نارسائی کا آبلہ۔۔۔۔قراۃ العین حیدر

آج مجھے ریٹائر ہوئے بارہ دن ہوگئے ہیں میں لان میں ہلکی دھوپ میں بیٹھی کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک پیراگراف پہ اٹکی ہوئی تھی کہ میرا دفتر کا چوکیدار میرے نئے اور ذاتی گھر کی نیم پلیٹ لے کر آیا۔ “السلام علیکم میڈم صاحبہ! میں نے سوچا کہ یہ تختی بن گئی ہے تو جا کر لگا بھی آؤں۔” میں نے ایک سرسری نظر اس نیم پلیٹ پر ڈالی تو اپنا نام دیکھ کے مسرت کے بجائے حیرت ہوئی کہ اتنے اچھے نام میں کوئی بھی حصہ ماں باپ کا نہیں ہے۔ “وجیہہ احمد” یہ نام میری نانی نے رکھا تھا کہ لڑکی دِکھنے میں خوبصورت ہے۔ میرے والدین کی علیحدگی میری پیدائش سے پہلے ہی ہوگئی تھی۔ جب علیحدگی ہوئی میری پیدائش میں چند مہینے باقی تھے اور مجھ سے چھٹکارا بھی ممکن نہ تھا۔ دونوں کو مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے سوچا کہ پیدائش کے بعد بچے کو یا تو یتیم خانے میں دیدیں گے یا پھر کسی ضرورت مند خاندان کو۔ میری پیدائش کے بعد ان کی باقاعدہ علیحدگی کی کاغذی کارروائی ہوئی اور ان کے راستے الگ ہوگئے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب دو لوگ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے تو ان کی شادی کیوں کردی جاتی ہے اور پھر جب انہیں معلوم بھی ہوتا ہے کہ وہ ساتھ نہیں چل سکتے تو جسمانی تعلق رکھتے ہی کیوں ہیں؟ اور اگر اس تعلق سے کوئی اولاد پیدا ہوجائے تو اس کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟ میں بھی ایسے ہی تعلق کی پیداوار ہوں۔ جس کو دنیا میں لانے والوں نے قطعی یہ نہیں سوچا کہ اس اولاد کا کیا مستقبل ہوگا؟ میری پیدائش کے چند مہینوں بعد ان دونوں نے اپنی زندگی کی نئی سمت تلاش کرلی اور ایک بوجھ کے طور پر مجھے میری نانی کے حوالے کردیا گیا۔ نانی نے مجھے یتیم خانے میں دینے سے انکار کردیا لیکن وہ میری پرورش بھی نہیں کرنا چاہتی تھیں اسکی وجہ یہ تھی کہ میرے ننھیہال والے کوئی بہت پیسے والے لوگ نہ تھے۔ میں ان کیلئے ایک بوجھ ہی تھی۔ انہوں نے اپنے طور پر کوشش کی کہ کوئی بےاولاد گھرانہ تلاش کیا جائے جو مجھے گود لے لے لیکن ایسا گھرانہ نہ مل سکا۔ لڑکی ذات تھی اس لیے میری پیدائش کا کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑا۔

جب تک شیر خوار تھی تب تک پانی ملے دودھ پر پلتی رہی سال بھر کی عمر سے پہلے ہی مجھے زبردستی ٹھوس غذا پہ لگا دیا گیا۔ پہننے کو ماموں کی بیٹیوں کی اترن تھی۔ ماں نے پلٹ کر خبر نہ لی وہ اپنے والدین سے ملنے آتی ضرور لیکن کبھی میرے سر پر شفقت بھرا ہاتھ نہ رکھا۔ مجھے اسے ماں کہنے کی اجازت تک نہیں تھی کہ میرے سوتیلے باپ کو مجھے اپنی ماں کو ماں کہنا پسند نہیں تھا۔ میں اپنی نانی نانا کو ہی امی ابا کہا کرتی تھی۔ میرے والدین نے میری کفالت کی ذمہ داری تک نہ اٹھائی نانی کا گھر بھی کسی یتیم خانے سے کم نہیں تھا جہاں لگی بندھی خوراک، لباس کے نام پہ اترن، طعنے اور گالیاں میرا مقدر تھیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں جھگڑالو، بدتمیز اور بدزبان ہوگئی۔ اپنے ہم عمر کزنز سے لڑتی جھگڑتی مار پیٹ کرتی نتیجے میں معمانی اور نانی سے ٹھکائی ہوتی۔ نانا اپاہج تھے ان کی پینشن آتی تھی جس سے نانی اپنی اور میری گزر اوقات کیا کرتی تھیں ماموں خود عیال دار تھے معمولی موٹر سائیکل مکینک جن کے اپنے آٹھ بچے تھے۔ تین کمروں کے ڈربہ نما گھر میں تیرہ افراد جانے کیسے رہتے تھے۔

نانی نے نانا اور ماموں کی مِنت سماجت کی اور پانچ برس کی عمر میں قریبی سرکاری سکول میں داخلہ کروادیا۔ اس لئے نہیں کہ وہ مجھے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہتی تھیں بلکہ اس لئے کہ اگر پڑھ لکھ لے گی تو شاید اپنا بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہوجائے۔ سرکاری سکول میں اساتذہ کی طلبہ پر توجہ بہت زیادہ نہیں ہوتی لیکن اپنی تیز آواز اور کسی حد تک پڑھائی میں دلچسپی سے میں اپنی پہلی استاد میڈم دلشاد کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ جب وہ جماعت میں مجھے وجیہہ احمد پکارتیں تو مجھے یقین ہی نہ ہوتا کہ مجھے پکار رہی ہیں کیونکہ میں تو گھر میں وجو کمینی، کتی اور حرامزادی جیسے القابات سننے کی عادی تھی۔ استاد کی تھوڑی سی توجہ سے میرا رویہ تھوڑا بہتر ہوگیا اور میں اپنی ہم جماعتوں کے ساتھ اچھا رویہ رکھنے لگی لیکن گھر میں وہی حال تھا۔ رفتہ رفتہ میں اپنے گھر والوں سے کسی قدر لاتعلق ہونے لگی۔ پہلی جماعت کے امتحان میں میری دوسری پوزیشن آئی جب پرنسپل نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیرا تو میں بہت حیران ہوئی کہ کوئی کسی غیر کے ساتھ اس طرح کا شفقت بھرا رویہ بھی رکھ سکتا ہے۔

بچپن میں ہی میں نے یہ ایک بات فرض کرلی تھی کہ اگر میرے گھر والے بدزبانی کرتے ہیں تو اس کی وجہ ان کا تعلیم یافتہ نہ ہونا ہے۔ میرے سکول کی اساتذہ چونکہ پڑھی لکھی خواتین تھیں اس لئے وہ طلبہ کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آتی تھیں۔ میں اس وقت تیسری جماعت میں تھی کہ جب ایک دن میں سکول سے آئی تو ڈیوڑھی میں ہی مرغی کے سالن کی خوشبو نے میری بھوک چمکا دی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ گھر میں لازماً کوئی مہمان آئے ہوئے ہیں۔ میں اندر پہنچی تو ایک سجی سنوری عورت تین بچوں کے ساتھ آئی ہوئی تھی جس نے مجھ سے ملنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ میں باہر برآمدے میں گئی تو میری ماموں زاد بہنیں کانوں میں بات کررہی تھیں۔ انہوں نے طنزاً کہا “آگئی ہے تمہاری ماں اتنے سالوں بعد”۔ میں حیران ہی رہ گئی کہ میری ماں کوئی اور ہے۔ اور وہ ہے جس نے ملنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ میں نے اس کے ساتھ بیٹھ کے ہی کھانا کھایا اس کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اپنے چھوٹے شیر خوار بھائی کو گود میں لے لیا۔ لیکن جانے کیوں وہ پتھر تھی بالکل نہ پگھلی۔ شام ڈھلے اس نے اپنے بچے لئے رکشہ منگوایا اور چلی گئی۔

کوئی ڈیڑھ سال بعد ایک دن ابھی میں سکول میں ہی تھی میرا ماموں زاد بھائی فاروق سکول آیا اور پرنسپل کے دفتر میں مجھے بلوایا گیا۔ اس وقت میں پانچویں میں پڑھتی تھی اور ماموں کی چھوٹی لڑکی سمیرہ اسی سکول میں تیسری میں پڑھتی تھی۔ معلوم ہوا فاروق بھائی ہم دونوں کو لینے آئے ہیں۔ سمیرہ تو خوش تھی کہ نو بجے ہی چھٹی مل گئی لیکن میں گھر نہیں جانا چاہتی تھی۔ گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ میرے نانا کا انتقال ہوگیا ہے۔ نانا کے انتقال پہ میری ماں نہیں آسکی نہ ہی اس کا ذکر کسی نے کیا۔ اب میں اور نانی رہ گئے تھے اور نانی بھی اکثر بیمار رہنے لگیں۔ رہی سہی کسر معمانی کے طعنے پوری کردیتے تھے کہ اس کے ماں باپ نے یہ عذاب ہمارے سر منڈھ دیا ہے، جیسے لچھن اس کی ماں کے تھے ویسے ہی یہ بھی کرے گی، گالیاں، کوسنے، بد دعائیں کیا تھا جو میرے حصے میں نہ آتا تھا۔ میں ان کے ٹکڑوں پر پل رہی تھی مجھے اس وقت تک اتنا احساس ہوچکا تھا کہ صرف تعلیم ہی مجھے بچا سکتی ہے۔ جس دن میں کسی لائق ہوگئی اس دن اپنی روٹی کا خود انتظام کرلونگی۔

ایسے وقت جب مجھے کوسا جارہا ہوتا میں پچھلی کوٹھڑی میں دن میں ہی چلی جاتی اور سب کچھ نظر انداز کرکے زور و شور سے پڑھائی میں مگن ہوجاتی۔ پڑھائی میں ہر وقت کھوئے رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں اپنے ہم جماعتوں میں بہت نمایاں تھی اور اساتذہ مجھے پسند کرتے اور بہت حوصلہ افزائی کرتے۔ ان دنوں میرے آٹھویں کے بورڈ کے امتحان ہونے والے تھے۔ دن بھر نانی کھانستی رہی اسے بخار بھی تھا۔ فاروق بھائی بڑے ہسپتال سے دوائی کا مکسچر بنواکر لائے تھے۔ وہ بھی دی لیکن عشاء سے پہلے نانی کا دم مسافر ہوگیا۔ اس وقت میری عمر چودہ برس تھی۔۔۔۔ میں تنہا رہ گئی۔ مجھے یوں لگا کہ سر سے چھت چِھن گئی ہو۔ جس رات نانی کو دفنایا تو رات میں اپنی کوٹھری میں سو نہیں پائی۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اس بات کا نہیں کہ نانی کا انتقال اس کوٹھری میں ہوا ہے اور میں تنہا بچی وہاں سو رہی ہوں۔ ڈر لگ رہا تھا تنہائی تھی ، اکیلے پن سے، بےآسرہ ہونے سے اور سب سے بڑھ کر میں نوجوان لڑکی تھی۔ جس کا کوئی سگا نہیں تھا۔ نانی تھی تو جوان لڑکی محفوظ تھی۔۔۔۔ اب میری حفاظت کون کرتا؟

کوئی چار مہینے بعد مجھے پیدا کرنے والی پھر نانی کے گھر لوٹی اب کی بار وہ اکیلی آئی تھی۔ میں سکول سے واپس لوٹ چکی تھی پہلے تو وہ ماموں کے گلے لگ کے روئی اور اپنے مسکین ہونے پہ بین کئے پھر ممانی کے گلے لگ گئی اسے یہ خیال نہ آیا کہ ایک بار اسے بھی گلے لگائے جس کی دنیا اصل میں لُٹ گئی تھی۔ خیر وہ دیر تک رُکی۔ ماموں اور معمانی نے اسے یہ باور کرایا کہ اب ان سے میری پرورش ممکن نہیں اس لئے وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے۔ ان کا اپنا کنبہ دس افراد پر مشتمل تھا اور قلیل آمدنی میں وہ ایک اور جوان لڑکی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ان کی اپنی چار لڑکیاں تھیں جن میں سے تین شادی کے لائق تھیں وہ ایک اور لڑکی کا بوجھ اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے۔ میری پیدا کردا ماں کسی طرح قائل ہو ہی گئی۔ مجھے اس دن معلوم ہوا کہ وہ لاہور رہتی ہے۔ اگرچہ اس کے کپڑے لتے اور پہنے ہوئے زیور سے لگتا تھا کہ وہ آسودہ ہے لیکن کتنا عجیب تھا کہ وہ مجھے ساتھ رکھنے کیلئے کتنے تذبذب کا شکار تھی۔ اگلے دن صبح جب وہ جانے لگی تو میں نے اسے ماموں سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ اپنے میاں کو قائل کرلے گی اور اب بچی کو ہمیشہ کیلئے لے جانے کیلئے ہی آئے گی۔

اس بار مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔۔۔۔۔ وہ دوسرے ہی ہفتے اپنے میاں کے ساتھ مجھے لینے کیلئے لوٹ آئی۔ مجھے بھی تیاری کیلئے زیادہ تردد نہ کرنا پڑا۔ میرے پاس تھا ہی کیا چند چیتھڑے اور سکول کا بستہ۔ چلتے ہوئے ماموں نے مجھے چند نصیحتیں کیں کہ اپنے ماں باپ کا کہا ہر صورت ماننا، ان کے علاوہ میرا دنیا میں اب کوئی نہیں ہے اور زندگی میں پہلی بار میری تعریف کی کہ یہ پڑھائی میں کافی اچھی ہے۔ پڑھ لکھ جائے گی تو اپنے پیروں پہ کھڑی ہوجائے گی۔ میں حیرانگی سے ان کا چہرہ تکتی رہ گئی کہ پہلے تو کبھی میری تعریف نہیں کی۔

میں اپنی ماں کے ساتھ لاہور آگئی ۔۔۔۔ ان کا گھر لاہور میں شاہدرہ کے علاقے میں تھا۔ بھول بھلیوں سی گلیوں میں ایک سہ منزلہ مکان کے باہر رکشہ رکا۔ رات کا وقت تھا۔۔۔۔ لاہور اس وقت کیسا دِکھتا تھا سب اندھیرے میں گُم تھا۔ ماں مجھے دوسری منزل پہ لے گئی جہاں تین کمروں پر مشتمل اس کا پورشن تھا۔ مجھے چند روز بعد میں معلوم ہوا کہ اس گھر میں میرے سوتیلے باپ کے دو بھائی اور ماں بھی رہتے ہیں۔ گھر پہنچتے ہی ماں مجھے ایک کمرے میں لے گئی جہاں ایک ڈبل بیڈ پہ تین بچے سورہے تھے۔ ماں نے مجھے حکم دیا کہ ابھی نہا دھو کے فریش ہوجاؤں۔ میں نہا کر آئی تو ماں نے مجھے کہا کہ “اس سے بوسیدہ جوڑا نہیں ہے تمہارے پاس”. میں کیا کہتی ۔۔۔۔۔ میرے مقدر میں تو اترن ہی تھی “میرے پاس ایسے ہی کپڑے ہیں”. اس نے میرا تھیلا کھول کر ڈھنگ کے کپڑے تلاش کرنے لگی لیکن وہاں کوئی ڈھنگ کا لباس ہوتا تو وہ نکالتی ۔ تمام جوڑے صرف تن ڈھانپنے کا کام ہی دے رہے تھے۔ اس نے مجھے ایک اور حکم صادر کیا ” جب تک میں نہ کہوں اس کمرے سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے صبح تمہارے لئے کپڑوں کا بندوبست کرتی ہوں۔ ایسے حلئیے میں نیچے جاؤگی تو باقی لوگ کیا سوچیں گے۔ اور ہاں۔۔۔۔ مجھے باجی کہنا ۔ تمہارا بستر ابھی لگا دیتی ہوں تم زمین پہ سوؤگی اور صبح بستر سمیٹ لینا۔”

صبح میں جاگی تو بستر پہ ایک ہی بچہ سو رہا تھا باقی دو شاید سکول جاتے تھے۔ شام تک دو نئے سِلے ہوئے جوڑے بھی آگئے۔ ایک عرصے کے بعد میں نے نہا کے نیا جوڑا پہنا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں نے عید کے بغیر ہی نیا جوڑا پہنا ہے۔ شام کو بچے سکول کا کام کررہے تھے تو میں نے بھی کہا “باجی مجھے بھی سکول میں داخل کروا دو۔ میں نویں جماعت میں ہوں ابھی سے میٹرک کے رجسٹریشن کروانی ہوتی ہے۔” ماں نے کہا ” تھوڑے دن رُک جا ۔۔۔۔ کچھ کرتی ہوں۔” کچھ دنوں کے بعد مجھے ایک سرکاری سکول میں داخل کروادیا گیا۔ دن اچھے گزرنے لگے ماں کا رویہ میرے ساتھ عام سا تھا جیسا کہ میں اس کے گھر میں رہتی ہوں بس۔ ہم ماں بیٹی نہیں تھیں ہمارا آپسی رویہ مسافروں کا سا تھا۔ میں برقعے اوڑھ کے سکول جاتی واپس آکر گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹاتی۔ ماں کا بڑا بیٹا مجھ سے دو سال چھوٹا تھا میں اسے پڑھائی میں مدد دیتی۔ ایک دن جب نیچے سے ایک عورت اوپر آئی اور اس نے ماں سے کہا ” بھابی آپ کی بہن تو بالکل آپ جیسی ہے۔ آپ کی کتنی مدد کرتی ہے۔ ” اس وقت میں برآمدے میں بیٹھی رات کے کھانے کیلئے سبزی کاٹ رہی تھی۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ ماں کی دیورانی ہے۔

مجھے ماں کے گھر میں بہت آرام تھا۔ نہ کوئی روک ٹوک تھی، نہ پابندی۔ کھانا پینا بھی ٹھیک تھا اور ضرورت کی ہر چیز میسر تھی۔ میری زندگی سکول اور گھر تک رہ گئی بلکہ گھر نہیں دوسری منزل کے ایک کمرے اور برآمدے تک۔ بس ماں کہتی تھی کہ گھر میں اس وقت تک آزادی سے پھرو جب تک تیرا باپ نہیں آجاتا۔ وہ آجائے پھر تُو اپنے کمرے میں چلی جایا کر اور وہیں رہا کر۔ مجھے اس وقت اسکی بات کی سمجھ نہ آئی۔ یہ عقدہ کوئی سال بعد کھُلا جب میں میٹرک کے امتحان سے پہلے تیاری کیلئے دیر تک جاگتی تھی۔ مجھے حاجت محسوس ہوئی اوپر کی منزل میں ایک ہی غسل خانہ تھا جو باہر برآمدے میں تھا۔ ابھی میں برآمدے میں ہی تھی کہ میرا سوتیلا باپ جھومتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ اس کا یہ رُوپ میرے لئے بالکل نیا تھا۔ میں ڈر گئی ۔۔۔خوف کے مارے غسل خانے بھی نہ گئی۔ جلدی سے کمرے میں گُھس گئی اور کنڈی لگا لی۔ اس وقت مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ نشے میں تھا۔ مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ میری حفاظت کے پیشِ نظر ماں مجھے میرے کمرے تک محدود رکھتی تھی۔

اچھے کھانے پینے، بےفکری اور آب و ہوا کی تبدیلی کا اثر یہ ہوا کہ میری صحت بہت اچھی ہوگئی۔۔۔۔ قد کاٹھ نکل آیا اور پھر جوانی کی آمد آمد تھی میں دِکھنے میں بالکل بیربہوٹی جیسی تھی۔ کچھ مہینوں کے بعد میں نے میٹرک بہت اچھے نمبروں سے پاس کرلیا۔ میرے پاس ہونے پر مجھ سے زیادہ ماں خوش تھی کہ اب شاید میرا مستقبل محفوظ ہوجائے گا۔ تعلیم میں میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ماں نے مجھے کوئین میری کالج میں داخل کروا دیا۔ ایک دن میں دوپہر کے وقت کپڑے دھو رہی تھی جب چھت پر کپڑے پھیلانے گئی تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ ماجد بھی اوپر ہی ہے اور کبوتروں کو دانا ڈال رہا ہے۔ ماجد میرے سوتیلے باپ کا چھوٹا بھائی تھا۔ وہ مجھے خاصی عجیب نظروں سے دیکھتا اور کبھی کبھی زومعنی جملہ بھی بول دیتا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ دل میں آتا تھا کہ ماں سے کہہ دوں پر پھر خیال آتا تھا کہ اگر ماں نے پھر سے ماموں کی طرف کبیر والا بھجوادیا تو کیا کرونگی۔ اس لئے یہ خیال ہی دل سے نکال دیا۔ اس نے مجھے دیکھ لیا اور ممٹی سے نیچے اتر آیا۔ میں بھی کپڑے ڈال چکی تھی اور عجلت میں واپسی کیلئے پلٹی لیکن اس نے میرا بازو پکڑ لیا۔ میں نے بازو چھڑانا چاہا لیکن وہ مجھے گھسیٹتا ہوا پچھلی طرف ایک سٹور روم میں لے گیا۔ میں نے مزاحمت کی تو اس نے میرے گال پہ ایک زوردار طمانچہ مار کر کہا ” حرامزادی۔۔۔۔ ہمارے ٹکڑوں پہ پلتی ہے اور ہمیں ہی آنکھیں دکھاتی ہے”۔ میں چیخنا چاہتی تھی پر آواز گُھٹ گئی ۔۔۔۔۔ میں اس کا دباؤ برداشت نہيں کر پارہی تھی اور پھر وہ مجھ پر حاوی ہونے لگا۔ اس نے ایک ہاتھ سے میرا منہ بند کر رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ میرے جسم کے نشیب وفراز کے جائزے میں مصروف تھا۔ چند منٹوں بعد اس کی گرفت کسی قدر ڈھیلی پڑی تو میں اپنا آپ چُھڑا کر نیچے بھاگی وہ میرے پیچھے آیا اسی دھکم پیل میں میری قمیض پھٹ گئی میں باجی باجی پکارتی نیچے پہنچی اور اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگی۔ اتنے میں راہدری سے ماجد بھی پہنچ گیا میری ماں کو دیکھ کر کہنے لگا “بھابی تمہاری بہن میرے سے زبردستی کررہی تھی۔ میں نے دھتکارا تو تمہارے پاس چلی آئی۔ ماں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک تھپڑ میرے منہ پہ جڑ دیا ” بےغیرت! عزت اتارنے چلی تھی۔ میں تیری ٹانگیں توڑ دونگی۔”

میں رونے لگی اور ماں نے مجھے کمرے میں بند کردیا۔ سارا دن گزر گیا۔ میں بھی رو رو کے بھوکی سوگئی۔ آدھی رات کو کنڈی کھلنے کی آواز آئی ماں ایک پلیٹ میں کھانا لے کر آئی۔ میں نے ماں سے پوچھا کہ کبھی عورت بھی مرد کی عزت پہ ہاتھ ڈالتی ہے کیا؟ یہ مجھے فحش اشارےاس وقت سے کرتا ہے جب مجھے اس کا مطلب بھی نہیں پتا تھا۔ میرے اس سوال پہ ماں زار و قطار رونے لگی۔ پھر کہنے لگی “یہ سب تو ہیں ہی ایسے ۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے اس گھر میں کام والیاں تک نہیں ٹِکتیں۔ تُو آج کی بات بھول جا لیکن اب میں تیرے ساتھ ہی رہا کرونگی۔ یاد رکھ وجو تجھے اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔

اس دن گھر میں یہ بات کُھل گئی کہ میں اس عورت کی بیٹی ہوں بہن نہیں ۔۔۔۔ میری ماں کی ساس نے اسے بہت باتیں سنائیں کہ “تُو تو پہلے ہی کھسم چھوڑ کے یہاں آئی ہے کیا پتا اس سے نکاح بھی پڑھایا تھا یا نہیں ، اپنے گناہوں کی پوٹلی بھی ہمارے گھر لے آئی۔ اور اس رن مرید کو تعویذ گھول کے پلائے ہیں جو تین سال سے اس حرامزادی کو پال رہا ہے۔” ماں کی دیورانیاں ماں کی طرف ذومعنی نظروں سے دیکھتی رہی۔ ماں اس وقت بالکل خاموش رہی لیکن اپنے کمرے میں آکر اس نے میرے سوتیلے باپ کو بے نقط سنائیں۔ جواب میں میرے سوتیلے باپ نے کہا “اماں جھوٹ تھوڑا کہتی ہے پال تو رہا ہوں اسے بھی اور تجھے بھی۔ ان تین لڑکوں کے ہوتے ہوئے میں تجھے بھی تو نکال سکتا ہوں۔” ماں حیرانگی سے اس کی شکل دیکھنے لگی۔ ماں باورچی خانے میں روٹی پکاتے ہوئے بھی روتی رہی۔ “دیکھ وجو! عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا وہ گھر کو سجانے سنوارنے اور بنانے میں زندگی لگا دیتی ہے لیکن اس کا کوئی نہیں بنتا۔ سسرال میں کتنے ہی کاج سنوارو، کتنے ہی بچے پیدا کرو یہاں کوئی اپنا نہیں ہوتا۔” میں تو اس دن ویسے بھی ڈپریشن میں تھی ماں کی باتیں سُن کے رونے لگی۔ “بیٹی مجھے ڈر لگتا تھا کہ تیرا سوتیلا باپ تجھے کچھ کہہ نہ دے لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ نیچے بھی دو کُتے رہتے ہیں۔ میں نے اپنی عمر گلا دی ہے اس گھر کیلئے ۔ ۔۔۔ ان تین بچوں کیلئے ۔۔۔۔ کیا میرا دل نہیں کرتا تھاکہ ماں باپ کے گھر جاکے رہوں۔ تجھے دیکھوں، تیرے ساتھ وقت گزاروں ۔۔۔۔ مجھے تو اتنا اختیار نہ تھا کہ تجھے بیٹی کہتی۔ انسان کا جب اپنا وقت نکل جاتا ہے تو وہ بےفکر ہوجاتا ہے۔ لیکن یاد رکھ دنیا میں تیرا بس ایک ہی رشتہ ہے اور وہ مجھ سے ہے۔ ماں کی اس دن کی باتوں نے میرا حوصلہ بڑھا دیا۔ میں پہلے اپنے آپ کو اس دنیا میں تنہا سمجھتی تھی۔ مجھ پر اتنا واضح ہوگیا کہ مجھے اپنی جنگ خود لڑنی ہے۔ ماں خود ان کے ٹکڑوں پہ پل رہی تھی وہ مجھے کیسے بچاتی لیکن میں بہت محتاط ہوگئی۔ کالج سے آکر میں اپنے کمرے میں ہی رہتی ماں کا اگر کوئی کام کرنے والا ہوتا تو اس کی موجودگی میں ہی کردیتی اور پھر اپنے سٹور نما کمرے میں بند ہوجاتی۔ اس طرح میں پڑھائی کو زیادہ ٹائم دے سکتی تھی۔ اور میرے لئے تعلیم ہی زندگی بدلنے کا زریعہ تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میرے اس اقدام سے شاید میں خود کو محفوظ رکھ سکونگی لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ماجد اب بھی مجھ پہ گھات لگائے بیٹھا ہے۔ چند ہفتوں بعد وہ منحوس دن آگیا جس کے زخوں سے اب تک خون رِستہ ہے۔

میرے سوتیلے باپ کی کزن کی بیٹی کی شادی تھی سب گھر والے گوجرانوالہ گئے ہوئے تھے۔ چھت پہ جانے کا رستہ ہمارے برآمدے سے ہوکر جاتا تھا وہاں نہ تو دروازہ تھا نہ ہی کوئی رکاوٹ بس ایک راہدری سی تھی۔ میں اپنا کھانا لیکر کمرے میں چلی گئی اور اندر سے کنڈی لگا لی۔ شام سے  ذرا پہلے میں کمرے سے غسل خانے جانے کیلئے نکلی تو ماجد چھت پہ جارہا تھا۔ مجھے اس آنکھوں میں وحشت دور سے ہی نظر آرہی تھی۔ میں واپس کمرے کی جانب پلٹی تو میرے پیچھے ہی کمرے میں چلا آیا۔ مجھے دروازہ بند کرنے کی مہلت بھی نہ ملی اور کمرے میں اپنے دفاع کیلئے کچھ بھی نہ تھا۔ اب تک پچھلے تین سال سے ماں مجھے جس خطرے کے پیشِ نظر بچا رہی تھی پر اب بچانے والا کوئی نہ تھا۔ میرا حوصلہ پست ہوگیا۔ میں اپنے دفاع کیلئے چیخنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔۔ کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ میری آواز سُن لے اور مجھے اس درندے سے نجات دلائے۔ لیکن اس دن میری آواز کسی نے نہیں سُنی اللہ نے بھی نہیں۔ پھر چیخ چیخ کے میری آواز بھاری ہوگئی اور میں بےہوش ہوگئی۔ مجھے نہیں معلوم وہ کتنی دیر میرا بدن بھنبھوڑتا رہا۔ مجھے ہوش تب آیا جب ماں نے پانی کا جگ مجھ پر پھینکا۔ اس کا رونا اور چیخیں بھی مجھے ہوش دلانے میں ناکام رہی تھیں۔ پھٹی پھٹی نظروں سے میں اپنی پیدا کرنے والی کو دیکھ رہی تھی جس کے رونے اور سسکیوں کی آواز گھر میں گونج رہی تھی وہ مجھے سہارہ دے کر میرے کمرے میں لے گئی اور کپڑے بدلوانے لگی۔
دوسرے کمرے سے میرے سوتیلے بھائیوں کی آوازیں آرہی تھی جو پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں ان کی بہن ہوں لیکن ہم میں کبھی بھی بہن بھائیوں والا رشتہ مستحکم نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ میرے سوتیلے باپ کا رویہ تھا جس کیلئے میں صرف اس کے گھر میں رہنے والی ایک لڑکی تھی بیٹی نہ تھی۔ دکھ، اذیت اور تکیلف سے میں چیخیں مار مار کے رونے لگی۔ اتنے میں میرا بھائی اندر آگیا اور ماں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہنے لگا “اگر تم اس کی حفاظت نہیں کرسکتی تھی تو اسے یہاں کیوں لائی تھی؟ اب تک یہ صرف اس گھر میں رہتی تھی تمہارا ہاتھ بٹاتی تھی ہمیں پڑھنے میں مدد دیتی تھی لیکن ہم اس کی حفاظت نہ کرسکے۔ چاہے ہمارا باپ اس کی پرواہ نہ کرے ، یہ دکھ محسوس نہ کرے پر ہم تو اس کے ماں جائے ہیں یہ ہمارا دکھ ہے ہمارے کلنک کا داغ ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرو کہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ” ماں پہلے ہی دُکھ اور غصے میں بھری بیٹھی تھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر کوسنے اور بددعائیں ماجد کو دینے لگی اور پھر نیچے چلی گئی۔

پہلے تو گھر میں خاموشی تھی لیکن پھر نیچے سے جھگڑے کی آوازیں اوپر آنے لگیں سب لڑکے اور میرا سوتیلا باپ بھی نیچے چلا گیا۔ لڑنے جھگڑنے، گالی گلوچ، مار دھاڑ کی آوازیں آنے لگیں۔ بہت دیر میں سب اوپر آئے میرے بھائی کے چہرے پر کئی نشان تھے چھوٹے والے کے منہ سے خون بہہ رہا تھا۔ اوپر آکر وہ پھر آپس میں بحث کرنے لگے لڑکے بضد تھے کہ پولیس رپورٹ کی جائے جبکہ میرے سوتیلے باپ کا کہنا تھا کہ پولیس وجیہہ سے بھی الٹے سیدھے سوال کرے گی ۔۔۔۔ گھر کی بات باہر جائے گی کل کو کون اس سے شادی کرے گا۔ اور اگر اس بات کو جتنا اچھالو گے اتنی ہی بدنامی ہوگی۔ لیکن ان سوالوں سے، ہمدردیوں سے، ماں کے کوسنوں اور بددعاؤں سے اور بھائیوں کے پیچ وتاب کھانے سے میری لُٹی ہوئی عزت تو واپس نہیں آسکتی تھی۔ اتنے میں میرے سوتیلے باپ کی ماں اوپر آئی مجھے لگا کہ وہ بھی شاید صدمے میں ہے لیکن اس نے مجھ پر الزامات کی بوچھاڑ کردی کہ یہ تو ہے ہی حرام کی پوٹلی، میرے بیٹے کو اکساتی تھی۔ اس پر کون بھروسہ کرے ۔۔۔۔ اس گھر کا مال کھاتی ہے اسی میں چھید کرتی ہے۔ اتنا سُن کر ماں ہتھے سے اکھڑ گئی اس نے دادی سے نہ صرف جھگڑا کیا بلکہ اچھی خاصی بدتمیزی کی اور پھر میرے سوتیلے باپ نے یہ کہہ کے معاملہ رفع دفع کرادیا کہ جو ہوگیا سو ہوگیا اب احتیاط کرو اور بات ختم کرو۔

بات ختم ہوگئی ۔۔۔۔ میری کیا وقعت تھی کہ کوئی فیصلہ کرپاتی۔ میرا بڑا بھائی محض سولہ سال کا تھا مجھے کون تحفظ دیتا۔ کئی دن تک بستر پر پڑی رہی۔ ماں اور بھائی میری دلجوئی کرنے کی کوشش کرتے۔ میرے جسم کے زخم تو بھر گئے لیکن وہ زخم آج تک نہ بھرا جو میری روح پر لگا تھا۔ کئی دن تک میں کالج نہ گئی طبعیت بُجھ سی گئی۔ منحوس اور بد قسمت تو تھی ہی اب بےعزت بھی ہوگئی اور بد کردار کا الزام بھی لگ گیا۔ پندرہ دن بعد میں کالج گئی میری شکل دیکھ کے میری سہیلی رقیہ کو تشویش ہوئی۔ پہلے ہی پیریڈ میں وہ کلاس بنک کرکے مجھے الگ لے گئی اور مجھے پوچھنے لگی سچ سچ بتا کیا ہوا ہے؟ اس سے پہلے میں اسے ماجد کا رویہ بتا چکی تھی۔ میں نے حقیقت بتائی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

میں اپنے آپ کو نارمل زندگی کی طرف لانے کی تگ ودو میں مصروف تھی اور وہاں ماجد اپنی حرام زدگیوں پر اترا ہوا تھا۔ چند سال پہلے اس کی اپنی بیوی اس کے ساتھ تین مہینے نہ گزار سکی اور اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھ گئی اور پھر اس نے خلاع لے لی تھی۔ وہ کہتی تھی یہ وحشی ہے اس کے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا۔ میرے لئے ایسے میں اس وحشی درندے سے چھپنا اور چھٹکارہ حاصل کرنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔ اب کالج تو جانا ہی تھا وہ بھی اس گھٹیا انسان نے عذاب میں ڈال دیا ۔ اس واقعے سے جہاں میری عزت روندی گئی وہیں ماجد اور اس کے خاندان کی بدنامی بھی ہوئی کہ ایک لاوارث لڑکی کے ساتھ ظلم کیا۔ وہ پہلےمیرے والدین کی لعن طعن سے عاجز آیا ہوا تھا پھر لوگوں کی باتوں سے اس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی لیکن وہ اپنی غلطی اور خباثت ماننے کو تیار نہ تھا۔ اس نے یہ معاملہ اپنے دوستوں کو بتایا تو اس کے اوباش دوست اب میرے کالج آنے جانے کے دورانیے میں ہمارے گھر کے آس پاس منڈلانے لگے۔ صبح تو سکون ہوتا لیکن جب دوپہر کو میں بس سٹاپ پہ اترتی تو مجھ پر آوازیں کسی جاتیں، تعلق بنانے اور بڑھانے کا اظہار بآواز بلند کیا جاتا۔ ایک دو بار میرا راستہ روکنے کی کوشش بھی کی گئی۔ لیکن سوائے خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور راستہ نہ تھا۔ چند ہفتوں کے بعد حالات یہ ہوگئے کہ میرے بھائیوں پر گلی میں سے گزرتے ہوئے آوازیں کسی جانے لگیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرا سوتیلا باپ مجھ سے بدظن ہوگیا۔ میری وجہ سے وہ اپنے نوجوان بیٹوں کیلئے کسی قسم کا کوئی لڑائی جھگڑا مول لینے کو تیار نہ تھا۔

انہی دنوں میرے انٹر کے امتحان ہوگئے تو میرے سوتیلے باپ نے ماں کو یہ مشورہ دیا کہ مجھے ماموں کے گھر بھیج دینا ہی مناسب ہے۔ ہم اس کا خرچ اٹھالیں گے اور وہیں کوئی مناسب رشتہ دیکھ کے شادی بھی کردیں گے۔ یہاں بچی محفوظ نہیں میرا بھائی بدمعاش ہے اگر پھر کچھ ہوگیا تو کیا کریں گے۔ ماں کو یہ بات مناسب لگی اور ہم دونوں پھر سے کبیر والہ آگئیں۔ اس دن ماموں کے سب بچے اپنے نھنیہال کسی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ گھر میں صرف ماموں تھے۔ ماموں ہمیں دیکھ کے خوش ہوگئے ماں نے ان کو بتایا کہ وہ میرا خرچ باقاعدگی کے ساتھ بھیجتی رہیں گی لیکن اصل بات یہ ہے کہ میں یہاں محفوظ رہ پاؤں گی۔ ماں نے ماموں سے وعدہ لیا کہ وہ انہیں ایسی بات بتانے لگی ہیں کہ اس بات کو کسی سے نہ کہنا انہوں نے وعدہ لیا اور ماں نے انہیں مجھے وہاں لے جانے کی اصل وجہ بتا دی۔ ماموں تو گنگ ہی رہ گیا اور پھر دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ ماں اور میں بھی رونے لگی لیکن رونا کوئی حل تھوڑی ہے۔ ماموں نے ماں سے وعدہ لیا کہ وہ میری حفاظت بھی کرے گا اور نتیجہ آنے کے بعد میرا داخلہ بھی کروادے گا۔ شام تک گھر والے بھی آگئے تھے مجھے پتا چلا کہ ماموں کی دونوں بڑی لڑکیوں کی شادی ہوچکی ہے اور تو اور فاروق بھائی بھی دو بچوں کے باپ بن چکے ہیں۔ معمانی اور کزنز نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا بلکہ معمانی بار بار کہتی رہیں کہ میں کتنی خوبصورت نکل آئی ہوں ان کیلئے یہی بات بڑی تھی کہ میں نے انٹر کا امتحان دے رکھا ہے اور آگے داخلہ بھی لینا ہے۔ لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ اب میں وہیں ان کے گھر رہونگی تو ان کا رویہ کچھ اچھا نہ رہا۔ ماں نے ان کو کچھ تحائف دیئے اور ان کو باور کرایا کہ میری بیٹی یہاں محفوظ ہے میں اس کا خرچ بھیجتی رہونگی تو میری لالچی معمانی کسی قدر راضی ہوگئی۔

ماں واپس لوٹ گئی اور مجھے تلقین کرکے گئی کہ میں اسے خط لکھ کے اپنی خیریت سے آگاہ کرتی رہوں۔ مجھے وہی نانی والی کوٹھری مل گئی جو اب سٹور بن چکی تھی۔ سامنے صحن میں جہاں کیاریاں تھیں وہاں بھی ایک کمرہ بن چکا تھا جس کی وجہ سے صحن کسی قدر تنگ ہوگیا تھا۔ اوپر کی منزل پہ بھی دو کمرے بن چکے تھے۔ لڑکوں کے جوان ہوجانے اور کمانے کے بعد بھی گھر کے حالات کوئی خاص نہیں بدلے تھے۔ ان کے ہاں میری ماں کے گھر جتنی آسودگی نہیں تھی۔ میری دونوں ماموں زاد بہنیں میرے روزمرہ پہننے والے کپڑے دیکھ کر للچاتی اور کہتی “ہائے وجو! تجھے تو لاہور جاکے کپڑا پہننا آگیا”۔ میرے کانوں کی ننھی سونے کی بالیاں مجھے ان میں منفرد کردیتی۔ مجھے یاد آیا کہ میں شاید سات آٹھ سال کی تھی تو محلے کی ایک مائی نے میرے کانوں میں سوئی دھاگے سے سوراخ کئے تھے۔ پہلے پہل اس میں کالے پراندے کے دھاگے ڈالے گئے اور سالن کا مصالحہ لگایا جاتا رہا کہ زخم ٹھیک ہوجائے بعد میں ہم ساری لڑکیوں کے کان میں جھاڑو کا تنکا ڈال دیا جاتا تھا۔ چاندی کی مُرکیاں تک نصیب میں نہ تھیں اور اب میں چار سال بعد آئی تو اچھے کپڑوں اور سونے کی بالیاں پہن کے۔ دونوں بہنیں حسرت سے مجھے تکا کرتیں۔

ابھی میرا نتیجہ آنے میں کچھ مہینے تھے میں گھر کے کام کاج میں حصہ لیتی اور باقی وقت سینے پرونے میں مصروف رہتی۔ ماں ہر مہینے مجھے گھر کے پتے پہ منی آرڈر بھیج دیتی۔ معمانی کا رویہ میرے ساتھ بس مناسب سا تھا اب گھر میں پہلے کی طرح میرے نام کے ساتھ گالیاں نہیں لگائی جاتی تھیں۔ لیکن معمانی کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ میری ماں اب میرا بہت خیال کرتی ہے، اور پھر اس کا تعلق نسبتاً خوشحال گھرانے سے ہے۔ اگر کل کو میری شادی ہوتی ہے تو وہ بہت اچھا جہیز دے گی۔ کچھ اس قسم کے لالچ میں آکر معمانی نے اپنے دوسرے بیٹے اعظم سے کہا کہ “اگر تُو وجیہہ سے شادی کرلے تو ہمارے وارے نیارے ہوسکتے ہیں۔ اور پھر وجیہہ دیکھنے میں بھی کتنی خوبصورت ہے۔” ماں کا یہ کہنا تھا کہ اعظم صاحب جاگتی آنکھوں سے ہی میرے سپنے دیکھنے لگے۔ آتے جاتے مجھے گھورنا ۔۔۔۔ پہلے تو میں پچھلے واقعے کی وجہ سے ڈر گئی لیکن پھر یہ خیال آیا میرا بچپن یہاں گزرا ہے اعظم ظالم نہیں ہوسکتا۔ مجھے اعظم سے کوئی سروکار نہ تھا۔ میں تو بےآسرہ تھی محفوظ چھت کی تلاش مجھے پھر سے کبیروالہ لے گئی۔ لیکن اعظم کے طور طریقے ازحد عاشقانہ تھے بلکہ وہ ڈھکے چھپے مجھے جتا بھی دیتا کہ وہ میرا طلبگار ہے۔اب کی بار میں نے ماں کو اعظم کے بارے میں اس کی حرکات و سکنات کے بارے میں تفصیل سے لکھا تو اگلے ہی ہفتے ماں چلی آئی۔

سب نے ماں کا بڑا اچھا استقبال کیا صاف لگ رہا تھا کہ اب کی بار ماموں کے خاندان کا کوئی مقصد ہے۔ پہلے تو سب سے مل کر ماں جب تنہائی میں میرے پاس آئی تو پہلا سوال اس نے یہ کیا کہ اعظم مجھے کیسا لگتا ہے؟ میں کیا جواب دیتی، میں نے اس بارے میں تو سوچا نہ تھا کہ ماں مجھ سے ایسا سوال کیوں کرے گی۔ میں نے ماں سے استفسار کیا کہ میری شادی کا فیصلہ تو ماں خود کرے گی مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہے۔ تو ماں نے کہا “میں نہیں چاہتی کہ تُو بھی اُس آگ میں جلے جس میں آج تک مَیں جل رہی ہوں۔” ماں کہنے لگی کہ ابھی تو کوئی منہ سے رشتہ مانگ رہا ہے تو میں تمہیں بیاہ کے فارغ ہوجاؤں۔ میں نے ماں سے کہا کہ میری عزت پہ لگا بدنما داغ انہیں پہلے دکھا دو یہ نہ ہو کہ بعد میں یہ بات گلے پڑ جائے۔ رات کے کھانے کے بعد ہم سب کے بستر صحن میں لگے ہوئے تھے تو ماں نے تمہید باندھنی شروع کی۔ اس وقت وہاں ماموں، معمانی، ماں، فاروق بھائی اور اعظم تھے۔ میں اپنی کوٹھری میں کڑہائی کرنے میں مصروف تھی۔ ماں نے ایک بُرے سپنے کی طرح مجھ پر کئے گئے ظلم کا سارا واقعہ بیان کردیا۔ معمانی نے دوہتڑ اپنے سینے پہ مارے “ہائے ہائے میں مرگئی۔۔۔۔۔ اللہ نے وقت سے پہلے بتا دیا ۔ اپنی کلموہی بےعزت لڑکی کو لے جاؤ یہاں سے۔ جو لڑکی اپنی عزت کی حفاظت نہ کرسکے وہ بدکردار ہوتی ہے۔ تم اپنی بدکردار لڑکی یہاں سے لے جاؤ۔۔۔۔ جو اس کے ساتھ پہلے ہوا اس میں بھی اس کی مرضی ہوگی اور اس بےغیرت نے میرے بیٹے کو پیچھے لگایا ہوا ہے۔ تجھے کیا لگتا ہے کہ چار پیسوں سے میں لالچ میں آجاؤنگی اور اپنے بیٹے کے پیٹے اس جوٹھن کو ڈال دونگی۔ نہ بابا نہ۔۔۔۔ اپنی گناہوں کی گٹھڑی کو یہاں سے لے جاؤ” ماں نے اس کی بہت منت ترلے کئیے ماموں نے بھی سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ لیکن وہ لوگ نہ مانے۔

ہم دونوں ماں بیٹیاں تڑکے ہی ان کے گھر سے بھوکی پیاسی واپسی کیلئے نکل پڑیں اور دوپہر سے پہلے پہلے لاہور پہنچ گئیں۔ گھر کا داخلی دروازہ کھلا تھا ماں نے مجھے فوراً سیڑھیاں چڑھنے کا اشارہ کیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو معلوم ہو کہ میں واپس آچکی ہوں۔ اوپر اپنے رہائشی حصے میں آکر اس نے مجھے میرے کمرے میں بند کردیا اور کہا “جب تک تیرا کوئی انتظام نہیں ہوجاتا تجھے یہیں رہنا ہے اور باہر بالکل نہیں آنا”۔ میں نے اب غور کیا کہ اس نے کمرے کی دوسری طرف باہر بالکونی کی جانب ایک چھوٹا غسل خانہ بنوالیا تھا۔ اب مجھے کمرے سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی۔ شام کو سوتیلا باپ بھی آگیا ماں نے اسے معمانی کا رویہ بتایا۔ وہ بھی کچھ پریشان تھا کہ ایسی لڑکی سے جان چھڑوانا مشکل ہے۔ ماں کے علاوہ میں اپنی سہیلی رقیہ کو بھی پابندی کے ساتھ خط لکھا کرتی تھی۔ یہاں پہنچنے کے اگلے ہی دن میں نے رقیہ کو ایک تفصیلاً خط لکھا اور اسے بتایا کہ میں پھر سے لاہور آگئی ہوں اور میری ماں مجھے بچاتی پھر رہی ہے۔ دو دن کے بعد اس کے خط کا جواب آیا کہ میں ماں کے ساتھ اس کے گھر آؤں وہ کوئی نہ کوئی بندوبست کرنے کی کوشش کرے گی۔
اگلے دن ماں اور میں رقیہ کے گھر سمن آباد چلے گئے اس کا گھر ڈونگی گراؤنڈ کے بالکل سامنے مین روڈ والی گلی میں تھا۔ رقیہ اور اس کی ماں بھی میری وجہ سے خاصی پریشان تھیں۔ رقیہ نے بتایا کہ اس کی پھپھو کی ایک سہیلی لاہور کالج کی پروفیسر ہے اگر میرا بی اے میں داخلہ لاہور کالج ہوجاتا ہے تو وہ میرا ہاسٹل میں داخلہ کروا دیں گی۔ اور ابھی کسی سے کہہ سُن کے وائے ڈبلیو سی اے کے گرلز ہاسٹل میں داخلہ کروادیتے ہیں۔ کیونکہ ماں کے گھر رہنا میرے لئے خطرناک ہے۔ ماں مجھے چند دن کیلئے رقیہ کے ہاں چھوڑ گئی۔ رقیہ کے والد نے کچھ کوشش کی اور مجھے وائی ڈبلیو سی اے کے گرلز ہاسٹل میں کمرہ مل گیا۔ ماں نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ وہ ہر مہینے خرچہ باقاعدگی سے بھیجے گی۔ اور میں ماں کی آس پر ہاسٹل چلی آئی۔ ہاسٹل کے کمرے میں میری ایک روم میٹ بھی تھی انجیلا جو فیصل آباد کے کسی گاؤں کی رہائشی تھی اور گورنمنٹ کالج سے سوشیالوجی میں ایم اے کررہی تھی۔ میں ابھی کمرے میں اپنا سامان لگا رہی تھی تو اس نے پوچھا کہ تم ماں کے ہوتے ہوئے ہاسٹل میں کیوں آئی ہوں؟ میں نے اسے صرف اتنا بتایا کہ ماں کی دوسری شادی ہوچکی ہے نانی کے مرنے کے بعد میرا والی وارث کوئی نہیں، وہ مجھے اپنے سسرال میں نہیں رکھ سکتی اس لئے یہاں داخلہ کروایا ہے۔ اس سے زیادہ میں کسی اجنبی کو بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ میں ڈری ہوئی تھی کہ کہیں اُس بات کے زکر سے یہاں سے بھی نہ نکال دیں۔ ہاسٹل میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی میں صبح ناشتے کے بعد لارنس گارڈن چلی جاتی، فاصلہ بھی زیادہ نہ تھا پھر قائداعظم لائبریری میں مختلف کتابیں اور اخبار پڑھتی۔ یا انارکلی کے فٹ پاتھ سے پرانی کتابیں خریدتی۔ کچھ ہی ہفتوں میں میرا انٹر کا نتیجہ آگیا مجھے یقین ہی نہ آیا کہ میں پاس ہوگئی ہوں۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میں امتحان پاس نہیں کرسکونگی پر میں نے سیکنڈ ڈویژن میں ایف اے کرلیا۔ میرے نمبر بہت اچھے نہیں آئے تھے اسی لئے لاہور کالج میں داخلہ نہ ہوسکا۔ میں نے کوئین میری کالج میں ہی بی اے میں داخلہ لےلیا اور اسی ہاسٹل میں رہتی رہی۔ ماں ہر مہینے خرچ کے اتنے پیسے دیدیتی کہ میں آرام سے گزارا کرلیتی بلکہ کچھ پیسے بچا بھی لیتی۔

بی اے پاس کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی میں داخلہ لے لیا لیکن ہاسٹل نہ چھوڑ سکی۔ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں داخلہ اس لئے بھی نہ لیا کہ خوفزدہ تھی کہ اگر یہاں سے نکلی تو شاید کہیں رہنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ لیکن وہیں رہتے ہوئے بھی میں وہاں رہنے والے لوگوں سے اسی طرح لاتعلق رہی، اپنے کام سے کام رکھتی۔ میرے شب و روز اسی طرح گزرتے رہتے اور اسی طرح میرے کمرے کے مکین بھی بدلتے رہتے۔ اینجلا، مسرت، شمیم، طاہرہ، صنوبر یہ تو وہ تھیں جو مجھے یاد رہ گئیں اور بےتحاشہ وہ تھیں جن کے ہاسٹل میں رہنے کا دورانیہ قلیل تھا۔ ایم اے انگریزی کے ساتھ ساتھ میں نے اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ میں داخلہ بھی لے رکھا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ اگر مجھے کسی کالج میں لیکچرر شپ مل گئی تو مجھے ماں سےخرچہ لینے کی ضرورت بھی نہیں رہےگی۔ لیکن ماں کا منی آرڈر ہر مہینے کی پانچ تاریخ کو مجھے مل جاتا۔ ان اڑھائی سالوں میں ماں مجھے ملنے صرف چند مرتبہ آسکی اس کی وجہ اس کے گھر ذمہ داریاں تھیں۔

میں یونیورسٹی میں صرف پڑھ لکھ کے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے گئی تھی۔ اس لئے شروع شروع میں زرا الگ تھلگ رہی۔ لیکن پھر میری بھی سب سے اچھی واقفیت ہوگئی اور میں بھی ان کے ساتھ گپ شپ میں حصہ لینے لگی۔ تب ہی میری بہت اچھی واقفیت رجب شفیق سے ہوئی۔ وہ میرا کلاس فیلو تھا اور یونیورسٹی ہاسٹل میں رہتا تھا۔ پہلے پہل تو وہ صرف کلاس فیلو تھا لیکن پھر ہماری دوستی ہوگئی جو رفتہ رفتہ محبت میں بدلنے لگی۔ ہم دونوں دیکھ رہے تھے سمجھ رہے تھے لیکن ابھی اظہار کی نوبت نہیں آئی تھی۔ میں ویسے بھی اپنے داغدار ماضی سے عاجز تھی، مجھے یقین نہ تھا کہ کوئی مجھ میں بھی دلچسپی لے سکتا ہے۔ ہم دونوں کا زیادہ وقت اکٹھے گزرتا، پڑھائی بھی ساتھ میں کرتے۔ سب لوگوں کی نظر میں ہم محض دوست تھے کیونکہ ہم پانچ لوگوں کا گروپ تھا اور گروپ میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے فائنل ائیر کے امتحان ہونے والے تھے جب رجب نے مجھ سے محبت کا اقرار کیا۔ اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا کہ وہ اپنے والدین سے میرے متعلق بات کرچکا ہے اور وہ راضی بھی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ قدرت مجھ پر اتنی بھی مہربان ہوسکتی ہے۔ وہ میرے بارے میں اتنا تو جانتا تھا کہ میں ہاسٹل میں رہتی ہوں والدہ کی دوسری شادی کی وجہ سے وہ مجھے ساتھ نہیں رکھ سکتیں۔ اسے اس بات پہ اعتراض بھی نہ تھا۔ اس کے والد رحیم یار خان کے مضافاتی علاقے کے زمیندار تھے۔ ایم اے کے بعد اس کا نوکری کرنے کا ارادہ بھی نہ تھا لیکن میں نے اسے قائل کرلیا کہ میں لیکچرر شپ کرونگی۔ مستقبل کے سندر سپنوں میں امتحان گزر گئے اور وہ اپنے ابائی شہر چلا گیا۔ میں نے امتحانات کے بعد ایک مشنری سکول میں جونئیر ٹیچر کی نوکری کرلی۔ اس مصروفیت میں بھی ہم ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اور مستقبل کے سہانے خواب دیکھتے تھے۔

میں رجب کو کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتی تھی میں نے سوچ لیا کہ جب وہ مجھ سے ملنے آئے گا میں اپنا داغدار ماضی اس کے سامنے رکھ دوں گی تاکہ وہ یہ نہ سمجھے کہ میں اسے دھوکہ دینے کی کوشش کررہی ہوں۔ جب میں نے اس سے بات کی تو وہ حیرت سے مجھے دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے کے تاثرات صاف بتا رہے تھے کہ اس نے اپنے کہیں اندر مجھے بدکردار عورت کی کیٹیگری میں ڈال دیا ہے۔ وہ خاموش رہا اور بتائے بغیر ہمیشہ کیلئے میری زندگی سے چلا گیا۔

میری محبت ادھوری رہ گئی ۔۔۔۔۔ میں کچھ مہینوں کیلئے بھول گئی تھی کہ مجھ جیسی بدقسمت کو محبت جیسے لطیف جذبے پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ رزلٹ آگیا ہمیشہ کی طرح میں نے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے کرلیا لیکن میرا دل ٹوٹ چکا تھا۔ میں چپکے سے یونیورسٹی گئی اور اپنا رزلٹ کارڈ لے آئی۔ صبح کے وقت اس لئے گئی کہ کسی کلاس فیلو اور اصل میں رجب سے سامنا نہ ہو۔ بعد میں دانستن کسی کلاس فیلو سے رابطہ نہ رکھا۔ ایک بےعزت لڑکی کس منہ سے کسی کا سامنا کرتی۔ پاس ہونے کے بعد کے بعد میں نے نسبتاً بہتر نوکری کیلئے تگ و دو شروع کردی۔ ایک حل تو یہ تھا کہ میں پی سی ایس کا امتحان پاس کروں اور کسی کالج میں لیکچرر لگ جاؤں۔ دوسرا کہ مقابلے کے امتحان کی تیاری کروں۔ میں بچپن سے ہی اپنی اساتذہ سے متاثر تھی اس لئے پہلے لیکچرر شپ کیلئے تیاری کرنے لگی۔ ماں اب بھی کئی مہینوں بعد مجھے ملنے آہی جاتی تھی۔ اب میں کسی حد تک اپنا خرچ اٹھا سکتی تھی اس لئے میں نے اسے منع کردیا کہ اب تم میری کفالت نہ کرو لیکن مجھ سے ملنا مت ختم کرنا۔ وہ جب بھی آتی میرے لئے کبھی کچھ کپڑے، کھانے پینے کی چیزیں لے آتی۔ مجھے دیکھ کے خوش ہوتی اس نے مجھے بتایا کہ میرا ایک بھائی دبئی چلا گیا ہے اور دوسرا باپ کی ورکشاپ میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ اور پھر میرا پی سی ایس کا رزلٹ آگیا۔

میں پاس ہوگئی میری تقرری سکیل 17 کی لیکچرر کے طور پر گورنمنٹ کالج برائے خواتین بہاولپور میں ہوگئی۔ اور مجھے وائی ڈبلیو سی اے وومن ہاسٹل کا کمرہ نمبر آٹھ چھوڑنا پڑا۔ میرا متاعِ حیات تھا ہی کیا ایک بڑا سوٹ کیس اور ایک کتابوں کا کارٹن۔۔۔۔ اسی کو لئے میں اپنی اگلی منزل پر پہنچی۔ کالج کی پرنسپل بہت سلجھی ہوئی خاتون تھیں، میں نے پہلی ہی ملاقات میں انہیں بتا دیا کہ اگر وہ مجھے کالج ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دیدیں تو مہربانی ہوگی۔ کالج میں میرے پاس ہاسٹل میٹرن کا اضافی چارج بھی تھا۔ میں اب بھی ماں کو خط لکھتی اس کی خیریت دریافت کرتی۔ لیکن اب ماں کے خط اس تواتر سے نہیں آتے تھے۔ عیدیں آئیں، گرمیوں کی چھٹیاں آئیں اور میرا گھر وہی ہاسٹل کا کمرہ تھا۔ نہ کوئی آگے نہ پیچھے۔۔۔۔ اسی طرح عمر کے چھ سال گزر گئے اور میری پہلی ترقی ہوئی۔ میں لیکچرار سے اسٹنٹ پروفیسر ہوگئی۔ میں نے ماں کو خط لکھا اور اپنی کمائی میں سے کچھ روپے منی آرڈر کئے۔ کچھ دنوں کے بعد منی آرڈر واپس آگیا۔ میں نے پھر ایک اور خط لکھا لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ اب مجھے تشویش ہوئی کہ شاید انہوں نے مکان بدل لیا ہے یا ماں کو کچھ نہ ہوگیا ہو۔ میں نے اپنی سہیلی رقیہ کو فون کیا کہ میری ماں کے گھر جاکے دیکھو کہ وہ میرے کسی خط کا جواب کیوں نہیں دے رہی ہے۔ اور پھر وہ دن آگیا جو مجھے پوری دنیا میں تنہا کرگیا کہ جب رقیہ نے مجھے ٹیلیفون کرکے بتایا کہ میری ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ یہ دن بھی اس دن کی طرح ہی تلیکف دہ تھا جس دن میری عزت تار تار ہوئی۔ اس دن تو مجھے سنبھالنے والی، مجھے پیدا کرنے والی ماں اس دنیا میں تھی ۔۔۔۔ اور آج میں بالکل تنہا ہوگئی۔ مجھے نہیں پتا کہ رقیہ نے فون پر مزید کیا کہا۔ اس وقت میں سٹاف روم میں تھی ہم سب چائے پی رہے تھے۔ میرے اعصاب اس سے زیادہ سننے کے متحمل نہ ہوسکے، میرا ساتھ چھوڑ گئے اور میں بےہوش ہوگئی۔ مجھے جب ہوش میں لایا گیا تو میں رونے لگی آنسو تھے کے تھمنے میں نہ آتے تھے۔ گیارہ سال سے میں اکیلی رہ رہی تھی مجھے تنہا ہونے کا کبھی احساس نہ ہوا لیکن آج معلوم ہوا کہ بھری دنیا میں تنہا ہونا کیا ہوتا ہے۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے۔ اب میں اپنا سہارا خود تھی۔ میں نے سوچا کہ پوری زندگی یہاں ایک کالج میں تھوڑی گزارنی ہے مجھے مزید تعلیم حاصل کرنی چاہیئے اور یہی سوچ کے میں نے بہاولپور یونیورسٹی میں ایم فِل میں داخلہ لے لیا۔ اب پڑھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی پڑھنا تھا۔ ہفتے میں دو دفعہ یونیورسٹی جانے سے پرانے زخم تازہ ہوگئے۔ میں ابھی بھی اپنی عمر سے کم ہی دِکھتی تھی کولیگز اور دوست شادی کا مشورہ دیتے تھے لیکن ایک ایسی عورت سے شادی کون کرتا جس کا دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں۔ ایم فِل کے ریسرچ پیپر کی تیاری کیلئے میں دو مہینے کیلئے لاہور گئی۔ وائی ڈبلیو سی اے کے ہاسٹل میں کمرہ لیا اور اپنی سہیلی رقیہ کو ملنے اس کے گھر چلی گئی۔ اس سے پہلے میں چند سال پہلے لاہور اس کی شادی کے موقع پر آئی تھی۔ اب اس کی رہائش ہاسٹل کے پاس ہی تھی۔ چھوٹتے ہی اس نے کہا زندگی تنہا نہیں گزرتی تمہیں شادی کرلینی چاہیے۔۔۔ تمہارے دکھوں کا مداوا تب ہی ہو سکتا ہے اگر تمہارا اپنا گھر بار ہو۔ تمہیں بھی حق ہے کہ زندگی نئے انداز سے شروع کرو۔ میں کیا کہتی مسکرا کے رہ گئی۔ رقیہ نے اپنے جاننے والوں میں میرے رشتے کی بات کر رکھی تھی۔ اسی معاملے میں ایک دن اس نے اپنے سسرالی ایک خاندان کو چائے پہ بُلا رکھا تھا۔ مجھے بھی بلایا اور بہت اچھے ماحول میں چائے پی گئی۔ میں ان لوگوں کو کچھ زیادہ ہی پسند آگئی تھی۔ ان کی بات چیت سے لگ رہا تھا کہ رقیہ نے میرے بارے میں انہیں سب کچھ بتا دیا تھا کہ والدین کی علیحدگی کے باعث ساری زندگی ہاسٹل میں گزاری اور ایک زمانے سے وہ مجھے جانتی بھی تھی۔ لیکن اصل بات اس نے پھر نہیں بتائی کہ میرے ماں کے دیور نے مجھے عصمت دری کا نشانہ بنایا تھا۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں جھوٹ کی بنیاد پر کسی نئے رشتہ کی بنیاد نہیں رکھونگی چاہے اس کا انجام کچھ بھی ہو۔ جب میں نے بولنا شروع کیا رقیہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کی کہ خاموش رہوں لیکن یہ سب سنتے ہی میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کے رویے کو بدلتے دیکھا۔ وہی ماں جی جن کے چہرے سے میرے لئے شفقت ٹپک رہی تھی بےحس نظروں سے دیکھ رہی تھیں اور رقیہ آنکھوں میں آنسو لئے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اور پھر وہ لوگ چلے گئے۔ میں سپاٹ چہرہ لئے بیٹھی تھی کہ رقیہ مجھ پہ برس پڑی کیا ضرورت تھی ماضی کے بدنما داغ دکھانے کی اچھا بھلا کام بن گیا تھا۔ میرا جواب آج بھی بہت سال پہلے والا ہی تھا کہ اگر بعد میں معلوم ہوا اور انہوں نے طلاق دیدی تو پھر کیا ہوگا؟

زندگی گزارنے کے میرے اپنے معیار تھے۔۔۔ دو دفعہ کے بعد میں اب ذہنی طور پر شادی کیلئے تیار نہ تھا۔ اِدھر میرا ایم فِل ہوا اور اُدھر اللہ کے گھر سے میرا بلاوا آگیا۔ میں حج سے لوٹی تو میرے ذہن و دل میں سکون اور اطمینان بھر چکا تھا۔ میں اپنے آپ کو قائل کرچکی تھی دنیا میں سب کچھ صرف ایک شخص کیلئے نہیں ہوتا۔ اب میں نے ڈاکٹریٹ میں داخلہ لے لیا اور اپنا تبادلہ گورنمنٹ کالج لاہور میں کروالیا۔ اب پھر وہی لاہور تھا وہی وائی ڈبلیو سی اے کا ہاسٹل۔۔۔۔ سب کچھ وہی تھا بس ماں نہیں تھی۔ دل میں کہیں اندر کسک رہ گئی کہ کاش میں بھی شادی کرپاتی کاش میری بھی اولاد ہوتی جو مجھے ماں کہتی اور میں اس کی محبت اور تربیت میں زرا بھی کوتاہی نہ کرتی۔ لیکن ان سب خواہشات کو پورا کرنے کیلئے شادی لازمی جزو تھی۔ میں پڑھی لکھی، ذہین اور جاذبِ نظر تھی لیکن میرے داغدار ماضی کی وجہ سے مجھے کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ میں نے خود کو سمجھا لیا کہ اب یہی طلبہ میری اولاد ہیں، ان کی ذہنی تربیت میرا فرض ہے تاکہ وہ معاشرے میں سر اٹھا کے جی سکیں۔ ڈاکڑیٹ کے بعد بھی میں گورنمنٹ کالج میں پڑھاتی رہی بلکہ اب تو میں ایم اے کے طلبہ کو پڑھاتی تھی۔ اور میری اگلی تقرری خواتین کے کالج کی پرنسپل کے طور پہ تھی۔ جب مجھے سرکاری گھر ملا تو پہلی بار احساس ہوا کہ میں نے زندگی تو ہاسٹل کے کمرے میں گزاری ہے ایک گھر کو گھر بنانے کیلئے کتنے لوازمات کی ضرورت ہے۔۔۔۔ اور یہاں اصل لوازمات تھے ہی نہیں تو گھر کیسا؟ گھر تو گھر والوں سے بنتا ہے اور میں تنہا عورت اتنے بڑے گھر میں کیسے رہ پاتی۔

اب گو کہ زندگی اختتامیہ کی طرف جا رہی ہے۔۔۔۔ جو نہیں ملا اس کا خدا کی ذات سے کیا شکوہ کروں؟ لیکن خدا کا کتنا کرم رہا کہ مجھے کبھی کسی کا محتاج نہیں رکھا۔ میری ماں کا مجھ پہ احسان ہے کہ اگر اُس برے وقت میں مجھے پھینک دیا ہوتا یا میری تعلیم پہ توجہ نہ دی ہوتی تو میں کسی گندی نالی میں پڑی سڑ رہی ہوتی۔ میں اب بھی یہ سوچتی ہوں کہا اگر میرے اصل والدین اگر اتفاق سے ایک ساتھ رہتے تو میں دنیا میں بالکل تنہا نہ ہوتی میرے پاس وہ سب کچھ ہوتا جو نہیں ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ خیال بھی ہے کہ اگر وہ سب کچھ ہوتا تو شاید میں ایک جاہل اور جھگڑالو عورت ہوتی۔ اور اللہ ہمیں ہمارے اندر سے جانتا ہے۔ اپنا گھر نہیں ہے تو کیا ہوا؟ میں نے اتنا کمایا کہ اپنا ذاتی مکان بنالیا۔ اپنی اولاد نہیں ہے تو کیا ہوا وہ ہزاروں بچے جو میں نے سیتیس سال میں پڑھائے کبھی تو میرے لئے دعا کردیں گے۔ اپنی جوانی میں ہی میں نے بظاہر اپنی قسمت کے ساتھ سمجھوتا کرلیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں اللہ پاک کا شکر ادا کرتی تھی کہ اللہ نے مجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا۔ بس ہم وہ نہیں جانتے جو اللہ جانتا ہے وہ جو کرتا ہے ہماری بہتری کیلئے ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *