ٹوٹی کھڑکی۔۔۔۔۔وہارا امباکر

کسی شکستہ حال مکان کی شکستگی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ پہلی ٹوٹنے والی کھڑکی سے۔ شہر میں پڑے کچرے کے ڈھیر کن جگہوں پر بنتے ہیں؟ جہاں پر سب سے پہلی بار کچرا پھینکا جائے۔ یہ ٹوٹی ہوئی کھڑکی کی تھیوری ہے جو کریمنولوجی (جرائم کی سائنس) کا حصہ ہے۔ سب سے پہلے اس کو 1982 میں پیش کیا گیا اور نوے کی دہائی میں نیویارک میں امن قائم کرنے کے لئے اس کا سب سے پہلی بار استعمال ہوا۔

مارچ 1982 میں لکھے آرٹیکل سے اقتباس۔ “ایک بلڈنگ میں کھڑکی کا شیشہ ٹوٹا ہے۔ اس کی مرمت نہیں کروائی گئی۔ اس سے ایک نادانستہ پیغام گیا کہ یہ ایک معمول کی بات ہے۔ کچھ اور کھڑکیاں توڑ دی جائیں گی۔ پھر کوئی اندر ہی گھس جائے گا۔ اگر یہ خالی ہے تو لوگ رہنے کی جگہ بنا لیں گے۔ اگر کوئی سڑک ہے جہاں پر کچرا پھینک دیا گیا ہے اور اٹھایا نہیں گیا۔ کوئی اور چلتا ہوا اس کو کچرے کی جگہ سمجھ کر کچھ اور پھینک دے گا۔ کوڑے کے تھیلے یا ریسٹورنٹ کا بچا کھانا۔ اس سب کا آغاز پہلے غیر اہم واقعے کو نظر انداز کرنے سے ہوا۔ اس میں اچھی چیز یہ ہے کہ حل آسان ہے۔ کھڑکی کی مرمت کر دی جائے۔ سڑک کو روز صاف کر لیا جائے۔ مسئلہ بڑھے گا نہیں اور عزت دار لوگ ایسے علاقے چھوڑیں گے نہیں”۔

جرم کی سائنس میں اس تھیوری کا دعوی ہے کہ اگر چھوٹے جرائم کو معمول سمجھ لیا جائے تو بڑے جرائم جنم لیتے ہیں۔ ایک غیرمنظم جگہ یہ پیغام دیتی ہے کہ یہاں سب چلتا ہے۔ (یاد رہے کہ یہ متنازعہ ‘زیرو ٹولرنس’ سے مختلف ہے)۔

نیویارک کا سب وے سسٹم اس گنجان آباد شہر میں ٹرانسپورٹ کا ذریعہ ہے۔ آج ہر کوئی بلاخوف و خطر اس پر سفر کرتا ہے لیکن ستر اور اسی کی دہائی میں ایسا نہیں تھا۔ جرائم عام تھے۔ ٹرینوں کے ڈبوں اور سٹیشن پر وال چاکنگ ہر طرف تھی۔ ولیم بریٹون جب اس ادارے کے سربراہ بنے تو اس کو ٹھیک کرنے کا سوچا گیا۔ بروکن ونڈو تھیوری پیش کرنے والے کیلنگ کو کنسلٹنٹ رکھا گیا۔ آغاز اس ڈبوں کو صاف کر کے کیا گیا۔ بالکل صاف ڈبے اور اگر کسی نے کسی ڈبے پر ایک بھی جگہ نقش و نگار بنایا تو اس ڈبے کو فوری الگ کر لیا جاتا اور اس کو صاف کر کے ہی واپس لگایا جاتا۔ جلد ہی یہ گریفیٹی بالکل ختم ہو گئی۔ جو لوگ کرائے سے بچنے کے لئے گیٹ پھلانگ کر آ جاتے، ان کو گرفتار کر لیا جاتا اور پورا بیک گراؤنڈ چیک کیا جاتا۔ اس سے دو فائدے ہوئے۔ ایک تو ایسے لوگوں کا ٹرین پر سفر ختم ہو گیا، دوسرا یہ کہ ایسا کرنے والے کئی بار دوسرے جرائم میں بھی ملوث تھے اور مفرور تھے۔ بہت تھوڑے عرصے میں چھوٹے جرائم یعنی دیوار پر لکھنا اور گیٹ پھلانگنا روکنے سے نہ صرف پورا ٹرانسپورٹ کا نظام محفوظ ہو گیا بلکہ شہر میں جرائم کم ہو گئے۔

لیکن سوشل سائنس میں اس کو الگ کرنا ہے کہ کیا یہ بہتری اس پالیسی کی وجہ سے ہی تھی یا کچھ اور عوامل تھے؟ اس تجربے کو نیدرلینڈ کی یونیورسٹی آف گروننجن نے کئی کنٹرولڈ تجربات کر کے دہرایا۔ دو الگ علاقوں میں گند پھینکنے والوں کے ساتھ مختلف رویہ رکھ کر۔ ان سے اس تھیوری کے حق میں سپورٹ ملی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کچرا پھینکا روکا جائے تو اس علاقے میں چوریاں بھی کم ہو جاتی ہیں۔

اس کا کامیابی سے اطلاق دوسری جگہوں پر بھی کیا گیا ہے۔ اس میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لیکن مثبت نتائج کئی جگہ سے ملے ہیں۔

ساتھ لگی تصویر نیویارک سب وے کے ایک ڈبے کی، پہلی تصویر ستر کی دہائی کی ہے، دوسری آج کی۔

اس تھیوری کا اطلاق صرف جرائم پر نہیں۔ کئی اور جگہوں پر بھی ہے۔ مثلا، بزنس میں آرگنائزیشن کلچر پر۔ اس کا ایک لنک نیچے سے۔ اس کی ایک مثال یہ کہ جب پاکستان میں چند سال پہلے حکومت نے ایک اہم ادارے میں ریفارمز کے لئے بیرونِ ملک سے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کیں تو پہلا نکتہ اس رپورٹ پر تھا، “جس ادارے میں ٹوائلٹ خراب ہو جائے اور تین ماہ تک خراب رہے تو پھر خرابی صرف ٹوائلٹ تک نہیں رہتی۔ یہ ایک پیغام ہے کہ آپ اہم نہیں۔ بغیر توجہ دیے پورے ادارے شکست و ریخت کا شکار ہو جاتے ہیں”۔

اس تھیوری پر وکی پیڈٰیا سے
https://en.wikipedia.org/wiki/Broken_windows_theory

بزنس میں اس کے اطلاق پر
https://www.torbenrick.eu/…/broken-windows-theory-applied

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *