وکھو وکھ ۔۔۔۔۔۔اشفاق احمد/افسانہ

میں اس کو پورے انتالیس سال، گیارہ مہینے، آٹھ دن اور پانچ گھنٹے بعد ملا۔ اس کی شکل و صورت بالکل ویسی تھی جیسی پچھلی سالگرہ پر 133 تب اس نے اٹھارہ موم بتیاں بجھا کر اپنا چہرہ سرخ اورماتھا عرق آلود کر لیا تھا۔ میرا چھوٹا بھائی اس کی تین سوا تین سیر کی گت تھام کر کھڑا تھا جو موم بتی کو پھونک مارتے وقت پیٹھ اور کندھے سے پھسل کر میز کے کنارے سے ٹکراتی تھی۔ ہم ہر موم بتی بجھنے پر تالیاں بجاتے۔
آج میں اپنے پوتے کے ولیمے کے لیے دو قصائیوں سے گیارہ بکرے کٹوا رہا تھا اورٹاھلی کے اس کھنڈ پر بیٹھا تھا جو پچھلے دو سال سے لان کنارے پڑا تھا۔ اب اس کے ساتھ دونوں چھولداریوں کے رستے بندھے تھے۔ کافی گوشت بن چکا تھا اور ابھی بہت سا باقی تھا۔ میں قصائیوں سے محبت بھری گفتگو کرتے ہوئے انہیں ولایت کے قصے سنا رہا تھا۔ وہ محبت سے میری گفتگو سنتے ہوئے اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ میری نظر ان کے کام پر ہے اور ارادوں پر بھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے ناخوش اور بیزار ہنسی خوشی اپنا اپنا کام کر رہے تھے۔
جب ریحانہ وہاں آئی تو ’’انجائنا‘‘ اور ’’بیٹا بلا کر‘‘ کی گولیاں پابندی سے جذب کرنے والا میرا دل پہلے تو تین چار مرتبہ زور سے دھڑکا پھر بالکل ساکت ہو گیا۔ جب اس نے میرے سامنے آ کر ’’ہیلو‘‘ کہا تو میرے گردے کی ساری پتھریاں ایک دم کڑکڑائیں اور میں نے بلبلا کر اپنی کمر پر ہاتھ رکھ لیا۔ پھر وہ جس تیزی کے ساتھ آئی تھی، اسی تیزی سے باہر نکل گئی۔اس نے اپنی بھاری بھر کم گت کٹوا دی تھی اور کٹے ہوئے بال کانوں سے ذرا نیچے تھے۔ شلوار قمیص چھوڑ کر اس نے ساڑھی پہننا شروع کر دی تھی۔ اور اپنے بدن کو ڈائٹنگ کے زور پر بے حد اسمارٹ بنا لیا تھا۔ بڑے قصائی نے گوشت بنانا چھوڑا اور غور سے میری طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں محبت اور شفقت کی نمی تھی۔ چہرے پر آگہی کی روشنی اور زبان حال کی گویائی تھی۔ ممکن ہے، اس نے بھی اپنی جوانی میں کسی خوبصورت لڑکی سے علاقائی زبان میں محبت کی ہو۔پھر شاید شریکوں نے اس کی محبوبہ کو اونٹ سے نیچے گرا کر باپ کی نگاہوں کے سامنے ذبح کر دیا ہو۔ بچارے قصائی نے خوفزدہ ہو کر کسی بے محبوبہ سے شادی کر لی ہو۔ ہو سکتا ہے! سب کچھ ہو سکتا ہے! ہو کیوں نہیں سکتا بھلا!! تھوڑی ہی دیر بعد ریحانہ ٹینٹ سروس والوں کی ایک کرسی گھسیٹتی وہاں چلی آئی۔ اس کی ساڑھی کے پھول پہلے کے مقابلے میں زیادہ کاسنی اور زیادہ بڑے ہو گئے۔ اس نے کرسی لا کر میرے سامنے رکھی اور کہنے لگی ’’ٹھنٹہ پہ نہیں، کرسی پر بیٹھو۔‘‘
میں نے کہا ’’مہربانی! تم نے خواہ مخواہ اتنی زحمت کی۔ مجھے ان پر بیٹھنے کی عادت ہو گئی ہے، اس کرسی پر تم بیٹھو۔‘‘ وہ اسی طرح کھڑی رہی اور میری طرف غورسے دیکھتے ہوئے بولی ’’پتا نہیں ہم کتنے سال بعد آج ملے ہیں۔ مجھے تو صدیاں ہی لگتی ہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’صدیاں نہیں ریحانہ ہم پورے انتالیس سال گیارہ مہینے آٹھ دن اور پانچ گھنٹے بعد ایک دوسرے سے ملے ہیں۔‘‘ ریحانہ ہنسی تو اس کے گالوں کے دونوں ڈمپل بننے سے رہ گئے۔ کہنے لگی ’’تم نے ایسا پورا پورا حساب کیسے لگا لیا؟‘‘
میں نے جیب سے کیلکولیٹر نکال کر کہا ’’ اس پر حساب لگا کر صحیح جواب نکالا ہے۔ اور اگر اس میں تمھارے مائیوں بیٹھنے کے بعد اندھی اور اندھیاری یک منٹی ملاقات بھی شامل کر لی جائے، تو پھر نو گھنٹے اور کم ہو جاتے ہیں۔‘‘ ریحانہ نے بڑے قصائی کی طرف بے پروائی سے دیکھا اور پھر کہنے لگی ’’اس ساری مدت میں تم نے کیا کیا؟‘‘ میں نے کہا ’’کرنا کیا تھا، بس عمر بڑھائی ہے۔ ایک مکان بنایا، دو بچوں کی شادیاں کیں، پنشن لی ہے۔ بلڈپریشر بڑھایا اور دو ہارٹ اٹیک لیے۔ تھوڑی سی ذیابیطس کرائی ہے۔ ذرا سا موتیا اتروایا ہے۔ اگلے سال بہار میں آپریشن کراؤں گا، اور تو کوئی خاص کام نہیں کیا۔‘‘ ریحانہ ہنس کر کہنے لگی ’’تم نے پھر بھی چھوٹی سی زندگی میں بڑے کام نپٹا لیے۔ ہم تو وہیں رہ گئے بیوقوف۔ کچھ ہوا ہی نہیں۔ زندگی آگے نکل گئی اور ہم ’’اسٹیشن‘‘ پر ویسے ہی کھڑے رہ گئے۔ کچھ ہو ہی نہیں سکا۔‘‘
قصائی نے کہا ’’اندر سے ٹب منگوائیں صاحب جی۔‘‘ میں نے کہا ’’یہیں صف پر ڈھیر کرتے جاؤ، نائی خود آ کر بندوبست کر لیں گے۔‘‘ اس نے بہت مری اور ڈری سی آواز میں کہا ’’گوشت زیادہ ہے اور صف چھوٹی، آگے آپ کی مرضی۔‘‘ میں نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ جب میں نے ریحانہ سے کہا، مجھے اجازت دو کہ میں پھر کھنڈ پر بیٹھ جاؤں اور اپنے آپ کو اجازت دو کہ وہ کرسی پر بیٹھ جائے، تو اس نے بڑی سنجیدگی سے ’’شکریہ‘‘ کہہ کر کرسی پر بیٹھنا منظور کر لیا۔
***
جب ریحانہ سے میری ملاقات ہوئی تو وہ نویں میں پڑھتی تھی اور میں سیکنڈ ائیر کا طالب علم تھا۔ جب وہ کالج میں داخل ہوئی، تو میں بی۔اے کا اسٹوڈنٹ تھا۔ جب وہ ’’چاٹی ریس‘‘ میں اوّل انعام لے کر گھرآئی، تو میں اپنا پہلا مشاعرہ پڑھنے ٹاؤن ہال گیا ہوا تھا۔ اگلی صبح اس نے اپنا کپ مجھے دکھایا اور میں نے اس کے ماتھے سے لے کر ناک کی ٹپ تک اپنی انگلی سے سیدھی لکیر کھینچتے ہوئے کہا ’’یہ چاٹی ریسیں، کھیل کھلنڈریاں، جسمانی ورزشیں، یہ سب ہلکی چیزیں ہیں۔ ذہنی سربلندیوں کے مقابلے میں بے معنی اور لایعنی مظاہرے، بے حقیقت باتیں اور گھاٹے کے سودے ہیں۔ میں نے کل ٹاؤن ہال میں غزل پڑھی ہے، پوچھ لو جا کر کسی سے۔‘‘
اس نے اپنا کپ میرے قدموں میں رکھا اور شرمندگی سے سرجھکا کر کھڑی ہو گئی۔ کہنے لگی ’’بھیا نے گھر آ کر بتایا تھا کہ آپ نے تو مشاعرہ لوٹ لیا۔ بڑے سوز سے ترنم کیا۔‘‘ میں نے کہا ’’بیوقوف لڑکی وہ خالی ترنم اور خالی سوز ہی نہیں تھا۔ اس میں فکر تھی اور دانش و نشان دہی بھی۔ ریحانہ اپنی ذات میں خجالت سے پگھل سی گئی۔ وہ جس قدر خوب صورت تھی، اس قدر سادہ لوح اور احمق بھی! وہ ہنر  مندی اور عقلمندی سے زندگی بسر کرنے کی اہل نہیں تھی۔ وہ زندگی کو اپنے اوپر سے ایسے گزرنے دیتی جیسے زندگی دانش، علم یا عقل سے کوئی برتر اور فزوں تر چیز ہو اور اپنی مرضی سے گزرنے کے لیے بنی ہو! ریحانہ کے ہاتھ، اس کی بات، انداز اور بدن میں کوئی ہنر نہ تھا۔ دین سے اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ دنیا کی اسے کوئی سمجھ نہیں تھی۔ وہ بڑے یقین سے نہایت بیوقوفی کے ساتھ بے یقین اور بے اعتبار زندگی بسر کررہی تھی۔
جب ہم نئے نئے ریحانہ کے خاندان سے واقف ہوئے تو وہ نویں جماعت میں پڑھتی تھی۔ کندھے پر دو بھاری بھر کم گانٹھیں اٹھا کر جاپانی کپڑا بیچنے والا جب ان کی ڈیوڑھی میں اترا تو ریحانہ کی ڈیوٹی لگی کہ وہ تھان ڈیوڑھی سے لے کر اندر امی اور خالہ کو دکھائے اور ترتیب وار بھاؤ بتائے۔ تین چار چکر کاٹنے کے بعد جب امی نے رنگدار ساٹن کی قیمت پوچھی تو ریحانہ نے ڈیوڑھی میں آ کر پھیری والے سے کہا ’’بھائی! آٹھ آنے گز قیمت زیادہ بتلانا۔ امی ضرور قیمت کم کریں گی۔ مجھے بار بار چکر لگانے پڑیں گے۔ تمھارا بھی نقصان ہو گا۔ ’’پھیری والا ہنس پڑا اور اس نے خوش ہو کر یہ بات ہم سب کو سنائی۔میں نے حق اور سچ کی خاطر یہ بات اس کی امی اور ابو کو بتائی اور ان سے درخواست کی کہ وہ ریحانہ کو صحیح، صاف اور حقیقت سے بھرپور زندگی بسر کرنے کے رموز سمجھائیں ورنہ اس کی عمر مظلومیت اور بیچارگی میں گزرے گی اور اس سے ارتقائے انسانی کا قافلہ آگے نہیں چل سکے گا۔
ایک روز ہم سب اپنی حویلی کے پچھواڑے چھوٹے سے باغ میں کھیل رہے تھے۔ ہم کوئی چھوٹے بچے نہیں تھے۔ میں تیرہ غزلیں لکھ چکا تھا اور ریحانہ چاٹی ریس میں اوّل انعام حاصل کر چکی تھی۔ اچانک زور کی سیاہ آندھی اٹھی اور رات کا سماں ہو گیا۔ آندھی کے جھونکے پتے بجانے اور حویلی کے دروازے کو ہولے ہولے کھڑکانے لگے۔ ہم سب خوفزدہ ہو گئے، تو ہماری نوکرانی بیبو نے کہا ’’اگر کوئی پہلوٹھی کی لڑکی اپنی خالی پشت امڈتی آندھی کو دکھا دے، تو آندھی رک جاتی ہے اور اس کا رخ مڑ جاتا ہے۔‘‘ہم سب بیبو کی بات اچھی طرح سے سمجھ گئے، لیکن ریحانہ الو کی طرح کھڑی ہمارا منہ تکتی رہی۔ جب میں نے بیبو کی بات کا انگریزی ترجمہ کر کے اسے سمجھایا، تو وہ شرما گئی اور گھبرا کر بولی ’’اس گروہ میں پہلوٹھی کی لڑکی تو صرف میں ہوں۔ لیکن میں یہ کام سب کے سامنے نہیں کروں گی۔‘‘ میری چھوٹی بہن نے کہا ’’ہائے ریحانہ باجی! خدا نہ کرے سب کے سامنے کیوں! وہ سامنے بابے نورے کا کوٹھا ہے، اس پر چڑھ کر آندھی کو روک دیں۔ سب کے سر سے بلا ٹل جائے گی۔‘‘
بابا نورا مالی تھا اور سائیس بھی۔ لنگر پکا لیتا تھا اور گاؤں گاؤں گھوم کر خالص شہد اور گھی جمع کرتا۔ اس کے کوٹھے کے اوپر کبوتروں کا ڈربا تھا۔ اوپر ہی اس نے تنور لگایا ہوا تھا جس میں وہ کبھی کبھار سجی تیار کر کے ذیلدار کے مہمانوں کو کھلایا کرتا۔ ریحانہ کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور ساتھ ساتھ کہے جا رہی تھی ’’ہائے اللہ! خدا کی قسم  میں نے نہیں جانا‘‘۔ اس طرح سے آندھیاں رکی ہیں کبھی  میں نے واپس اتر آنا ہے آدھی سیڑھیوں سے۔‘‘ اور ہم نیچے سے چلائے ’’نہ نہ۔ اللہ کے واسطے نیچے نہ اترنا بڑی زبردست کالی آندھی ہے بہت نقصان کر کے جائے گی۔ جاؤ شاباش  جاؤ۔‘‘میری چھوٹی بہن شرارت سے اونچی آواز میں کہنے لگی ’’بس باجی آپ کو جانا ہے اور آنا ہے  کوئی دیر تو نہیں لگانی زیادہ۔‘‘

ریحانہ ’’نہیں نہیں، ناں ناں‘‘ کہتی سیڑھیاں چڑھتی جا رہی تھی اور ہم نیچے اچھل اچھل کر تالیاں بجا رہے تھے، جیسے عقلمند لوگ احمقوں کو الو بناتے وقت دل ہی دل میں اچھل کر تالیاں بجایا کرتے ہیں۔
***
اس وقت میں ٹاہلی کے پرانے کھنڈ پر بیٹھا قصائیوں سے گوشت بنوا رہا تھا اور ریحانہ میرے سامنے ٹینٹ والوں کی دو رنگی نواڑ والی کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس کی ناک کے دائیں نتھنے پر اب بھی بھورے رنگ کا ستارے جیسا تل تھا جسے اب اصولاً مسہ بن جانا چاہیے تھا لیکن وہ نہیں بنا۔ جب اسے مائیوں بیٹھے دوسرا دن تھا، تو میں رات کے وقت اس کے کمرے میں پہنچ گیا۔ اس کے بدن سے ہلدی، تیل، چنبیلی، حنا اور نافے کی خوشبو آ رہی تھی۔ ماتھے اور مانگ میں سیب، چندن، کھتے اور بٹھور کی ملی جلی مہک تھی۔ ہم بڑی گرم جوشی سے ملے اور پھر رک گئے۔ میں اس کے سامنے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا اور اس نے میری دونوں کلائیاں بڑی مضبوطی سے تھام رکھی تھیں۔اس کی امی اندھیرے میں دیا سلائی جلاتی اچانک نمودار ہوئیں اور مجھے اس طرح کھڑے دیکھ کر بولیں ’’اب کیا فائدہ اب کیا حاصل ‘
رخصتی کے وقت دولھا خود کار چلا رہا تھا۔ سیاہ رنگ کی آسٹن گاڑی تھی جس کے بونٹ پر انگریزی کا ’’اے‘‘ کھڑا تھا۔ گاڑی پورچ سے نکلنے سے پہلے ریحانہ نے اپنی امی سے میرا نام لے کر کہا کہ وہ نظرنہیں آتے۔ انھوں نے اونچی اونچی آوازیں دے کر مجھے بلایا۔ میں ڈرا ڈرا اور سہما سہما گاڑی کی کھڑکی کے پاس آ کر بزرگوں کی طرح کہنے لگا ’’اچھا بھئی ریحانہ، خدا حافظ اور اللہ کے حوالے  خوش رہنا  اور اپنا خیال رکھنا ‘‘
اس کے شوہر نے گاڑی کا آئینہ گھما کر میرا چہرہ اس میں فوکس کیا اور پھر کہا ’’اب اجازت دیں، دیر ہو رہی ہے  بڑا لمبا سفر درپیش ہے۔‘‘ ساتھ بیٹھے والد نے بھی یہی کہا کہ لمبا سفر درپیش ہے، زنانہ ساتھ ہے۔ اب اجازت دیجیے۔ ریحانہ نے سر جھکائے آہستہ سے کہا ’’ایک تو لوگوں کو ہر وقت جلدی پڑی رہتی ہے۔ پتا نہیں کس بات کی؟‘‘ پھر وہ سسکیاں بھر کر رونے لگی جیسے دلھنیں رویا کرتی ہیں۔
***
میں چھولداری کے اندر پرانے کھنڈ پر بیٹھا قصائیوں سے گوشت بنوا رہا تھا اور ریحانہ میرے سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے اپنی ریشمی ساڑھی کا پلو تیزی سے اپنی کمر کے ساتھ لپیٹا، تو اس میں سے فرانسیسی پرفیوم کی خوشبو لہر کی طرح پھیلی۔ چھوٹے قصائی نے سر اوپر اٹھایا اور پھر پٹھ کی گنڈیریاں کاٹنے میں مصروف ہو گیا۔
***
ریحانہ کی شادی وزارت خارجہ کے افسر سے ہوئی تھی لیکن وہ اپنی بے پناہ خداداد قابلیت کی بنا پر چند سال کے اندر ہی سفیر بن گیا۔ پھر ریحانہ کی خبر ضرور آتی رہی لیکن وہ خود نظر نہیں آئی۔ کئی سال گزر گئے۔ اب پورے انتالیس سال، گیارہ مہینے، آٹھ دن اور پانچ گھنٹے کے وقفے کے بعد وہ میرے سامنے ٹینٹ والوں کی نواڑی کرسی پر بیٹھی تھی اور میرے دل کے اندر اس کی محبت ڈسٹلڈواٹر بننے والے بخارات کی طرح قطرہ قطرہ بن اتر رہی تھی۔ روح کی ہرنالی سے ٹھنڈے، مقطر، مصفا قطرے میرے دل پہ جھپک جھپک کر اسے دھو رہے تھے اور قلب کے نیچے ہلکے جامنی رنگ کی ایک تتلی سی جاری تھی۔ میں خوش تھا اور شکر کر رہا تھا کہ ہم دونوں کی شادی نہیں ہو سکی۔
میرے ساتھ رہ کر وہ بھی ہنر مند، عقلمند اور میری طرح سے زمانہ شناس اور رمز آشناہو جاتی۔ ہم لکھنے پڑھنے والے ادیب اور شاعر لوگ جس طرح ہر بات کی تہ کو فوراً پہنچ جاتے ہیں، اس کو بھی یہ فن سیکھ لینا تھا۔ ہمیں بھی جس طرح ہر اعلان، بیان اور گفتگو کے پیچھے اس کے اصل محرکات کا علم ہو جاتا ہے اور اصل صورت حال سے واقفیت ہو جاتی ہے، اس کو بھی مجھ سمیت میرے ساتھیوں کے ساتھ رہ کر اس علم سے آشنائی ہو جانی تھی۔اس نے بھی میری طرح انسانیت سے محبت تو کرنی تھی، لیکن لوگوں کو ایک ایک کر کے نکتہ چینی اور غیبت کی ٹکٹکی پر کس کر کوڑے بھی برسانے تھے  لفظوں کے۔ انسان سے بے پناہ الفت کرنی تھی اور قریب سے گزرتے ہوئے سچ مچ کے بندے کا دل جلانا اور اس پر گند اچھالنا تھا  میرے ساتھ رہ رہ کر اس نے جس حویلی کے لان میں بیٹھنا تھا، وہاں کالی سیاہ آندھی کو خود ہی جھلا کر ہر ایک کو ننگا کر دینا تھا
خدا کا کتنا بڑا کرم ہوا، کیسی مہربانی ہوئی  اگر ہم ایک ساتھ رہتے، تو ہمیں گھر بیٹھے نارتھ کیرولینا، ساؤتھ کوریا، ایسٹرن یورپ اور ویسٹ ورجینیا کی اندرونی خرابیوں کا علم ہو جاتا۔ ہم پور ٹوریکن کانگرس کے پس پردہ عوام سے واقف ہوتے۔ مٹسوبشی کے آئندہ سال کے بجٹ سے آشنا ہوتے۔ اس ریحانہ نے جو میرے سامنے بیٹھی ہے، میری جرأتوں سے بے پناہ فائدہ اٹھا کر میری طرح جری ہو جانا تھا۔ میں نے حق گوئی اور بیباکی کا ساتھ نہیں چھوڑنا تھا۔ کڑوی بات منہ پر کہنی تھی۔ منافقت کے خلاف جہادکرنا تھا۔ اس نے بھی میرے اس وتیرے کو اپنا کر کیش کرنا تھا۔
ہیرے اور ہار خریدنے تھے۔ کارنر پلاٹ لینے تھے۔ غیر ملکی سفر اختیار کرنے تھے۔ پھر اس نے ویسی نہیں رہنا تھا جن کی گاڑیاں ’’ٹیشن‘‘ پر کھڑے کھڑے چھوٹ جاتی ہیں۔ اس نے زندگی سے بھی آگے نکل جانا تھا،اتنا آگے کہ وہاں زندگی کی کشش بھی ختم ہو جانی تھی۔ اس کے وینٹی باکس میں نقب زنی کاسب سے کارگر اور مہلک اوزار ’’انفارمیشن‘‘ ’’ڈیٹا‘‘ اور ’’میڈیاڈوسیئر‘‘ ہر وقت موجود ہونا تھا۔ اس نے ’’بنیادی انسانی حقوق‘‘ یا ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ کے نام پر ہم سب کو چھیل، ادھیڑ، کاٹ اور ہلا کے رکھ دینا تھا۔ جیسے آنجوزے میں جامن ڈال کر کھڑکاتے ہیں، ویسے کھڑکا دینا تھا۔
اگر میری ریحانہ سے شادی ہو جاتی، تو اس کے ماتھے اور مانگ سے چندن، کتھے، سیب اوربٹھور کی خوشبو آتی، نہ ہی اس کی ناک کے دائیں نتھنے پر براؤنش گولڈ کلر کا یہ تل رہنا تھا۔ لونگ اور ستارے کے کٹاؤ والا
وہ بڑھ کر سیاہ مسہ بنتا اور اس کے سفید نتھنے سے کالے کیڑے کی طرح چمٹ جاتا۔ اچھا ہی ہوا، بلکہ بہت ہی اچھا ہوا۔
اللہ کے کرم اور اس کی مہربانیوں کے انداز نرالے ہیں۔ وہ جسے انا، خودپسندی، خودفروشی، خود غرضی، خودرائی کے چکر سے بچانا چاہے، صاف بچا کر لے جاتا ہے۔ ایسے لوگ باغ ہستی میں پھول کی طرح کھلتے ہیں۔ دائیں بائیں جھولتے جھومتے ہر ایک کو ’’ہیلو ہیلو‘‘ کہتے کہتے ایک دن خوشبو کی طرح فضا میں تحلیل ہو جاتے ہیں  شرافت اورخودفراموشی کے ساتھ، ہنسی خوشی، جھومتے جھامتے، گاتے بجاتے۔

میں کئی سال کی ’’سیلف پٹی‘‘ اور خواہ مخواہ کی خود ساختہ قربان گاہ سے باہر نکل کر پہلی مرتبہ ریحانہ کی محبت کے نشے میں چور ہو گیا۔ وہ میرے سامنے بیٹھی تھی اور میں اس کی محبت کے اور عقیدت کے چھوٹے چھوٹے تنکے اور سوکھی پتیوں کے دست بستہ بھورے چورے نکال اسے زندگی کے حضور پیش کر رہا تھا۔
پھر میرا دل چاہا کہ اس کے ساتھ لمبی بات کروں، لمبی اور نہ ختم ہونے والی بات! اتنی لمبی کہ ختم ہو جانے کے بعد بھی اسی طرح جاری رہے۔ زیادہ نہیں تو کم از کم ولیمے کے شروع ہونے تک ایک رات اور آدھا دن ہم اسی طرح اسی مقام پر بیٹھے باتیں کرتے رہیں۔ میں نے کہا ’’ریحانہ تمھاری منجھلی بیٹی کی بڑی دھوم ہے۔ وہ آج کل کہاں ہے؟‘‘ریحانہ نے قدرے لاتعلقی سے کہا ’’پہلے اس نے انگلستان سے ٹرائی پوس کیا تھا۔ پھر برین ڈائز یونیورسٹی میں چلی گئی۔ آج کل برکلے میں کچھ کر رہی ہے۔ مشکل مشکل سے کام ہیں۔ مجھے تو ان کا کچھ پتا نہیں چلتابہرحال کچھ کر رہی ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’بھئی وہ تو ہمارے ملک کی ایک عظیم ریاضی دان بن کر ابھر رہی ہے اور تم اس سے اتنی بے خبر ہو؟‘‘اس پر وہ زور زور سے ہنسنے لگی، اتنی زور سے کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ہنستے ہنستے بولی ’’تم کو جو ماسٹر بھودیال حساب پڑھانے آیا کرتے تھے، وہ اپنی سائیکل کے اگلے پہیے پر پیر رکھ کر بریک لگایا کرتے تھے۔ہر مرتبہ بریک لگاتے وقت ان کی جوتی اتر جایا کرتی تھی ‘‘ وہ پھر ہنسنے لگی، تو میں بھی اس کے ساتھ ہنسی میں شریک ہو گیا۔ ہم دونوں کو اپنے اپنے زاویے سے ماسٹر بھودیال
سائیکل پر بیٹھے، مائنس کی عینک لگائے، پاؤں سے پہیے کو بریک لگاتے نظر آئے۔ آگے سے چنن کمہار کے گدھے آ گئے۔ ادھر ماسٹر بھودیال کے پاؤں سے جوتی نکلی ادھر وہ سندر سنگھ کی بھوری بھینس پر گرے۔ بھینس خوفزدہ ہو کر ایک دم اٹھی۔ میں اور ریحانہ چوبارے کی کھڑکی میں کھڑے اتنا ہنسے کہ ہنستے ہنستے ایک دوسرے سے چمٹ گئے اور ہم نے اپنی آنکھیں ایک دوسرے کے کندھوں سے پونچھ پونچھ کر خشک کر لیں۔
***
ہم دونوں کو اس طرح ہنستے دیکھ کر قصائیوں نے گوشت بنانا چھوڑ دیا اور اپنے اپنے بغدے بوریوں پر رکھ ہمیں دیکھنے لگے۔ اتنے میں ریحانہ کے شوہر ہزایکسیلنسی شہباز نصیر دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے وہاں پہنچے اور اپنے کولھوں پر ہاتھ رکھ کر بولے ’’بھئی تم یہاں ہو ریحانہ اور میں سارے گھر میں تم کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عاجز آ گیا ہوں۔ چلو اٹھو، جلدی کرو، ورنہ دکانیں بند ہو جائیں گی۔‘‘
ریحانہ نے خوشامدانہ لہجے میں کہا ’’آپ خود نہیں چلے جاتے شہباز۔‘‘ ’’کمال ہے بھئی، حد ہو گئی۔‘‘ شہباز نے طوطے کی طرح سرگھما کر کہا ’’کام آپ کا اور جاؤں میں۔ مجھے کیا ضرورت پڑی ہے؟ چلیے اٹھیے، جلدی کیجیے   فوراً‘‘ ریحانہ نے اٹھتے ہوئے کہا ’’ایک تو لوگوں کو ہر وقت جلدی پڑی رہتی ہے، پتا نہیں کس بات کی۔‘‘ جونہی وہ دونوں باہر گئے، بڑے قصائی نے کہا ’’صاحب جی اب تو ٹب منگوا دیجیے، بوٹی بوٹی الگ ہو گئی ہے  وکھووکھ  الگ الگ!!‘‘

یہ دستکیں یہ میری زندگی کی آدھی رات
ہوا کا شور سمجھ لوں تو کچھ عجب بھی نہیں
یہ دکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
حسابِ دربدری تجھ سے مانگ سکتا ہے
غریبِ شھر مگر اتنا بے ادب بھی نہیں
ہمیں بہت ہے یہ ساداتِ عشق کی نسبت
کہ یہ قبیلہ کوئی ایسا کم نسب بھی نہیں
پروین شاکر

بشکریہ  http://www.suayharam.com

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *