صبح کا بھولا۔۔۔۔۔ مونا شہزاد

ایمان اور صالحہ بچپن کی سہیلیاں تھیں ۔ ان کے گھر بھی پڑوس میں تھے ،اسی باعث وہ جب چاہتیں ایک دوسرے سے ملنے آجاتیں۔ان کا تعلق اچھے ،پڑھے لکھے گھرانوں سے تھا۔وہ صبح اسکول بھی اکٹھے پیدل جاتیں۔دونوں ہی بہت زہین تھیں اور اکٹھے پڑھتیں اور ہمیشہ امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہوتیں،ابھی انھیں ساتویں جماعت میں آئے ہوئے چند ماہ ہوئے تھے کہ ایک دن وہ اسکول پہنچیں تو انھیں اپنی کلاس میں ایک نیا لڑکا راشد نظر آیا ، ٹیچر نے  پوری کلاس سے اس کا تعارف کروایا اور بتایا کہ راشد ابھی اسی ماہ اسلام آباد سے شفٹ ہو کر لاہور آیا تھا۔۔

Advertisements
merkit.pk

یہ لڑکا راشد بہت کالا اور موٹا تھا۔ایمان اور صالحہ نے اسے دیکھ کر ہنسنا شروع کردیا،وہ لڑکا شرمندہ سا ہوگیا۔ ٹیچر نے دونوں کوسرزنش کی ۔ اب تو ایمان اور صالحہ کے ہاتھ ایک نیا کھیل آگیا، جب وہ دیکھتیں کلاس میں ٹیچر موجود نہیں ہے تو وہ جب راشد کو دیکھتیں اور منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے “کالو”، “موٹو” ،”گولو”، جیسے القابات کے نعرے لگاتیں ۔راشد ہمیشہ یہ القابات سن کر شرمندہ سا ہوجاتا،اس نے کبھی ان کو روکنے یا پلٹ کر جواب دینے کی کوشش نہیں کی تھی ۔شاید راشد کی خاموشی نے ان کو مزید شیر بنا دیا تھا ۔اب تو کلاس کے کئی لڑکے لڑکیاں بھی ان کے ساتھ اس کھیل میں شامل ہوگئے۔سکول میں بریک کے دوران تمام شرارتی لڑکے لڑکیوں کا ٹولہ راشد کے پیچھے پیچھے پھرتا اور اس پر آوازیں کستا۔ راشد نے اس دل آزاری سے تنگ آکر اسکول سے چھٹیاں بھی شروع کردی تھیں ،جس دن راشد اسکول نہ آتا ،ایمان اور صالحہ کا دن بہت بور گزرتا اور اگلے دن وہ راشد کو اور زیادہ تنگ کر کے گزشتہ روز کا بدلہ بھی چکا دیتیں ۔ راشد تعلیم میں بہت اچھا تھا ، ٹیچر کے کہنے پر اس نے Math میتھ میں کئی بار صالحہ اور ایمان کی مدد بھی کی تھی ،مگر صالحہ اور ایمان اس کا مذاق اڑانا نہیں چھوڑتی تھیں ۔ایک دن بریک میں حسب معمول ایمان ،صالحہ اور ان کے شرارتی دوست راشد پر آوازیں کسنے میں مصروف تھے کہ یک دم انھیں احساس ہوا کہ پرنسپل عابدی صاحب بہت دیر سے کھڑے یہ تماشا دیکھ رہے تھے ،پرنسپل صاحب کے نظم و ضبط اور سخت طبیعت سے سب واقف تھے ۔تمام طلبا و طالبات کو سانپ سونگھ گیا۔پرنسپل صاحب نے ان سب کو اپنے آفس میں چلنے کے لیے کہا اور راشد کو بھی نرمی سے ساتھ چلنے کا کہا، تمام طلبا و طالبات مرے مرے قدموں سے آفس کی طرف چل پڑئے۔ایمان اور صالحہ دل ہی دل میں راشد کو برا بھلا کہہ رہی تھی، جس کے باعث یہ دن انھیں دیکھنا پڑ رہا تھا۔ پرنسپل اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھ کر   بولے :
“آپ سب لوگ اچھے گھروں کے بچے ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ آپ لوگ راشد کی ظاہری وضع قطع کو بنیاد بنا کر اس کا مذاق اڑا رہے ہیں، اگر آپ کا رنگ صاف ہے تو اس میں آپ کا کیا کمال ہے؟ ۔کیا آپ سورت حجرات کی یہ آیت بھول گے۔
اے ایمان والو ! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں۔
( الحُجُرات:49 – آيت:11 )۔
پرنسپل صاحب نے ٹھنڈا سانس لیا اور بولے :
ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خطبہ حجتہ الوداع پر اس بات کی وضاحت فرما دی تھی کہ کسی شخص کو رنگ اور نسل کی بنیاد پر برتری حاصل نہیں، برتری حاصل ہے تو تقوی کی بنیاد پر۔”
ایمان اور صالحہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ،وہ اس خیال سے ہی کانپ گئیں کہ وہ بے خیالی میں کس طرح نہ صرف راشد کا دل دکھا رہی تھیں بلکہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی تھیں ۔تمام طلبا و طالبات کے چہرے پر پچھتاوے کا رنگ تھا۔وہ سب یک زبان ہو کر بولے:
“سوری سر ! اب ہم کبھی یہ غلطی دوبارہ نہیں کرینگے ،آپ ہمیں معاف کردیجیے ۔”
سر عابدی مسکرائے اور بولے :
“مجھ سے معافی کے بجائے راشد سے معافی مانگیں۔”
تمام طلبا و طالبات نے راشد کی طرف منہ موڑ کر با آواز بلند کہا:
“سوری راشد۔”
راشد مسکرا کر بولا:
“کوئی بات نہیں میرے دوستوں !
صبح کا بھولا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔”
سب لوگ قہقہہ لگا کر ہنس پڑئے،فضا میں دوستی کی خوشبو رچ گئی تھی ۔
تو پیارے بچوں آپ بھی کوشش کیجئے کہ کسی کی شکل،رنگ اور جسامت کو بنیاد بنا کر آواز مت کسیں۔اللہ تعالی تضحیک کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

Munnaza S
میرا نام مونا شہزاد ہے، میں کالج کے زمانے سے لکھتی تھی،1994 میں بی اے کے دوران قومی اخبارات میں لکھنے کا سلسلہ شروع کیا،جو گاہے بگاہے چلتا رہا۔2001 میں شادی کے بعد کینیڈا آنے سے سلسلہ رک گیا۔میں زندگی کی مصروفیات میں گم ہوگئی،زینب کے سانحے نے مجھے جھنجھوڑ کر بیدار کیامیں نے قلم سے رشتہ استوار کیا۔اب میری تحریریں تمام بڑے آن لائن پلیٹ فارمز،آن لائن رسالوں، دیگر رسالوں اور اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply