• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سائنس اور ہیومینٹیز کا جوڑ روشن خیالی کا تیسرا انقلاب لائے گا ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

سائنس اور ہیومینٹیز کا جوڑ روشن خیالی کا تیسرا انقلاب لائے گا ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

پہلی روشن خیالی سقراط ، افلاطون اور ارسطو سے یونان میں شروع ہو ئی  جو سارے فلسفی تھے اور انہوں نے زیادہ تر انسانی اقدار کی بنیاد پر بات کی اور سیویلیٹی کو فروغ دیا ۔ دوسرا انقلاب سولہویں صدی سے انیسویں صدی تک سائنس کا رہا گو کے اس میں بھی وولٹئیر ، اسپینوزا ، روسیو اور ڈسکارٹس جیسے فلاسفر بھی رہے لیکن سائنس کا پلڑا بھاری رہا ۔
۲۰۱۷ میں یہاں امریکہ کے مشہور ماہر  حیاتیات نے ایک بہت زبردست کتاب اسی عنوان سے لکھی ۔ یہ کتاب بھی پاکستان کی یونیورسٹیوں میں بنیادی نصاب کا حصہ ہونی چاہیے ۔ آپ اس کتاب میں  ذرا ولسن کی ریسرچ اور پڑھائی  کا اندازہ لگائیں ، کمال کی تحقیق ۔ ولسن نے پہلے سائنس اور ہیومینٹیز کو باقاعدہ ڈیفائین کیا اور بعد میں ان کے ممکنہ جوڑ پر بہت زبردست مکالمہ لکھا ۔ ولیم اس کو بہت ہی سادہ انگریزی میں کچھ یوں لکھتا ہے ؛
The realm of science is every thing possible in the universe , the realm of humanities is every thing conceivable to the human mind
اور پھر یہاں مشہور برطانوی شاعر ملٹن کا قول بیان کرتا ہے ؛
Milton said, A mind is it’s own place, and in itself
Can make a heaven of hell and a hell of heaven ..

تاریخ ولسن کے نزدیک کلچرل ایوولیوشن کی کہانی ہے جبکہ تاریخ سے پہلے کا معاملہ جینیٹک ایولیوشن کا ہے ۔ ولسن اپنی کتاب میں empathy کی  تعریف بھی بہت زبردست کرتا ہے ۔ زیادہ تر لوگ اس کو sympathy کے ساتھ کنفیوز کرتے ہیں لیکن ولسن کے نزدیک empathy وہ  ذہانت ہے جو دوسروں کے احساسات یا feelings کو پڑھ سکے اور اس کے مطابق کے عمل کی پشین گوئی  کرے ۔ جبکہ sympathy محض دوسروں کے لیے جذبات رکھنا ہے جسے ولسن بہت آسان لفظوں میں emotional concernکہتا ہے ۔ اس سب کا اظہار انسان زبانوں سے کرتے ہیں اور آج دنیا میں کوئی  64000 کے قریب زبانیں ہیں ۔ اور ولسن زبان کو بھی کیا خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے کہ ۔۔۔
language is not just a creation of humanity rather it is humanity .. at the highest level of creativity, all human beings talk and sing and they tell stories ..
اور ولسن کہتا ہے کہ  شاعر چوسر کے وقت انگریزی کے الفاظ صرف 73000 تھے جو شیکسپئر کے وقت بڑھ کر 208000 ہو گئے اور تازہ ترین آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق یہ کوئی  469000 ہو گئے ہیں ۔


ولسن اس کتاب میں قدرتی زندگی کو بہت زیادہ فوقیت دیتا ہے اور انسانوں کے قدرت کے ساتھ لنک کو انتہائی  اعلی طریقے سے بیان کرتا ہے ۔ وہی اکائی  والی بات ۔ ولسن خاص طور پر مذاہب کا تذکرہ کرتا ہے اور مذہب کی تعلیم کو ہیومینیٹئز کا ایک بہت اہم جُزو سمجھتا ہے اور کیا خوبصورت انداز میں کہتا ہے کہ ۔۔
‏It should nonetheless be studied as an element of human nature, and the evolution thereof , and not , in the manner of Christian bible colleges and Islamic madrasahs, a manual for promotion of the faith defined by a particular creation story .
یہ ہے اصل ماجرا ۔ جب عباسیہ کے دور میں مسلمان سلطنت میں تعلیم سائینس ، ریاضی ، علم نجوم ، علم فلکیات ، فلسفہ اور فنون لطیفہ ہوتی تھی تو اسلامی سلطنت کیا کچھ نہیں دنیا کو دے گئی ۔ آج بھی مغرب اس کو کریڈٹ دیتا ہے ۔ تیمور کا پوتا ثمرقند کی دنیا کی پہلی اتنی بڑی آبزرویٹری سے جو چیزیں دریافت کر گیا وہ مغرب میں کیپلر وغیرہ نے دو سو سال بعد کیں ۔ یہ سب کچھ روشن خیالی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ولسن ایک بہت چھوٹے جزیرے کی مثال دیتا ہے جہاں بہت کم نباتات ، کیڑے مکوڑے اور پرند اور چرند پائے جاتے ہیں ۔ اس کے نزدیک انسانی آبادی سے فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے جزیرہ آباد نہیں ہوا ۔ یہ ساری چیزیں انسانوں کے ساتھ منسلک ہیں ۔ یہ ایک اکائی  کا ترانہ ہے ۔ سب ہی جُزو ایک دوسرے کے لیے بہت اہم ۔ نتزشے نے پارسیوں کے خدا آزوریستھرا کی طرف سے سورج کو کہا تھا کہ  “تم اتنے عظیم ستارے ہو ، تمہاری خوشی کیا ہوتی اگر وہ سب نہ ہوتے جن کے لیے تم چمکتے ہو “ اسی نظریے کو بہت سارے صوفیا نے خدا کے بارے میں بھی کہا کے خدا اپنے آپ کو اپنی مخلوق کے زریعے manifest کرتا ہے ۔ اس کو بھی اپنی تخلیق بہت ضروری ہے ۔ جیسے سارے شاہکار پینٹنگز کے خالق صرف اور صرف اپنے فن پاروں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں اسی طرح خدا اپنی تخلیق سے ۔
ایسا بالکل نظر آرہا ہے کہ  نیا روشن خیالی کا انقلاب سائنس اور ہیومینیٹیز کے اتفاق سے آئے گا ، بقول ولسن ؛
Scientists and scholars in humanities working together will I believe serve as the leaders of a new philosophy , one that blends the best and the most relevant from these two great branches of learning .. there effort would be third enlightenment ..
اور یقیناً اسی انقلاب سے ہم سب اس oneness میں جُڑ جائیں گے جس کا میں اکثر صوفیا اور روحانی پیشواؤں کے حوالے سے تذکرہ کرتا ہوں ۔ اسے ہی ولسن کہتا ہے کہ ۔۔
“will bring our species closer to realizing the prayer for reason inscribed by Diogenes and still visible in original form on the Oinoanda stoa”
میں اکثر اپنے بلاگز میں ڈائجنیز کا تذکرہ کرتا ہوں ۔ میرا پیرو مرشد ڈائجنئز ہے جو ان وقتوں میں افلاطون کو للکارتا تھا کے تم تقلید کی باتیں کرتے ہو اور میں انسانی uniqueness کی ۔ آپ ذرا اس کی اس دعا جس کا حوالہ ولسن نے دیا  ذرا انگریزی ترجمہ پڑھیں ، یہ ٹیبلٹ ابھی بھی قدیم یونان کی ریجن Lycia میں موجود ہے ۔
میں ولسن سے متفق ہوں کے نیا ارتقاء یقیناً اسی روشن خیالی کا ہو گا جس میں ساری ڈائمینشنز انسانی شعور کی کُھل جائیں گی  ۔ سائنس نے ان سب معاملات کی ڈائسیکشن تو بہت اچھی کی لیکن یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہوتا ہے پر آکر رُک گئی  اور بے بسی کا اظہار کیا ، جو ہیومینیٹئز نے کرنا ہے اور آنے والے وقتوں میں کرے گی ۔ اپنا بہت خیال رکھیں ۔ پیار اور محبت کی زندگیاں گزاریں بے شک بظاہر ناممکن نظر آ رہی ہوں ۔ پوزیشنز والی نہیں بلکہ بغیر پوزینشنز والی ۔ رب راکھا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *