دوسری شادی، گنہگار مرد ہی کیوں؟۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

بہت دنوں سے لگ رہا ہے کہ فیس بک پر دوسری شادی کے بارے میں لکھنا ہر طرح سے مقبول ہوتا جا رہا ہے، جس کا سہرا ایک معزز محترمہ کے سر جاتا ہے، جو کافی غور و فکر کے بعد   اپنے قلم کو حرکت دیتی ہیں اور اس معاملے میں معاشرے کے خام ذہن کو کندن بنانے کی ایک بہترین کوشش میں مشغول ہیں.

سوال یہ ہے، اور سوال سے زیادہ ایک مسئلہ بھی ہے کہ کیا کوئی اپنی بیٹی، بہن، بھانجی، بھتیجی یعنی کہ عورت کا جو بھی رشتہ ہو اس کو سامنے رکھ کر کسی ایسے مرد سے بیاہنے پر تیار ہوجاتا ہے جس کی پہلے سے ہی ایک بیوی موجود ہو، شادی شدہ ہو؟

کیا ہمارے ملک میں لڑکی کے گھر والے باآسانی راضی ہو جاتے ہیں اپنی بیٹی کو کسی کی سوتن بنانے پر؟

بالکل بھی نہیں یہ بات کہنے میں اور لکھنے میں بہت آسان ہے کہ ہر اس مرد کو جو صاحبِ استطاعت ہو دوسری   یا تیسری شادی کرلینی چاہیے ، لیکن اس بات پر کوئی سوچتا ہی نہیں کہ جب ایک جناب باعزت طریقے سے کسی کی بیٹی کا رشتہ لے کر اس کے گھر جاتے  ہیں ،  تو وہ لوگ ان کو کونسے انداز سے دیکھتے ہیں ، دھتکارا ہوا انداز بالکل واضح ہوتا ہے، ساتھ میں   ناک بھوں  بھی چِڑایا جاتا ہے رشتہ لے کر جانے والوں کو عجیب سی نظروں سے دیکھا جاتا ہے اور سب گھر والے اس جلدی میں ہوتے ہیں کہ کب یہ لوگ باہر نکلے اور جان چھوٹے ۔۔۔۔ایسے لوگ بےپناہ ہیں شاید ہی کچھ گِنے چُنے خاندان ایسے ہوں جو اس طرح سے آنے والے رشتے کو قبول کرلیں  لیکن ایسے لوگ ملنا انتہائی دشوار ہے.

موضوع پر لکھنے سے پہلے میں نے خود ایک محدود سی کوشش کی اپنے اردگرد کے لوگوں کی رائے جاننے کی، میں ایسے لوگوں کے پاس گیا جو مجھ سے تھوڑی سی شناسائی رکھتے تھے میں نے ایک خیالی خاندان بنایا اپنے ذہن میں اور ایک صاحب کی شخصیت کی بھی بنیاد رکھی، جب میں نے ان صاحبان کے سامنے اپنا مدعا بیان کیا جو کچھ اس طرح  سے تھا ۔۔۔۔

” میرا ایک دوست ہے جو کہ صاحب حیثیت و استطاعت ہے اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے لئے ایک اور نیک سیرت بیوی تلاش کرے تاکہ وہ اپنے فرائض کو پورا کر سکے جو کہ سنت کے عین مطابق ہے، اور اس سلسلے میں اس نے مجھ سے بھی مدد مانگی ہے، میں آپ کے پاس آیا ہوں آپ کے گھر میں بھی اگر کوئی شادی کے قابل بہن ہو تو میں ان   صاحب سے بات کر سکتا ہوں”

کچھ دوستوں نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میں ان کا خاندانی دشمن ہوں اور وہ مجھے کچا چبانے کا سوچ رہے ہیں، بعض نے تو پاگل قرار دیا اور مجھے میرا دماغ چل جانے کا طعنہ دیا. ایک نے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے  میرا قتل اس پر واجب ہو گیا ہو۔
ایک انتہائی بزرگ محترم سے پوچھا انہوں  نے نہایت پرمغز تجزیہ سنایا۔۔۔جس  کے الفاظ کچھ یوں تھے۔۔

” ایسی شادی کے لئے صرف وہ لوگ ہی تیار ہوجاتے ہیں جن کی بہن، بیٹی کی یا تو عمر زیادہ ہو گئی ہو یا پھر کوئی مجبوری ہو، مجبوری معاشی بھی ہوسکتی ہے گھریلو بھی اس کے علاوہ کوئی اپنی بیٹی کو ایک ایسے گھر میں کبھی نہیں بھیجے گا جہاں شوہر کی ایک بیوی پہلے سے موجود ہو خواہ بہن، بیٹی گھر بیٹھی رہے اور بوڑھی ہوکر مر جائے”

یہ ایسی حقیقت ہے جس سے منہ نہیں موڑا جاسکتا اور یہ سو میں سے نوے گھرانوں کی کہانی ہے کوئی اپنی بیٹی کا نکاح ایک شادی شدہ مرد سے پڑھانے کو بالکل تیار نہیں ہوتا۔۔۔

پاکستان کے باقی علاقوں کی  تو مجھے کچھ خاص معلومات نہیں لیکن پٹھانوں کے رسم و رواج کے مطابق ایسی بات کو لوگ گالی کے طور پر ضرور لیتے ہیں، اور انتہائی مجبوری کے بغیر ہی شاید کوئی کسی کے گھر اس طرح کا رشتہ لے جانے پر راضی ہو جائے ورنہ ایسے اقدام سے کتراتے ہیں.

معاشرے کی اصلاح معمولی بات نہیں، بعض معاشرے ایسے ہوتے ہیں جہاں اس طرح کی دوسری شادی کے لئے لڑکی کے گھر والے کچھ خاص پس و پیش نہیں کرتے جو کہ عرب ممالک میں عام ہے لیکن مملکت خدادا میں شاید ہی اس طرح کا معاشرہ   وجود پا سکے، جہاں لوگ اپنی بیٹی کو ایک شادی شدہ مرد سے بیاہنے کو معیوب نہ سمجھیں .

بہت سے گھروں میں لڑکیوں کی عمر انہی وجوہات کی بنا پر زیادہ ہو جاتی ہے کہ ان کو اپنی پسند کا رشتہ تو ملتا نہیں اور وہ اپنی جھوٹی انا اور ضد کی خاطر اس طرح کے فرائض کو پورا کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

لہذا عرض یہ ہے کہ اکیلے صاحب استطاعت مردوں کی ہی غلطی نہیں کہ وہ دوسری شادی نہ کرکے گناہ گار بن رہے ہیں، بلکہ ان ماؤ ں اور بیٹیوں کی بھی اتنی ہی غلطی ہے جو اس معاملے میں سنت کی بجائے ایک گھر ،ایک خاوند ،ایک بیوی کی حاکمیت و حکومت کو ترجیح دیتی ہیں.

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا کبھی اپنی کاوش کو قابلِ اشاعت نہیں سمجھا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *