آسیہ کیس اور حرمتِ رسول ﷺ۔۔۔۔ہارون الرشید

آسیہ مسیح کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تقریبا ً پانچ روز تک ملک افراتفری کا شکار رہا۔ سڑکیں، سکول، کالجز، جامعات، ذرائع آمدورفت سب بند ہونے کی وجہ سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے اور عملا نظامِ زندگی مفلوج ہو کے رہ گیا۔ خود مجھے بھی دفتر سے واپسی پر ایک رات گھر سے باہر گزارنا پڑی اور دوسرے روز بھی پینتالیس منٹ کا راستہ تین گھنٹے میں طے کر کے گھر پہنچا۔ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ تھا، صحیح یا غلط، فیصلے پر تنقید کا اختیار ہر ایک کو حاصل ہے لیکن عدالت پر اس طرح اثرانداز ہونے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں ہے کہ بنامِ رسولؐ خلقِ خدا کو اذیت سے دوچار کیا جائے۔

فیصلے کے بعد بہت سے قانونی ماہرین اس فیصلے کے خلاف بھی اور حق میں بھی قانونی نکات پر خاصی روشنی ڈال چکے ہیں، اِس میں میرے اساتذہ بھی شامل ہیں اور دوست بھی۔ خاصی قانونی بحث کے بعد میں کوئی مزید قانونی نکات اَس تحریر میں بیان نہیں کرنا چاہتا، ویسے بھی اساتذہ اور فاضل دوست صاحبان کی آراء کے بعد مجھ ایسے طالبعلم کا مزید کوئی رائے دینا مناسب بھی نہیں ہے۔

آسیہ مسیح کیس کے حقائق کا  یہ معاملہ شروع کہاں سے ہوا، اِس بابت مختلف کہانیاں گردش میں ہیں البتہ اِن تمام کہانیوں میں ایک بات جو مشترک ہے وہ یہ ہے کہ گاؤں کی چند خواتین کا کھیتوں میں شروع ہونے والا جھگڑا تھا جو بالآخر توہینِ رسالتﷺ تک جا پہنچا۔ ظاہر ہے مجھ سمیت ہم میں سے کوئی بھی موقعے پر موجود نہیں تھا لہٰذا ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ آسیہ مسیح توہین کی مرتکب ہوئی بھی تھی یا نہیں اور اگر اُس نے کوئی گستاخانہ کلمات کہے بھی تھے تو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ وہ ایک جاہل اور ان پڑھ عورت تھی اور غیر مسلم بھی، وہ حضور نبیِ کریم ﷺ کی شان کو سمجھ بھی کیسے سکتی تھی۔ اگر اُس نے گستاخی کی تھی تو ایسا اُس نے کسی عالمی ایجنڈے کے تحت نہیں کیا تھا، وہ نہ تو بدبخت رام پال تھی اور نہ ہی سلمان رشدی، نہ تسلیمہ نسرین تھی اور نہ ہی بدطینت گیرٹ ولڈرز کہ جو جانتے بوجھتے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتی۔ معاملہ جب مولوی صاحب تک پہنچا تو انہیں سب سے پہلے اُس خاتون کو سمجھانا چاہیے تھا، اُسے نبیِ مہربان ﷺ کی آفاقی شخصیت کا تعارف کرانا چاہیے تھا۔ آقا ﷺ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر سے پردہ اٹھانا چاہیے تھا۔

میرا گمان ہے کہ نرمی سے یہ بات سمجھائی جاتی تو وہ نہ صرف اپنے کیے پر ضرور شرمندہ ہوتی بلکہ معافی کی بھی طلبگار ہوتی۔ اور اگر سمجھانے اور تعلیم دینے پر بھی وہ اپنی بات پر قائم رہتی تو ضرور اسے قانون کے حوالے کیا جاتا۔ لیکن ہمارے نزدیک ایمان کا اعلیٰ ترین درجہ شاید یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کی بجائے جہنم واصل کر دیا جائے۔ اب جو اِس وقت ہم اس بات کا رونا رو رہے ہیں کہ عالمی قوتوں کا ہم پر دباؤ تھا تو ایسے بہت سے معاملات میں مداخلت کے مواقع ہم خود فراہم کرتے ہیں اور وہ ہاتھ آئے موقعے کو کو کیوں گنوائیں گے؟ عالمی طاقتیں اپنے ایجنڈوں کے حق میں لابنگ کرتی ہیں، وہ ہماری طرح دانستہ سوئے نہیں پڑے رہتے کہ جب پانی سر سے گزر جائے تو پھر خلاء میں ٹامک ٹوئیاں مارنا شروع کر دیں اور اپنا تماشا خود ہی بنوا لیں۔ اب اگر عالمی طاقتیں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اسے اچک کر لے گئیں اور اپنے ایجنڈے کے لیے اسے ایک اور تسلیمہ نسرین بنا دیا تو اِس میں قصور عالمی قوتوں کا نہیں، ہمارا ہو گا۔

ابھی چند روز قبل جب بدبخت گیرٹ وائلڈر نے نبیِ مہربان ﷺ کی شان میں (معاذاللہ) گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا تو ملک کی ایک بڑی مذہبی سیاسی جماعت نے اسلام آباد میں جیورسٹس کانفرنس طلب کی جس میں ممتاز ماہرینِ بین الاقوامی قانون اور عدالتِ عظمیٰ اور عالیہ کے سابق جج صاحبان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے چند روز میں ہی لندن سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا جن میں مغرب کے دانشوروں اور قانون دانوں کے ساتھ مکالمے کا آغاز کیا جائے گا۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ معاملہ اب کہاں تک پہنچا ہے لیکن کرنے کا کام یہی ہے کہ تہذیبوں کے مابین تصادم کی بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے اور “تعالو الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم” کا پرچار کیا جائے۔

عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد بہت سے مذہبی عناصر کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں 295-سی کا قانون عملا غیر مؤثر ہو گیا ہے لیکن میرا خیال اس کے برعکس ہے۔ بین الاقوامی برادری کے سامنے ہمارا مقدمہ اس فیصلے کے بعد مضبوط ہو گیا ہے کہ 295-سی کا قانون ہم نے لوگوں کی گردنیں مارنے کے لیے نہیں بنایا بلکہ یہ قانون موجود تھا جس کی بدولت آسیہ مسیح نے آج عدالت کے ذریعے رہائی پائی ہے، اگر یہ قانون موجود نہ ہوتا تو کوئی بھی فرد یا گروہ اب تک آسیہ کو ٹھکانے لگا چکے ہوتے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارا ملک ہے اور یہاں قانون بنانے کا اختیار بھی ہمارا ہے لیکن اس حقیقت کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم بین الاقوامی برادری کا حصہ ہیں۔ ہم اگر امریکی عدالت کی جانب سے عافیہ صدیقی کو سزا دینے کے فیصلے پر تنقید کا حق رکھتے ہیں تو وہ بھی ہمارے قوانین اور فیصلوں پر تنقید کا حق رکھتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے جن فیصلوں کو وہ درست نہیں سمجھتے اُس پر خالی تنقید نہیں کرتے بلکہ انہیں بدلوانے کے لیے لابنگ بھی کرتے ہیں اور ہم صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتطرِ فردا رہتے ہیں کیونکہ لابنگ کیلیے محنت کی ضرورت پڑتی ہے اور محنت ہم سے ہوتی نہیں۔

عدالت کے اس فیصلے میں ملزمہ کو شک کا فائدہ دیا گیا ہے۔ Benefit of Doubt کا اصول صرف مغربی قانون میں ہی نہیں بلکہ اسلامی قانون میں بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ نبیِ مہرباں ﷺ کی ایک حدیث کے مفہوم سے اس اصول کا اشارہ ملتا ہے کہ اگر ایک بےگناہ کو بچانے کیلیے سو گنہگاروں کو بھی چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دیا جائے۔ حضور نبیِ کریم ﷺ کی ایک اور حدیث کے مطابق کسی مسلمان کو کافر کہنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اگر ایسا کہا جائے تو کہنے اور سننے کی والے میں سے کوئی ایک ضرور کافر ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرح میرا احساس ہے کہ اگر کسی پر توہین کا الزام لگایا جائے اور اُس نے توہین نہ کی ہو تو الزام لگانے والا ہی توہین کا مرتکب نہ قرار پا جائے۔

آقائے دوجہاں ﷺ کی ناموس اور حرمت کا معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے، مجھے دکھ ہے کہ ہم نے اسے چوک اور چوراہے کا معاملہ بنا دیا ہے۔ یہ اتنا حساس معاملہ ہے کہ ہمارا ایمان اِسی معاملے سے جڑا ہے۔ اِس معاملے سے ہر مسلمان کی جذباتیت بھی وابستہ ہے لیکن جذبات میں آ کر ہوش سے دامن چھڑا لینا بھی بہت خطرناک ہے، یہ اتنا خطرناک ہے کہ جوش میں آ کر خدانخواستہ ہم نبیِ مہرباں ﷺ کو اپنا مخالف وکیل ہی نہ بنا ڈالیں۔ ہم لٹھ لے کر غیرمسلموں کو جہنم تک تو پہنچانا چاہتے ہیں لیکن محبت سے اُن کو دین کی دعوت دینا ہمیں بڑا گراں گزرتا ہے۔ ہم مسلمان عمومی طور پر اور ہمارا مذہبی طبقہ خصوصی طور پر زعمِ تقویٰ کا شکار رہتا ہے۔ ہم غیر مسلموں کو دعوت کیا دیں گے ہم تو اُن کے برتنوں میں کھانا کھانا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں جیسے وہ کوئی اچھوت ہوں۔ مجھے خوف آتا ہے کہ اپنی جذباتیت کے ہاتھوں کہیں ایسا نہ ہو کہ منہوں سے جھاگ اڑاتے اور گلے پھاڑتے ہم سب عشقِ نبی ﷺ کے دعویدار روزِ محشر کٹہرے میں نہ کھڑے کر دیے جائیں اور خدانخواستہ نبیِ عالَم ﷺ ہمارے شہروں میں بستے غیرمسلموں کی جانب سے وکیل بن کر ہمارے خلاف دعویٰ ہی نہ کر دیں۔ سوچیے، اِس سے پہلے کہ پانی پھر سر سے گزر جائے، روزِ محشر ایسے کسی بھی دعوے سے بچنے کیلیے ابھی سے لابنگ شروع کر دیں۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آسیہ کیس اور حرمتِ رسول ﷺ۔۔۔۔ہارون الرشید

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *