نوآبادیاتی نظام اور دانستہ قِحط سازی…..محمد عثمان

ہمارے ہاں نوآبادیاتی دور کو عام طور پرسائنسی ترقیات اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے مُثبت اور مثِالی دور سمجھا جاتا ہے۔ہمارے دانشور اور زرائع ابلاغ یہ تاثر پیدا کررہے ہوتے ہیں کہ انگریز سے پہلے کے مسلمان اور مقامی حکمران عیّاش، جاہل، قدامت پرست اور ظالم تھے جس کے نتیجے میں ہندوستانی معاشرہ بھی زوال پذیر اور پسماندہ تھا۔انگریز نے یہاں آکر عِلم و عقل اور سائنس کی شمع روشن کی، ریلوے کا نظام قائم کیا ، ایک مؤثر عدالتی اور  بِیوروکریٹک نظام قائم کیا اور یہاں کی اقوام کو ترقیات کی نئی دنیا سے روشناس کروایا۔گذشتہ چند سالوں میں ہونے والی تحقیق کے ذریعے اِس تاثر کو غط ثابت کرنے کے لئے بہت سا علمی مواد سامنے آرہا ہے۔تمام علمی مواد اگر پڑھنا ممکن نہ بھی ہو تو  ہندوستان میں نوآبادیاتی اَدوار میں آنے والے قِحطوں کے مختصر تعارف سے ہی اس ”پُرکشش“ افسانے کی قَلعی کھلنے لگتی ہے۔ اپنے ماضی اور حال کا درست تناظر میں تجزيہ کرنے  اور مستقبل کے حوالے سے دور رَس حِکمت عملی اپنانے کے لئے تاریخ کی اِن گتھیوں کو سلجھانا انتہائی ضروری ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، نوآبادیاتی دور سے پہلے کی دو ہزار سالہ تاریخ کے دوران ہندوستان میں  17قابلِ ذکر قِحط  (ہر 117 سال بعد ایک قِحط ) آئے جن میں سے زیادہ ترقِحط  قدرتی آفات کا نتیجہ تھے۔اِس کے مقابلے میں 190 سالہ نو آبادیاتی دور میں 31 بڑے قِحط  (ہر چھٹے سال قِحط  یعنی  گذشتہ ادوار کے مقابلے میں 20 گنا اضافہ) آئے جِن میں زیادہ تر ریاستی لاپرواہی  اور دانستہ مِس مینجمنٹ کا نتیجہ تھے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نوآبادیاتی دور میں زرائع ابلاغ اور زرائع آمد و رفت میں خاطر خواہ بہتری پیدا ہوچکی تھی۔ ایسے میں کِسی ایک علاقے میں پیدا شدہ قِحط  کو باآسانی دوسرے علاقے سے امدادی سرگرمیوں کے زریعے کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ لیکن صورتِ حال اِس کے برعَکس رہی اور ہر چند سالوں کے بعد ملک قِحط  کا شکار ہوتا رہا۔انگریز کا دور کِس درجے بے حسی، سفاکی اور بد نظمی کا مظاہرہ تھا، اِس کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انگریز کے جانے کے بعد بھی ہمارے حالات قابلِ تعریف نہیں ہیں اور مقامی حکمران اشرافیہ لوٹ ماراور عوام کے استحصال  میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی،لیکن اس کے باوجود پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں پچھلے ستر سال کے دوران ایک بھی بڑا قِحط  نہیں آیا۔

دانِستہ قِحط  سازی کسی بھی ریاست کا شہریوں کو مارنے کا سفاک ترین طریقہ ہے۔ بندوق یا بم سے شہریوں کو مارنا تو بہت آسان اور فوری عمل ہے۔ آپ ایک لائن میں لوگوں کو کھڑا کریں اور ایک فوجی کو بندوق پکڑا دیں۔ وہ چند گھنٹوں میں ہزاروں انسانوں کو قتل کردے گا۔ اِسی طرح آسمان سے بم برسا کر آپ آناً فاناً بستیاں اجاڑ سکتے ہیں۔ لیکن اِنسانوں کو بھوک سے مارنا نِسبتا” طویل، منصوبہ بند اور تھکا دینے والا عمل ہے۔ ایک بار بھوک سے مرتے کِسی شخص کی حالت کا اندازہ کیجئے۔ خوراک کی تلاش میں اس نے کیا کیا جتن کئے ہونگے۔  سب سے پہلے اس شخص کے جسم میں موجود چربی گھلنا شروع ہوگی۔ اس کے کچھ دن بعد جسم پر موجود باقی گوشت بھی گھلنے لگے گا۔ جسم میں لاغر پن کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ پھر جاکر کہیں بارہویں چودہویں دن وہ شخص جان سے جائے گا۔ اور یہ تو ایک شخص کے مرنے کا عمل ہے۔ اندازہ کیجئے کہ قِحط  کا دورانیہ تین چار سال چلے جس میں لاکھوں لوگ بھوک سے مارے جائیں اور کسی حکمران کے کان پر جوں تک نہ رینگے۔ اِس دوران انسانوں پر نہ جانے کیسی کیسی کیفیات آئی ہوں گی۔اپنی آنکھوں کے سامنے بھوک سے بلبلاتے بچوں کا دم توڑنا کیسا اذیت ناک عمل ہوگا! پہلےپہل لوگوں نے مکروہ اور حرام جانور کھائیں ہوں گے۔ لیکن کچھ عرصے بعد وہ جانور بھی ختم ہوگئے ہونگے۔ پھر اِنسانوں نے ایک دوسرے کو  زندہ یا مردہ کھانا  شروع کردیا ہوگا۔ لیکن یہ سب لامحدود عرصے  تک تو جاری نہیں رہ سکا ہوگا۔ کتنے لوگوں نے اپنے ہم جنسوں کا گوشت کھانے کی بجائے موت کو گلے لگانے کو ترجیح دی ہوگی!یاد رہے کہ یہ سب  ایک ایسے خطے میں رہا تھا جو انتہائی زرخیز اور خوراک کے حوالے سے خود کفیل تھا۔

 

 

 

 

 

نوآبادیاتی دور میں ایک اندازے کے مطابق کم و بیش چار کروڑ انسان لقمہءاجل بنے۔ ان قِحطوں میں بنگال میں آنے والے دو قِحطوں کا تذکرہ اہم ہے۔مضمون کے سر ورق پر دی گئی تصویر افریقہ کے کسی ملک میں قحط کے شکار لوگوں کی نہیں بلکہ بنگال کے قحط سے بلکتے انسانوں کی ہے۔ پہلا قِحط  اس وقت آیا جب انگریز نے تازہ تازہ ہندوستان پر اپنے پنجے گاڑنا شروع کئے تھے۔ 1757ء کی جنگ پلاسی میں سراج الدولہ کو شکست دے کر انگریز بنگال پر قابض ہوچکے تھے۔ 1770ء کی دہائی میں آنے والے قِحط  میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک کروڑ انسان (جی ہاں ایک کروڑ انسان!)  بھوک سے مرے۔ یاد رہے کہ اس وقت بنگال کی کل آبادی تین کروڑ تھی۔ یعنی آج کی بنگال کی آبادی کے حساب سے آپ نےبارہ کروڑ سے زائد انسان قتل کئے۔ قِحط  کی وجہ کیا بنی؟ یہی کہ آپ نے کسانوں پر بھاری ٹیکس لگائے اور  کھانے پینے والی فصلیں اگانے پر پابندی لگا کر انہیں افیم کاشت کرنے پر مجبور کیا تاکہ یہ افیم چِین کے شہریوں کو بیچی جاسکے۔

 

 

 

 

چِین ایک خودکفیل اور ترقی یافتہ  معاشرہ تھا جو انگریزوں سے کچھ نہیں خریدتا تھا جبکہ انگریز وں کو اُن سے بہت کچھ خریدنا پڑتا تھا۔ تجارت کے اِس عدم توازن کو ختم کرنے کے لئے چِینیوں کو افیم پر لگایا گیا۔ جب چِینی حکمرانوں نے افیم کی درآمد پر پابندی لگائی تو اُن پر جنگیں مسلط کی گئیں اور بالآخر انہیں گھٹنے ٹیک کر افیم کی درآمد کی دوبارہ اجازت دینی پڑی۔ چِینیوں کو اپنے اوپر مُسلّط کردہ جنگ کے اخراجات بھی ادا کرنے پڑے جبکہ ہانگ کانگ جیسے علاقوں پربھی انگریز نے قبضہ  کرلیا۔افیم کےمضر اثرات سے  نکلنے اور دنیا کی ایک محنتی قوم بننے میں چِین کو کئی دہائیاں جدوجہد کرنی پڑی۔  یہ تھیں وہ ” اعلٰی اخلاقی اقدار“ اور ”علمی ترقی“ جس کا ڈھنڈورہ پیٹتے آج ہمارےمغرب سے  مرعوب  دانش ور تھکتے نہیں ہیں۔

دوسرا قِحط  اُس وقت پڑا جب انگریز اس خِطے سے (کم از کم جسمانی طور پر) جانے والا تھا۔ 1941ءسے لے کر1944ء تک جاری رہنے والے  اس قِحط  میں چالیس لاکھ سے زیادہ انسان جاں بحق ہوئے۔ یہی وہ قِحط  ہے جس میں ریاستی گودام خوراک سے لبا لب بھرے ہوئے تھے لیکن یہ گودام بھوک سے بلکتے ہندوستانیوں کی بھوک دور کرنے کے لئے میسر نہیں تھے۔ اِن گوداموں کو دوسری جنگ ِعظیم میں برطانوی افواج کے لئے بطور حفاظتی تدبیر کے سنبھال کر رکھا گیا۔ہندوستان میں تاجِ برطانیہ کے نمائندوں نے بار بار برطانوی وزیر اعظم چرچل سے گوداموں میں پڑی خوراک کو استعمال کرنے کی اجازت طلب کی ،جسے نسل پرست اور جنونی چرچل نے یہ کہتے ہوئے  ٹھکرا دیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہاں قِحط  کی کیفیت ہے جبکہ گاندھی تو ابھی تک زندہ ہے!  آج ہٹلر تو ہر جگہ بدنام ہے لیکن ہندوستانی قوم کی نسل کشی کرنے والا چرچل دینا میں سیاسی دانش اور ادبی مہارت کے حوالے سے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم نوآبادیاتی دور کا مُتوازن شعور حاصل کریں، اپنے آباؤ اجداد کی ماضی میں کی گئی غلطیوں کےساتھ ساتھ اُن اِنسان دوست اصولوں کاتعارف بھی حاصل کریں، جن کے زریعے یہ خطہ سونے کی چڑیا اور دنیا کا خوشحال ترین علاقہ بنا۔ جہاں پہنچنا تمام دنیا کے باسیوں کا خواب تھا۔  اِسی طرح حملہ آوروں کے ظلم و ستم اور اِستحصال کے ساتھ ساتھ ان کی ان کی حکمت عملی اور نظم و ضبط کا تعارف بھی حاصل کریں، اپنے مطالعہ کو بڑھائیں، اپنے خطے کی روشن تاریخ کو کھوجنے کی جستجو کریں، مرعوبیت سے نکلیں، اپنے اندر خود  اعتمادی پیدا کریں اور ایک ایسی منظّم و باصلاحیت اجتماعیت کا قیام عمل میں لائیں جو ہمارے معاشرے کو دورِ حاضرکے تقاضوں کے مطابق ترقی کی منازل طے کرنے کے قابل بنا سکے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *