خلافت سے کربلا تک : حضرت عثمان رضی الله عنہ کا انتخاب۔چھٹی قسط)

حضرت عثمان رضی الله عنہ کا بحیثیت خلیفہ انتخاب

حضرت عمر رضی الله عنہ نے اپنے آخری دور میں ایک خواب دیکھا اور اس کے بعد اپنی وفات کی صورت میں خلیفہ کے لیے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنا دی – اس کمیٹی نے اپنے میں سے کسی ایک کو بحیثیت خلیفہ منتخب کرنا تھا – اس کی تفصیل اس روایت میں موجود ہے :
“عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَذَکَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ کَأَنَّ دِيکًا نَقَرَنِي ثَلَاثَ نَقَرَاتٍ وَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا حُضُورَ أَجَلِي وَإِنَّ أَقْوَامًا يَأْمُرُونَنِي أَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَکُنْ لِيُضَيِّعَ دِينَهُ وَلَا خِلَافَتَهُ وَلَا الَّذِي بَعَثَ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ عَجِلَ بِي أَمْرٌ فَالْخِلَافَةُ شُورَی بَيْنَ هَؤُلَائِ السِّتَّةِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ وَإِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا يَطْعَنُونَ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَنَا ضَرَبْتُهُمْ بِيَدِي هَذِهِ عَلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَأُولَئِکَ أَعْدَائُ اللَّهِ الْکَفَرَةُ الضُّلَّال”
“معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے جمعہ کے دن اپنے خطبہ میں اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماریں اور میں اس سے یہی خیال کرتا ہوں کہ میری موت قریب ہے -کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں اپنا خلیفہ مقرر کر دوں اور اللہ تعالیٰ اپنے دین اور خلافت اور اس چیز کو جسے دے کر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا ہے ضائع نہیں کرے گا- اگر میری موت جلد ہی آجائے تو خلافت مشورہ کے بعد ان چھ حضرات کے درمیان رہے گی جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی وفات تک راضی رہے اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ جن کو خود میں نے اپنے ہاتھ سےاسلام کے لیے مارا ہے اس معاملہ میں طعن کریں گے اگر انہوں نے اس طرح کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے دشمن اور کافر گمراہ ہیں”
(صحیح مسلم ، باب بَابُ نَهْيِ مَنْ أَكَلِ ثُومًا أَوْ بَصَلًا أَوْ كُرَّاثًا أَوْ نَحْوَهَا )
ان چھ حضرات کے نام ہمیں مندرجہ ذیل روایت میں ملتے ہیں :
إِنِّي لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الأَمْرِ مِنْ هَؤُلاَءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنِ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الخَلِيفَةُ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، فَسَمَّى عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ المُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ، كَانَ لَكَ مِنَ القَدَمِ فِي الإِسْلاَمِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ، فَقَالَ: لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي وَذَلِكَ كَفَافًا لاَ عَلَيَّ وَلاَ لِي، أُوصِي الخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الأَوَّلِينَ خَيْرًا، أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ، وَأَنْ يَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ، وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَأَنْ [ص:104] لاَ يُكَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ ”
“میں اس امر خلافت کا مستحق ان لوگوں سے زیادہ کسی کو نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حال میں وفات پائی کہ ان لوگوں سے راضی تھے میرے بعد یہ جس کو بھی خلیفہ بنالیں تو وہ خلیفہ ہے- اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو- اور عثمان، علی، زبیر، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص (رضی الله عنہم ) کا نام لیا اور ایک انصاری نوجوان آیا اور عرض کیا کہ اے امیرالمومنین آپ اللہ بزرگ وبرتر کی رحمت سے خوش ہوں آپ کا اسلام میں جو مرتبہ تھا وہ آپ جانتے ہیں پھر آپ خلیفہ بنائے گئے اور آپ نے عدل سے کام لیا پھر سب کے بعد آپ نے شہادت پائی۔ عمر نے فرمایا کہ اے میرے بھتیجے کاش میرے ساتھ معاملہ مساوی ہوتا کہ اس کے سبب سے نہ مجھ پر عذاب ہوتا اور نہ ثواب ہوتا میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کا حق پہنچائیں اور ان کی عزت کی حفاظت کرنا اور میں انصار کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں جنہوں نے دارالجرت اور ایمان میں ٹھکانہ پکڑا ان کے احسان کرنے والوں کے احسان کو قبول کریں اور ان کے بروں کی برائی سے درگزر کریں اور میں اس سے وصیت کرتا ہوں اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کا کہ ان کے (ذمیوں) عہد کو پورا کریں اور ان کے دشمنوں سے لڑے اور ان کی طاقت سے زیادہ ان پر بوجھ نہ لادیں۔ ”
(صحیح بخاری ، حدیث نمبر ١٣٩٢)
سنن الکبری ٰٰ للبہیقی میں کی ایک روایت میں ان ناموں کے ساتھ کمیٹی کے افراد کو خلیفہ بننے کی صورت میں حضرت عمر رضی الله عنہ کی طرف سے کی گئی چند اصولی ہدایات بھی موجود ہیں – ہم طوالت سے بچنے کے لیے صرف متعلقہ حصہ نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں –
” وَإِنَّ الْأَمْرَ إِلَى سِتَّةٍ: إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , وَطَلْحَةَ , وَسَعْدٍ , ثُمَّ إِنَّ قَوْمَكُمْ إِنَّمَا يُؤَمِّرُونَ أَحَدَكُمْ أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ , فَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عُثْمَانَ , فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ , وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , فَلَا تَحْمِلَنَّ أَقَارِبَكَ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ , وَإِنْ كُنْتَ عَلَى شَيْءٍ يَا عَلِيُّ , فَلَا تَحْمِلَنَّ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ , ”
“لہٰذا خلافت کا معاملہ ان چھ افراد کے درمیان رہے گا : عثمان، علی، عبدالرحمن، زبیر، طلحہ اور سعد – پھر اگر یہ تم تینوں میں سے کسی کو خلیفہ بنا دیں تو اے عثمان اگر تمہیں یہ ذمہ داری ملے تو لوگوں پر ابو محیط کے خاندان کو مسلط نہ کرنا ! اور اے عبدالرحمن اگر تمہیں لوگوں کی ذمہ داری ملے تو دیکھنا لوگوں کی گردنوں پر اپنے اقارب کو نہ لادنا ! اور اے علی اگر یہ ذمہ داری تمہیں ملے تو بنو ہاشم کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا – ”
مزید فرمایا :
” فَإِنْ حَدَثَ بِي حَدَثٌ فَلْيُصَلِّ لِلنَّاسِ صُهَيْبٌ مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ ثَلَاثَ لَيَالٍ , ثُمَّ أَجْمِعُوا فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَشْرَافَ النَّاسِ وَأُمَرَاءَ الْأَجْنَادِ , فَأَمِّرُوا أَحَدَكُمْ , فَمَنْ تَأْمَّرَ عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ
اگر میری موت واقعہ ہو جاۓ تو بنو جدعان کے غلام صہیب تین دن رات تک لوگوں کی امامت کروائیں گے – اس دوران لوگوں میں سے معزز اور لشکروں کے امیر مشورے سے اپنا امیر منتخب کر لیں – اور اگر کوئی بغیر مشورے کے بننے کی کوشش کرے تو اس کی گردن اڑا دو –”
(سنن الکبری ٰٰ للبہیقی ، حدیث نمبر ١٦٥٨٠، و سندہ صحیح )
جب حضرت عمر رضی الله عنہ کی شہادت ہو گئی تو ان چھ افراد میں مشورہ ہوا – اس کی تفصیل کچھ یوں ہے :
” أَنَّ المِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الرَّهْطَ الَّذِينَ وَلَّاهُمْ عُمَرُ اجْتَمَعُوا فَتَشَاوَرُوا، فَقَالَ لَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: «لَسْتُ بِالَّذِي أُنَافِسُكُمْ عَلَى هَذَا الأَمْرِ، وَلَكِنَّكُمْ إِنْ شِئْتُمُ اخْتَرْتُ لَكُمْ مِنْكُمْ»، فَجَعَلُوا ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمَّا وَلَّوْا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَمْرَهُمْ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَتَّى مَا أَرَى أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يَتْبَعُ أُولَئِكَ الرَّهْطَ وَلاَ يَطَأُ عَقِبَهُ، وَمَالَ النَّاسُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُشَاوِرُونَهُ تِلْكَ اللَّيَالِي، حَتَّى إِذَا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أَصْبَحْنَا مِنْهَا فَبَايَعْنَا عُثْمَانَ، قَالَ المِسْوَرُ: طَرَقَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَعْدَ هَجْعٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَضَرَبَ البَابَ حَتَّى اسْتَيْقَظْتُ، فَقَالَ: «أَرَاكَ نَائِمًا فَوَاللَّهِ مَا اكْتَحَلْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بِكَبِيرِ نَوْمٍ، انْطَلِقْ فَادْعُ الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا»، فَدَعَوْتُهُمَا لَهُ، فَشَاوَرَهُمَا، ثُمَّ دَعَانِي، فَقَالَ: «ادْعُ لِي عَلِيًّا»، فَدَعَوْتُهُ، فَنَاجَاهُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ عَلَى طَمَعٍ، وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَخْشَى مِنْ عَلِيٍّ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ لِي عُثْمَانَ»، فَدَعَوْتُهُ، فَنَاجَاهُ حَتَّى فَرَّقَ بَيْنَهُمَا المُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ، فَلَمَّا صَلَّى لِلنَّاسِ الصُّبْحَ، وَاجْتَمَعَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ عِنْدَ المِنْبَرِ، فَأَرْسَلَ إِلَى مَنْ كَانَ حَاضِرًا مِنَ المُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، وَأَرْسَلَ إِلَى أُمَرَاءِ الأَجْنَادِ، وَكَانُوا وَافَوْا تِلْكَ الحَجَّةَ مَعَ عُمَرَ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا تَشَهَّدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، يَا عَلِيُّ إِنِّي قَدْ نَظَرْتُ فِي أَمْرِ النَّاسِ، فَلَمْ أَرَهُمْ يَعْدِلُونَ بِعُثْمَانَ، فَلاَ تَجْعَلَنَّ عَلَى نَفْسِكَ سَبِيلًا»، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَالخَلِيفَتَيْنِ مِنْ بَعْدِهِ، فَبَايَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَبَايَعَهُ النَّاسُ المُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ، وَأُمَرَاءُ الأَجْنَادِ وَالمُسْلِمُونَ”
” مسور بن مخرمہ سے روایت کرتے ہیں وہ لوگ جنہیں حضرت عمر رضی الله عنہ نے خلافت کا اختیار دیا تھا جمع ہوئے اور مشورہ کیا کہ ان لوگوں سے عبدالرحمن نے کہا کہ میں تم سے اس معاملہ میں جھگڑنے والا نہیں ہوں، لیکن اگر تم چاہو تو تم ہی میں سے کسی کو تمہارے لئے منتخب کر دوں، چنانچہ ان لوگوں نے یہ معاملہ عبدالرحمن پر چھوڑ دیا جب ان لوگوں نے عبدالرحمن کے پیچھے ہوئے یہاں تک کہ ان بقیہ لوگوں میں سے کسی کے پاس ایک آدمی بھی نظر نہیں آتا تھا لوگوں عبدالرحمن رضی الله عنہ ان راتوں میں مشورہ کرتے رہے یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس کی صبح میں ہم لوگوں نے حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، مسور کا بیان ہے کہ تھوڑی رات گزر جانے کے بعد عبدالرحمن نے میرا دروازہ اس زور سے کھٹکھٹایا کہ میری آنکھ کھل گئی انہوں نے کہا کہ میں تمہیں سوتا ہوا دیکھتا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم، ان راتوں میں میری آنکھ بھی نہیں لگی، تم چلو اور زبیر اور سعد کو میرے پاس بلاؤ میں ان دونوں کو بلا لایا، چنانچہ میں نے انہیں بھی بلا لیا، ان سے بہت رات گئے تک سرگوشی کرتے رہے، پھر حضرت علی کے پاس سے اٹھے تو ان کے دل میں خلافت کی امید تھی اور عبدالرحمن کو ان کی خلافت سے اختلاف امت کا اندیشہ تھا (جیسا کہ حضرت عمر نے اشارہ فرما دیا تھا کہ جن لوگوں میں نے اپنے ہاتھوں سے مار مار کر میں نے اسلام میں داخل کیا وہ اس امر طعن کریں گے)، پھر عبدالرحمن نے کہا حضرت عثمان کو بلا لاؤ تو ان سے سرگوشی کرتے رہے، یہاں تک کہ صبح کی اذان نے ان کو جدا کیا، جب لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور یہ لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ موجود تھے ان کو بلا بھیجا اور سردارانِ لشکر کو بلا بھیجا، یہ سب لوگ حج میں حضرت عمر رضی الله عنہ کے ساتھ شریک ہوئے تھے، جب سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت عبدالرحمن نے خطبہ پڑھا پھر کہا کہ اما بعد اے علی میں نے لوگوں کی حالت پر نظر کی ہے تو دیکھا کہ وہ عثمان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے ہیں اس لئے تم اپنے دل میں میری طرف سے کچھ خیال نہ کرنا، تو حضرت علی نے (حضرت عثمان سے کہا) میں اللہ اور اس کے رسول اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دونوں خلیفہ کی سنت پر تمہارے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں عبدالرحمن نے بھی بیعت کی اور تمام لوگوں نے مہاجرین و انصار، سرداران لشکر اور مسلمانوں نے بیعت کی۔
(صحیح بخاری، کتاب الاحکام ، حدیث نمبر ٧٢٠٢)
تیسرے خلیفہ راشد کے انتخاب کی یہ کچھ تفصیل تھی – انشاء الله اگلے مضامین میں ہم حضرت عثمان رضی الله عنہ کے گورنروں کی تاریخ، ان کا کردار اور فتنہ کے آغاز کا جائزہ لیں گے –

حسنات محمود
حسنات محمود
سائنس و تاریخ شوق، مذہب و فلسفہ ضرورت-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *