آئینے میں کون؟۔۔۔وہارا امباکر

آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو غور سے دیکھیں۔ اس پرکشش چہرے اور دلکش سراپے کے پیچھے ایک مشینی نیٹ ورک کی مخفی کائنات ہے۔ آپس میں ایک دوسرے سے لاک ہوئی ہڈیوں کے مچان بندھے ہوئے ہیں۔ پٹھوں کے ریشہ دار مضبوط جال، بہت سے مخصوص فلوئیڈ اور اندر کے گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے سے مل کر کام کرتے اندرونی اعضاء۔ ان سب کے اوپر چڑھا غلاف جو اپنے آپ کو مرمت کر لیتا ہے، یہ آپ کی جلد ہے اور اس سب کام کرتی مشینری کو ایک دلکش پیکج بنا دیتی ہے۔

اور پھر وہ آپ کا دماغ۔ حفاظتی بکتربند مورچے میں بند تین پاوٗنڈ کا مادہ جو اس کا مشن کنٹرول سنٹر ہے اور ابھی تک ہم نے کائنات میں اس سے زیادہ پیچہدہ چیز دریافت نہیں کی۔ یہ کھربوں خلیات سے بنا ہے۔ نیورون سے اور گلیا سے۔ ان میں سے ہر ایک خلیہ خود اتنا پیچیدہ ہے جتنا کہ ایک شہر۔ ہر خلیے کے اندر پورا انسانی جینوم موجود ہے۔ ہر خلیہ برقی نبض دوسرے خلیوں کو بھیج رہا ہے۔ سینکڑوں بار فی سینکڈ۔

یہ اس قدر ناقابلِ بیان پیچیدگی کا نیٹ ورک ہے کہ انسانی زبان اس کو بیان کرنے میں ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ ایک عام نیورون اپنے ساتھیوں سے ایک وقت میں اوسطا دس ہزار کنکنشن بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ دماغ کے ایک مکعب سینٹی میٹر میں لگ بھگ اتنے کنکشن ہیں جتنی ہماری کہکشاں میں ستارے۔ یہ گلابی مادہ عجب کمپیوٹیشنل میٹیریل ہے۔ چھوٹے سے خودکار پارٹس سے بنا جو اپنی حالتیں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ہم اس کے قریب قریب کی کسی چیز بنانے کا بھی نہیں سوچ سکتے۔ اگر کبھی آپ اداس ہوں یا سستی کا شکار تو تسلی رکھیں۔ آپ اس سیارے کی مصروف ترین شے ہیں۔

ہماری کہانی ایک ناقابلِ یقین کہانی ہے۔ ہم اس دنیا کا وہ واحد سسٹم ہیں جس نے خود اپنی پروگرامنگ پر غور و فکر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ذرا تصور کریں اپنے کمپیوٹر کا کہ وہ اپنے ساتھ منسلک ڈیوائسز کو کنٹرول کرنا شروع کر دے، پھر اپنا ڈھکن کھول لے اور اپنے ساتھ لگے کیمرے کی مدد سے خود اپنا سرکٹ دیکھنا شروع کر دے اور اپنے پروگرام پر غور کرنے لگے۔ ہم ایسے ہیں۔

اور ہمارا اپنے اندر اس طریقے سے جھانکنا ہماری نوع کی سب سے اہم ترین انٹلکچویل کامیابیوں میں سے ہے۔ یہ ادراک کہ ہمارے رویے، ہماری سوچیں ہمارے تجربے اس وسیع، گیلے اور کیمیائی اور برقی سرکٹ میں پائی جاتی ہیں جو اعصابی نیٹورک ہے۔ یہ مشینری، ہم جیسی تو نہیں لگتی۔ لیکن پھر بھی کسی طرح یہ ہم خود ہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آرتھر ایلبرٹس 1949 میں نیویارک سے مغربی افریقہ میں ٹمبکٹو اور گولڈ کوسٹ کے درمیان کے گاوٗں میں گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ، ایک کیمرہ، ایک جیپ اور ایک ٹیپ ریکارڈر تھا۔ افریقہ کی آوازیں مغربی دنیا تک پہنچانے کیلئے انہوں نے یہاں کا میوزک ریکارڈ کیا لیکن ایک مسئلے میں پھنس گئے۔ ایک مقامی افریقی نے اپنی ریکارڈ ہوئی آواز سنی اور ایلبرٹس پر الزام لگا دیا کہ وہ اس کی زبان لے کر جا رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ دھینگا مشتی شروع ہو جاتی۔ ایلبرٹس نے آئینہ نکال کر یقین دلوایا کہ اس کی زبان ابھی تک اسی کے پاس موجود ہے۔

ایسا کیوں؟ کیونکہ آواز ایک عارضی اور غیرمادی لگنے والی شے ہے، جو بس نکل گئی اور ختم ہو گئی۔ نہ وزن، نہ شکل، نہ کوئی ایسی شے جس کو ہاتھ میں پکڑا جا سکے۔ لیکن آواز ایک فزیکل چیز ہے۔ اگر ہم ایسی چھوٹی سی مشین بنا لیں جو ہوا کے مالیکیولز کا ارتعاش محسوس کر سکے تو یہ آواز پکڑی جاتی ہے۔ اس مشین کو ہم مائیکروفون کہتے ہیں۔ جب اس آواز کو ایلبرٹس نے دوبارہ چلا دیا تو یہ غیرمرئی شے واپس چلنا شروع ہو گئی۔ اس مغربی افریقی قبائلی کو یہ مظہر “زبردست جادو” لگا۔

سوچ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔ سوچ ہے کیا؟ اس کا کوئی وزن نہیں لگتا، یہ عارضی، غیرمرئی اور غیرمادی شے لگتی ہے۔ اس کی کوئی شکل، رنگ و بو نہیں محسوس ہوتی۔ ہمیں یہ “زبردست جادو” لگتا ہے۔ لیکن آواز کی طرح سوچ بھی فزیکل ہے۔ جب دماغ کی شکل بدل جاتی ہے تو سوچ بھی بدل جاتی ہے۔ اگر یقین نہیں تو اس کو کچھ کیمیکل دے کر دیکھ لیں، بھنگ چڑھا لیں اور اس میں آتا فرق دیکھیں۔

دماغ ایک پیچیدہ سسٹم ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو سمجھا نہیں جا سکتا۔ جس طرح جگر یا آنکھ کو سمجھا جا سکتا ہے، اسی طرح اس کو بھی۔ اس کے کسی حصے میں “آپ” یعنی کہ آپ کا شعور بھی موجود ہے لیکن یاد رہے کہ بہت تھوڑے سے حصے میں۔ ایک ملک کی مثال لے لیں۔ اس میں فیکٹریاں چل رہی ہیں، بزنس ہو رہے ہیں، ٹیلی کمیونیکیشن کے نظام چل رہے ہیں، لوگ کھا پی رہے ہیں، سیوریج سسٹم کام کر رہا ہے، پولیس مجرموں کا پیچھا کر رہی ہے، معاہدوں پر دستخط ہو رہے ہیں، کھیلوں کے مقابلے ہو رہے ہیں، ڈاکٹر کام کر رہے ہیں، محبت کرنے والے مل رہے ہیں، فون کئے جا رہے ہیں۔ اس تمام ہنگامے میں ہم صرف اخبار کی ہیڈلائن پڑھ لیتے ہیں۔ ٹیکس کا ریٹ بڑھا دیا گیا، ہڑتال ہو گئی۔ اس ملک میں ہوتے ہنگامے تک بس اتنی ہی رسائی ہے اور اتنی ہی ضرورت۔

ایک خیال آتا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ واہ! کیا ہی خیال آیا اور نہ جانے کہاں سے، لیکن اس کے پیچھے پھیلی وسیع اور خفیہ مشینری نے کس قدر کام کیا تھا، یہ اس کا وہ جادو کے بغیر ہونے والا “زبردست جادو” ہے جس سے بہت سے لوگ یقین نہیں کرتے کہ سوچ بھی آواز، رنگ و بو کی طرح ایک فزیکل چیز ہے۔

انسانی تاریخ کا شاید سب سے زبردست اور اہم خیال میکسویل کی الیکٹرومیگنٹزم کی مساوات ہیں۔ اپنے بسترِ مرگ پر انہوں نے عجیب اعتراف کیا کہ یہ مساوات انہوں نے نہیں بلکہ ان کے اندر کسی نے دریافت کی تھیں۔ ولیم بلیک نے اپنی نظم کے بارے میں بھی ایسا ہی کہا اور گوئٹے نے اپنے ناول “جوانی کی اداسی” کے بارے میں۔ یہ غلط نہیں تھا کیونکہ جیسا کہ کارل جنگ نے کہا ہے کہ “ہم میں سے ہر ایک کے اندر کوئی اور ہے جس کو ہم نہیں جانتے” یا پھر پنک فلوئیڈ نے کہ “میرے سر میں کوئی رہتا ہے، اور وہ میں نہیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلیلیو نے ٹیلی سکوپ سے مشتری کے چاندوں کی حرکات کا جائزہ لے کر یہ کہہ دیا کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں۔ اس دریافت نے اور اس ایک اعلان نے سب کچھ بدل دیا۔ ایک نیا دور شروع کر دیا۔ اگلی چار صدیوں میں ہم نے یہ معلوم کر لیا کہ ہم تو بس ایک ذرہ بھی نہیں۔ کہکشاوٗں کے پچاس کروڑ گروپ، دس ارب بڑی کہکشائیں، ایک کھرب چھوٹی کہکشائیں، دو کھرب کھرب سورج، اربوں نوری سال کی وسعتیں۔ یہ ایک سوچ بدل دینے والی دریافت تھی اور اس قدر تنگ کرنے والی کہ اس کو ماننے سے انکار کر دیا گیا۔ گلیلیو نے زمینی مرکزیت کا تصویر پاش پاش کیا جس نے گلیلیو کو قیدخانے میں پھنکوا دیا اور اپنے الفاظ واپس لینے پر اور اپنا کام رد کر دینے پر دستخط کروائے گئے اور گلیلیو تو خوش قسمت تھے کہ ان کا حشر ایک اور اطالوی برونو جیسا نہیں ہوا۔ ان کو یہ کہنے پر کہ زمین مرکز نہیں، عوامی چوراہے میں گھسیٹ کر لایا گیا تھا۔ چہرے پر لوہے کا ماسک چڑھا کر کہ وہ بول نہ سکیں۔ مجمع کے آگے ان کو زندہ جلا دیا گیا اور آنکھیں نکال دی گئیں۔

برونو کا قصور کیا تھا؟ گلیلیو کو کیوں پابندِ سلاسل کیا گیا؟ کیونکہ اپنا ورلڈ ویو بدلنا بہت مشکل کام ہے۔ کاش کہ یہ کرنے والے جانتے ہوتے کہ یہ نئی سوچ و فکر کس طرف لے جائے گی۔ یہ تو اپنی پھیلی ہوئی جھوٹی اور ضدی انا سے انکساری اور حیرت کی طرف کا سفر تھا۔

اگر آپ کو فلکیات اور سپیس سائنس مسحور کر دیتی ہے تو ذرا ٹھہرئے، دماغ کی سائنس تو پھر آپ اس سے بھی شاندار ہے۔ جب ہم نے اپنا کائنات میں مرکز نہ ہونا تسلیم کیا تو پھر اس زبردست کائنات کو جاننے کے قابل ہوئے۔ اسی طرح ہم خود اپنے اس شاندار دماغ کا بس ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ اس پر تحقیق کرنے والوں کے ساتھ گلیلیو یا برونو جیسا سلوک تو اب نہیں ہوتا لیکن ابھی اس پر تحقیق اور بات کرنے والوں کو ہر طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہماری اپنی حیثیت خود ہمارے اپنے دماغ میں مرکزی نہیں بلکہ اس طرح کی ہے جیسے ملکی وے میں زمین، یہ کئی لوگوں کو تنگ کرتا ہے۔ لیکن اس کو تسلیم کر لینے کے بعد ہم اس دماغ کے اندر کی کائنات کو ٹھیک طور پر سراہنے کے قابل ہوں گے۔ یہی ہمارے ہونے کا سب سے زبردست جادو ہے اور یہ جادو اسی مشین کے اندر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگرچہ اس پر پہلے بھی کام ہو چکا تھا مگر اس خیال کو سائنسی بنیادوں پر سب سے پہلے سگمنڈ فرائیڈ نے دریافت کیا کہ ہم بس اپنی شخصیت کا ایک چھوٹا حصہ ہیں۔ فرائیڈ نے یہ کام لوگوں کے انٹرویو، ان کی حرکات و سکنات کے مشاہدے سے لگایا۔ بہت سے نفسیاتی عوارض جن چڑھنے، کمزور قوتِ ارادہ یا خللِ دماغ سے نہیں ہوتے بلکہ اس کی وجہ ہمارے دماغ کی اسی طرح کے عارضے ہیں جیسا کہ جسم کے۔ یہ وہ بڑی سوچ کی تبدیلیاں تھیں جو اس کام کی وجہ سے بیسویں صدی کے درمیان تک آ چکی تھیں اور نفسیات باقاعدہ علم کا شعبہ بن چکا تھا۔ جب ہم جان جاتے ہیں تو ٹھیک بھی کر لیتے ہیں۔ نفسیاتی عوارض بھی اس علم کے بعد ٹھیک ہونے لگے۔

جب ہم خود سے مایوس ہوتے ہیں یا اپنے پر غصہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے؟ ہم سگریٹ کے نقصان جان کر بھی اس کو کیوں نہیں چھوڑ پاتے؟ ہم کسے جاذبِ نظر سمجھتے ہیں؟ ہم راز کیوں نہیں رکھ سکتے؟ ہم فیصلے کیسے لیتے ہیں؟ ہم خود کون ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جو اب ہماری دسترس میں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو ایک بار پھر آئینے کے آگے کھڑے ہو کر خود اپنے آپ کو غور سے دیکھیں۔ ہاں، آپ کا چہرہ پرکشش ہے اور سراپا دلکش۔ مگر جو چھپا ہے، وہ شاندار ہے اور سب سے شاندار یہ کہ جو نہیں دیکھ سکتے، اس کو بھی جان سکتے ہیں۔ آپ بھی کسی طرح، کسی جگہ، اسی عکس کے اندر ہیں۔

اس کا زیادہ حصہ اس کتاب سے
Incognito: Secret Lives of the Brain by David Eagleman

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *