سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

استاد امیر مینائی نے کہا تھا

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

یہ شعر پاکستانیوں پر پوری طرح سے صادق آتا ہے، کیسے؟
ہم نے آدھا کشمیر تو آزاد کروا لیا اور باقی آدھے کے لیے بھی لڑائی جاری رکھی، ہم نے فلسطین کا مقدمہ پورے زور و شور سے لڑا، علامہ اقبال کی شاعری سکولوں میں پڑھ کر ہماری خودی اور حرم کی پاسبانی کے جذبے بلند تھے. ایسے میں روس نے افغانستان پر حملہ کر دیا تو یہ امت مسلمہ والا جذبہ مزید زور پکڑ گیا مستزاد یہ کہ ضیاء الحق جیسے ظاہر پرست حکمران مل گئے جنہوں نے اسلام کی ظاہری شکل پر ہی زور دیا نتیجتاً داڑھی کی لمبائی اور شلوار کی چھوٹائی سے کفر و اسلام کے فیصلے ہونے لگے۔ ہم نے نہ صرف دس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ تیس سال تک اٹھایا بلکہ اپنے شہریوں کو بھی جہادی ٹریننگ دے کر افغانستان بھیجنا شروع کر دیا یقین جانیے دنیا میں کوئی دوسرا ملک ایسی حماقت نہیں کر سکتا۔

ضیاء الحق کی ضرورت نہ رہی مگر اس کی پالیسیاں اور ایجنڈے ہی چلتے رہے، بے نظیر بھٹو کو ہرانے کے لیے آئی جے آئی بے انتہا پیسے کے زور پر بنائی گئی۔ نواز شریف نے بھی سمجھ لیا کہ الیکشن ووٹ سے نہیں پیسے سے جیتا جاتا ہے، زرداری صاحب آئے تو بے نظیر کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر مقابلہ کرنا ہے تو پیسہ بنانا پڑے گا۔ یوں افغان جنگ میں جو ملک لڑکھڑا رہا تھا کرپشن سے ڈھیر ہو گیا۔ مگر وہ تصور خودی، جذبہ ایمانی اور حرم کی پاسبانی مُلاں کی تقریروں سے زندہ رہی۔

پاکستانی وہ قوم جس کے پاس نہ کھانے کو روٹی نہ پہننے کو کپڑا لیکن جمعے کے خطبوں اور جلسے جلوسوں کی برکت سے مومنین بے تیغ ہمہ وقت لڑنے کو تیار ہیں۔ حالت یہ ہے کہ خود اپنے ملک میں کسی کو انصاف میسر نہیں خواہ امیر ہو یا غریب۔ آپ اسلام آباد کے رہائشی مظہر حسین کی مثال لیجیے، وہ تین بچوں کا باپ تھا، اسے 1997 میں ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا، گواہوں نے جھوٹی گواہی دے دی پولیس نے تفتیش نہیں کی۔ یوں مظہر حسین کو 2004 میں سزائے موت سنا دی گئی۔ اس کیس کی پیروی مظہر حسین کا بوڑھا باپ کر رہا تھا، اس نے بےگناہ بیٹے کی فائل اٹھائی اور اگلی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، پھر اس سے اگلی عدالت اور پھر اس سے اگلی عدالت۔ تھانے، کچہری کے چکر لگاتے وہ مر گیا، کیس کی پیروی مظہر حسین کے تایا نے کی اور کچھ عرصے بعد وہ بھی مر گیا، پھر مظہر حسین کا چچا پیروی کرتا رہا اور مر گیا، مقدمہ مظہر حسین کے بھائی نے آگے بڑھایا اس دوران سترہ سال گزر چکے تھے، مظہر حسین کو جیل میں ہی ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ بھی مر گیا لیکن مقدمہ چلتا رہا۔ دو سال بعد سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت ہوئی معلوم ہوا کہ ملزم بے گناہ ہے، عدالت نے گرفتاری کے انیس سال بعد رہائی کے آرڈر جاری کیے تو پتا چلا کہ مظہر حسین دو سال پہلے ہی دنیا سے رہائی پا چکا ہے۔ گرفتاری کے وقت اس کی بیوی چھبیس سال کی جوان عورت تھی، تین چھوٹے بچے تھے جن عمریں پانچ سے آٹھ سال تھیں مگر یہ خاندان ہمارے نظام کی بھینٹ چڑھ گیا۔ وہ مقدمہ جسے انیس دن سے زیادہ نہیں چلنا چاہیے تھا، وہ انیس سال چلا۔

آپ یوسف رضا گیلانی اور سلمان تاثیر کے بیٹوں کی بھی مثال دے سکتے ہیں اغوا ہونے کے کئی سال تک بازیابی نہ ہو سکی جبکہ ایک وزیراعظم تھا اور ایک گورنر۔ آپ ان دو بےگناہ بھائیوں کی مثال دیں، غلام قادر اور غلام سرور جنہیں 2013 میں بری کر دیا گیا لیکن معلوم ہوا کہ انہیں پچھلے سال پھانسی دی جا چکی ہے۔ آپ شاہ زیب قتل کیس، زین قتل کیس وغیرہ کی مثالیں بھی دے سکتے ہیں جہاں قاتلوں نے مقتولین کے ورثا کو ڈرا دھمکا کر، پیسے کے زور پر صلح کر لی یا پھر آپ اس دس سالہ بچی طیبہ کی مثال دیں جس کے ماں باپ نے جسٹس راجہ خرم علی کو اہلیہ سمیت اللہ واسطے معاف کر دیا۔

یہ حالت ہے آسان فراہمئ انصاف کی

جب آپ اپنے عوام کو انصاف نہیں دے سکتے، جب آپ اپنے حکمرانوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے تو پھر آپ باقی دنیا کو انصاف کیسے دیں گے؟ آپ کشمیر، فلسطین، عراق، افغانستان، یمن، شام، برما کے مسلمانوں کی کیا مدد کریں گے؟ آپ ہر ملک میں اپنی فوج بھیجنے کو تیار ہیں، اپنا اسلحہ دینے کو تیار ہیں، کیوں؟
میرے بھائی، خدارا آنکھیں کھولیں، پہلے خود پاؤں پر کھڑے ہوں، پہلے خود کو انصاف دیں، پہلے اپنی فکر کریں، اور آپ کے پیٹ میں جو امت مسلمہ کا درد اٹھتا ہے فی الحال اس سے چھٹکارا حاصل کریں۔

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *