ٹرمپ کی ممکنہ پالیسیاں 

ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا کے تبصرے پڑھ کے لگتا ہے کہ ہمارے دوست ابھی تک ٹرمپ کو امریکی کارپوریٹ میڈیا کی نظر سے دیکھ رہے ہیں جو نہ صرف اس کا مخالف تھا بلکہ غلط بھی ثابت ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو غیر جانبداری سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تاکہ امریکہ کی آنے والی پالیسیوں کا اندازہ ہوسکے۔ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ نہ جنونی ہے اور نہ ہی خبطی، وہ ایک ہوشیار سیاستدان محسوس ہوتا ہے۔ اس نے قومی سلامتی کا مشیر کے لئے جنرل مائیکل فلن کا انتخاب کیا ہے جس سے اندازہ ہوجانا چاہئے اس کی سمجھداری کا۔ مائیکل فلن سی آئی اے کا ڈائریکٹر بھی رہ چکا ہے۔ وہ امریکی پٹرولیم لابی کے بہت قریب ہے اور اس کے روسی پٹرولیم سپر فرم “گیز پروم” اور طیب ایردوان سے بیک وقت اچھے تعلقات ہیں۔ روس سے مذاکرات کا عندیہ تو وہ پہلے ہی دے چکا تھا۔ ٹرمپ نے چین کے بارے میں بھی مثبت اشارہ دیا ہے جس سے سمجھ آتی ہے کہ وہ روس اور چین سے متحاربت کی بجائے “سٹریٹیجک معاشی” مذاکرات کی راہ اختیار کرے گا۔ “سٹریٹیجک معاشی” مذاکرات کو یوں سمجھنا چاہئے کہ تیل کے ذخائر اور پائپ لائنوں کے معاملہ پہ پہلے کی طرح جنگوں کے بہانے ڈھونڈنے کی بجائے سیدھے سادے مذاکرات کی راہ اپنائی جائے گی جو عالمی امن کے لئے مجموعی طور پہ اچھی خبر ہے۔ 

جہاں تک جنرل مائیکل فلن کا تعلق ہے تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ امریکی انٹیلی جنس سروسز پہ کڑی تنقید کرتا آیا ہے۔ اس نے عراق اور افغانستان پہ وائٹ پیپر بھی شائع کیا تھا جس میں اس کا الزام تھا کہ انٹیلئ جنس کی نااہلی کے باعث ان ممالک میں دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھی ہے۔ وہ انٹیلی جنس کی تطہیر پہ زور دیتا ہے۔ ایک اندازہ یہ بھی ہے کہ سی آئی اے سے اچھی خاصی تعداد میں اہلکار فارغ کئے جاسکتے ہیں۔ 

ٹرمپ کا نقطہ نظر سمجھنے میں انتخابی فتح کے فوری بعد اس کا انٹرویو بہت اہم ہے۔ عراق کے بارے میں اس کا سوال تھا کہ ہم نے عراق جنگ پہ ٹریلینز خرچ کئے لیکن عراق کے تیل کے ذخائر سے استفادہ کون کررہا ہے؟ داعش۔ اسی طرح افغانستان کے بارے میں اس کا سوال تھا کہ افغان جنگ پہ کھربوں کا خرچہ ہمارا ہوا ہے لیکن افغان معدنی وسائل سے چین فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہمیں ان جنگوں سے کیا ملا؟  دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان کے ذکر میں اس نے دہشت گردی کی پٹی پٹائی کہانی سنانے کی بجائے باٹم لائن پہ سوال اٹھایا اور یہ اشارہ دیا کہ بنیادی طور پہ یہ جنگیں ان وسائل کے لئے ہی لڑی گئیں۔ اس نے شمالی سائبیریا ، مشرقی بحیرہ روم اور مغربی کیسپئین کے تیل کے ذخائر کا بھی ذکر کیا۔ یہ صاف سمجھ آتی ہے کہ تیل کے ذخائر، پائپ لائنوں، اوبور یا سی پیک جیسے سٹریٹیجک معاملات پہ لڑنے کی بجائے وہ تعاون کے ساتھ امریکی معاشی مفادات کچھ لو کچھ دو کے اصول پہ طے کرنے کا خواہشمند ہے۔ جس طرح شام کے معاملہ پہ اس کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ مل کے دہشت گردی کو ختم کرنے کا حامی ہے۔  اسی طرح دہشت گردی کے معاملہ پہ بھی نئی امریکی انتظامیہ کا مؤقف نیو کونز اور نیو لبرلز سے مختلف ہے۔ اس سلسلے میں سٹیو برینن کا ذکر ضروری ہے جسے ٹرمپ نے اپنا سینئیر مشیر تعینات کیا ہے۔ 

شائد دوستوں کو یاد ہو کہ ۲۰۱۴ میں ویٹیکن میں دہشت گردی کے موضوع پہ برینن نے مقالہ پڑھا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے اندر سیاستدانوں ، ناجائز سرمایہ اور میڈیا کا گٹھ جوڑ ہوچکا ہے۔ جو کرپشن میں ملوث ہے اور کرپشن کا یہ ناجائز سرمایہ پھر دہشت گردی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا فلسفہ تھا کہ اس سے نجات پانی ہے تو “دلدلوں کو خشک کرو جہاں یہ عفریت پلتے ہیں”؛  Drain the swamps  کا اس کا فلسفہ کافی مشہور ہوا تھا۔ موجودہ انتخابات میں ہیلری کی جن ای میلز کو موضوع بنایا گیا اس پہ مین سٹریم میڈیا نے صرف سیکیورٹی لیک کا اعتراض اٹھایا لیکن ٹرمپ حقیقتاً یہ سوال اٹھا رہا تھا کہ ہیلری اور اوباما انتظامیہ خود اپنے مقاصد کے لئے دہشت گردی کو فروغ دیتی رہی۔ اگرچہ صاف لفظوں میں اقرار نہیں کیا گیا لیکن ان تمام کا بین السطور یہی بتاتا ہے کہ نئی انتظامیہ کو خود امریکی انٹیلئ جنس کے دہشت گردی کو فروغ دینے کے کردار کا احساس ہے اور اس کا تدارک چاہتے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی طاقتوں کو اس سے فائدہ ہوا اور خود امریکہ کو نقصان ، یہ نقطہ ان کی نظر میں ہے۔ تاہم سعودیہ اور گلف پہ کھل کے الزام لگایا گیا دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے کا۔ اب یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ عربوں نے ہیلری کی مہم کی فنڈنگ کیوں کی؟ ہیلری یقیناً پرانی پالیسی کے تسلسل کی حامی تھی۔ 

مجموعی طور پہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست کے مقابلہ میں غیر ریاستی عناصر کے کردار کی مجموعی طور پہ حوصلہ شکنی کی جائے گی، چاہے یہ غیر ریاستی عناصر پرائیویٹ فوجیں ہوں یا بڑی کارپوریشنز، جو خود کو ریاست سے بالاتر سمجھنے کی عادی ہوچکی تھیں۔ 

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *