تصویر کا نیا رُخ۔۔۔۔سلیمان جاوید

بلاشبہ زراعت اس وقت سب سے بڑا انسانی پیشہ ہے کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنی خوراک اور لباس کا بندوبست کرتے ہیں۔ تاہم زراعت بہت پرانی نہیں ہے۔ زراعت کی تاریخ دس ہزار سال قدیم ہے جو تاریخ تناظر میں بہت طویل عرصہ نہیں ہے۔ زراعت سے قبل کا دور زمانہ قبل از تاریخ بھی کہلاتا ہے۔ یہ آخری برفانی عہد کا دور ہےیعنی اس وقت کرہ ارض کے بیشتر حصے پر برف کا راج تھا اور سبزے کے لئے جگہ کم تھی۔اس وقت انسانی خوراک کا بیشتر حصہ گوشت پر مشتمل تھا جسے جنگی جانوروں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ یعنی آپ کہہ سکتے ہیں اس دور میں شکار ہی سب سے اہم پیشہ تھا۔اس عہد کی کچھ یادگاریں آج ہمارے پاس موجود ہیں جن میں سب سے اہم فرانس میں واقع گروٹے ڈی لیسکس میں موجود ہیں۔ یہ غاروں کا یک پیچیدہ سلسلہ ہے۔ ان غاروں کی اہم بات 600 سے زیادہ تصاویر ہیں جنہیں ان غاروں کی دیواروں پر بنایا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق یہ تصاویر آج سے 17 ہزار سال پرانی ہیں۔ان تصاویر کو 1979 میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔
انہی تصاویر میں ایک کافی عجیب ہے۔ بظاہر اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص کو کسی جنگلی درندے نے مار ڈالا ہے۔دوران شکار کسی انسان کا جانور کے ہاتھوں خود شکار ہوجانا اس زمانے کا عام واقعہ تھا۔ ا س عہد کی ملنے والی بہت سی تصاویر میں اسے ایک المیہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ تاہم کچھ جدید تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لیسکس اور پھر ترکی کے ساسلجوق اور فوبقلی کے مقام سے ملنے والی ایسی ہی تصاویر دراصل زو مارفک (Zoomorphic) ہیں۔ زومارفک تصاویر میں احساسات کو جانوروں کی شکل میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ یہ اظہار مجازی بھی ہوسکتا ہے اور حقیقی بھی۔ ان تصاویر میں زیادہ تر شیر، بھینسا یا بچھو دکھائے جاتے ہیں۔ ان سے مراد یہ نہیں کہ تصاویر بنانے والے کا کوئی پیارا ان جانوروں کے ہاتھوں راہی عدم بقا ہواہے بلکہ یہ جانور آسمان پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔یہ خیال جامعہ ایڈن برگ کے محقق مارٹن سوئٹ مین نے کیا ہے۔مارٹن کے پاس اس چیز کے کئی ثبوت ہیں۔ مثال کے طور ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ بطخ نما کسی جانور نے انسان پر حملہ کرکے اسے ہلاک کردیا ہے جبکہ اسی تصویر میں یہ بھی دکھایا گیا ہےکہ ایک گینڈا دوسری طرف جارہا ہے۔اسی طرح ان تصاویر میں بہت سے ایسے چھوٹے چھوٹے بے ترتیب نقطے بھی موجود ہیں جن کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ممکن ہے کہ یہ پس منظر میں دکھائے گئے ستارے ہوں۔
ترکی سے ملنے والے آثار میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بہت ایسے جانور انسانوں پر حملہ آور ہیں۔ یہ آثار عین اسی وقت کے ہیں جب اس علاقے میں شہابیوں کی بارش ہوئی اور اسی وجہ سے جاتا ہوا برفانی عہد مزید چند ہزار سال کے لئے رک گیا۔ یہ واقعہ 13 ہزار سال پرانا ہے اور اس کی تصدیق جدید ریکارڈ سے بھی ہوئی ہے۔
اگر سوئٹ مین اور ان کے دوستوں کی تحقیق درست ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ قدیم انسانی کی ذہانت اور تجرید تک رسائی کسی بھی طرح آج کل کے انسانوں سے کم نہیں تھی۔

بشکریہ جستجو

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *