،پانی اور دیگر ضروری اشیاء مساجد وکمیونٹی سنٹروں میں جمع کررہے ہیں ۔
لوگوں کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول رہے ہیں اور انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہوکر عالمی پروپیگنڈے کو پیروں تلے روند رہے ہیں ۔اسلام کی اصل تصویر یہی ہے جو دنیا نے لندن کے گرینفل ٹاور میں آتش زدگی کے موقع پر دیکھی ۔اسلام خدمت انسانیت کا حکم دیتا ہے اور جہاد کے بھی اصول متعین کرتا ہے ،نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے کی اجازت اسلام قطعاََ نہیں دیتا ۔اسلام کو سمجھنے کے لیے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ جہاں غیر مسلموں کو ضروری ہے وہیں مسلمانوں کو بھی سنی سنائی سے ہٹ کر قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اسوہ محمدیؐ رکھنا ہوگا کہ اسی میں دنیا کا امن چھپاہواہے۔

محمد عتیق
محمد عتیق
"سعودی عرب کے اردواخبار "اردونیوز" میں کالم لکھتے ہیں اور کالم نگاروں کی تنظیم پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری ہیں ۔فیصل آباد سے تعلق ہے ۔تعلیم ابھی جاری ہےویسے ایم ۔اے کی ڈگری پاس رہتی ہے اور مزید ڈگریوں پر کوشش جاری ہے ۔" فیس بک رابطہ https://www.facebook.com/AtiQFsd01 ؎ قلم اٹھتا ہے تو سوچیں بدل جاتی ہیں اک شخص کی محنت سے ملّتیں تشکیل پاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *