• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • وزیر اعظم صاحب !ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذرا, تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

وزیر اعظم صاحب !ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذرا, تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

کل  صبح وزیر اعظم عمران خان  کی ٹویٹ پڑھ کر آنکھوں اور دل و دماغ کو یقین ہی نہ آیا کہ یہ کیا پڑھ رہے ہیں؟- وزیر اعظم صاحب نے قومی اسمبلی کے نئے اجلاس سے اپوزیشن کے واک آؤٹ سے ایک دن بعد یعنی   ٹویٹ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ  “پارلیمنٹ کے اجلاسوں  پر ٹیکس دینے والوں کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں, مگر قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے ایک اور واک آؤٹ سے یہ لگتا ہے کہ یہی وہ حربہ ہے جسے اختیار کرنے کا وہ ارادہ کئے ہوئے ہیں- یہ این آر او حاصل کرنے کے لئے دباؤ بڑھانے کے ہتھیار ہیں تاکہ نیب (NAB) میں چلنے والے کیسوں سے استثنٰی حاصل کیا جا سکے حالانکہ یہ کیس تحریک انصاف نے شروع ہی نہیں کئے تھے‘‘۔

پارلیمنٹ کی کارروائی جیسے فرض اولین کو ادا کرنے کی بجائے اپوزیشن کے ممبران کے واک آْؤٹ سے حیران اور جزبجز وزیر اعظم عمران خان صاحب کو شاید بہت جلد سب کچھ بھول جاتا ہے۔ تاہم یہ یاد رہے کہ آج کے دور کی تاریخ بھی اب بنی امیہ کے دربار کی لونڈی نہیں رہی اور نہ ہی آج کا یزید اس قابل رہا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی تاریخ لکھوا  سکے۔ اس لئے ہم تحریک انصاف اور وزیر اعظم صاحب کو یاد کروا دیتے ہیں کہ یہ وہی پارلیمنٹ تھی جسے آپ ‘‘لعنتی’’ بھی کہا کرتے تھے اور دھاندلی کی پیداوار بھی کہتے تھے اور پورے سال میں صرف گنتی کے کچھ دن پارلیمنٹ کی کاروائی میں شرکت کیا کرتے تھے۔

اس سے پہلے کہ تحریک انصاف کے مشتعل حمایتی پارلیمنٹ کو دی جانے والی تحریک انصافی گالیوں اور اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کا دفاع کرنے اس کالم پر کمنٹس کرنے آ جائیں تو یہ ضرور سن لیجئے گا کہ جس پارلیمنٹ کو لعنتی اور دھاندلی کی پیداوار قرار دیا جائے، اس سے پورے 5 سال تنخواہیں، مراعات اور پروٹوکول نہیں لیا جاتا۔

انصافی دوستوں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ سال 2016ء – 2017ء کے دوران قومی اسمبلی کے  منعقدہ 102 دنوں کے اجلاسوں میں صرف 2 دن شرکت کرنے والے عمران خان  نے تقریباً  30 لاکھ روپے بطور سالانہ تنخواہ کے طور پر وصول کئے تھے۔ اس کے علاوہ اگست 2014ء سے جون 2015ء کے ان 10 مہینوں کی تنخواہ، مراعات اور پروٹوکول بھی عمران خاں سمیت تمام انصافی اراکین پارلیمنٹ نے وصول کیا تھا حالانکہ تب وہ اپنے دھرنے کی تیاریوں اور دھرنا دینے میں مصروف رہے تھے اور مستعفی ہونے کے اعلانات بھی کر رہے تھے۔ اس دوران وہ آئے دن عوام کو یوٹیلیٹی بلز جمع نہ کروانے کی سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے پر اکسانے کے لئے اپنے یوٹیلیٹی بل بھی پھاڑ دیا کرتے تھے۔ حالانکہ تقریروں کے فوراً  بعد تحریک انصاف کی ساری قیادت بشمول بنی گالہ سرکار اپنے گھروں کے یوٹیلیٹی بل مقررہ تاریخ سے پہلے ہی جمع کروا دیا کرتے تھے۔

دھرنے کے دوران پی ٹی آئی کے تمام 32 ممبران جب پارلیمنٹ سے باہر تھے، اُس وقت بھی ہر انقلابی ممبر اور قائد انقلاب نے ساڑھے 8 لاکھ روپے فی کس اپنی تنخواہوں، مراعات کے بقایا جات کی مد میں وصول کئے تھے جو ان کے بنک اکاؤنٹس میں منتقل کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ پچھلے دور حکومت میں تحریک انصاف کے  32 ممبران قومی اسمبلی تھے جبکہ 7 ممبران سینیٹ کے تھے۔ چونکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہیں برابر ہوتی ہیں اور ہر ممبر کی سالانہ تنخواہ بمعہ مراعات وغیرہ 30 لاکھ روپے کے نزدیک بنا کرتی تھی۔ یعنی پارلیمنٹ کو لعنتی قرار دینے والی اور اسے دھاندلی کی پیداوار قرار دینے والی تحریک انصاف اور اس کی قیادت بشمول عمران خاں پوری قوم کے ٹیکس دینے والوں کی خون پسینے کی کمائی سے 11 کروڑ 70 لاکھ روپے سالانہ وصول کیا کرتی تھی اور اسی پارلیمنٹ کو گالیاں بھی دیا کرتی تھی۔

راقم نے 1984ء میں جب کالج میں داخلہ لیا تو ہماری جنریشن کی یہ بہت خوش قسمتی تھی کہ ہمیں ایسے اساتذہ اور سینئرز  ملے جنہوں نے ہماری نسل کی تربیت  میں آمریت سے بیزاری اور جمہوریت سے محبت کے سبق اتنی اچھی طرح ذہن نشین کروائے کہ آج تک جمہوریت کے علاوہ کسی اور نظام حکومت کی سمجھ ہی نہیں آ سکی۔ اُس دور میں تو پارلیمنٹ کا وجود ہی نہیں تھا۔ پھر کسی طرح جمہوریت کی شروعات ہوئی تو یہ تب بھی تاریخ کے بدترین ڈکٹیٹر کی چھڑی کے سائے میں رہی۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک تقریبا’’ 48 سے 49 سالوں میں بننے والی پارلیمنٹ میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ کئی سیاستدانوں، جمہوریت پسندوں نے پارلیمنٹ کے اختیار کو منوانے کے لئے ان گنت قربانیاں دیں۔ جمہوریت کی بحالی کے لئے سکندر مرزا، ایوب خان، یحیٰ خان، ضیاء اور مشرف کے جرنیلی ادوار میں جمہوریت نے کوڑے کھائے، نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں لاپتہ بھی ہوئے، لاٹھی، گولی کا نشانہ بھی بنے، پھانسی پر بھی چڑھے۔

ان جرنیلوں سے نہایت مشکل اور لمبی جدوجہد سے ملنے والی جمہوریت کے نتیجہ میں بننے والی پارلیمنٹ نے 73ء کا آئین بنایا۔ اس پارلیمنٹ نے عوام کو اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے کی زبان دی۔ ہر ادارے کو آئین کے تحت طاقت دی۔ اس پارلیمنٹ نے بھارت سے 90 ہزار فوجی و سول قیدیوں کو آزاد کرایا۔ اسی پارلیمنٹ نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔ ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی۔ اسی پارلیمنٹ نے اٹھارہویں ترمیم کے لئے ڈکٹیٹر سے چھین کر صوبوں کو اختیارات دیئے. یاد رہے کہ پارلیمنٹ کا احترام جمہویت کے تسلسل کی بنیادی کلید ہے اور جمہوریت ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعہ فلاحی ریاست کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ کے لئے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس دینے والی عوام اور جمہوریت پر غیر متزلزل ایمان رکھنے والے ووٹروں کی اپنے سیاسی راہنماؤں سے بجا طور پر توقع ہے کہ وہ اپنی باہمی سیاسی ’’جنگ‘‘ سے کسی طاقت کو کوئی ایسا موقع نہ دیں کہ پاکستان کو خدانخواستہ ایک بار پھر کسی جرنیلی دور کا شکار ہونا پڑے کیونکہ حالات صاف نشاندہی کر رہے ہیں کہ اب کی بار ایسا ہوا تو ملک اس طالع آزمائی کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *