ہمارا کائناتی سفر۔۔۔محمد شاہزیب صدیقی/حصہ دوئم

مشہور کاسمولوجسٹ کارل ساگان اکثر کہا کرتے تھے “ہم سب Star stuff ہیں”، وہ ایسا کیوں کہتے تھے؟ اس کو ہم نے پچھلے حصے میں کافی تفصیل سے سمجھا،کتنی حیران کن بات ہے کہ آج ہم میں موجود ایٹمز اور دیگر elements چار ارب سال پہلے کسی ستارے کے core کے اندر تشکیل پائے تھے ، ہمارے دانتوں میں موجود کیلشیم، خون میں دوڑتا آئرن، ڈی این اے میں موجود نائٹروجن ،سانسوں میں بسا آکسیجن کسی ستارے کی موت کی گواہی دے رہے ہیں۔۔۔۔ زمین پہ زندگی کو پنپنے کےلئے کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، آکسیجن، فاسفورس اور سلفر کی ضرورت تھی، اِن سب کا انتظام دیوہیکل ستاروں کی موت کی شکل میں ہوا، یوں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم ستاروں کی گرد (stardust)ہیں۔۔۔۔

اس سیریز کے پچھلے حصے میں ہم بگ بینگ سے لے کر سیاروں کے بننے تک کا سفر طے کرچکے تھے، مشاہدات بتاتے ہیں کہ شروعات میں زمین اور زہرہ ایک جیسے سیارے تھے، آج بھی ان کا سائز اور ان میں موجود عناصر ایک جیسے ہیں، اسی خاطر سیارہ زہرہ کو زمین کی بہن (sister planet) بھی کہا جاتاہے اگر زمین پہ کاربن، سلفر، نائٹروجن اور آکسیجن موجود ہیں تو یہی عناصر سیارہ زہرہ پر بھی موجود ہیں اور اس کی تصدیق ہمیں زہرہ سیارے پہ بھیجے جانے والے مشنز سے ہوئی.

محمد شاہزیب صدیقی کی اب تک مکالمہ پر پبلش ہوئی تمام تحریروں کا لنک

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ دونوں جڑواں سیارے تھے تو پھر ایسا کیا ہوا کہ دونوں کی راہیں جُدا ہوگئیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ جس جہنم نما وادی میں ہماری زمین نے آج سے ایک ارب سال بعد پہنچنا ہے ،اُس میں سیارہ زہرہ کروڑوں سال پہلے ہی پہنچ گیا؟اس معمے کو سُلجھانے کےلئے ہمیں 4۔5 ارب سال پیچھے کا سفر کرنا پڑے گا،…

کہتے ہیں کہ جب زمین وجود میں آرہی تھی یعنی ابھی زمین زیادہ تر پگھلے ہوئے لاوے پر مشتمل تھی تو اس دوران مریخ جتنا ایک سیارہ جس کا نام تھیا (Theia) تھا ، ہماری زمین سے ٹکرایا، اس ٹکراؤ کے نتیجے میں وہ خود تو زمین کا حصہ بن گیا مگر زمین کی بہت سی سطح اڑ کر خلاء میں بکھر گئی، خلاء میں بکھری اِس سطح یعنی پتھروں سے دو چاند وجود میں آئے، جنہوں نے زمین کا چکر لگانا شروع کردیا، وقت کے ساتھ ساتھ یہ دونوں پتھر مل گئے اور ایک چاند کی شکل میں آج ہمارے سامنے ہیں، اندازہ ہے زمین اور تھیا کے اس بھیانک ٹکراؤ کی وجہ سے ہی زمین اپنے محور پہ 23۔5 ڈگری تک جھکی ہوئی ہےاور اسی واقعے کی وجہ سے زمین کا مقناطیسی حصار بنا کیونکہ اس ٹکراؤ کے بعد زمین کی اپنے axisپر گھومنے کی رفتار تیز ہوگئی جس کے باعث زمین کی سطح کے نیچے پگھلے ہوئی دھاتوں نے حرکت شروع کی اور یوں زمین کے گرد مقناطیسی حصار قائم ہوگیا،جہاں ایک طرف زمین کے ساتھ یہ سب ہورہا تھا وہیں دوسری جانب سیارہ زہرہ کا بھی ایک بڑے سیارے سے ٹکراؤ ہورہا تھا،یہ ٹکراؤ اس قدر شدید تھا کہ سیارہ زہرہ (جو پہلے زمین کی طرح اپنے axis ہر گھوم رہا تھا) وہ کچھ وقت کے لئے رُکا اور اس کے بعد اس نے اُلٹا سپن کرنا شروع کردیا، آج بھی سیارہ زُہرہ اُلٹا گھوم رہا ہے اور یوں اپنے axis کے گرد وہ ایک چکر 116 دنوں میں مکمل کرتا ہے، یعنی اگر آپ سیارہ زہرہ پر ہوتو وہاں ایک دن تقریباً 116 زمینی دنوں کے برابر ہوگا، اور اُلٹا گھومنے کی وجہ سے وہاں سورج مغرب سے نکلتا ہے اور مشرق میں غروب ہوتا ہے.

کہا جاتا ہے کہ بروزِ قیامت سورج مغرب سے نکلے گا، یوں محاورتاً آپ کہہ سکتے ہیں کہ سیارہ زہرہ نظام شمسی کا وہ سیارہ ہے جہاں روز قیامت اترتی ہے… جیسے ہم نے جانا کہ سیارہ زہرہ کے اُس انجان سیارے سے ٹکراؤ کے بعد گھومنے کی رفتار بہت سست ہوگئی تھی جس وجہ سے اس کی سطح کے نیچے موجود پگھلی ہوئی دھاتیں حرکت نہ کرسکیں یوں سیارہ زہرہ کے گرد مقناطیسی حصار قائم نہ ہوسکا،یہی وہ پل تھا جہاں سے زمین اور زہرہ سیارے کی راہیں جُدا ہوگئیں… زمین کے گرد مقناطیسی حصار قائم ہوجانے کے باعث سورج کی خطرناک ریڈیشنز زمین تک نہ پہنچ سکیں جس کی وجہ سے یہاں زندگی کو پنپنے کا موقع ملااور زمین کا atmosphere خلاء میں بکھرنے سے محفوظ رہاجبکہ دوسری جانب سیارہ زہرہ کی فضاء آہستہ آہستہ خلاء میں بکھرنے لگی،اس کے علاوہ سورج کی خطرناک سولر ریڈیشنز نے وہاں زندگی کو پنپنے کا موقع بھی فراہم نہ کیا، وہاں ایک دن کا دورانیہ 116 دنوں پہ مشتمل ہوتا ہے جس وجہ سے اسکا جو حصہ سورج کی جانب ہوتا تھا وہ ناقابل برداشت حد تک گرم ہوجاتا، سیارہ زہرہ کی جانب بھیجی گئی خلائی گاڑیوں نے وہاں گرئنایٹ کے پتھر دیکھے، جنہوں نے سائنسدانوں کو ورطہ حیرت میں ڈبو دیا کیونکہ گرئنایٹ پتھر (یعنی ماربل) پانی کے بغیر نہیں بن سکتا.

یہی وجہ ہے کہ ہمارا اندازہ ہےکہ سیارہ زہرہ کے slow spin کی وجہ سے وہاں موجود پانی کے سمندر بھاپ بن کر اڑنا شروع ہوگئے جنہوں نے سیارے کے گرد آبی بخارات کے گہرے بادلوں کا ایک غلاف بنایا یوں گرین ہاؤس ایفیکٹ پیدا ہوا جسکی وجہ سے سورج سے آنے والی گرمی سیارے میں قید ہونا شروع ہوگئی اور آج اس سیارے کا نارمل درجہ حرارت 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، اس کی سطح پگھل کر لاوے کی شکل اختیار کرنا شروع ہوگئی جس کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ وافر مقدار میں فضاء میں پھیل گئی، آج سیارہ زہرہ کا atmospheric pressure اس حد تک زیادہ ہے کہ اگر کوئی گاڑی اس کی سطح پہ کھڑی کی جائے تو وہ چند سیکنڈ میں اس کے فضائی دباؤ (یعنی ہوا کے وزن)کے باعث پچک جائے گی، مقناطیسی حصار نہ ہونے کے باعث آج بھی سورج کی خطرناک سولر ریڈیشنز اس کی فضا میں سے پانی نکال کر خلاء میں بکھیرتے جارہے ہیں،اس کی تصدیق ہمیں Venus Express نامی پراجیکٹ کے ذریعے ہوئی جب ایک غیرانسانی اسپیس کرافٹ کو سیارہ زہرہ کی جانب بھیجا گیا ،اس دوران جب اس نے سیارہ زہرہ کے چکر لگائے تو اسے باقاعدہ سیارہ زہرہ کی فضاء سے ہائیدروجن اور آکسیجن کے ایٹمز خارج ہوتے ملے۔

آج اس سیارے کے حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ یہاں بھیجے جانے والی خلائی گاڑیاں کچھ ہی سیکنڈز میں تباہ ہوگئیں حالانکہ انہیں خصوصی طور پہ ایسے سخت ماحول کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا، سیارہ زہرہ پہ بارش تو ہوتی ہے مگر پانی کی نہیں بلکہ تیزاب کی، وہاں برف باری بھی ہوتی ہے مگر پانی کی نہیں بلکہ اُبلی ہوئی دھاتوں کی…۔ لیکن اس سب کے باوجودماہرین کو یوں لگتا ہے کہ ماضی میں سیارہ زہرہ پر شاید جرثوموں کی شکل میں زندگی موجود تھی، کیونکہ کچھ خوردبینی جرثومے ایسے بھی ہیں جو سولر ریڈیشنز کو برداشت کرسکتے ہیں،اور جہاں پانی ہوگا وہاں زندگی کے امکانات موجود ہونگے،اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ شروع کے ادوار میں سیارہ زہرہ ہماری زمین کی طرح پانی سے بھرپور تھا مگر وقت کے ستم نے اس کو زمین سے الگ راستے پہ لاکھڑا کیا۔

ماہرین کی یہ رائے بھی ہے کہ اگر ماضی میں سیارہ زہرہ پر کوئی زندگی جرثوموں کی شکل میں موجود تھی، تو وہ یقیناً پانی کے آبی بخارات کے ساتھ سیارہ زہرہ کے بادلوں میں پہنچ گئی ہوگی ،کیونکہ وہاں atmospheric pressure اور درجہ حرارت کم ہےاور آج بھی شاید سیارہ زہرہ کی سطح سے سینکڑوں کلومیٹر اوپر بادلوں میں زندگی موجود ہو…۔

بات یہاں تک رہے تو سب ٹھیک بھی لگتا ہے کہ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سیارہ زہرہ اگر ماضی میں زمین جیسا تھا تو مستقبل میں زمین ،سیارہ زہرہ جیسی بن جائے گی، یعنی اگر آج سے ایک ارب سال بعد کوئی خلائی مخلوق کسی اسپیس کرافٹ میں بیٹھ کر نظامِ شمسی کا چکر لگائے گی تو اسے دوبارہ سے سیارہ زہرہ اور زمین ایک جیسے سیارے دکھائی دیں گےلہٰذا اگر آپ کو زمین کا مستقبل دیکھنا ہے تو سیارہ زہرہ کو دیکھ سکتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے ایک ارب سال بعد جب ہمارا سورج اپنی موت کی جانب بڑھ رہا ہوگا تو اس دوران وہ پھیل کر وسیع ہونا شروع ہوجائے گا جس کی وجہ سے سب سے پہلے زمین پہ موجود پانی آبی بخارات بن کر اُڑ جائے گا اور زمین کے گرد ایک غلاف بنا لے گا جو سورج کی گرمی کو آنے تو دے گا مگر باہر نہیں جانے دے گا جس وجہ سے زمین کا درجہ حرارت دن بدن بڑھنا شروع ہوجائے گا ، بےشمار گیسز کے فضاء میں پھیل جانے کے باعث atmospheric pressure بھی بڑھتا جائے گا جس وجہ سے زمین پہ گیسز کا وزن 2 ہزار کلوگرام فی مربع انچ تک بڑھ جائے گا اور اس وزن کے نیچے ہر شے پچکنا شروع ہوجائے گی،آہستہ آہستہ زمین کی سطح پگھل کر لاوے کی شکل اختیار کرنا شروع ہوجائے گی جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسز نکل کر زمین کو ڈھانپ لے گیں، زمین پہ تیزاب کی بارش اور اُبلے ہوئی دھاتوں کی برف باری ہوگی، زمین سوچ سے بھی زیادہ بھیانک ہوجائے گا۔

کاسمولوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ زمین کا انجام سیارہ زہرہ سے بھی زیادہ بھیانک ہوگا کیونکہ مقناطیسی حصار کے باعث زمین پہ موجود آبی بخارات خلاء میں نہیں بکھریں گیں بلکہ زمین کے ساتھ چپکے رہیں گے یوں یہ ہر روز زمین کا درجہ حرارت بڑھاتے رہیں گے،اگر اُس وقت سیارہ زہرہ کا درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا تو زمین کا 2500 ڈگری سینٹی گریڈکراس کرجائے گا، لہٰذاہم کہہ سکتے ہیں کہ زندگی شروع کرنے والا یہی پانی،سورج اور مقناطیسی حصار اُس وقت زندگی کا سب سے بڑا دشمن بن جائے گا، اس وقت جو بھی خلائی مخلوق زمین کو دیکھے گی تو اُسے زمین گیسوں سے ڈھکا ایک جہنم نما سیارہ دکھائی دے گا، وہ مخلوق اندازہ تک نہیں لگا پائے گی کہ کروڑوں سال پہلے زمین intelligent life سے بھرپور ایک سیارہ ہوتا تھا، اسی خاطر ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ نظامِ شمسی کی شروعات کے وقت ہمیں ” 2 زمینیں”دکھائی دیتی تھیں، مگر کروڑوں سال بعد سورج کی موت کے وقت ہمیں ” 2 زہرہ سیارے “دکھائی دے رہے ہونگے۔لیکن کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ انسان اس مسئلے سے نکل سکتاہے،اگر ایسا ہی ہے تو اس مسئلے کا کیا حل ہوگا؟ ہم اپنی زمین کو سیارہ زہرہ جیسا بننے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟ماہرین فلکیات کو مریخ پُراسرار اور نامکمل سیارہ کیوں لگتا ہے؟اور نظام شمسی کی تشکیل کے دوران پورے نظام شمسی پہ پتھروں کی بارش کیوں ہوگئی تھی؟ “ہمارا کائناتی سفر” سیریز کے اگلے اور آخری حصے میں ہم اس متعلق تفصیلی بحث کریں گے۔
(جاری ہے)

اس سیریز کا پہلا حصہ پڑھنے کے لئے مندرجہ ذیل لنک پہ کلک کیجئے:
https://www.mukaalma.com/65688

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *