نبی کریم بڑے عالم تھے یا جبرائیل ؟؟۔۔۔۔۔۔ ابوبکر قدوسی

اہلِ علم دوستوں   نے  کچھ سوال پوچھے ہیں ۔۔جن کے جواب  حاضر ہیں

سوال سے مطلب پہلی پوسٹ-
………….
رسول اللہ محبوب خدا اور وجہ تخلیق کائنات تھے۔ علم کا شہر تھے۔ ان کے پاس زیادہ علم تھا یا جبرئیل کے پاس؟
مجھے یقین ہے کہ رسول اللہ کے پاس زیادہ علم ہوگا کیونکہ وہ جبرئیل سے افضل تھے۔
پھر جبرئیل رسول اللہ کو کیا پڑھانے آتا تھا؟ جو ہستی مادی کائنات کی تشکیل سے پہلے وجود رکھتی تھی، کیا اسے علم نہیں دیا گیا تھا؟
…………..
مبشر زیدی کو اپنی معلومات کی بنیاد درست کرنا ہو گی – جب بات سنجیدہ ہو گی تو ضروری ہے دلائل بھی مستحکم ہوں نہ کہ کچی پکی باتیں – ان کے سوال میں پہلا جملہ ہی قران کی کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں – یہ کہ “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وجہ تخلیق کائنات تھے ” کسی بھی صحیح حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں – بلاشبہ آپ اللہ کی بہترین مخلوق انسان میں سے بہترین افراد انبیاء ، کے بھی سردار تھے –
اب یہ سوال کہ ان کے پاس زیادہ علم تھا یا جبرائیل کے پاس –
تو ہم آپ سے بلکہ سب دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ آئن سٹائن کے پاس زیادہ علم تھا یا ان کے استاد کے پاس ؟
دیکھیے جبرائیل بلاشبہ نبی کریم کو سکھانے آئے تھے ، سکھانے والا استاد ہوتا ہے – لیکن کیا ضروری ہے کہ استاد ہمیشہ ہی زیادہ علم والا رہے ؟
یہ بھی یاد رکھیئے گا کہ نبی کریم کو جو علم اللہ نے عطا کیا وہ سب جبرائیل کے ذریعے نہیں دیا گیا بلکہ اور ذرائع بھی اختیار کیے گئے –
خلاصہ تمام بات کا یہ ہے کہ جو علم اللہ نے جبرائیل کے ذریعے دیا اس میں بھی نبی کریم اس سے بڑے عالم تھے – اور جو خود ان کے علاوہ ملا اس میں تو برتری واضح ہے – آپ کی برتری کی یہ دلیل ہے کہ آپ نے اس علم سے اجتہاد بھی کیا ، نتایج بھی اخذ کیے ..جب کہ جبرائیل محض ناقل تھے ، پیغام بر –
فضیلت میں تو طے شدہ امر ہے کہ شاگرد بہت بار آگے نکل جاتے ہیں –
یہ کہنا کہ جبرائیل کیا پڑھانے آتا تھا ؟
ہم سوال کرتے ہیں کہ ایک صاحب نے  فزکس ، کمیسٹری اور ریاضی میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہو تو اس کے بعد ان کو فارسی میں ایم اے کرنا پر جائے تو استاد جو محض ایم اے پاس ہو اس کے پاس جانا ہوگا ؟
تو یہی سوال ہم کر سکیں گے کہ شاگرد علم میں ، مقام میں ، ہر لحاظ سے برتر ہے – اب استاد کیا پڑھانے آتا ہے ؟
آخر میں صاحب نے پھر کہا ہے کہ جو ہستی مادی کائنات کی تشکیل سے پہلے وجود رکھتی ہو کیا اسے علم نہیں دیا گیا تھا ؟
یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ مادی کائنات سے پہلے وجود کا ہونا ہی ثابت نہیں – خود نبی کریم نے خود کے بارے میں فرمایا کہ
” انا سید ولد آدم ”
اب آدم کی اولاد کا سردار ہونا تب ہی ممکن ہے جب آپ اولاد ہوں – اور جب آپ کو آدم علیہ السلام کی اولاد مان لیا جائے گا تو یہ بھی ماننا پڑے گا باپ پہلے ہوتا ہے نہ کہ اولاد – اب نبی کریم تو خود کو اولاد آدم قرار دے رہے ہیں اور دوست آپ کو مادی کائنات کی تشکیل سے بھی پہلے وجود پزیر قرار دے رہے ہیں –
سو یہ روایت ہی ثابت نہیں کہ آپ وجود کائنات سے پہلے ہی موجود تھے –
اس عقیدے کے ڈانڈے وحدت الوجود سے جا ملتے ہیں – کیوں کہ کائنات کی تشکیل سے پہلے صرف اللہ کی ہستی موجود تھی ..اب وحدت الوجود کی صورت میں ہی یہ عقیدہ مانا جا سکتا ہے – لیکن یہاں مشکل یہ ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے تو تمام تر بنی نوع انسانیت کو مادی کائنات سے قبل کا ماننا پڑے گا ، نہ کہ صرف نبی کریم کو –

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *