وقت کی اہم ضرورت طلبہ یونین بحالی۔۔۔ محمد عتیق اسلم

ہر طبقہ نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف یونین، ایسوسی ایشن اور سوسائٹیز بنائی ہوئی ہیں ،جیساکہ انجمن والدین، تنظیم اساتذہ، محنت کشوں کی یونینز، تاجروں اور صنعت کاروں کے چیمبرز، ریٹائرڈ فوجیوں کی تنظیم، وکیلوں اور ڈاکٹروں کی ایسوسی ایشنز، صحافیوں کی یونینز، ادبی فورمز اور تنظیمیں، خواتین کی تنظیمیں، غرض ہر شعبے اور ہر جنس کے لوگوں کی یونینز موجود ہیں، جو اپنے استحصال کے خلاف برسرپیکار ہیں لیکن بدقسمتی سے طلبہ یونین کو اپنے حقوق کے لیے یونین سازی کا اختیار نہیں ہے۔طلبہ یونین کے حوالے سے سینٹ کا موقف انجمن طلبہ اسلام کی چونتیس سالہ جدو جہدکی تائید ہے،اس کی بحالی سے طلبہ کو نمائندگی کابھرپور موقع ملے گالہٰذا حکومت آئین کی پاسداری کرتے ہوئےطلبہ یونین کے انتخابات کا فوری طور پر اعلان کرے

طلبہ یونین سے نہ صرف طلبہ میں بیداری پیدا ہوگی ،سیاسی سرگرمیاں بحال ہونگی اور جو ڈکٹیٹر شپ کے زمانے میں ان پابندیوں کے باعث برائیاں پیدا ہوئی ہیں وہ ختم ہونگی،میری سوچ کے مطابق طلبہ یونینز جب بحال ہونگی تو ان کو ایک قانونی طریقہ کار فراہم کیا جائے گا اور تعلیمی اداروں کو اسلحہ سے مکمل طور پر پاک کیا جائیگا،طلبہ کی کردار سازی اور تربیت سے مستقبل کی سیاست میں بڑے نام پیدا ہونگے۔استحصال کے خلاف برسرپیکار ہیں لیکن بدقسمتی سے طلبہ یونین کو اپنے حقوق کے لیے یونین سازی کا اختیار نہیں ہے۔

طلبہ یونین کے قیام کی تعریف دنیا بھر میں کہیں بھی بدمعاشی، سیاسی مداخلت اور مار دھاڑ نہیں بلکہ اس کے قیام کا مقصد متعلقہ ادارے کی پالیسی کے مطابق طلبہ کے مفادات اور حقوق کا تحفظ ہے۔ طالب علموں کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور انہیں فہم و آگہی سے روشناس کروانے کے لیے یونینز کا پلیٹ فارم مہیا کیا جاتا ہے۔دو دہائیوں تک طلبہ یونین کی بحالی پر کوئی اقدامات نہیں کئے گئے 2008 میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی پہلی تقریر میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا تھا لیکن عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔اب پھر ایوان بالا میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ طلبہ یونین بحالی میں چئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، یا ایک بار پھر طلبہ کو مایوسی کے سوا کچھ ملنے والا نہیں۔انجمن طلبہ اسلام وہ ادارہ ہے جہاں سے طلبہ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتے اور جدوجہد کرتےمگر پاکستان میں 1984ء سے طلبہ یونین پر پابندی ہے اور یہ پابندی ضیا آمریت کے دوران سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لگائی گئی تھی تاکہ طلبہ کی تحریکوں کو روکا جا سکے اور اس کے بعدر جعتی طلبہ تنظیموں کو ریاستی سرپرستی میں تعلیمی اداروں پر مسلط کر دیاجائے۔ جس میں اسلامی جمعیت طلبہ اور مسلم سٹودنٹس فیڈریشن قابل ذکر ہیں۔

ان تنظیموں کا مقصد تعلیمی اداروں میں خوف و ہراس پھیلانے کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا۔ تعلیمی اداروں میں اسلحہ کلچر کا فروغ، منشیات کا استعمال اور حتیٰ کہ ڈاکے اور چوریاں تک ان کا معمول تھا۔ اس عمل نے ماضی میں ہونے والی طلبہ سیاست کے کردار کو یکسر مسخ کر دیا اور طلبہ سیاست کے مثبت پہلوؤں کو مجروح کرتے ہوئے سیاست کو محض غنڈہ گردی اور آوارہ گردی بنا دیا گیا۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت طلبہ کو سیاست سے متنفر کیا گیا اور پھر سیاست طلبہ کے لئے ایک شجر ممنوعہ بنا دی گئی۔ آج کسی طالب علم سے طلبہ سیاست پر بات کی جائے تو وہ اس کو غنڈہ گردی اور نفرت ہی سمجھتا ہے۔ مگر طلبہ مسائل کا حل ابھی بھی سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کی جدوجہد کے ساتھ منسلک ہے۔ یہی وہ ادارے ہیں جن میں منظم ہو کر وہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر سکتے ہیں جو کہ ان کا جمہوری حق بھی ہے۔ جس طرح ہندوستان کے طلبہ حال ہی میں ایک شاندار جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کی تحریک اپنے اندر پاکستان کے طلبہ کے لئے بہت سے اسباق رکھتی ہے۔ ایک طویل عرصہ سے طلبہ سیاست پر پابندی کی وجہ سے جہاں طلبہ ماضی کی شاندار سیاسی روایات سے ناواقف ہیں تو دوسری طرف روز بروز بڑھنے والے مسائل مہنگائی، بیروزگاری، ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کے مسائل، ڈسپلن کے نام پر ہونے والا جبر، یہ سب ان کے شعور میں تیز ترین تبدیلیاں پیدا کر رہا ہے۔ آج نوجوانوں کی جانب سے عمومی سیاست سے بیزاری اور نفرت کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ان سیاسی نوراکشتیوں سے تنگ آ چکے ہیں کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس دھوکوں کے سوا نوجوانوں کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔

لیکن انجمن طلبہ اسلام ایک غیرسیاسی جماعت جوکہ طلبہ کی جماعت ہے اور یہ تعلیم کے حصول، کردار کی پاکیزگی و عظمت، اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کے خاتمے، اخلاقی و روحانی عظمت کے حصول، اسلامی ثقافت کے اصولوں کی ترویج اور تحقیق کے میدانوں میں مسلمانوں کا وافر حصہ ڈالنے کے لیے ”روحانی طلبہ جماعت“ ہے۔ پاکستان کا آئین ہر شخص کو یونین سازی کا اختیار دیتا ہے، ریڑھی بان، رکشہ ڈرائیورز اور ٹیکسی چلانے والے یونین بنا سکتے ہیں مگر ملک کا باشعور طبقہ، طلبہ اس بنیادی حق سے محروم ہے۔ یونین پر پابندی کے بعد سے اب تک پانچ جمہوری حکومتیں اقتدار میں آئیں مگر انہوں نے یونین پر پابندی کو ختم نہیں کیا۔سیاسی جماعتوں پر قابض موروثی سیاست دان طلبہ یونین کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ چند وڈیرے ، جاگیرداراور سرمایہ دار اقتدار پر قابض ہیں۔ یونین کی وجہ سے متوسط اور تعلیم یافتہ قیادت سیاسی جماعتوں کو میسر آنی تھی، جو کہ ان سیاست دانوں کے اقتدار کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *