• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا پاکستان واقعی ہی کورونا سے محفوظ ہو چکا ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

کیا پاکستان واقعی ہی کورونا سے محفوظ ہو چکا ہے؟۔۔ غیور شاہ ترمذی

سچ پوچھیں تو نہیں۔۔ بروز جمعہ 24 اپریل تک تو پاکستان ہرگز کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں سے  محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا اور شدید خطرے سے بچنے کے بارے میں امید افزاء خبریں موجود نہیں ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس کالم کو لکھنے کے وقت تک پاکستان میں صرف 237 ہلاکتیں ہوئی ہیں اور حکومت نے جو اعداد وشمار عالمی ادارہ صحت کو فراہم کیے ہیں، اُس کے مطابق صرف 11,155 لوگ ہی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں مگر یہ بھی یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس خبردار کر چکے ہیں کہ اگر کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو جولائی تک پاکستان میں 2 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پاکستان میں صحت کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور اوپر سے کورونا وائرس نے صحت کے اہلکاروں اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر ٹیڈ روس نے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ پاکستانی معیشت کے لئے بھی تباہ کن ہوگا اور غربت کے شکار افراد کی تعداد کم از کم دگنی ہو جائے گی۔ سربراہ ڈبلیو ایچ او نے زوردے کر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے مقابلے کے لئے قومی سطح پرمربوط حکمت عملی اپنانی ہو گی۔

ساری دنیا تو یہی کہتی ہے مگر ہمارے یہاں قومی سطح پر مربوط حکمت عملی کیسے ترتیب دی جائے؟۔ ڈاکٹروں کی کمیونٹی کورونا وائرس سے بچنے کے لئے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے کرفیو جیسے سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ کرتی ہے تو تحریک انصاف کی مرکزی حکومت اس مطالبہ کو ’’سیاسی کھیل‘‘ قرار دے کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کسی بھی حالت میں پیپلز پارٹی کی سندھ صوبائی حکومت کی کورونا وائرس سے نمٹنے میں اچھی کارکردگی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ خاص طور پر کورونا سے نمٹنے کے لئے سندھ حکومت کے اب تک کے کیے کرائے پر کراچی سے تعلق رکھنے والے 2 وفاقی وزیروں نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ کورونا پر بھی اپنی سیاست جاری رکھ کر عوام کی  زندگیوں کو موت کے منہ میں دھکیل کر ہی دم لیں گے۔ ہیوی بائیک چلانے کے شوقین ایک وفاق وزیر تو ایک ٹی وی چینل پر لائیو پروگرام میں پیپلز پارٹی پر چڑھ دوڑے کہ وہ کیوں مساجد میں نماز باجماعت، نماز جمعہ اور تبلیغی جماعت کے اجتماعات پر پابندی کی بات کرتی ہے۔ وہ الفاظ اور لہجہ ۔۔ افففف ۔۔ کیا کبھی وفاقی وزیر اس طرح کے لہجوں میں بھی بغیر سوچے سمجھے بات کیا کرتے ہیں؟۔ ایک دوست نے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت دونوں کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کی کوشش میں سیاست کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی مرکزی حکومت مذہبی گروہوں، تاجروں اور علماء کی دھمکیوں کے ذریعہ نماز باجماعت، تراویح، نماز جمعہ کے اجتماعات کروانے پر بضد ہے تو پیپلز پارٹی حکومت ڈاکٹروں کے ذریعہ اجتماعات بند کروانے پر مصر ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں یک دم تیزی ہونے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اجتماعات کروانے سے روکنے میں کون مثبت سیاست کر رہا تھا اور اجتماعات کروانے کی کوشش کر نے میں کون منفی سیاست کر رہا تھا۔

وہ تو شکر ہے کہ مذہبی گروہوں کی طرف سے نماز باجماعت، نماز جمعہ اور تراویح منعقد کرنے کے اعلانات کے مقابلہ میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے ڈاکٹروں نے کراچی اور لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاف کہہ دیا کہ اگر سندھ حکومت کے اعلانات کے مطابق لاک ڈاؤن مزید سخت نہ کیا گیا تو یورپ جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمارے یہاں صحت عامہ کی سہولتیں ایسی پسماندہ ہیں کہ اگر پاکستان میں بھی خدا نہ کرے یورپ اور امریکہ جیسا وقت آ گیا تو ہمیں سڑکوں پر علاج کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹرز نے پنجاب میں کیسز بڑھنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ کورونا لاعلاج ہے، حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور جو فیصلے سعودی عرب، دبئی، انڈیا، ایران اور ترکی نے کیے وہی ہمیں کرنا ہوں گے۔ یہ پی ایم اے کا ہی مطالبہ تھا کہ تحریک انساف کی وفاقی حکومت نرم لاک ڈاؤن کے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے کیونکہ لاک ڈاون اگر سخت نہ کیا گیا تو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس مطالبہ کو وفاقی حکومت نے بالآخر تسلیم کر لیا ہے اور لاک ڈاؤن کو 9 مئی تک بڑھاتے ہوئے اسے ’’سمارٹ لاک ڈاؤن‘‘ کا نام دے ڈالا ہے۔ یہ درست فیصلہ ہے اگرچہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اسے بھی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے سخت لاک ڈاؤن والے مطالبہ کو قبول کرنے کی بجائے دوسرا نام یعنی سمارٹ لاک ڈاؤن کہہ کر اپنی حکمت عملی قرار دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ ایک ماہ سے زیادہ کے مسلسل لاک ڈاؤن کے باوجود بھی پاکستان میں کورونا کیسز رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے اور نہ ہی ہم روزانہ کی ٹیسٹنگ استعداد 20 ہزار تک لے جانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ لازمی ہے کہ مساجد میں نماز تراویح یا دیگر اجتماعات نہ کروائے جائیں۔ اس موذی وبا سے صرف احتیاط سے ہی بچا جا سکتا ہے کیونکہ ابھی تک اس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے۔

راقم کے قریبی دوستوں میں چند ایک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس صرف ڈرانے کے لئے ہتھیار تیار کیا گیا ہے اور یہ کوئی خوفناک مرض نہیں ہے؟۔ یہ جو کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، وہ مصنوعی ہے اور دنیا بھر میں ہونے والی دوسری اموات کو بھی کورونا کے کھاتہ میں ڈال کر خوف کی فضاء پیدا کی جا رہی ہے۔ وہ دوست یہ پوچھتے ہیں کہ کیا کورونا سے آپ کا کوئی قریبی جاننے والا فوت ہوا ہے ؟۔ یہ دوست امریکہ کی ایک وڈیو دکھاتے ہیں جس میں بتایا جارہا ہے کہ امریکہ کے ہسپتال خالی ہیں ۔ کورونا کے نام سے جعلی مریض دکھا دکھا کر  دنیا بھر میں خوف پیدا کیا جارہا ہے۔ یہ سوال اور جملے کسی عام آدمی کے نہیں بلکہ پڑھے لکھے افراد بشمول شاعر، ادیب، صحافی، مذہبی شخصیات ، انجینئر اور سیاستدان بھی یہی سوالات کرتے ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ ایک معروف ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر بھی کورونا کو خاطر میں نہیں لا رہے تھے اور نتیجہ میں وہ خود بھی کورونا کے شکار ہو کر قرنطینہ میں لیٹے ہوئے ہیں اور ماسک و حفاظتی لباس نہ پہننے والے اُن کے 2 درجن سے زیادہ جونئیرز کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آ چکا ہے۔ ایسے تمام دوستوں کے لئے عرض ہے کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو ان سب کو کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں اور جنازوں کی  ویڈیو فلم ضرور دکھاتا تاکہ انہیں پتہ چلے کہ کورونا سے متاثر مریض کو دفنانے کے لئے کیسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے؟۔

ہمارے یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا ہر میٹرک، انٹر میڈیٹ اور گریجوایٹ پاس الیکٹرانک اور سوشل میڈیا دانشور اور MBBS پاس اینکر یہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کے ہر موضوع پر بات کرسکتاہے ۔ یہ کوئی پرانی تاریخ نہیں اور اب تو چچا گوگل کے ذریعہ ہم ماضی قریب کے اخبارت اور خبروں کا ٹریک ریکارڈ اکٹھا کر سکتے ہیں۔ یہ ثابت ہے کہ جب کورونا شروع ہوا تو مغرب اور خاص طور پر امریکہ نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا۔ اٹلی میں تو باقاعدہ کورونا کا مذاق اُڑانے کے لئے بڑے بڑے پروگرامات ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ پھر بعد میں اُن کے بے بس وزیر عظم کو سب نے روتے ہوئے بھی دیکھا۔ شروع میں امریکہ میں بھی صدر ٹرمپ نے اس کو بالکل اہمیت نہیں دی اور آج کا حال دیکھ لیں کہ دنیا میں 51 ہزار سے زیادہ افراد مرچکے ہیں جبکہ 10 لاکھ کے نزدیک کورونا سے متاثر ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل تیزی سے جاری ہے۔ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ کورونا سے صرف بڑی عمر کے لوگ مرتے ہیں کیونکہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی 28 سال کے نوجوان سے لے کر 80 سال کے بزرگ تک کورونا وائرس سے متاثر ہوئے اور وفات پا گئے۔ امریکہ میں کڑیل جوانی میں کورونا سے وفات پانے والا پہلا پاکستانی نوجوان وہ تھا جس کی والدہ پاکستانی فوج کی پہلی خاتون میجر جرنل ہے اور جس کے دونوں ماں باپ ڈاکٹر ہیں۔ یہ نوجوان ہیوسٹن کی معروف اور متحرک شخصیت الیاس چوہدری کے بھانجے بھی تھے۔ کیا ہمارے پاکستانی دانشواران اُسی وقت کورونا کی ہلاکت خیزیوں سے آگاہ ہوں گے کہ اللہ نہ کرے، اُن کے اپنے گھر میں اُن کا کوئی قریبی عزیز فوت ہو گا۔

کورونا وائرس جیسی جان لیوا موذی وباء کی روک تھام کے ماہرین پاکستان میں ڈاکٹروں کے تجزیہ کے مطابق حکومتی اعداد و شمار کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ اس معاملے  کو یوں سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ پہلا تصدیق شدہ کیس 21 جنوری کو رپورٹ ہوا جبکہ پاکستان میں پہلا تصدیق شدہ کیس 26فروری کو سامنے آیا ۔یوں پاکستان امریکہ سے 36 دن پیچھے ہے۔ امریکہ میں 1،000 تصدیق شدہ کیس 40 دنوں میں پہنچے تھے جبکہ پاکستان میں 1000 تصدیق شدہ کیس 38 دنوں میں سامنے آگئے تھے۔ ان پہلے 40 دنوں میں امریکہ میں 38 اموات واقع ہوئیں جبکہ 38 دنوں میں پاکستان میں اموات کی تعداد 40 تھی۔ اس کالم کو تحریر کرنے سے 6 دن پہلے پاکستان میں رپورٹ ہوئے 54 دن گزر چکے تھے اور8،348 تصدیق شدہ کیسوں کے ساتھ 168 اموات واقع ہو چکی تھیں جبکہ امریکہ میں 54 ویں دن کے بعد تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 4،596 تھی جن میں محض 69 اموات تھیں۔ امریکہ میں 57 ویں دن تصدیق شدہ 9،032 کیس تھے، جن میں 150 اموات واقع ہوئیں جبکہ 57 ویں دن ہی میں پاکستان میں تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 10،076 ہو چکی تھی جبکہ 212 اموات واقع ہو گئی تھیں۔  یہ معاملہ و اب بھی ہمارے ارباب اختیاران کو سمجھ نہیں آیا تو تھوڑا ٹھہر جائیں تاکہ مزید سنگین نتائج دیکھنے کے لئے شاید ہم زندہ رہ سکیں۔ پاکستان کے ان اعداد و شمار کا تقابل اگر امریکہ ، برطانیہ ، سپین، اٹلی اور جرمنی کے ساتھ کریں گے تو ہمیں حیرت انگیز مطابقت نظر آئے گی لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ پاکستان میں اعداد و شمار سے انکار کی ایک روش ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں شاید وائرس کے پھیلاؤ کی ہولناکیوں کو بیان کرنے کی اجازت جان بوجھ کر نہیں دی جا رہی یا نادانی میں کوشش کی جارہی ہے کہ کورونا وائرس کو یونہی پھیلنے دیا جائے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایسے ہی رویہ کی وجہ سے امریکہ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا اور 57 ویں دن کے بعد اگلے 10 دنوں میں امریکہ میں اموات کی تعداد 150 سے بڑھ کر 7139 ہوگئی تھی۔ ہماری عوام کو کھلے دل و دماغ اور ہوش و حواس سے یہ سمجھنا ہو گا کہ اب سے پہلے تک کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں تھا لیکن اب آنے والے کچھ دنوں میں یہ خوفناک ترین ہونے جا رہا ہے۔ لہذا ہمیں انتہائی احتیاط برتنے کی شدید ضرورت ہے۔اب وہ دن آ چکے ہیں جب سخت ترین حفاظتی انتظامات اور اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ یاد رہے کہ انسان بہت نایاب ہے۔ اس تمام کائنات میں انسان جیسی کوئی دوسری مخلوق نہیں۔ کیاہم اتنی نایاب شے کو ایک چھوٹے سے وائرس کے ہاتھوں ختم ہوتے دیکھ سکتے ہیں ؟۔

جاتے جاتے ایک اچھی خبر یہ بھی سُن لیں کہ برطانیہ کی ایک لیبارٹری نے کورونا ویکسین کی روک تھام اور علاج کے لئے اپنی بنائی ہوئی ویکسین کے ابتدائی ٹرائل مکمل کر لئے ہیں اور جانوروں کے بعد وہ یہ ویکسین انسانوں پر آزمانے کے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مقصد کے لئے گزشتہ روز سے برطانیہ نے ایسے رضاکار افراد کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے جن پر یہ ویکسین ٹیسٹ کی جائے گی۔جن لوگوں پر یہ ویکسین ٹیسٹ کی جائے گی، انہیں حکومتی اعزازات کے علاوہ 650 برطانوی پاؤنڈ معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ یہ ویکسین برطانیہ کے علاوہ یورپ نے بھی تیار کی ہے لیکن جب اس کو انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کا مرحلہ آیا تو چند ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ اسے یورپ کی بجائے افریقہ کے مریضوں پر آزمایا جائے۔ اس نامعقول تجویز پر کافی شوروغوغا مچا لہذا اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ہمارے دوست اور برادر ملک چین نے بھی کورونا وائرس کی روک تھام اور علاج کے لئے یورپ اور برطانیہ کی طرح ویکسین تیار کر لی ہے۔ سنا ہے کہ بہت جلد چین یہ ویکسین پاکستان کو بھی فراہم کر دے گا۔ راقم کی طرح آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ چین ہمارا کتنا خیال رکھتا ہے۔ تو جناب عرض یہ ہے کہ تھوڑا رکیے اور ٹھنڈے لمبے سانس لیجیے کیونکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ چونکہ چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بھی اونچی ہے تو اسی لئے چین نے انسانوں پر اس ویکسین کو ٹیسٹ کرنے کے لئے ہمارا انتخاب کیا ہے۔ سارا کام چپکے سے کیا جا رہا ہے۔ نہ ہی کوئی شور شرابہ اور نہ ہی کوئی معاوضہ۔ البتہ چینی حکام کی طرف سے پاکستان کی تعریف اور لو یو ، لو یو جیسے محبت بھرے جملے وافر مقدار میں ملیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *