انتقام کی آگ خود کو بھسم کرے۔۔۔آصف جیلانی

۔14 فروری کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلواما میں جیش محمد کے فدائین کے خود کش حملے کے بعد جس میں ہندوستان کی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 49 فوجی ہلاک ہوئے ہیں مودی حکومت، سیاست دانوں اور میڈیا کے محاذ پر تعینات صحافیوں کے جی اور منہ میں جو بھی آرہا ہے وہ عقل پر پٹی باندھے پاکستان کو مورد الزام ٹھیرانے اور پاکستان سے انتقام لینے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس حملہ پر مودی حکومت اس وجہ سے اور زیادہ سیخ پا ہے کہ صرف دو ہفتے قبل وزیر اعظم مودی نے ہڑتال زدہ یکسر بند سنسان سری نگر میں سخت جھنجھلاہٹ کے عالم میں اس عزم کا اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت کشمیر میں شدت پسندوں (حریت پسندوں) کی کمر توڑ کر رکھ دے گی۔ 14 فروری کو جموں سے سری نگر جانے والی شاہراہ پر پمپور قصبہ میں سینٹر ریزرو پولیس فورس کے کاروان پر 350کلو بارود سے بھری وین کا حملہ ہوا تو حکومت، سیاست دانوں اور میڈیا کے ہوش اُڑ گئے۔ اس حملے کے بعد جیش محمد نے جو ویڈیو جاری کی ہے اس میں 19 سالہ عادل احمد ڈار یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے ایک سال قبل جیش محمد میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ اس حملے کے لیے ایک سال سے انتظار کر رہا تھا۔ اس کے جذبات سے عیاں ہے کہ کشمیر میں ہندوستان کی فوج جس بے دردی سے بچوں اور نوجوانوں کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے اس کے خلاف وہ نوجوانوں کا علم بغاوت لے کر اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔
پلواما حملہ کے بعد مودی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے یہ دیکھے بغیر کہ یہ حملہ ایک کشمیری نوجوان نے کیا ہے اور سرحد پار پاکستان سے کوئی حملہ آور نہیں آیا، جھنجھلاہٹ کی آگ میں جلتے ہوئے پاکستان پر الزام کی توپوں کے دہانے کھول دیے ہیں۔ پلواما حملہ کے بعد ہندوستان نے سخت غصے کے عالم میں اور بس نہیں چلا تو تجارتی میدان میں پاکستان کی انتہائی منظور نظر قوم کی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کردیا پاکستان کو یہ حیثیت پچھلے 23 سال سے حاصل تھی۔ اسی کے ساتھ ہندوستان نے سخت غصے کے عالم میں دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے اسلام آباد میں اپنے ہائی کمشنر کو عارضی طور پر واپس بلالیا۔ وزیر خزانہ ارُن جیٹلی نے دھمکی دی ہے کہ پلواما کے حملہ کے پیچھے جن کا ہاتھ ہے ان کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کہ یہ بھاری قیمت کیا ہوگی اور کیا جوابی اقدام ہوگا۔ ہندوستان میں سیاست دان اس قدر بپھرے ہوئے ہیں کہ وہ کھلم کھلا یہ کہہ رہے ہیں کہ اس حملہ کے جواب میں پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کیا جائے گا حالاں کہ پچھلا سرجیکل اسٹرائیک محض پھسپھسا ڈراما ثابت ہوا تھا۔ بہت سے مبصرین اس بات کو بے حد اہمیت دے رہے ہیں کہ پلواما کا حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب کہ عالمی عدالت انصاف میں ہندوستانی جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت کے خلاف ہندوستان کی درخواست کی سماعت میں پاکستان کی طرف سے دلائل پیش کیے جائیں گے۔ پھر یہ بھی بہت اہم وقت ہے جب کہ سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان کے دورے پر آئے ہیں اور ہندوستان میں عام انتخابات سر پر ہیں۔ ہندوستان اس موقعے پر پاکستان کے خلاف اس الزام کو تقویت دینا چاہتا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔
ہندوستان کی موجودہ حکمت عملی کا بنیادی مقصد اصل میں کشمیر کے مستقبل کے مسئلے پر پردہ ڈالنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پلواما حملہ کے بعد ہندوستان میں کشمیر کے بنیادی مسئلہ پر بحث کے بجائے سارا شور جیش محمد کے مسعود اظہر کے رول پر مچ رہا ہے اور چین کوکوسا جارہا ہے کہ وہ مسعود اظہر کو دہشت گرد کیوں تسلیم نہیں کرتا۔ اسی کے ساتھ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی ہمت افزائی کر رہی ہیں۔ پھر میڈیا میں بحث کا زور اس پر ہے کہ اس وقت افغانستان سے امریکا کی فوجوں کی واپسی کے ہندوستان کے لیے کیا مضمرات ہوں گے۔ اس بحث میں ایک لفظ کشمیر کے بنیادی مسئلہ کا نہیں، اس کے حل کی بات تو الگ رہی۔ مودی حکومت کے ساتھ حزب مخالف کانگریس کے بھی ہوش اُڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے کشمیر کے بنیادی مسئلے سے دامن بچانے کے لیے، کہا ہے کہ حزب مخالف پلواما حملہ کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہے۔ ویسے بھی کشمیر کے مسئلے میں جواہر لعل نہرو کے مجرمانہ رول پر کانگریس پارٹی شرمساری کا شکار ہے۔ بیش تر سیاسی مبصرین کے نزدیک موجودہ صورت حال بے حد خطرناک ہے جب کہ مودی حکومت اور سیاست دانوں کے ساتھ میڈیا پلواما حملہ پر سخت غصہ اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں ہے اور ملک کے کٹر ہندو قوم پرست پاکستان دشمنی کی آگ میں بھسم، پاکستان کے خلاف انتقامی کاروائی کے لیے شور مچا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہندوستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف کسی بھی انتہا پسند کاروائی کا شدید خطرہ ہے۔ اس دوران پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی جارہی ہے اس کے آگے کوئی خندق نہیں ہے اور انتقام کی آگ خود کو بھسم کرے۔

بشکریہ جسارت

آصف جیلانی
آصف جیلانی
آصف جیلانی معروف صحافی ہیں۔ آپ لندن میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بی بی سی سے وابستہ رہے۔ آپ "ساغر شیشے لعل و گہر" کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *