خوشحال خان کاکاجی، ایک عظیم پشتون رہنما۔۔۔ عارف خٹک

آپ میرے پر داد ہیں۔ گریٹر پختونستان کی تحریک کے بانی یہی تھے اور 1950 میں پاکستان بننے کے بعد گریٹر پشتونستان کی نفی بھی انھوں نے کی۔کہا کہ اب پاکستان ایک حقیقت ہے اور میں چار ملین قوم کیلئے دو ملینز پشتونوں کے خون کو نہیں بہا سکتا، لہٰذا پاکستان کے وفادار رہے۔ مگر بعد کے فوجی حکمرانوں نے ان کی اولادوں کو نہیں بخشا اور زبردستی انھیں غدار قرار دے کر جلاوطن کرڈالا۔  آپ پانچ وقت  کےنمازی تھے اور دیوبند کے فارغ التحصیل تھے۔ بھٹو جب ایوب خان حکومت میں وزارت خارجہ میں تھے تو روس کے دورے پر چلے گئے۔ کریملین میں برزنیف نے بھٹو سے پوچھا کہ کاکاجی کے خاندان کا کیا حال چال ہیں؟ بھٹو نے جواب دیا کہ وہ کاکاجی کو نہیں جانتے، تو برزنیف نے کہا کہ پھر وہ روس کس لئے آئے ہیں؟ کاکاجی کون تھے آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی محترم جناب خوشحال خان خٹک صاحب، خوشحال کاکاجی کے نام سے معروف تھے۔ گذشتہ دس ( ۱۰ ) ہزار سالہ طبقاتی تاریخ میں بہت کم ایسے عظیم اور نابغہ انسان پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی زندگی مظلوم غلام انسانوں کی آزادی کیلیے قربان کی اور ساری زندگی قید و بند ، جلا وطنی اور ہر طرح کی تکالیف برداشت کیں، لیکن ساری عمر ان کی قوت ارادی میں معمولی کمی یا کمزوری نہیں آئی ۔
ان انسانوں میں ایک عظیم مجاہد آزادی اور عظیم انسان محترم جناب خوشحال خان خٹک صاحب ( خوشحال کاکاجی ) ہیں۔ کاکاجی صوبہ پشتونخواہ ضلع کرک کلی بہادرخیل کے رھہے والے تھے ۔ اٹھارہ سو بیاسی ( ۱۸۸۲ ) میں تولد ہوئے ۔ یہ وہ وقت تھا جب برصغیر اور ساری دنیا پر انگریز سامراج کا قبضہ تھا اور انگریز کا ظلم و ستم اور لوٹ مار جاری تھی۔ گھر گھر دشمنی پیدا کرنا سامراج اور اس کے جاسوسوں اور دلالوں کی پالیسی تھی ۔ سارے برصغیر پر غربت ، پسماندگی ، جہالت ، بیماریوں اور انگریز سامراج کی لوٹ مار اور ظلم و ستم کا راج تھا ۔ اس طرح کے ماحول میں محترم کاکا جی جیسے حساس ، ایماندار اور مخلص انسان پر گہرا اثر ہوا اور اس ظلم کے خلاف اپنے ملک کی سیاسی اور اقتصادی آزادی حاصل کرنے کا ارادہ ان کے دل میں پیدا ہوا۔ انگریز سامراج جو وقت کی ایک بہت بڑی طاقت تھی، اس سے ٹکر لینا آگ سے کھیلنے کے مترادف تھا ۔ انگریز سامراج سے لڑنے کا کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس کی حکمرانی پر سورج نہیں ڈوبتا تھا ۔ لیکن اس دور اندیش اور نابغہ انسان نے اس سے ٹکر لینا اپنا فرض جانا اور زندگی کی آخری سانس تک مظلوم طبقے کی آزادی کی خاطر لڑتا رہا ۔
انقلاب روس نے ساری دنیا کے مظلوم انسانوں کو سامراج سے سیاسی اور اقتصادی آزادی حاصل کرنے کی امید اور حوصلہ دیا ۔ کاکا جی اس وقت زیادہ تر پیدل سفر کرتے ہوئے روس گئے اور انقلاب کے بانی عظیم لینن سے ملاقات کی۔ عظیم لینن نے کاکا جی سے ملاقات کے بعد کہا کہ “اگر آپ کی طرح چند اور حساس ، ایماندار اور محنتی انقلابی پیدا ہوئے تو شرق ( مشرق ) بہت جلد انگریز سامراج سے آزادی حاصل کریگا”۔ روس سے واپسی پر انڈیا کی کیمونسٹ پارٹی کے بانیوں میں شامل ہوئے ۔ آزادی کے ہیرو سبھاش چندر بوس کو ہمارے ھیرو کاکا جی نے ہی مشکل وقت میں کابل، افغانستان پہنچایا ۔ اور اسی طرح بہت سے رہنما آپ کی کوششوں سے کابل تک پہنچتے رہے ۔ انیس سو تیس ( ۱۹۳۰ ) میں پہلی بار تین ( ۳ ) سال تک ہری پور جیل میں رہے ۔ عظیم مجاہد آزادی مولانا عبدالرحیم پوپلزئی صاحب جو کسان رہنما اور مارکسسٹ مولانا کے نام سے مشہور تھے کے شاگرد بھی رہے ۔ عظیم مجاہد آزادی مرزا علی خان المعروف فقیر ایپی سے رابطے میں رھہے ۔ انیس سو اکیاون ( ۱۹۵۱ ) میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سائیں عزیزاللہ پشاور گئے اور پارٹی کا سیل بنایا ،جس میں کاکاجی ، صنوبر حسین مومند اور افضل بنگش شامل تھے ۔ آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے بھی جیل میں رہے۔ کاکاجی انیس سو باسٹھ ( ۱۹۶۲ ) میں فوت ہوئے ۔
یہ آپ کی جدوجہد کا بہت مختصر ذکر ہے وگرنہ تو اس کے لیے ایک کتاب کی ضرورت ہے ۔ جب افغانستان میں عظیم ثور انقلاب آیا ( ۱۹۷۸ ) تو کاکاجی کے پوتے اور میرے چچا ڈاکٹر اشرف خان صاحب کو میڈیکل کالج افغانستان میں دیگر پاکستانی شاگردوں کے ساتھ داخلہ ملا۔ لیکن ایک سال چھٹی پر گھر واپسی پر آپ ، والد اور بھائی سمیت گرفتار ہوئے اور دو سال جیل میں گزارے اور دو سال ضائع ہونے کے بعد واپس افغانستان چلے گئے ۔ وہاں سے ڈاکٹری تعلیم سے فارغ ہو کر آج کل کراچی کے ناتھا خان گوٹھ میں باقی خاندان کے ساتھ رہائش پذیر ہیں ۔ غریب مریضوں کا علاج کر رہے ہیں اور بہت معمولی فیس لیتے ہیں۔ روزانہ دو سو ( ۲۰۰ ) سے زیادہ مریٖٖضوں کا علاج کر رہے ہیں ۔ جب افغانستان میں پڑھ رہے تھے تو سینکڑوں پاکستانی شاگردوں میں ان سے زیادہ بااخلاق انسان نہیں تھا کیونکہ ایک عظیم انسان کے زیر تربیت رہے تھے ۔
پاکستان کے سیکرٹری جنرل امام علی نازش نے بتایا کہ جب وہ کابل میں تھے تو ایک اور پشاور کا رہنے والا جس کو نازش نے اپنا جان نشین بنا رکھا تھا (اس کا نام میں نہیں لینا چاہتا کیونکہ اس نے سارے انقلابیوں اور پارٹی کا نام بد نام کر کے چند ڈالروں کی خاطر اپنا ضمیر اور ایمان بیچ دیا) جب اس نے افغانستان میں شادی کی تو نازش نے اس کے بیٹے کا نام کاکا جی ( خوشحال خان ) کے نام پر رکھا ۔ لیکن اس نے اس عظیم انقلابی رہنما ( کاکا جی ) کے نام کا خیال بھی نہیں کیا ۔ آج کاکا جی ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کی قربانی اور جدوجہد ہمارے اور ساری دنیا کے محنت کشوں کیلیے مشعل راہ ہے اور اس وقت تک رہے گی جب ساری دنیا میں ایک غیر طبقاتی سماج قائم نہیں ہوتا ، اور اس سماج میں کاکاجی کی قربانی بھی ہمیشہ کیلیے یاد رہے گی ۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *