جب شکاری شکار تھا۔۔۔وہارا امباکر

جنوبی افریقہ کے شہر توانگ میں 1924 میں ایک کان کن نے ایک اہم چیز دریافت کی۔ ایک بچے کی کھوپڑی کا فاسل۔ یہ انسان نما آسٹریلوپیتھیکس افریقانس تھا۔ اس اہم نمونے کو توانگ چائلڈ کہا جاتا ہے۔ اس نے ماضی کے بارے میں جاننے میں بڑی مدد کی۔ ہماری کہانی کے افریقہ سے تعلق کی۔ لیکن اس میں کچھ اور بھی تھا۔ یہ کھوپڑی کئی دوسری ہڈیوں کے ساتھ تھی جو چھوٹے جانور تھے۔ یہ اس طرح سے بری طرح نقصان کا شکار تھے جیسے کسی نے ان کو بے رحمی سے نقصان پہنچایا ہو۔ کئی دہائیوں تک ان سے یہ نتیجہ نکالا جاتا رہا کہ انسان نما شکاری تھے جن کی بھنبھوڑی ہڈیاں تھیں۔ اسی برس سے زیادہ تک یہی خیال رہا لیکن یہ ٹھیک نہیں تھا۔

اس وقت کسی نے نوٹس نہیں کیا تھا لیکن توانگ چائلڈ کے کھوپڑی میں یہ نشان موجود تھے۔ آنکھ کی جگہ پر پنکچر کے سوراخ، سر کے اوپر فریکچر اور سائیڈ پر لگی خراشیں۔ یہ کھوپڑی اس چیز کا نشان تھی کہ زیادہ پرانی بات نہیں جب یہ شکاریوں کے خطرے میں مسلسل گھرے رہتے تھے۔ یہ آسان زندگی نہیں تھی اور ان خطروں کا نتیجہ وہ ایڈاپٹیشنز بنیں جنہوں نے کامیاب ہونے میں مدد کی۔

توانگ چائلڈ کا مطالعہ کرنے والے پہلے اینتھروپولوجسٹ ریمنڈ ڈارٹ کے لئے اس کو دیکھا تو اس کی وجہ خون کے پیاسے اپنی نوع کے دوسرے افراد کو سمجھا۔ اس وقت کے اینتھروپولوجسٹ کے لئے اس وقت کے ہومونن کا دوسرے چھوٹے جانوروں کے ساتھ انجام کا تصور حیران کن تھا۔ مزید ملتے ہوئے فاسل بھی اسی طرز کے تھے۔ مثال کے طور پر 1949 میں جنوبی افریقہ کے غار سے ملنے والے بچے کی کھوپڑی جس کے سر پر دو سوراخ تھے۔ یہ پیرانتھروپس روبسٹس کی تھی جو پندرہ سے اٹھارہ لاکھ سال پہلے کی تھی۔ یہ ہرنوں اور بندروں کی کھوپڑیوں کے ساتھ تھی جو اسی حال میں تھے اور سر کے علاوہ باقی جسم غائب تھا۔ اس کو ایس کے 54 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور اس کے سوراخ باہر کو نکلے ہوئے ہیں۔ جس سے پتہ لگتا ہے کہ اس کو حملہ کر کے مارا گیا تھا۔ اس وقت رابرٹ آرڈرے نے اس کو بھی آپس میں ہونے والی لڑائیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ کہ اس کو پیچھے سے نوکیلے پتھر کی ضرب لگا کر مارا گیا ہے۔

ان سے ایک پرتشدد ماضی اور ایک وحشی اور قاتل نوع کی شکل ابھرنے لگی۔ گوشت خور نوع جو ایک دوسرے کو برے طریقے سے قتل کرتی تھی۔ اس کو کلر ایپ تھیوری کا نام دیا گیا۔ جب ماکاپنسکاٹ غار سے آسٹریلوپتھیکس افریقانس کی بہت سی ہڈیاں دوسرے ممالیہ کے ساتھ ملیں تو وہ بھی توانگ کے غار کی طرح کے تشدد کا شکار تھیں۔ یہاں پر سات ہزار باقیات موجود تھیں اور صرف سر یا پھر گردن کی ہڈیاں موجود تھیں جو عجیب تھا۔ کیا یہ فریکچر دوسرے ہومونن کے لگائی ضربیں تھیں؟ کیا یہ سر جیتنے والے کے لئے ٹرافی تھے؟

لیکن اینتھروپولوجی کے فیلڈ میں تبدیلیاں آ رہی تھیں۔ سائنسدان کلر ایپ تھیوری سے آگے بڑھنا شروع ہو گئے تھے۔ امریکی اینتھروپولوجسٹ شروڈ واش برن افریقہ میں اپنی تحقیق کے دوران شکاری جانوروں کا تفصیل سے مطالعہ کرتے رہے تھے۔ انہوں نے نوٹس کیا کہ جدید شکاری کس طریقے سے شکار کرتے ہیں۔ نرم اور گوشت والا حصہ کھا لیتے ہیں اور کھوپڑی، جبڑے اور گردن کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس پیٹرن کو دیکھ کر ان کو ڈارٹ کی دیکھی باقیات کا خیال آیا۔ وہ پیٹرن بھی بالکل اسی طرح کا تھا۔ واش برن نے لگڑ بگڑ کو لاشیں اٹھاتے دیکھا کہ وہ کس طریقے سے اپنے غار میں اپنے شکار کئے گئے جانوروں کو لے جاتے ہیں اور کس طریقے سے ان کا ڈھیر لگتا ہے۔ واش برن نے اپنا پیپر 1957 میں شائع کیا کہ ماکاپنسکاٹ غار میں ملنے والے آسٹریلیوپتھیکس شکاری نہیں، لگڑ بگڑ جیسے جانوروں کا شکار تھے۔

جنگِ عظیم اول اور دوئم کے پس منظر میں ایک قاتل ہومونوائیڈ کی نظر سے ماضی کو دیکھنا آسان تھا لیکن اس پیپر نے یہ سوچ تبدیل کرنے میں مدد کی۔ یہ اس فیلڈ کے نئے سائنسدانوں کے سوچنے کے لئے متبادل ماڈل تھا۔ جب ہمیں 1960 میں تنزانیہ سے اس طرح کے فاسل ملے تو ان کو کلر ایپ تھیوری کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔ تنزانیہ میں ہومو ہیبیلس کا بایاں پاوٗں ملا تھا۔ اس پر دانتوں کے نشان تھے اور پنجے کھائے ہوئے تھے۔ لیکی اور ان کی اہلیہ نے ان کے مطالعہ سے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کسی شکاری کے دانت ہیں جو لگڑ بگڑ تو نہیں لیکن کوئی اور ہومونن بھی نہیں۔ ستر کی دہائی میں ایس کے 54 کی کھوپڑی کے نشانوں کا دوبارہ مطالعہ ہوا۔ یہ ایک دوسرے کے شکار یا لڑائی کے نہیں تھے۔ یہ تیندوے کی طرح کے بھوکے جانور کا کام تھا۔ یہ نشان اور تیندوے کا نچلا کینن دانت میچ کرتے تھے۔ کوئی بڑی بلی اس کو شکار کر کے سر سے پکڑ کر درخت پر چڑھی تھی۔

ان جمع ہوتے شواہد سے آسٹریلوپتھیکس کے بارے میں تصویر بدلنا شروع ہو گئی۔ یہ خونی شکاری نہیں تھا۔ توانگ چائلڈ کی کھوپڑی کو 1995 میں دوبارہ سٹڈی کیا گیا اور نئے سراغ ملے۔ اس پر ہونے والا نقصان اور اس کے قریب کے دوسرے ممالیہ کے سروں پر نقصان ایک طرز کا تھا۔ سب چھوٹ؁ جانور تھے اور یہاں پر انڈوں کے چھلکے بہت سے موجود تھے۔ یہ کسی بڑے پرندے کا شکار معلوم ہوتا تھا۔ 2006 میں جب اس کا موازنہ جدید دور میں عقاب کا شکار ہونے والے بندروں سے کیا گیا تو اس کی آنکھوں پر پڑے نشان اسی قسم کے نکلے۔ اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ توانگ چائلڈ کسی بڑے شکاری پرندے کا نوالہ بنا تھا۔

تنزانیہ کے ہومو ہیبیلس کے پیر پر 2012 میں پھر ہونے والی تحقیق میں نئی چیز نوٹس کی گئی۔ اس کے دانتوں کے نشانوں میں دو اضافی گروو تھے ویسے جیسے رینگنے والے جانوروں کے دانت ہوتے ہیں اور مگرمچھ کے دانت ایسے ہیں۔

ینڈرتھال چائلڈ کا پولینڈ سے ملنے والا صرف ایک لاکھ پندرہ ہزار سال پرانا فاسل دکھاتا ہے کہ اس کو کسی بڑے پرندے نے ہضم کیا تھا۔ لیٹ پلاسٹوسین دور میں بھی ہومونن شکار تھے۔

یہ تاریخ جاننے میں ہم خونی ہومونن کے خیال کو چھوڑ چکے ہیں۔ دوسرے کو قتل کرنے سے زیادہ قتل ہونے سے محفوظ رہنے نے ہمیں شکل دی ہے۔ پرانے ہومونن خطرناک دنیا کے باسی تھے۔ شکار ہونے سے بچنے کا یہ ماضی ہمارے جسم اور ہماری نفسیات میں گہرا نقش ہے۔ جسم کے سائز، رفتار، ہاتھوں وغیرہ کو اسی نے شکل دی ہے۔

گروہی تعاون بھی اسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ مل کر اتحاد بنا لینا ہماری پرانی تاریخ کا حصہ ہے۔ زمانہ قدیم میں ہم یہ دوسروں سے لڑنے کے لئے بناتے آئے ہیں کہ خطرناک دنیا میں زندہ رہنے کا یہی بہترین طریقہ تھا۔ انجانے دشمن کا خوف، اس کے خلاف اتحاد کے لئے اکٹھے ہونا، اُس یاد کا حصہ ہے جب آج کا شکاری خود کل کا شکار تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *