• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے خلاف جرمنوں کے تعصب میں اضافہ

مسلمانوں اور غیر ملکیوں کے خلاف جرمنوں کے تعصب میں اضافہ

ایک تازہ تحقیقی جائزے کے مطابق جرمن شہریوں میں اجانب دشمنی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔ جائزے کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آمریت پسندی کا رجحان بھی بڑھا ہے جو ملکی جمہوریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔آمرانہ رجحانات کے حوالے سے کی گئی ایک تازہ تحقیق کے نتائج کے مطابق ایک تہائی جرمنوں کا خیال ہے کہ غیر ملکی جرمن سماجی سہولیات کے نظام کا غلط فائدہ اٹھانے کے لیے جرمنی کا رخ کرتے ہیں۔ ہر دوسرا جرمن شہری یہ سمجھتا ہے کہ جرمنی میں غیر ملکیوں کی تعداد پہلے ہی ’خطرناک حد تک زیادہ‘ ہو چکی ہے۔

یہ تحقیق جرمن شہر لائپزگ میں قائم دائیں بازو کی شدت پسندی اور جمہوریت پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے نے جاری کی ہے۔ تحقیقی جائزے کے ٹیم کے سربراہ اولیور ڈیکر نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’جرمنی کے مشرقی صوبوں کے تیس فیصد رہائشی اجانب دشمن خیالات سے مکمل طور پر متفق ہیں۔‘‘ ڈیکر کا کہنا تھا کہ یہ تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے کیوں کہ اب جرمنی کے مغربی علاقوں میں بھی ایسے نظریات رکھنے والے جرمنوں کی تعداد بائیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ادارہ سن 2002 سے دائیں بازو کی شدت پسندی کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کر رہا ہے۔

مسلمانوں، سنتی اور روما افراد سے نفرت

تازہ جائزے کے مطابق مہاجرین کے خلاف نفرت اور تعصب میں مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے لیکن خاص طور پر مسلمانوں اور وسطی یورپ سے تعلق رکھنے والے روما اور سنتی افراد کے خلاف نفرت زیادہ بڑھی ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ڈیکر نے بتایا کہ جائزے میں شامل ساٹھ فیصد افراد اس بات پر متفق تھے کہ روما افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

جرمن شہریوں میں مسلمانوں کے حوالے سے بھی عدم اعتماد کا رجحان بڑھا ہے۔ جائزے میں شامل 44 فیصد جرمن شہریوں کا خیال تھا کہ مسلمانوں کی جرمنی کی جانب ہجرت پر پابندی عائد کر دی جانا چاہیے، گزشتہ برس 36 فیصد جرمن اس خیال کے حامی تھے۔ گزشتہ برس کے جائزے میں 43 فیصد جرمنوں کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی وجہ سے انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی ہونے کا احساس ہوتا ہے اور اب کے جائزے میں ایسے افراد کی تعداد 56 فیصد ہو چکی ہے۔

یہودیوں سے بھی دشمنی

ہر دسواں جرمن شہری یہ سمجھتا ہے کہ ملکی معاملات میں یہودیوں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے تاہم محققین کے مطابق سامیت دشمن نظریات کا عوامی سطح پر اظہار کرنے سے گریز کیا جاتا ہے کیوں کہ اسے سماجی سطح پر قبول نہیں کیا جاتا۔اس کے برعکس مسلمانوں اور غیر ملکیوں سے نفرت کا عوامی سطح پر کھل کر اظہار کیا جاتا ہے۔

جمہوریت سے نالاں

آٹھ فیصد افراد کی رائے تھی کہ جرمنی میں آمرانہ طرز حکومت نظام بہتر رہے گا جب کہ گیارہ فیصد افراد کی رائے تھی کہ جرمنی کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو ’سب کی بہتری کے لیے آہنی گرفت کے ساتھ حکومت‘ کرے۔ دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت اے ایف ڈی کے حامیوں میں ایسے خیالات رکھنے والے افراد کی تعداد دیگر جرمنوں کی نسبت زیادہ تھی۔ڈیکر کا کہنا ہے کہ اگرچہ جائزے میں شامل نوے فیصد افراد جرمنی میں جمہوری طرز حکومت کے حامی ہیں لیکن وہ جمہوریت کی تشریح مختلف انداز میں کرتے ہیں۔ انہوں نے ایسے رجحان کو ملکی جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *