مسلمان کہاں ہے۔۔بنت الہدیٰ

قرآن مجید میں عقل کا مادہ 49 اور فکر کا مادہ 19 بار استعمال ہوا ، لیکن یہ دونوں مادے  ہم مسلمانوں میں آج تک منتقل نہیں ہو سکے۔
کیا وجہ ہوسکتی ہے اس کی؟۔ میں اکثر سوچتی ہوں،سائنسی ترقی کی جو لہر سولہویں صدی سے اٹھی ،تب سے لیکر اب تک کائنات اور حیات سے متعلق جدید نظریات پیش کرنے والے غیر مسلم ہی کیوں رہے؟
ٹیکنالوجی پر سب سے زیادہ کام اور پیشرفت بھی انہی کی طرف سے دیکھنے کو ملتی ہے۔

سائنسی ریسرچ پیپرز بیشتر یورپ کی طرف سے آتے تھے اور آج بھی کوانٹم فزکس سے چلتے ہوئے کوانٹم بیالوجی تک ہونے والی تمام تر تحقیقات مشاہدات و تجربات میں مسلمان کہیں نظر نہیں آتے۔۔آخر کیوں؟

آیا ہم خدا پر اتنا پختہ غیبی یقین رکھتے ہیں کہ کائنات کے کسی جزو  پر تحقیق کو گناہ یا وقت کا زیاں( بلکہ گناہ) سمجھتے ہیں کہ دنیا تو ایک گزرگاہ ہے۔۔جب یہاں رہنا ہی نہیں تو تحقیق و تجربات اور پھر نت نئی ایجادات میں وقت اور قوت کیوں صرف کی جائے؟

جو تیار مال مل جائے اس سے مستفید ہوں اور سبحان اللہ کی تسبیح کر تے ہوئے  جنت میں گھر تعمیر کرتے رہیں۔چاہیے یہ دنیا مسلمانوں کے لیے جہنم ہی کیوں نہ بن جائے۔

یا شاید ہم ڈرتے ہیں کہ فکر جن سوالات کو پیدا کرتی ہے ان تک جانے کا سفر ہمیں گمراہ نہ کردے ،ہمارے تقوی  اور ایمان کو خطرات لاحق نہ ہوجائیں ۔

اچھا ،ایسا بھی ہے کہ جب تک کوئی سائنسی ریسرچ پیپر توحید کے عین مطابق نہ ہو اس پر کام کرنے یا اسے شائع کروانے ہی   کو قطعی جرم تصور کر لیا جاتا ہے۔

آخر کیوں ایسا ہے کہ مائکرو سکوپک ورلڈ سے مائیکروسافٹ ورلڈ اور وہاں سے بیکراں کائنات پر تحقیق تک ہر جدید موضوع پر غیر مسلموں کی ہی محنت نظر آتی ہے۔؟

میڈیسن کا شعبہ ہو یا زراعت کا ، کلوننگ ہو یا کوانٹم ٹنلنگ کا۔۔ کیا مسلمان آپ کو کہیں کھڑے نظر آتے ہیں ؟
شاید نت نئی ایجادات کے بعد مذہبی فتوے  پر تحقیق ہی ہمارا مقدر رہ گئی ہے کہ کافروں کی یہ ایجاد آیا حلال ہے یا حرام،ہم خدا کی بنائی ہوئی کائنات کو دریافت  کرنے میں اپنا کوئی حصہ ڈالنا ضروری کیوں نہیں سمجھتے۔؟

جبکہ دعویٰ  باب العلم سے وابستگی کا ہے۔ وہ مولا ع جن کا قول ہے کہ میں زمین سے زیادہ آسمان کے راستے جانتا ہوں،اور ہم تاحال زمینی حقائق بھی دریافت کرنے میں انہی غیر مسلموں کے مشکور و ممنون ہیں جنہوں نے گوگل میپ بنا کرہمارے سفر کے راستے آسان کر دیے ۔

فورس آف گریویٹی ( کشش ثقل) پر ہمیں آیزک نیوٹن قانون تیار کرکے دیتے ہیں اور پھر آئن سٹائن کی تھیوری آف ریلیٹویٹی کوانٹم فزکس کے در وا کردیتی ہے۔اور ہم فقہ جعفری پر فخر و مباہات کرنے والے دنیا کے عظیم ترین استاد اور سائنس دان امام جعفر صادق ع کی درسگاہ میں پڑھائی جانے والی میڈیکل، فزکس اور کیمسٹری کو سمجھے بغیر اور اس سے کسی بھی قسم کا استفادہ کیے بغیر خود کو انکا پیروکار بتاتے ہیں۔

علم کو شگافتہ کرنے والے امام محمد باقر ع کے در سے کائنات کے نظم اور کاسموس پر بیان کی جانے والی احادیث سے نظریں چراتے ہوئے ہم   صرف فضائل اور مصائب ہی پر اکتفا کیے بیٹھے ہیں۔

ہم نے اپنی تمام توجہ روح کے اندر موجود خلا کو عبادات سے پُر کرنے میں لگاکر کائنات کے خلا (کاسموس) میں تانک جھانک کرنے پر مکمل پابندی لگا رکھی ہے۔؟

آخر ہم کیوں کریں اتنی محنت۔ جب سیارہ زمین پر ہمارا قیام ابدی نہیں تو اس کی خاطر خود کو وقف کیونکر کیا جائے۔؟

اس سے کہیں بہتر ہے اسی سیارہ زمین کے کسی کونے میں بیٹھ کر تاریخ کی کتابوں سے محمد بن قاسم کو سادات کا قاتل اور راجا داہر کو اہل ِ بیت ع کا محب ثابت کرکے اپنے ایمان کو قوی کرتے رہیں کہ ممکن ہے اسی سے بخشش کا سامان ہوجائے۔

اور باقی جو کچھ ہورہا ہے وہ سب یہودی سازش کے کھاتے میں ڈال کر 4G کے بعد 5G انٹرنیٹ سے کسی نئے فسادی موضوع پر تحقیقی تحریر پوسٹ کریں، نئے فساد اور نئے دشمن پیدا کریں اور آخر کار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوجائیں ۔۔یہ جانے بغیر کہ شہادت ہوتی کیا ہے؟

بنت الہدی
بنت الہدی
کراچی سے تعلق ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *