عوام پر مسلط قانونی درندے۔۔۔۔رانا اورنگزیب

جناب عمران خان صاحب!
جناب سپہ سالار افوج پاکستان!
ہم پاکستانی بھی کیا قسمت لے کے پیدا ہؤے کہ امید کی کوئ کرن ہم تک پہنچتی ہی نہیں۔ہم اچھے دنوں کے سپنے سجاتے ہیں تو بدلے ہماری آنکھیں ہی نوچ لی جاتی ہیں۔ پچھلے ستر سال سے ہم پر دوسوسال پرانا قانونی نظام مسلط ہے جو کہ انگریز نے صرف اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے کیلئے وضع کیا تھا۔اب جبکہ انگریز سکڑ سمٹ کے اپنے چند سو میل کے ملک میں مقید ہوچکے ہیں اور انہوں نے قانوں و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسانی اقدار کے مطابق ڈھال ہے تو ہم پر ابھی تک وہی انگریز کے پالتو درندوں کی اولادیں کیوں مسلط ہیں۔کیا انگریز سے آزادی کیلئے ہمارے آباء واجداد نے کم قربانیاں دی تھیں جو ہم کو ایک جنگ آزادی اپنے ہی ملک کی پولیس اور اشرافیہ کے خلاف لڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے؟
جناب وزیراعظم آپ نے فرمایا نوازشریف کرپٹ ہے زرداری لٹیرا ہے ہم نے آپ کی بات پر صاد کیا اور پی ٹی آئ کو اس امید پر لاۓ تاکہ ہم بھی اپنی چند روزہ زندگی میں اچھے نظام حکومت کے مزے لے سکیں۔
جناب سپہ سالار افواج پاکستان لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان فوج کاچہیتا ہے اس کو وزیراعظم بنانے میں فوج کا کردار ہے ہم نے عمران کا ساتھ فوج کیلئے بھی دیا مگر ہمیں ملا تو بے ہنگم اور ڈاوانڈول ہچکولے لیتا قانون اور قانون نافذ کرنے والوں کی لاقانونیت۔
جناب عالی ہمیں بتایا جاۓ کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے کہ ہم اپنے گھر میں محفوظ ہیں نا ہی سڑک پر۔
پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے انگریز سرکار نے پولیس کو بطور بدمعاش پالا اور ان پالتو اہلکاروں کے ذریعے اپنی گرفت پنجاب و دیگر ریاستوں پر مظبوط کی۔جب تک انگریز موجود رہا یہ انکے پالتو بھی قابو میں رہے مگر جیسے ہی ایک آزاد ملک کی صورت پاکستان بنا اسی وقت ان درندوں کے پٹے بھی کھل گئے۔گزشتہ اکہتر سال سے عوام ان سے اپنی جان چھپاتے پھرتے ہیں مگر بچ نہیں پاتے۔یہ وہ درندے ہیں جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔نہ تنخواہ سے نہ رشوت سے نہ ناجائز اختیارات کے استعمال سے . ان کے اعلی’ اخلاق کا ثبوت یہ ہے کہ اپنے سگے باپ کو بھی ماں کی گالی دے سکتے ہیں۔طاقتور کی چوکھٹ کے کتے اور کمزور کیلئیے بھیڑیے۔ناجائز فروشوں، ڈکیتوں،سمگلروں اور قبضہ مافیا کے سرپرست.جہاں ناکہ ہوگا وہیں ڈاکا ہوگا۔بلکہ حقیقی بات یہ ہے کہ ڈاکے سے بچ کے نکلے تو ناکے پر لٹ کے آگئے۔چند ماہ پہلے فیصل آباد شہر میں دو طالب علم پولیس کی سنگدلی کی بھینٹ چڑھے مگر محکمہ جاتی کاروائ میں گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ کے سب اچھا کی رپورٹ ہے۔
پچھلے پانچ سال ہم نے کے پی کے پولیس کی تعريفيں سنتے دن گزارے اور پنجاب پولیس کے اچھا ہونے کے سپنے سجاتے رہے مگر جناب عالی! صورتحال یکسر مختلف ہے۔اب پنجاب پولیس ڈٹ کے رشوت لیتی ہے سرعام لیتی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر لیتی ہے۔ان کو کوئ خوف نہیں۔کسی کو خاطر میں لاتے۔
تازہ ترین واقعہ پنجاب پولیس کے سی ٹی ڈی ونگ کی سنگدلانہ ومجرمانہ سرگرمیوں کا بین ثبوت ہے۔ کیا یہ واقعہ پولیس اور لاقانونیت کے اداروں کا قبلہ درست کرنے کا نقطہء آغاز ثابت ہوسکتا ہے؟
کیا پنجاب پولیس کے افسران و اہلکاران کی دلی خواہش یہی ہے کہ ہر تھانے ہر ناکے پر ہر چوک چوراہے پر عوام ان کو جوتے مارے روزانہ کی بنیاد پر پولیس کے ہاتھوں عوام قتل ہو اور روز ہی کوئ پولیس اہلکار قبر میں اترے۔پھر سے اک آپریشن ضرب عضب و غضب سارے پنجاب کی عوام کے خلاف ہو۔پہلے کے پی کے عوام کی طرح ہمیں اپنے ہی گھروں اور علاقوں سے نقل مکانی کرنی پڑے؟
اس سے پہلے ہی ایک آپریشن راہ نجات پنجاب پولیس کے خلاف شروع کیا جاۓ شاید اس سے کچھ بے گناہ جرم ضعیفی کی موت سے بچ سکیں۔
جناب عمران خان صاحب!
جس کرپٹ پولیس کا ذکر آپ نے پچھلے پانچ سال تواتر کے ساتھ کیا اور جس محکمے کو سدھارنے کی آپ دن رات عوام کو خوشخبری سناتے رہے اسی محکمے نے ہمارا جینا دشوار کردیا ہے۔براۓ مہربانی انگریز کے پالتو درندوں کو نکیل اور پٹہ ڈالا جاۓ۔یا پھر ان درندوں کو نکال کے پنجاب پولیس کا محکمہ کسی انسان کے بچے کے حوالے کیا جاۓ۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ تھانہ انچارج جسے چاہے اٹھا کے اندر ڈال دے جسے چاہے گالیاں بکے جسے چاہے جوتے مارے اور جو دل میں آۓ کیس بنا کے جیل میں ڈال دے۔
جناب عالی!
بے شک وہ پاگل کتے گرفتار کیے جا چکے مگر ہوگا کیا بے چارے بے گناہوں کو کسی نا کسی طور مجرم بنا دیا جاۓ گا اور قاتل ماڈل ٹاؤن سانحے کے ذمہ داروں کی طرح راو انوار کی طرح فیصل آباد کے طالبعلموں کے قاتلوں کی طرح پھر سے ہمارے سینے پر مونگ دل رہے ہونگے۔ہمیں پہلی سینکڑوں کمیٹیوں کی طرح اس واقعے پر کمیٹی نہیں ایکشن چاہئے۔
جناب وزیراعظم ہم لاشیں اٹھاتے تھک چکے ہم گالیاں کھاتے جوتے کھاتے تنگ آچکے۔اب ہم سے ہر ناکے پر رشوت نہیں دی جاتی۔ہمارا صبر ہم سے دامن چھڑا رہا ہے وہ نہ ہو کہ کل عوام کے ہاتھ ہوں اور ان درندوں کے گریبان۔

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *