طلاق۔خان نشرح

اچھا چار شادیاں مسلمان کرتے ہیں عورتوں پر ظلم کرتے ہیں۔۔۔طلاق ,طلاق, طلاق کہہ کر چھٹکارا پالیتے ہیں, عورتوں کو قید کرتے ہیں -اس کے باوجود اعلی تعلیم یافتہ مسلم لڑکوں سے غیر مسلم لڑکیاں اسلام قبول کرکے بڑے پیمانے پر شادیاں کررہی ہیں ۔۔کیونکہ ۔۔بیوی سے چھٹکارا پانے کے لیے انہیں زندہ نہ جلانے کی سکیورٹی تو ہے ۔۔شراب پی کر آکر زد و کوب کرنے جیسی ذلت تو نہیں۔خود کما کر کھانے کی خواری کے مقابل
گھر میں ملازم تو ملتے ہیں۔
شوہر سے مہر ۔۔۔۔باپ سے وراثت،بغیر جہیز کی شادی،ظالم شوہر سے نجات کے بطور خلع کا حق تو ملتا ہے،اور شاپنگ کی آزادی ۔فطری طور پر   ہر عورت عزت کی طلبگار ہوتی ہے اور عزت کا موازنہ بالکل اسی حساسیت کے ساتھ کرتی ہے جس حساسیت کے ساتھ اپنی جانب اٹھنے والی نگاہ پہچان لیتی ہے۔یہ فیچرز بھی تو مسلم معاشرے کی دین ہیں۔

صاف کہیں نا در پردہ مسلم ایشوز اٹھا کر آپ اپنی  جنریشن کو روکنا چاہتے ہیں۔۔۔۔سچ پوچھیں تو ،قبول اسلام کے،افیڈیوٹ ریکارڈ چیک تو کرے کوئی اس کا ڈیٹا اوپن کریں کبھی، تب آپ کے مسلم ایشو کے پیچھے پڑنے کا راز بھی تو کھلے،اسی لیے تو آپ نے حکومت میں آتے ہی کبھی گھر واپسی،توکبھی جہاد ۔۔اور اب یکساں سول کوڈ  کے ایشوز کو  اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے ۔دراصل آپ کے اضطرابی حملے بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔۔۔

کنٹرول کنڑول۔۔۔۔۔۔اتنا ہی یہ ابھرتا ہے جتنا دبانے کی کوشش کرو ۔۔۔!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *