ساہیوال واقعہ اور خدشات۔۔۔۔محسن علی

میں وکیل نہیں تحریک انصاف کا لیکن بہت سے سوال جنم لیتے ہیں ، میں صرف مختلف پہلووں سے سوال لکھنے کو یہ عرض کرہا ہوں ۔سچ تو یہی ہے !ماڈل ٹاؤن قتل عام پرکسی پولیس والے کو پھانسی نہیں ہوئی؛ ساہیوال جیسے واقعے پر کیا ہونی ہے؟ کیا ہم نے نہیں دیکھے ایسے واقعات کیا پشاور میں ہونے والا واقعہ نہیں ہوا ۔مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اخلاقی ، سماجی ، سیاسی ، ادارتی تربیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ آج تک بات یہ ہے کہ کہا جارہا ڈرائیور کی وجہ سے دیگر لوگ بھی مارے گئے کیا پولیس کی تربیت میں نہیں آواز دے کر روکو پھر ہوائی فائر چلائی جاتی ہے پھر اگر کسی سواری پر ہے تو ٹائر پنکچر کیا جاتا ہے اور پھر جاکر گرفتار ،مگر یہ کیا طریفہ کار ہے کہا جارہا ہے شادی میں لے کر جارہا تھا وہ ڈرائیور تو یقینا ً گاڑی میں شور و غول ہوگا جس کے باعث کیا معلوم ڈرائیور نے نہیں سُنا ہو یا کسی نے بھی نہیں سُنا ہو ، لیکن جس طرح پہلے پولیس اور بعد میں کہا گیا انٹیلیجنس اور کاونٹر ٹیررزم کے ڈیپارٹمنٹ  کی انفارمیشن پر کیا گیا تو کیا ایسے ہی انکاونٹر پہلے بہت سے شعیب سڈل، اسلم چوہدری، سکُھیرا صاحب ، عمر خطاب وغیرہ نہیں کرچکے کیا راوانور انکاونٹر اسپیشلسٹ اسی طرز کے نہ جانے خاموش کتنے انکاونٹر میں لوگوں کو “اداروں” یا سیاسی چپقلش پر “عامر باکسر” نہیں کرواچکے ؟ جن کو بعد میں ہمارے یہاں کے “مرد حُر” زرداری صاحب بہادر بچہ گردانتے ہیں ۔ پھر لوگوں کے شور پر بیان واپس لیتے ہیں اور تحقیقاتی ادارے پہلے ثبوت فراہم کرتے ہیں اور پھر وہ ثبوت ناکافی ہوکر وہ آزاد ہوجاتا ہے ۔ اس طرز کے مزید واقعات بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھی نہ جانے کب سے وقوع پذیر ہورہے ہیں ۔ ایسے واقعات نوے کی دہائی میں بھی ہوئے ہوں گے کیونکہ ریاست اُس وقت مکمل طور پر چین ہی چین لکھتی تھی اور ہمارے لوگ بھی خاموش تھے اُس موقع پر صرف ایک آواز جو مجھے یاد پڑتی ہے عاصمہ جہانگیر کی باتیں اخبار کے دوسرے صفحات کی زینت بنا کرتے تھے ۔ اسی طرح پشتونوں کو انہی طرز آپریشن کے باعث انکاوںٹر کے باعث قوم کے سامنے دہشتگرد چہرہ رکھا گیا ۔ ہماری دوست جلیلہ حیدر لکھتی ہیں 2010 میں ہمارا بھی ایک بہت پیارا اسی طرح سرکاری گولی کے زد میں ایا تھا۔ وہ بھی جان سے گیا تھا۔ پر ہمارا طبقہ کمزور تھا اور ہماری آواز بھی کمزور تھی۔ وہ بھی الہڑ جوان لڑکا تھا، شاعر تھا، فلسفہ پڑھتا تھا، اور چھٹیاں گزارنے آیا تھا کوئٹہ۔
(ہم کو کس کے غم نے مارایہ کہانی پھر سہی)۔۔مگر کیا ہمارا سماج اور ہماری ریاست ایسے معاملات کی روک تھام کے لئے اقدامات کرتی ہے یا یہ تبدیلی سرکار بھی پرانوں کی اُترن پہن لیتی ہے کرسی کی طاقت میں جس طرز کا گورنر پنجاب نے بیان دیا انتہائی مضحکہ خیز بیان جیسے بچوں کو یتیم کرکے اُنکا مذاق آُڑانے کی کوشش کی ہو ویسے سرور صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ طاقت حاصل کرنے کے شوققین ہیں ۔ مگر اس سے سوال یہ بھی کھڑے ہوتے ہیں کہیں کیا یہ واقعہ پنجاب کی مخصوص سوچ رکھنے والوں نے پولیس کے ذریعے اس لئے تو نہیں کروائی کہ عثمان بزدار سرائیکی بلوچ اُن پر بٹھایا گیا اور آئی جی بھی باہر کا ۔۔کیونکہ پنجاب کی مخصوص سوچ ایک عرصہ تک بقیہ تینوں صوبوں میں اپنی من مانی کرتی رہی مگر اپنے اوپر دوسری قومیت کے لوگ برداشت نہ کی جارہی ہو ۔دوسری جانب ق لیگ کا حکومت سے نکلنے کا عندیہ دینا اس سے پہلے مینگل صاحب کا کھڑکنا ۔۔کیا یہ سب کڑیاں جُڑی ہوئیں ہیں ؟ اور ساتھ میں سندھ حکومت گرانے کی باتیں گزشتہ دنوں کی باتیں کیا عمران خان کو اندر سے ان ہی کے لوگ زمین بوس کرنا چاہ رہے ہیں ۔ باقی ساری باتیں اپنی جگہ کیا سول حکومت کی طاقت تیزی سے کمزور اندرونی لوگوں سے کروائی جارہی آخرکیوں ؟
عثمان بزدار اس کیس سے یا آگے نکل جائینگیں یا قصہ پارینہ بن جائنگے ۔۔
یا پھر ہم نئے حادثے کے انتظار میں رہینگے اب بین کرنے کو یا کوئی سدباب کرینگے

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *