• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • یہ سال پاکستان و اسلام کے متوالوں کے نام۔۔۔۔عبدالاحد سالار

یہ سال پاکستان و اسلام کے متوالوں کے نام۔۔۔۔عبدالاحد سالار

سالِ نو شروع ہوا تو ہر طرف سے مبارکبادوں کی صدائیں آنے لگیں۔ کسی نے پٹاخے پھوڑ کر تو کسی نے گزشتہ سال کا غبارہ ہوا میں اڑا کر سالِ نو کو خوش آمدید کہا۔ کسی نے فیسبک پر پچھلے سال کی داستان کہہ ڈالی تو کسی نے اگلے سال کے عہد سنا ڈالے۔ غرض ہر بندے نے اپنی اپنی دھن میں اس سال کو ویلکم کیا اور گزشتہ سال کو خیر آباد کہا۔ بڑے شہروں میں تو باقاعدہ پارٹیز وغیرہ بھی رچائی گئیں اور خوب ہلّا گلّا کیا گیا۔ سال گزر جانے کا جہاں ایک طرف غم ہوتا ہے وہیں  خوشی بھی ہوتی ہے  کہ نئے لوگ ملیں گے، کچھ نیا کرنے کو ملے گا۔ سٹوڈنٹس خوش ہوتے ہیں کہ نئی کلاس ہوگی ۔الغرض ہر بندہ اپنے اپنے لحاظ سے اپنے پیشے کے اعتبار سے خوش ہوتا ہے ۔ لیکن ٹھہریے سال نو کی خوشی میں ہم نے اپنے بھائی کو بھی شریک کر لیا، ماں کو بھی کسی طرح منا   کر سال نو کی تقریب سیلیبریٹ کر لی بہنوں کو بھی وش کر دیا۔ دوستوں کو بھی مبارکباد کے میسج بھیج دیے۔۔۔لیکن رکیے! اور یاد کیجیے۔۔۔۔

کیا ہم نے سال نو کی خوشی میں بارڈر پر کھڑے فوجی کو شریک کیا۔ کیا ہمیں سال نو کی خوشی میں کشمیر کی مائیں بہنیں یاد آئی؟ کیا ہمیں اس سال نو کی خوشی میں  پتھر کھانے والے کشمیری یاد آئے ؟ کیا ہمیں اس انگریزی سال کی خوشی میں وہ نڈر و دلیر یاد آئے جو جابر فوج کے سامنے بھی پاکستان سے رشتہ کیا ، لا الہ اللہ کا نعرہ بلند کرتے تھے۔
کیا ہمیں وہ یاد رہے جو پاکستانی پرچم میں لپٹ کر دفن ہوتے رہے۔
کیا ہمیں وہ علمائے کرام یاد آئے جو ہمیں توحید کی دعوت دیتے رہے اور امسال منوں مٹی تلے دب گئے؟
ہم نے اس سال کے شروع ہونے کی خوشی میں عہد وپیماں تو کر ڈالے لیکن ہمیں وہ عہد و پیمان یاد آئے جو کشمیری شہدا نے ہم سے کیے تھے
ہاں وہی  شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں ۔۔۔

لہو ہمارا بھلا نہ دینا

قسم ہے تم کو اے سرفروشو عدو

ہمارا بھلا نہ دینا!!!

کیا ہمیں اس سال نو کی خوشی میں وہ ہیرو یاد رہے جنہوں نے اپنے خون سے داستانِ ہمت و شجاعت لکھی۔
کیا ہم نے  قدس کے میدانوں میں تحفظ قبلہ کے لیے جانیں دینے والوں کو اس خوشی میں شریک کیا یا انہیں یاد بھی کیا؟
اگر ایسا نہیں تو آئیں ایک کام کریں ۔یہ سال انکے نام کریں۔
یہ سال اپنے گھر بار سے دور ہر اس فوجی کے نام جسکے قدم مملکت خداداد کی حفاظت کے لیے غبار آلود ہوتے ہیں۔
یہ سال ان شہدا کے نام جنہوں نے اپنے خون سے تحریک آزادی کشمیر کو پروان چڑھایا۔
یہ سال ان کے نام جنہوں نے ملک و قوم کی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے اپنی بیٹیوں کو غیر محفوظ بنا دیا۔
یہ سال ان کم سن کشمیریوں کے نام جنہوں نے جابر فوج کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔
یہ سال ان حریت پسندوں کے نام جنہوں نے پاکستان و اسلام سے محبت کی سزائیں کاٹی۔
یہ سال ان کے نام جنکی زندگی کا مقصد “سب سے پہلے اسلام و پاکستان “ہے
یہ سال ان راہنماؤں کے نام جنہوں نے امیر المجاہدین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی کے جرم میں بے پناہ پابندیاں جھیلیں۔
یہ سال ان عظیم ماؤں کے نام جنہوں نے اپنے بیٹوں کو سلمان خان یا ہرتک روشن نہیں بلکہ قاسم و برہان بنایا اور معاذ و معوذ کے نقش قدم پر چلایا۔
یہ سال محمد بن قاسم کے ان جانشینوں کے نام جنہوں نے  اپنے خون بہائے۔
یہ سال قاسم و برہان کے ان وارثوں کے نام جنہوں نے کلمہ طیبہ کی سربلندی کے لیے کشمیر کے لالہ زاروں پر اپنا خون پیش کیا۔
یہ سال ہر اس بندے کے نام جو مملکت خداداد و دین اسلام کے لیے ایک قدم بھی چلا۔ یا اسن ے اپنے پسینے کا ایک قطرہ بھی بہایا۔
آئیں آج سے عہد کریں۔ یہ سال ہم نے جن کے نام کیا ہے ۔ ہم انکی دل و جان سے قدر کریں گے۔ انکو اخلاقی و مالی سپورٹ کریں گے۔ کسی پروپیگنڈا کا شکار نہ ہونگے۔ نئے سال میں نئے طریقوں سے دین و ملک کی خدمت کریں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *