سفر نامہ” مئو”۔۔۔۔۔۔۔عبدالرحمن عالمگیر کلکتوی

امتحان کی تھکن اور اس کے بعد چار دنوں کی چھٹی کو مفید بنانے کی  خاطر علوم و فنون کے تین مشہور مراکز

1۔ دار العلوم دیوبند

2۔ ندوة العلماء لکھنؤ

3۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

کا دورہ کرنے کا منصوبہ امتحان سے قبل ہی تیار ہوگیا تھا لیکن اللہ رب العالمین کی مرضی، طبیعت کی ناسازی اور ٹال مٹول کی کہنہ بیماری سفر کے ارادہ میں حائل ہو گئیں سو منسوخ ہونے والے سفر پر متوقع آمدہ اخراجات کی رقم بینک کھاتے میں پڑی کی پڑی جابجا ذہن و دماغ کی دھڑکن کو دستک دے رہی تھی اسی درمیان جناب خالد سیف اللہ سلمہ نے خیالات کی وادیوں میں بے بال و پر کے اڑتے پرندے کو مدارس و مکاتب دینیہ کے شہر میں پرواز کرنے کا مشورہ دیا تو عاجز نے موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ہامی بھر لی اور لمحہ بھر میں پرستارانِ صنم سے پروانانِ فن کے نگر کا توشہ باندھ لیا لیکن عین اسی موقع  پہ حضرت مدعی علیہ الرحمہ اگر مگر شیطان کا در والے ڈگر پر ڈگمگانے لگے تو بناوٹی شاہین نے برملا دو ٹوک فیصلہ صادر کردیا کہ میں ” من يسافر تزدد تجاربه ” کی فضیلت کو یوں ہی گنوانا نہیں چاہتا اگر شمولیت کے خواہاں ہیں تو ٹھیک ورنہ “میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل، لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا” کی مثال پیش کر سکتا ہوں۔

چنانچہ  دو دیش کے باسی، یک راہی، جلد بازی کے عادی پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے اور سامنے لگی گاڑی سے وادئی اعظمی کو چل دیے لیکن صاحبان ایکسپریس کی ٹکٹ لے کر سپر فاسٹ ٹرین میں سوار ہوگئے تھے ، اس جرم عظیم کے ارتکاب سے فسطائی جماعت کے ظلم و عتاب کا سامنا کرنا لازم تھا ہم اس موہوم خیال میں گم تھے کہ ٹی ٹی (T.T.E.) سیاہ پوش ملازم مختلف ڈبوں میں آ دھمکی جس سے ہمارے اوسان خطا ہوگئے، ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور بچپنے کی چور پولیس میں بھاگم بھاگ کی تمام پرانی یادیں تازہ ہوگئیں اس پریشانی کو جھیلتے ہوئے ہم شبنمی شب میں غرق مئو جنکشن تک پہنچ گئے۔

سخنورانِ ریختہ ، وارثینِ انبیاء، مکاتبِ دینیہ اور مدارس اسلامیہ کی بستی کے وسیع شاہراہ سے گزرتے ہوئے جب ہماری نظریں اردو میں کندہ سائن بورڈز سے ٹکرائیں تو بے ساختہ میرے دماغ کے پردوں پر یہ سوال ابھر آیا کہ ” کیا مئو مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ ہے؟ ” تو مدعی علیہ الرحمہ نے کہا : نہیں برخوردار! لیکن ہاں یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور گنگا جمنی تہذیب کی شیرینی نے انہیں باہم شیر و شکر بنادیا ہے مگر مخصوص نقطۂ نگاہ کے لوگ اس میں زہر ہلاہل ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

باتوں باتوں  میں ہم بنارس سے جامعہ فیض عام تک کی مسافت کیسے طے کر گئے احساس تک نہ ہوا تو دوسری طرف جناب حشیم الدین عالیاوی ہماری آمد کا شدت سے انتظار کر رہے تھے شاید ان کی انتظار اور ہماری رفتار میں ایک انوکھی مقناطیسی قوت پیدا ہوگئی تھی جو ہمیں پسنجر گاڑی سے سپر فاسٹ ٹرین تک کھینچ لائی اور گھنٹوں کا سفر  مختصر وقت میں طے ہوگیا، پھر وصال یار کے بعد مرغ مسلم کی پر زور دعوت ہوئی اور ٹھنڈی رات کی دبیز چادر کی  تہوں تلے سرد لہروں کے دوش پر سوار ہوکر شبستان کی سیر کرنے چلا گیا اسی بیچ کانوں میں رس گھولتی ایک مانوس سی ندا کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھی سوچا کوئی خواب تو نہیں؟ ڈر تھا کہ کہیں یہ مدھرتا کھو نہ جائے مگر یہ بھی چاہت تھی کہ اس آواز کو حقیقت کے کانوں سے سنوں اور اس کی مٹھاس کو اپنی حواس ظاہرہ و باطنہ سے محسوس کروں اس لیے دھیرے دھیرے انتہائی تذبذب کے ساتھ آنکھوں کو وا کیا، تو اللہ جل شانہ کی وحدت اور نبی آخر الزماں کی ختم نبوت کو بیان کرتی صدائے بلالی تا حال سنائی دے رہی تھی، جو چند لمحوں سے تیرگی و روشنی کے درمیان جاری آنکھ مچولی میں حد فاصل قائم کرنے کا اعلان تھا تو دوسری طرف پرندوں کی چہچہاہٹ اور کوئل کی کُوکُو ” حي على الصلاة و حي على الفلاح ” کے پیغام کو مہمیز دے رہی تھی اور آفتاب مشرق کے دریچوں سے غنودگی کی طیلسان کو چاک کر رہا تھا۔

میں قدرت کے انہی شاہکاروں میں الجھا ہوا تھا کہ خیال آیا کہ ہمارے مئو آنے کا ہدفِ اول کتابوں کی خریداری ہے لہذا آناً فاناً کتب خانوں کا رخ کیا تو مکتبہ فہیم ابھی تک کھلا نہیں تھا اور مکتبہ نعیمیہ کھل رہا تھا اس لیے پہلے نعیمیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا، کتابوں کے ذخیرہ میں قدم رکھتے ہی نوع بنوع فنون کی کتابیں من کو بھانے لگی دل چاہتا تھا کہ وہاں موجود کتب و رسائل کے تمام موتیوں کو اپنی جھولی میں بھر لوں، تو اِدھر کبھی سیاسیات کے خانے سے صدا آتی کہ بابری مسجد کے قضیے کو سمجھنے کے لیے میری  طرف سے ایک تحفہ قبول کر لو تو آتش رشک میں تاریخی کتب بھی بول پڑتیں کہ میرے اوراق الٹ کر اپنے ماضی سے حال کا تجزیہ کرنے اور مستبقل کی تیاری کے لیے میرے کچھ نمونوں کو اپنے پاس رکھ لو تو کبھی حدیثیات و فقہیات کے خانے کو دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہوجاتا کہ کس کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناؤں اور کسے چھوڑ کر اپنی شومئی  قسمت پر ماتم کروں ،اس لیے سب کی دلجوئی کی  خاطر چند کتابیں اپنے مطالعہ کے لیے مختص کرکے مکتبہ فہیم کا رخ کیا اور وہاں بھی میری مذکورہ کیفیت غالب رہی۔ دونوں مکتبوں سے لی گئی کتابوں کی کل تعداد 34 تھی۔ کتب خانوں سے لوٹ کر چاہت تھی کہ فیض عام کے فیض ، اثریہ کے اثر و رسوخ اور عالیہ کی علو مرتبی کا مشاہدہ کرنے کے بعد مئو کے دیگر علمی دانش گاہ کا دورہ کرتا لیکن وقت کی قلت نے اس کی اجازت نہیں دی ۔

عبد الرحمن عالمگیر کلکتوی
عبد الرحمن عالمگیر کلکتوی
ایک ادنی سا طالب علم جو تجربہ کار لوگوں کے درمیان رہ کر کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *