آسیہ کا وکیل، آستین کا سانپ اور آنچل خان

سویرے سویرے جاگا تو حسب معمول انباکس چیک کیا جو گالیوں اور دھمکیوں سے بھرا تھا۔ گھبرا کر پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ کسی آنچل خان نامی آئی ڈی میری تصویر آسیہ کا وکیل کہہ کر لگائی گئی ہے اور اہل ایمان دھڑا دھڑ شیئر کر رہے۔ کئی جگہ جا کر روکا، وضاحتیں کیں مگر اک طوفان تھا جو برپا تھا۔
جب لوگون کی لعن طعن بڑھی تو “آنچل”نے معصوم وضاحت دی کہ وہ تو مولویوں کو گندا کر رہی تھی کہ جاھل کیسے افواہ کو پھیلاتے ہیں۔ اس دوران میرے متعلق جس قدر خبر پھیل چکی تھی شاید مجھے ٹی وی پہ اشتہار چلوا کر بھی اس تاثر سے نجات نا ملے اور کوئی کبھی یہی سمجھ کر مار دے کہ “وہ دیکھو آسیہ کا وکیل”۔

میں نے جب کھرا نکالنا شروع کیا تو کئی جگہ ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔ کئی احباب کا خیال تھا کہ یہ قمر نصیب خان کی آئی ڈی ہے۔ قمر کافی عرصے سے واقف تھا۔ ہمیشہ مجھے استاد جی کہہ کر بات کی، سو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ میرے خلاف ایسا کرتا۔ خیر جب شور زیادہ ہوا تو  قمر نے مجھے کال کر کے کہا میں اسکے متعلق دل صاف رکھوں، وہ میری بہت عزت کرتا ہے اور کبھی ایسی گھٹیا حرکت نہیں کر سکتا۔ باتوں کے دوران قمر نے کہا کہ دراصل آنچل خان اسکی عرب امارات میں مقیم دوست سفیر ملک کی ہے جو ملحد ہے اور قمر نے اسکو بہت گالیاں دی ہیں۔ یہی میرا کلیو تھا۔
میں نے فورا سفیر کی آئی ڈی دھونڈی، اسکے گاوں کے دو بندے دھونڈے، امارات میں اپنے تعلقات کو استعمال کیا اور آج سفیر ملک سے پوچھ گچھ کی۔ اور پھر ہوشربا انکشافات ہوے۔

معلوم ہوا کہ سفیر ملک سیدھا سادھا معصوم انسان ہے۔ پولیس کو دئیے گئے ٹیکسٹ میسیجز کے زریعے معلوم ہوا کہ قمر نقیب خان ہی اصل مجرم اور آستین کا سانپ ہے۔

قمر نقیب نے سفیر کو میسج کئیے کہ وہ الزام اپنے سر لے کر مجھ سے معافی مانگ لے اور مانا کہ آنچل اسکی آئی ڈی ہے۔ سفیر نے مزید ثبوت بھی دئیے۔ جس پہ امارات پولیس نے رابطہ کیا اور میں نے شکایت واپس لے لی۔

میں نے فورا ایف آئی اے سائبر ونگ کو قمر کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے جسکی پیروی میرے دوست عاصم عزیز اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل کر رہے ہیں۔ لیکن میں ابھی بات کھولنا نہیں چاہتا تھا اور پرسوں سے دئیے مختلف سٹیٹس مجرم کو خود منوانے کیلئیے تھے۔ خیر جب مجرم کو معلوم ہوا کہ سفیر  سے پوچھ گچھ کی گئی  ہے اور شاید ایف آئی اے بھی ایکٹو ہو گئی تھی تو مجرم نے میرے سامنے اقرار کیا اور اپنی ایک وڈیو بھیج کر اقرار بھی کیا اور معافی بھی مانگی۔

حیران ہوں کہ سر کو پیٹوں یا جگر کوٹوں؟ ہم مذہبیوں کو روتے یہ تو لبرل تھا، ہم دشمنوں کو روتے مگر یہ تو “دوست” تھا۔ اس نے یہ سب کیوں کیا؟ مولویوں کو گندا کرنے کیلئیے؟ یہ سوچے بنا کہ وہ میری اور میری فیملی کی جان خطرے میں ڈال رہا ہے؟ اور پھر جب دیکھا کہ میں بدلہ لینے پہ اتر آیا تو فورا ایک غریب شخص پھسوانے کی کوشش کی جسکو سات سال سزا ہوتی اگر میں شکایت واپس نا لیتا یا ڈیپورٹ کر دیا جاتا۔ میں سفیر کو نہیں جانتا یا ملا۔ لیکن اگر وہ پڑھے تو اس ذلیل ترین شخص کی وجہ سے ہونے والی پریشانی کیلئیے اس سے معذرت خواہ ہوں۔

آج میرا مجرم پکڑا گیا ہے۔ جلد پولیس اسے گرفتار کر لے گی۔ مگر وہ معافی مانگ رہا ہے اور اب کئی لوگ اس کے سفارشی بنیں گے۔ کیا معاف کر دوں؟ اپنی اذیت کو بھول جاؤں؟ اپنی ماں کو ملی اذیت بھول جاؤں؟ کل کو مارا جاؤں تو قاتل کو پیشگی معاف کر دوں؟ مگر کیا یہ معاملہ فقط میرا ہے؟ ایسا گھٹیا انسان کل کسی ایسے کی زندگی خطرے میں نا ڈالے گا جو اس سے نپٹ نا سکے، جو بدلہ نا  لےسکے؟ جو صفائی دینے سے قبل مارا جائے؟ میں فقط سوال چھوڑے جاتا ہوں اور اس گھٹیا ترین شخص پر لعنت۔

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”آسیہ کا وکیل، آستین کا سانپ اور آنچل خان

  1. ہم نے یونہی جان پہچان، رشتہ داریوں اور تعلق داریوں کے نام پر چھوڑ چھڑوا کر اپنے حالات کا بیڑا غرق کر لیا ہے

    آپ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں لیکن کم از کم اتنا تو ہو کہ کل کوئی دوسرا جب اِس گھٹیاپے پر اترنے کا سوچے تو اسکے سامنے ایک نشانِ عبرت تو موجود ہو

  2. بہت افسوس ناک بات ہے، آپ کو ان کی وڈیو بھی شیئر کرنا چاہیے تھی تاکہ بہتر صورت سزمنے آتی، موصوف انے آپ کو وڈیو بھیجی !فیس بک پر لوگوں کے سامنے اقرار کیا اپنے اس فعل کا

  3. کسی صورت معافی نہیں بنتی ورنہ ہر ایک مجرم کے پاس جواز ہوگا کہ میں نے تو معافی مانگ لی تھی اور کیا معلوم یہ خبیث دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا. سانپ کی فطرت میں ڈسنا ہی ہے آپ کو استاد کہہ کر ڈنگ مار دیا تو بعد کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے. اس کو سزا دلوا کر باقی لوگوں کے لیے مثال بنائیں. آپ کے پاس روپیہ پیسا اور اختیار ہے اگر یہی حرکت کسی اور ساتھ دوبارہ کی گئی تو شاید کسی کو اس معصوم کی بے گناہی کا یقین بھی نا ہو. آپ یہ کر سکتے ہیں لوگوں کو سننا بند کریں اور ایک مثال قائم کریں.

  4. ہم شاید آپ کے کرب کو سمجھ نہ سکیں۔ کبھی سمجھ نہیں سکیں گے۔ مگر کیا کریں۔ قمر نے بہت بڑی غلطی کر دی۔ اس خاموش اور گونگے معاشرے میں اصلاح کا بیڑہ اٹھانے والے اس طرح کی بھیانک غلطیاں کر ہی بیٹھتے ہیں۔ آپ سوچنے کے کچھ وقت لیں۔ کچھ مزید وقت۔ پھر جو چاہے فیصلہ کریں۔ میرا قمر سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ مگر اس نے بہت محنت کی ۔ بہت غلطیاں بھی کیں۔ مگر وہ اک بولنے والا انسان ہے۔اس گونگے اور بہرے معاشرے میں جہاں سب سے بڑا جرم ، جرم خاموشی ہے۔ اس میں ایک ہکلا کر بولنے والے بھی غنیمت ہیں۔ باقی آپ ایک انتہائی پڑھے لکھے شخص ہیں۔ آپ کی دامش کو ہم نہیں پہنچ سکتے۔ میری دانست میں قمر میں ایک جوش ہے۔ جو بہت کم لوگوں میں ہے۔ تاہم اس کی اور شاید ہم سے کی تریبت بہت خام ہے۔ میں ذاتی طور پر آپ سے معزرت خواہ ہوں۔ یقیناً آپ موت سے بال بال بچ گئے۔
    جہاں تک میرے ذاتی تجربات ہیں۔ ہم ایک سن معاشرے کے لوگ ہیں۔ وہاں کچھ بولنے والے۔ غلط بولنے والے بھی غنیمت ہیں۔ آپ یقین کرین میرا ارادہ تھا کہ میں قمر سے ایک براہ راست ملاقات کر کے اسے سمجھاؤں۔ مگر موقع نہ ملا اور یہ سب کچھ ہو گیا۔ میرا تو دل ہر حال میں ٹوٹ گیا۔
    سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں۔ قمر کو سزا دیں۔ ضرور دیں۔ مگر اسے تباہ نہ ہونے دینا۔ شکریہ

  5. یہ لبرلز اسلام اور اھل اسلام کو بدنام کرنے کیلئے کسی کے خون پر ہی تو سودے بازی کرتے ہیں۔
    اگر اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آ ہی گیا ھے تو اس پسنے دیں بلکہ اچھی طرح پسنے دیں۔
    اسلام اور اھل اسلام کیلئیے نہ سہی اپنی جان کیلئے ھی سہی۔

  6. کس کس کا رونا روئین
    ہر طرف یہی صورت حال ہے بعض اوقات دوران بحث مقابلہ کر نہیں سکتے دلیل ختم ہوگئی تو مخالف کی پکچر پر تحریر لکھ کر اسے توہین کا مرتکب بنا دیتے ہین پتہ نہین کب کوئی سر پھرا ثواب کی نیت سے ٹپکا دے
    میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میری پکچر بنا کر اس کے اوپر بہت کچھ لکھ دیا گیا بہرحال آپ اسے معاف مت کیجیئے گا
    آپ کے خدشات درست ہیں کہ جانے کب کوئی کافر قرار دے کر قتل کردے
    😰😰😰

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *