صائمہ اصغر کی پینٹنگ۔۔۔رابعہ الرَبّاء

I want to touch people with my art
I want them to say ,he feels deeply, he feels tender(Vincent Van Gogh)

جس دعوت نامہ پہ اتنے رنگ بکھرے ہو ں ۔ وہ خود ذوق کی عکاسی کر تا ہے ۔ یہی ذوق شوق میں بد ل جاتا ہے ۔ اور رنگ آپ کو اپنی جانب کھنچنے لگتے ہیں ۔ یہی ہوا کہ اتنی ساری مصروفیات میں میرا دل ان رنگو ں کی دید کا ہجر محسو س کر نے لگا ۔ وعدہ وفا نہیں ہو تا سو کیا نہیں ۔ دل تھا دے دیا تھا۔ اب نصیب تھے لے جاتے ، نہ  لے جاتے۔

تیز دھوپ والی صبح طلو ع ہو ئی تو سورج سے آنکھیں ملانا دشوار تھا۔ مگر جو ں جو ں دن آگے بڑھا ،بادلو ں نے سارے شہر پہ ایک بار پھر قبضہ کر لیا اور ہر سو مسکراہٹوں کی چہل پہل ہو نے لگی ۔ کچھ مہمانو ں کی آمد ہو ئی ۔ ان کے ساتھ باہر جانا تھا ۔ راستے میں شاکر علی میوزیم میں صائمہ کے شہہ پارے مسکرا رہے تھے۔ ایک تو یہ جگہ قیامت تھی اور پھر صائمہ کے رنگ قیامت۔

اس کے رنگوں میں ایک چنچل لڑکی مسکراتی ہے۔ جو اداس بھی ہو تی ہے تو اس کی امید کے پھو ل کھلے رہتے ہیں ۔ اس کے رنگ ڈیسنٹ اورsoft ہیں ۔ جلا ل بہت کم ہے ۔ اس کے ہا ں زندگی کی بہاریں  مہکتی محسوس ہو تی ہیں ۔ یو ں لگتا ہے اس کا خیال خود اس کے کینوس پہ بکھر جاتا ہے۔ اس کو تنگ نہیں کرتا ۔ یہ تخلیق کی سب سے بڑی سچائی ہے ۔ کہ وہ خالق اور ناظر دونوں تک خود سفر کرے ۔

ٓاس نمائش کا افتتاح  6 مارچ کو باقاعدہ ہوا اور 14 مارچ تک جار ی ہے۔ اس خوبصورت تقریب کی تصاویر میں دیکھ چکی تھی ۔ مگر اس روز جانا ممکن نہیں تھا۔ لیکن یہ یقین تھا کہ اس لڑکی کے رنگ باتیں کرتے ہو نگے اور ان سے خوشبو آتی ہو گی ۔ مجھے موسم نے اس خوشبو کو محسوس کر نے پہ مجبو ر کر دیا۔ اور دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ سو وصل اپنے رستے خود بنانے میں کامیاب ہو گیا۔


یہ وصل بہت فطری ہو تا ہے ۔ جو خود آپ کو محبوب کی باہو ں تک لے جاتا ہے ۔ آندھیاں طوفان خود سہتا ہے ۔درد خود سہتا ہے ۔ اور کومل احساس آپ میں بانٹ دیتا ہے ۔
صائمہ میں یہی کو مل احساس لے کر لوٹی ہو ں ۔ تمہارے رنگو ں سے جو بہا ر مجھ میں اور مجھ پہ اتری ہے ۔ اس کے لئے شاید میرے پا س الفاظ نہیں ۔ مگر ڈھیرو ں دعائیں ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *